مختصر کہانیاں

کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک) قسط نمبر 12 ا…

کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک)
قسط نمبر 12

اپ شاپنگ کادور شروع ہو چکا تھا جوکہ وہاج نےانوشے کو کروانی تھی۔اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود فرح نے شاپنگ پر وہاج کو بلوالیا تھا۔انوشے کو انہوں نے ینج کرنے بھیج دیا تھا اور خود وہاج کے ساتھ صوفے پر لاونج میں بیٹھ گئیں۔ "بیٹا شکر ہے تم آگئے ہو میں تو ویسے بھی پریشان تھی۔اب کڑکیوں کئ شاپنگ اسد تو کروا نہیں سکتاتھا۔پھر تم بھی سپنی مرضی کا ڈریس دلوادینا انوشے کو۔وہ اسے ہدایت دےرہی تھیں۔اور سیڑھیاں اترتی انوشے جل کر رہ گئ تھی۔یاں اپنی مرضی کا ڈریس۔ بہت شوق ہے نا شاپنگ پہ جانے کا۔آج چلے میں اسے مزہ چکھاتی ہوں۔وہ سوچ کر آگے بڑھی۔اسد اور ھبہ کی شاپنگ کچھ دن پہلے وہ مرحا کے ساتھ جا کر کر آئ تھی۔اب صرف اسکی اور مرحا کی شاپنگ رہتی تھی۔ "چلو انوشے جاو۔وہاج کب سے بیٹھا تمہارا انتظار کررہا تھا۔” فرح نے اسے آتے دیکھ کر کہا۔ ” تو نہ کرتا انتظار۔”اس نے منہ بنالیا۔ "میں ذرا مرحا کو کا کر لوں۔وہ مشورہ ےو دے گی نا ڈریسز کیلیئے۔”اس نے فون پر نمبر ملاتے ہوئے کہا۔ "السلام علیکم” دوسری طرف سے فون فورا اٹھا لیا گیا تھا۔ "میں شاپنگ پر جارہی ہوں۔اگلے پانچ منٹ میں تم میرے گھر نہیں پہنچی تو میرے گھر کا راستہ بھول جانا۔” انوشے نے تنبیہہ کی۔ "او!
گھوڑے پہ سوار لڑکی میں یہاں تین کیسز ایک ساتھ ڈیل کررہی ہوں۔ اوپر سے وہ تمہارا دیور ہر پانچ منٹ بعد تمہیں چیک کرنے آجاتا یے۔کہ میں ٹائم تو ویسٹ نہیں کررہی۔بہت ہی شکی مزاج ہے۔اف کہاں تمہارے نصیب میں وہاج بھائ جیسا سوئیٹ بندہ۔” مرحانے دہائ دی۔ جو انوشے کو ایک آنکھ نہئں بھائ۔ ” جسٹ شٹ اپ مرحا میں کچھ نہیں جانتی! ابھی پہنچو یہاں۔” اس نے کوفت سے کہا۔” ویسے تم شاپنگ کرنے جا کس کے ساتھ رہی ہو۔” مرحا نے پوچھا۔ ” وہاج کے ساتھ ” اس نے منہ بگاڑتے ہوئے جواب دیا۔ ” اوہ! واہ پھر میری کیا ضرورت ہے۔ میں بھلا کباب میں ہڈی کیوں بنوں۔ آرام سے انجوائے کرنا۔گھر جلدی آنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے۔” مرحا نے مزے سے کہا انوشے نے گھور کر موبائل کو دیکھا۔جیسے سامنے مرحا ہو۔ ” تمہیں بکواس کے علاوہ کچھ آتا ہے۔” اس نے غصے سے پوچھا۔ ” ہاں نا کھانا۔” مرحا نے ہنستے ہوئےجواب دیا۔ اسی لمحے عون اسکی کیبن میں داخل ہوا۔ ” مس مرحا اگر آپ کا تفریحی پروگرام ختم ہو گیا ہو تو میرے کمرے میں سعید احمد کی فائل لے کرآئیں۔” عون نے اس پر طنز کیا۔اسے شدید غصہ آیا۔لیکن انوشے کو بس ہنسی ہی آئ تھی۔ "دیکھا تم نے کس قدت بدلحاظ ہے تمہارا دیور” مرحا نے روہانسی ہوکر کہا۔ ” ہاں تو تمہیں اس جیسا آدمی ہی سنبھال سکتا ہے۔” اس نے مزے سے کہا۔” اب سن لو اگلے 15 مبٹ میں تم مجھے مطلوبہ جگہ پر چاہیے ہو۔عون کو میرا refrence دے دینا۔” انوشے نے پھر وہی بات دہرائ۔
