آج پنجابی زبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن کی ت…

استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا وہ یکم جنوری 1910ءکو لاہور میں پیدا ہوئے۔ استاد دامن کے والد خیاطی کی پیشے سے وابستہ تھے چنانچہ انہوں نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا اور ایک جرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے خیاطی کا باقاعدہ ڈپلوما حاصل کیا۔
استاد دامن ساتھ ہی ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی مگر والد کے انتقال کے باعث سلسلہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور خیاطی کے پیشے سے باقاعدہ طور پر منسلک ہوگئے۔
استاد دامن نے ابتدا ہی طبع موزوں پائی تھی۔ وہ استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہوئے۔ اس شاگردی نے ان کی شاعری کو مزید جلا بخشی۔
انیس سو سینتالیس کے فسادات میں استاد دامن کی بیوی اور ان کا بچہ ان سے بچھڑ گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ ملے، مگر زیادہ دن زندہ نہ رہ سکے اور استاد دامن کو ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ گئے۔ اس واقعہ نے استاد دامن کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور پھر وہ ساری عمر تنہا زندگی گزارتے رہے۔
انہوں نے ٹکسالی دروازے کی اس مسجد کے ایک حجرے کو اپنا مسکن بنالیا جہاں اکبر اعظم کے عہد میں معروف صوفی شاعر شاہ حسین رہا کرتے تھے۔ اس حجرے میں استاد کی شاعری کا سلسلہ جاری رہا اور جلد ہی ان کا شمار پاکستان کے معروف شعرا میں ہونے لگا۔
استاد دامن کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد دامن دے موتی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔
استاد دامن کی سیاسی شاعری کے چند اشعار ملاحظہ کریں۔ گورنر امیر محمد خان آف کالا باغ کے بارے میں استاد کے دو شعر پیش ہیں:
مُچھ کسے دی، میری تقدیر تے نہیں
تلوار سمجھ کے ایہدے نال پیار کرناں
ساری دنیا دے اُتے بہار آئی
ساڈے سراں اُتے کالے باغ رہ گئے
آزادی کی تحریک میں استاد دامن نے جو نظم کہی، اس کے چند اشعار پیش ہیں:
سلطانی بدلی جائے گی، دربانی بدلی جائے گی
تعزیرات ہند دی، کہانی بدلی جائے گی
دانائی وچ ہُن نہیں، نادانی بدلی جائے گی
اک اک فرنگی دی نشانی بدلی جائے گی
دُلتانے بدلے جان گے تے نون بدلے جان گے
غداراں دیاں رگاں وچ خون بدلے جان گے
آزادی کے بعد استاد دامن کی خواہش پوری نہ ہوئی۔ انکے ذہن میں پاکستان کا خاکہ فلاحی ریاست کا تھا۔ انکے نزدیک قیام پاکستان کے بعد غلامی اور بے یقینی کی فضا رہی۔ انگریز کا ڈھانچہ برقرار رہا۔ اس سلسلے میں انکے شعر ہیں:
پاکستان مکان اک بن گیا اے
وسن سادھ اُتے ، رہندے چور ہیٹھاں
ایتھے نواں حساب اک نکلیا اے
رہن سیکڑے اُتے ، کروڑ ہیٹھاں
استاد دامن نے سیاسی لیڈروں پر بھرپور تنقید کی۔ شعر ملاحظہ کریں:
سٹیجاں تے آئیے، سکندر ہوئی دا اے
سٹیجوں اُتر کے، قلندر ہوئی دا اے
اُلجھے جے دامنؔ! حکومت کسے نال
بس اینا ای ہوندا، اندر ہوئی دا اے
استاد دامن کی آخری آرام گاہ شاہ (مادھو لال) حسینؒ کی چوکھنڈی کے مین گیٹ کے سامنے قبرستان میں ہے۔ تُربت پر یہ عبارت کندہ ہے۔
چراغ دین ولد میراں بخش۔ قلمی ناں استاد دامن، پیر 3دسمبر 1984ء (19ربیع الاول 1405ھ) میں وفات پائی۔ اس عبارت کے نیچے یہ اشعار لکھے گئے ہیں:
ماری سرسری نظر جہان اندر
تے زندگی ورق اُتھلیا میں
دامنؔ ملیا نہ کوئی رفیق مینوں
ماری کفن دی بُکل تے چلیا میں