۔ "ہونہہ جیسے تمہارا refrence دینے سے وہ مان جائے گا۔غضب خدا کا صرف ایک مہینے کی چھٹی مانگی تھی میری بہن جیسی کزن کی شادی کیلیئے، صاف جواب دے دیا۔آپ پوری زندگی کی چھٹیوں پہ جاسکتی ہیں۔”مرحا نے نقل اتار کر کہا۔انوشے بس ینس سکی۔ "سی یو” کہہ کر اسنے فون بند کردیا۔
وہ واپس لاونج میں آئ تو فرح نے اسے غصے سے دیکھا۔” وہ بچہ کب سے آیا بیٹھا ہے لیکن مجال ہے جو تمہیں فون سے فرصت ملے۔تمہاری طرح فارغ تھوڑی ہے۔” انہوں نے اسے طنزا کہا تو فورا اسکے دل پر لگا۔ ” توبہ ابھی دو ہفتے ہوئے نہیں جاب چھوڑے اور طعنے دینے شروع کر دیے آپ نے۔” اس نے ناراضگی سے کہا ۔” اچھا جاو اب۔” انہوں نے جانے کا حکم دیا۔وہاج گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا تواسے بھی چاروناچار فربٹ سیٹ پر بیٹھنا پڑا۔
” کہاں جانا ہے شاپنگ کیلییے” وہاج نے اس سے پوچھا۔ ” مجھے کیا معلوم شاپنگ کیلییے تم نے لے کر جانا ہے۔” اس نے جل کر جواب دیا۔ ” ہاں بالکل” وہ مسکرا دیا۔باقی کا سارا راستہ خاموشی سے کٹا۔ وہاج نے ایک مشہورومعروف مال کے سامنے گاڑی روکی۔ انوشے حیران رہ گئ۔ "ہم یہاں سے شاپنگ کریں گے۔” اس نے حیرانی سے پوچھا۔ "نہیں کرکٹ کھیلیں گے۔” اس نے پر سکون انداز میں پوچھا۔وہ اسے خونخوار نظروں سے گھورتی رہی۔وہ اس مال میں کئ دفعہ آچکی تھی۔وہ بھی صرف ونڈو شاپنگ کیلیئے۔انہوں نے کبھی گرد سرو کے علاوہ کوئ چیز نہیں خریدی تھی۔ ایک تو یہاں سبکی سب برانڈ کی اشیا تھیں۔اور سبکی سب مہنگی ترین اشیاء۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن وہاج کے وہاں آنےپر اسے حیرانی نہیں ہوتی تھی۔آخر اسکی سب کی سب چیزیں برانڈڈ ہوتی تھیں۔لیکن شادی کی شاپنگ کرنے سے اسے اعتراض تھا اور ہھر یہاں سے کرنے سے اسے اسکے اعتراض میں اضافہ ہو گیا تھا۔ اس وقت وہاج سے کچھ کہنے کا مطلب اپنی بےعزتی کروانا تھا۔اسلیے وہ خاموشی سے باہر نکلی۔ ” تم یہاں ویٹ کرو میں گاڑی پارک کرکے آتا ہوں۔” اسے ہدایت دے کر وہ گاڑی کے کر آگے بڑھ گیا۔وہ وہیں کھڑی اطراف کا جائزہ لینے لگی۔قریب سے لڑکیوں کا ایک گروپ آرہا تھا۔ سب کی سب تقریبا جینز ٹائٹ یا ٹائٹ شورٹ شرٹس میں ملبوس تھیں۔
اس نے گردن موڑ کر دائیں جانب دیکھا جہاں ایک کپل کھڑا تھا۔لڑکی کی ڈریسنگ تقریبا ویسی ہی تھی جبکہ لڑکا جینز شرٹ میں ملبوس، کندھے تک آتے بال اور ایک کان میں لونگ پہنے کھڑا تھا۔ دونوں ہی نوعمر لگتے تھے۔ یقینا شادی شدہ نہیں تھے۔اس نے تاسف سے سر جھٹکا۔ ” چلیں” اسی لمحے وہاج سامنے سے آگیا۔ وہ چانکی پھر اسکی تقلید میں چل پڑی۔وہاج میل انٹرینس اور وہ فیمیل انٹریس کی جانب چل پڑی۔مال میں پھر اس نے اپنے اطراف میں نظریں دوڑائیں۔اسکے ساتھ ہی وہاج کھڑا تھا۔ جینز پر گرے شرٹ پہنے، rolex کی گھڑی پہنے آنکھوں پر چشمہ لگائے وہ وجیہہ مرد لگ رہا تھا۔چند لمحوں کیلیئے اسے ماحول میان اپنا آپ مس فٹ لگا۔ وہاج موبائل پہ کسی سے بات کررہا تھا۔بات ختم کرتے ہی اس نے انوشے کی جانب دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔تو وہ اپنے خیالات سے چونکی۔وہ خود شلوار قمیض میں ملبوس،بڑی سی چادر اوڑھے نقاب میں ملبوس تھی۔ وہ دونوں elevatorسے فرسٹ فلور پر پہنچے۔ ” تم دیلھ لو کہاں سے لینا ہے بارات کا ڈریس۔مجھے تو لڑکیوں کی شاپنگ کا اندازہ نہیں ہے۔اور پچھلے 3 سالوں سے تو لڑکوں کی بھی نہیں۔” وہ سر جھٹکتے ہوئے بولا تو اس کے لہجے میں تلخی تھی۔
"میں بارات کا ڈریس یہاں سے نہیں لوں گی۔اس نے صاف انکار کیا۔ ” کیوں”وہ حیران ہوا۔ ” کیونکہ میں افورڈ نہیں کرسکتی” اس نے صاف گوئ کا مظاہرہ کیا۔وہاج نے گہری سانس لی۔ ” دیکھو انوشے مجھے پتہ ہے کہ تم بہت خوددار ہو۔لیکن کبھی اپنی ضد کو پس پشت ڈال کر سوچا کرو۔ہمارا نکاح ہو چکا ہے۔تم بارات کا ڈریس میرے پیسوں سے لے لو۔اپنا حق مہر سمجھ کے۔”اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔ اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وہاج نے مزید کچھ سنے بغیر اسکا ہاتھ پکڑا اور ایک شاپ میان داخل ہو گیا۔ ” وہاج میرا ہاتھ چھوڑو۔” وہ آہستہ آواز میں غرائ۔اور ایک ناکام کوشش بھی کر ڈالی۔ ” صرف ایک شرط پر تم یہاں سے بھاگو گی نہیں۔اور آرام اور خوشی سے بارات کا ڈریس پسند کرو گی۔” وہاج نے اسکی جانب دیکھتے ہوےے کہا۔ اور پھر اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔ ” مے آئ ہیلپ یو سر” ایک ورکر وہاج سے پروفیشنل انداز میں پوچھ رہا تھا۔ ” یس یس یو پلیز شو برائیڈل ڈریسز” وہ اب مسکراتے ہوئےاسے بتارہا تھا۔ ” شیور سر کم ہیئر۔”وہ دونوں اسکے پیچھے ہولیے۔ ” کونسا کلر سر؟” ” ریڈ” ان دونوں میں سے کسی نے انوشے کو مخاطب نہیں کیا تھا۔اسےوہاج پر مزید غصہ آیا۔ شادی کی شاپنگ اسکی ہونی تھی۔اور وہ اس سے کچھ پوچھنا گوارا نہیں کررہا تھا۔خیر مجھ سے پوچھ لیرا تو میں کونسا سیدھے منہ جواب دیتی۔یا اسے بتادیتی۔” اس نے خود سےسوچا۔ ” یہ کیسا ہے؟” بلآخر وہاج کو اسکا خیال آہی گیا تھا۔ وہ ایک ریڈ کلر کا فراک تھا جس پر گولڈن اور سلور کلر کےامتزاج کے موتی چمک۔رہے تھے۔وہ انار کلی فراک تھا۔
۔جو پہلی ہی نظر میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔دوپٹہ پر بھی سلورچاور گولڈن کلر کے موتیوں کا کام تھا۔اور گرین پنچرز لگے ہوئے تھے۔ اچانک ہی اسکی نظر فراک پر گئ پھر اس نے دیکھا کہ وہ سلیولیس تھیں۔ ” نہیں یہ کچھ خاص نہیں ہے” اس نے ناگواری سے دیکھا۔ وہاج نے حیرانی سے پہلے ڈریس کی جانب دیکھا اور پھر اسکی جانب۔اتنے خوبصورت ڈریس کو کوئ ریجیکٹب کیسےبکر سکتا تھا؟لیکن وہ اس سے کچھ پوچھ نہیں۔سکتا تھا۔اسکے بعد بھی جتنے ڈریسز ان دونوں نے دیکھے وہ ایک سے ایک بڑھ کر تھے۔لیکن ان میں سے کسی کی بھی سلیوز نہیں تھیں۔انوشے نے سب کو رد کردیا۔ بلآخر جب تمام۔ڈریسز دیکھنے کے بعد بھی اسے کوئ پسند نہیں آئے تو وہ باہر آگئے۔انوشے کو اس وقت بے حد غصہ چڑھا تھا۔وہقج اسے لیے دوسری دکان مین داخل ہوا۔انہوں نے پورا فرسٹ فلور چھان ڈالا لیکن انوشے نے اپنی ضد کی وجہ سے کچھ خرید نہیں سکی۔اگر اسے وہاج کے پیسوں سے کچھ نہیں لینا تھا تو کچھ نہیں لینا تھا۔ "تمہارے ساتھ کیا پرابلم ہے انوشے ایک سےایک بڑھ کر ڈریسز دکھایے ہیں تمہیں لیکن کوئ پسند نہیں آتا۔”وہ elecator پہ کھڑا جھنجھلا کر کہہ رہا تھا۔ چند لوگوں نے مڑ کر انکی جانب دیکھا۔انوشے نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ان لوگوں کو جو ان کی جانب دیکھ رہے تھے۔اسے از حد غصہ آیا۔لیکن اس وقت خاموشی میں ہی عافیت جانی۔وہاج کو بھی اپنی فلطی کا احساس ہو رہا تھا تی خاموشیب سے اس کے ساتھ چل رہا تھا۔ انوشے تیز تیز قدموں سے آگے چل رہی تھی۔اسکا صاف اظہار ناراضی تھا۔انوشے نے مرحا کو فورا پہنچنے کا میسج کیا۔ وہاج پیچھے رہ گیا تھا۔رش میں اسکے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلنا بہت مشکل تھا۔اسی لمحے ایک آدمی کا ہاتھ انوشے کے ہاتھ میں تھامے موبائل سے ٹکرایا۔ ” اوہ سوری” وہ آدمی سوی کہہ کر آگے بڑھ گیا۔لیکن وہاج نےاسے ٹکراتے ہی دیکھا تھا۔اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر انوشے کا ہاتھ تھام لیا۔اور اسے لے کر رش سے آگے بڑھ گیا۔ ” چھوڑو میرا ہاتھ۔انوشے نےتیزی سے ہاتھ کھینچ کر کہا۔ ” چلو کس دکان پر جانا ہے اب۔اس نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا۔ ” تم مجھے رہنے دو اپنی شاپنگ کرلو۔: مرحا آرہی ہے میں اسکے ساتھ شاپنگ کرلوں گی۔تم مجھے شاپنگ نہیں کروسکتے۔”اس نے غصے سے کہا۔” شاپنگ تو میں تمہیں کروسکتا ہوں اگر تم کرنا چاہوتو۔۔۔۔۔۔لیکن خیر اگر مرحاآرہی ہے تو چلو ہم یہاں کسیcafe میں کافی پی لیتے ہیں۔مجھے تو بھوک بھی لگی ہے۔”اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔اور پھر کیفے کی جانب بڑھ گیا۔وہ بھی مرتے کیا نا کرنے کے تحت اسکے پیچھے ہولی۔وہ ابھی ایک میز پر بیٹھے ہی تھے کہ وہاں ایک لڑکیوں کا گروپ شہد کی مکھیوں کی طرح وہاج پر جھپٹ پڑا۔اور اپنے اپنے کیمراز سے پکچرز کینے لگیں۔وہاج بس دیکھتا رہ گیا۔وہ سب جینز اورٹاپ میں ملبوس تھیں۔وہاج کی نظر مسلسل انوشے کے چہرے پر ٹکی رہی ھو پہلے بغور سب کا جائزہ لیتی رہی۔اور پھر خود کو لاتعلق ظاہر کرنے لگی۔ان میں سے ایک نے وہاج کے کندھے پر بازو رکھ کر تصویر بنوائ۔انوشے کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ اس پر ہنسے یا افسوس کرے۔بغیر کسی رشتہ داری کے تحت وہ اس کے اتنے قریب تھیں کہ اسے دیکھ کر شرم آرہی تھی۔محرم و نامحرم کا تصور تو دور کی بات یہاں وہ ناجانے کس کے بارے میں سوچتی رہی۔یہی وہ کڑکیاں ہیں جو ایکٹرز یا جرنلیسٹ کو دیکھ کر انہیں ناصرف اپنا آئیڈیل بنا لیتی ہیں۔بلکہ اکثر اپنی زندگی بھی تباہ کرلیتی ہیں۔ آخر وہ کس حق سے اسکے ساتھ تصویریں بنوارہی تھیں۔
وہ انہیں دیکھ کر افسوس کر سکی۔اس لڑکی کی دیکھا دیکھی باقی لڑکیوں نے بھی وہ پوز بنوانے کی کوشش کی۔ لیکن وہاج نے انکے ہاتھ روک لیے۔ ” گرلز پلیز آپ نے تصویریں بنانی تھیں بنالیں۔ناو یو لیو۔آی ایم ود مائ فیملی۔” اس نے سرد لہجے میں انہیں منع کیا۔تو سب لڑکیوں نے رخ موڑ کر انوشے کی جانب دیکھا تواسے آکورڈ سا فیل ہوا۔ ” یہ کون ہیں؟” انہوں نےایک ساتھ پوچھا۔ ” انوشے داود۔۔۔۔۔۔” ” لیکن انہوں نے تو آپ پر۔۔۔۔۔؟” ” آپ ان سے شادی کیسے کر سکتے ہیں۔؟” وہ سب ایکدم سوال پر سوال کرنے لگیں۔ انوشے کو شدید رونا آیا۔وہ اٹھ کھڑی ہوئ۔ وہاج اسے اٹھ کر دیکھتا گھبرا گیا۔” گرلز پلیز لیو” ابکی بار اسنے شدید غصے میں کہاکہ اب کی بار وہ لڑکیاں جاتی ہی رہیں۔ ” انوشے پلیز ” اس نے التجائیہ لہجےمیں لہجے میں کہا۔ اسی لمحے سامنے سےعون اور مرحا چلی آئے۔ ” بھائ کتنی چپکو لڑکیاں ہیں۔ہم کب سے انتظار کررہے تھے۔کہ یہ جائیں تو ہم آئیں۔” مرحا نے اپنا بیگ اتار کر کرسی پر رکھتے ہوئے کہا۔ "ویسے بھابھی آپکو بھائ پر کنٹرول کرنا پڑے گا نہیں تو کسی اور کے حسن کا جادو چل جائے گا۔” عون نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔
ان دونوں کی کوشش تھی کہ پچھلی باتوں کااثر زائل ہو جائے۔لیکن یہاں کچھ فرق نہیں پڑا تھا کہ انوشے سنجیدہ تاثر لیے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔جبکہ وہاج سر جھکائے کھڑا تھا۔ ” چل کر شاپنگ کر لیں” انوشے نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
"نہیں پہلے کچھ کھا لیتے ہیں بھوک لگی ہے۔” مرحا نےانوشے کو دیکھتے ہوئے کہا۔اور ساتھ ہی بیٹھ گئ۔کہ اب کھائے بغیر نہیں اٹھے گی۔انوشے نے اسے گھورا۔” پلیز صبح سے کچھ نہیں کھایا۔”اس نےالتجا کی۔ ” اور وہ جوcafe میں بیٹھ کر آپ برگر کھارہی تھیں۔” عون نے اپنی یادداشت آزمای لیکن غلط کیا۔ ” آپ میرے کھانے پر نظر رکھتےہیں۔” اس نے خونخوار نظروں سے اسے گھور کر دیکھا۔اسی دواران ویٹر مینیو کارڈ لے آیا تو وہ تینوں بھی بیٹھ گئے۔سب نے اپنا آرڈر لکھوایا پھر انوشے کی جانب استفہامیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔خس نے اب تک کچھ نہیں لکھوایا تھا۔ ” ایک برگر” اسکا آرڈر مرحا نے دے دیا۔ ” نہیں میرے لیے بس ایک کولڈ کافی ٹھیک ہے۔” اس نے منع کیا۔ ‘ تم چپ کرو کونسے تمہارے پیسے لگ رہے ہیں ھو کنجوسی کررہی ہو۔” مرحا نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا اور پھر اسکی طرف سے ویٹر کوآرڈر دے دیا۔ "کیا مطلب بل۔کون پے کرے گا؟” اس نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا۔ ” وہاج بھائ۔ اب انکی شادی ہے۔اسی خوشی میں وہ لنچ تو کرواہی سکتے ہیں نا۔” اس نے معصومیت سے کہا۔تو وہاج مسکرا دیا۔ "میری شادی کی خوشی میں تمہارے قل نہ پڑھوادوں۔” انوشے نے جل کر سر گوشی میں کہا جو ان دونوں نے بخوبی بھی سن لی تھی۔ اور وہ دونوں ہی ہنس دیے۔
ویٹر کھانا کے کر آچکا تھا اسکیے مرحا نے کوئ کرارا سا جواب نہ دیا۔کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیااور اسکی وجہ مرحا تھی۔ ” چلیں بھئ اب شاپنگ کرتے ہیں کیونکہ میرے کھڑوس باس نے مجھے صرف دوگھنٹے کا ٹائم دیا ہے۔”۔ وہ بہت معصومیت سے عون کو دیکھے بغیر وہاج کی کہہ رہی تھی۔ ” فکر مت کرو تمہارے باس سے میں خود بات کر لوں گا اسکئ ہمت نہیں ہے کہ وہ میری بات ٹال دے۔” اس نے مسکراتے ہوئے عون کی جانب دیکھا جو مرحا کو گھور رہا تھا۔لیکن اسکی بات پر مسکرادیا۔وہاج نے بل پے کیا اور پھر وہ لوگ شاپنگ کیلیئے کھڑےہو گئے۔اس بار بھی انوشے کا ردعمل مختلف نہیں تھا کیونکہ وہ ہر ایک شریس کو ریجیکٹ کررہی تھی۔لیکن اب وہاج کوئ دعمل نہیں دے رہا تھا۔ بلکہ پرسکون انداز سے انکے ساتھ پورا مال چھانٹ رہا تھا۔ ” آخر تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے تم تو بہت ا چھاtaste رکھتی ہوپھر اتنے اچھے ڈریسز کو دیکھے بغیر کیوں ریجیکٹ کررہی ہو۔”مرحا نے بلآخر تنگ آکر پوچھا۔”کیونکہ یہ مہنگے ہیں اور میں اتنے مہنگے ڈریسز افورڈ نہیں کرسکتی۔” انوشے نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔ ” کیا مطلب تم اب اپنی شادی کی شاپنگ پر بھی کنجوسی کرو گی۔” مرحا نے خفگی سے اسکی جانب دیکھا۔ ” مرحا یہ اتنے مہنگے ڈریسز ہیں اور کوئ بھی پانچ دس لاکھ سے کم کا نہیں ہے۔ میں اسے لے لوں۔اور ایک دن پہن کر اتار دوں۔اور پھر اسکا کام ختم۔پھر یہ پیسے تو ضائع ہو گئے نا جہاں غریب کچھ سو روپے کیلییے ترستے ہیں انکی بیٹیاں کنواری رہ جاتی ہیں۔میں لاکھوں روپے خرچ کردوں اور پھر پر سکون سو جاوں۔ سوری میرے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے۔” اس نے سنجیدگی سے کہا۔ ” لیکن اسکے پیسے تو وہاج بھائ دے رہے ہیں نا۔” مرحا اب بھی قائل نہیں ہوئ تھی۔ ” کوئ بھی دے۔ میں اس حد تک شہہ خرچی کی قائل نہیں ہوں۔” اس نے اسی انداز میں جواب دیا۔ ” پھر اتنی دیر سے ہمیں خوار کیوں کررہی ہو۔پہلے بتا دیتی ہم کسی لنڈا بازار سے تمہارا ڈریس لےلیتے۔” اس نے ناراضی سے کہا۔ ” میں نے پہلے ہی بتادیا تھا وہاج کو۔” اس نے شانے اچکائے۔ ” بھائ میرا خیال ہے کہ اسے یہاں چھوڑ کر ہم لوگ شاپنگ کر آتے ہیں شادی کی۔” مرحا نے وہاج کے قریب ہو کر سرگوشی میں کہا تو اسکے لبوں پر جاندار مسکراہٹ دوڑ گئ۔ ” لیکن پسند تو تمہاری بہن نے ہی کرنا ہے نا۔” اس نے بھی سرگوشی میں کہا۔اور ان دونوں کی سرگوشی سے انوشے کے کان فیض یاب ضرور ہوئے تھے۔اسلیے وہ انہیں گھورتی آگے بڑھ گئ۔ وہ اب بھی اسکی تقلید میں چل پڑے۔
” ویسے وہاج بھائ آپکو کوئ ڈریس پسند آیا؟” مرحا نے چلتے چلتے وہاج سے پوچھا۔ ” ہاں کچھ آئے تھے لیکن وہ انوشے کو پسند نہیں آئے تھے۔” اس نے انوشے کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔” کیوں انوشے؟”
مرحا نےاس کے قریب ہو کر پوچھا۔ ” کیونکہ وہ مجھے پسندنہیں آئے تھے۔” اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ ” وجہ” وہ تفتیشی موڈ میں تھی۔انوشے نے اسے گھورا۔پھر ان سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے بڑھی۔ مرحا اسکے پیچھے لپکی۔ ” وجہ تو بتاو” وہ دونوں اب ان دونوں سے فاصلے پر تھیں۔ ” پہلی وجہ وہ وہاج کی پسند ہیں۔دوسری وجہ وہ سلیولیس ہیں۔” اس نے انگلیوں پر وہ گنوائیں۔ یہ پہلی والی وجہ تو مزن بھی سکتی ہوں۔لیکن دوسری والی نہیں مان سکتی ہوں۔کیونکہ سلیولیس پر تو سلیوز لگوائ جاسکتی ہیں۔ مرحا نے فیصلہ سنانے والے انداز میں کہا۔ ” نہیں لگوائ جا سکتیں۔ایک بات انکے ساتھ ہیں ہی نہیں اور دوسری بات ان پر موتیوں کاکام ہے جو سلیوز پر نہیں ہوگا۔تو آف کورس اچھا نہیں لگے گا۔” اس نے توجیہہ پیش کی۔ ” پھر بھی دیکھ لیتے ہیں کچھ نہ کچھ کر لوں گی انکے ساتھ۔”وہ اسکا یاتھ تھام کر وہاج وغیرہ کے ساتھ آئ۔جو اب تک انکے قریب ہی پہنچ چکے تھے۔ ” چلیں وہاج بھائ آپکی پسند کے ڈریسز دیکھتے ہیں۔” وہ انتینوں کو لیے elevatorکی طرف بڑھنے لگی۔ ” لیکن انوشے کو پسند نہیں آئے مرحارہنے دو۔” اس نے منع کیا۔ اسے تو کوئ چیز پسند نہیں آتی۔آپ اسے چھوڑیں۔” اس نے یاتھ جھلا کر کہا۔ ” دفعہ ہو جاو مرحا! مجھے تو تم بھی پسند نہیں آتی.” انوشے نے جل کر کہا۔ ” دیکھا وہاج بھائ میں نے کہا تھانا۔۔۔۔” مرحا نے فخریہ انداز میں کہا تو وہ تینوں ینس دیے۔وہ سب اب فرسٹ فلور کی اسی شاپ پر تھے جہاں سب سے پہلے ڈریسز دیکھ کر گئے تھے۔بلآخر وہاج اور مرحا نے انوشے کو یکسر نظرانداز کرکے گرےاور پرپل امتزاج کا جوڑا ولیمے کیلیئے اور وائٹ اینڈ بلیو کلر کا بارات کیلیئے پسند کیا تھا۔دونوں ڈریسز reasonable prices میں لے کر پھر وہ جوتے پسند کرنے گئے۔اور پھر جیولری۔ ان سب چیزوں کی شاپنگ کے دوران انوشے سے برائے نام ہی پوچھا جاتا۔ وہاج کی شاپنگ عون اور اسنے مل کر کی تھی۔تقریبا وہ شام کے چھ بجے وہ شاپنگ سے فارغ ہوئے۔ ” عون تم مرحا کو اسکے گھر چھوڑ آنا میں اور انوشے انکے گھر جارہےہیں۔ یہ شاپنگ کا کچھ سامان انکے گھر چھوڑنا ہے۔” وہاج نے اسے ہدایت دی..
"اوکے” اور وہ دونوں گھر کی جانب چل دیے۔
” پھر کیسی لگی شاپنگ۔” گاڑی چلاتے وہاج نے اس سے پوچھا۔جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔” بڑی جلدی خیال نہیں آگیا آپکو” وہ طنزیہ انداز میں بول رہی تھی۔تو وہ ہنس دیا۔ ” شکر کریں کہ خیال آگیا” "جی بالکل۔۔۔۔۔ ورنہ اتنی ساری کڑکئوں میں میراخیال و مشکل سے ہی آتا ہو گا نا۔” اس نے جل کر کہا۔وہاج نے بطور اسکے تاثرات دیکھے۔” جیلس ہو رہی ہو؟” ” ہونہہ۔۔۔۔۔۔جلتی ہے ان سے میری جوتی۔” وہ بڑ بڑائ۔گھر پہنچ کر اس نے سارے شاپرز لاونج میں پھینک دیے۔تو اسد اور ھبہ اسکے پیچھے لپکے اور سامان کھول کھول کر دیکھنے لگے۔ ” تم لوگ تو بھوکوں کی طرح سامان پر جھپٹے ہو۔پہلی دفعہ دیکھا ہے کیا؟” انوشے کو انکی اس حرکت پر سخت غصہ آیا۔وہاج انہیں دیکھ کر مسکرارہا تھا۔فرح اسی وقت نماز پڑھ کر لاونج میں آئیں۔ ” کیا ہو گیا ہے آپی ہم تو بس وہاج بھائ کی شاپنگ کا ٹیسٹ چیک کررہے تھے۔” ھبہ نے منہ بنایا۔” ہاں ایسے جیسے کھانے کاٹیسٹ ہو۔” وہ ابھی بھی انہیں گھورہی تھی۔ ” ویسے ایک بات ہے وہاج کی چوائس ہے بہت اچھی ورنہ آپ تو پھیکے رنگ کے کپڑے لے آتیں۔” یہ خیال پیش کرنے والی شخصیت اسد کی تھی۔وہاج کی موجودگی کی وجہ سے وہ بس اسے گھور کر رہ گئ۔ ” ھبہ یہ کیا طریقہ ہے گھر آئے مہمان کیساتھ پیش آنے کا جو کچھ کھانے کیلیئے کے لیے کے آو۔”فرح نےاسے گھرکا تو وہ فورا کچن کی طرف چل دی۔ ” نہیں آنٹی اب مجھے اجازت دیں میں بس یہ سامان گھر رکھوانے آیا تھا۔” وہ ل0کھڑا ہوا۔” ارے بیٹھو۔کچھ کھا پی کر جانا۔صبح سے گئے ہوئے ہو۔اب واپس آرہے ہو۔ضرور اسکو کچھ پسند نہیں آرہا ہو گا۔جب بھی شاپنگ کرنے جاتی ہے ایسے ہی خوار کرتی ہے۔” انہوں نے توپوں کا رخ انوشے کی جانب کیا۔جو کھسیا گئ۔ وہاجنے مسکراہٹ دبالی۔ ھبہ نے جوس کا گلاس انوشے کی جانب بڑھایا اور وہاج کی طرف کرتے ہوئے بولنے لگی۔ ” ویسے یہ کام تو انوشے آپی کا ہے۔کہ شوہر کی خدمت کریں اور یہ ہم سے کروارہی ہیں۔” ھبہ نے دہائ دی۔ ” تم نےایک کام۔کرلیا تو کونسا احسان کرلیا مجھ پر۔” انوشے نے آنکھیں دکھائیں۔ ” ویسے مہندی کا فنکشن کوں نہیں ہورہا۔ایک ہی تو فنکشن مزے کا ہوتا ہے۔” اسد نے اپنا دکھڑا سنایا۔مہندی کے فنکشن کی دونوں خاندانوں کی طرف سے ممانعت کی گئ تھی۔کہ پیسے اور وقت کا ضیا ہے بس۔ "تم دونوں نے پڑھائ کرلی ہے جو تنے پرسکون انداز میں گپیں ہانک رہے ہو۔”انوشے نے ان دونوں کو اٹھانے والا حربہ استعمال کیا۔جو کامیاب ثابت ہوا۔” ہم پڑھنے ہی جاریے تھے۔”ھبہ نےاٹھتے ہوئے کہا۔ ” خوابوں میں”اس نے ہانک لگائ۔ ” میں ابھی آکر فزکس کا ٹیسٹ لوں گی۔” انوشے نے ہمیشہ والا ہتھیار استعمال۔کیا۔ "ہائے کاش نیوٹن پر سیب کی جگہ سیب کا درخت گر جاتا۔” ھبہ نے دل سے دعا کی۔”
"وہ کمبخت پھر بھی بچ جاتا۔یہ بتانے کیلیئے کہ اتنے بھاری درخت نے اس پر کیسے اتنا بڑا زخم کیا ہے۔” اسد نے دل ہی دل میں نیوٹن کو ہزاروں گالیاں نکالیں۔ انوشے مسکراتے ہوئے فرح کی طرف متوجہ ہو گئ۔ جو وہاج سے بات کررہی تھیں۔وہاج بیٹا!آپکی والدہ نے ایک بار بھی یہاں کاچکر نہیں لگایا۔شادی کی تاریخ بھی طے ہوگئ۔”فرح اب نیلوفر کے متعلق استفسار کررہی تھی۔وہ انکی طرف سے رفتیش کا شکار تھیں۔ "بس آنٹی کچھ معملات ہی اتنی جلدی طے ہوگئے کہ ممی کو وقت ہی نہیں ملا آپکی طرف آنے کا اب بھی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔جلدی چکر لگائیں گی یہاں کا”وہاج نےمسکرا کر بات سنبھالنے کی کوشش کی۔ نیلوفر کا پارہ تو اسی دن سے ساتویں آسمان پر تھا۔گھر میں سب نے کوشش کر کے دیکھ لی تھی۔سوائے وہاج کے اور کوئ انہیں قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔وہاج نے اب ان سے بات کرنے کی ٹھان لی تھی۔

جاری ہے….

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/