مختصر کہانیاں

بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 7 وہ آج کچھ سوچ …

???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 7

وہ آج کچھ سوچ کر کہانی لکھنے بیٹھی تھی لیکن تھوری کنفیوزڈ سی تھیں
کے کیا لکھے پہلے سوچا کے کوئی ہارر فلم سے آئیڈیا لے لیکن پھر اپنی سوچ پہ لعنت بھیجا کے اس طرح تو کاپی ہوگی اس نے اپنی کہانی میں کچھ الگ لکھنا جو دیکھنے میں بالکل اصلی ہوں سوچتے سوچتے اچانک وہ ڈیسک سے اُٹھ گئی کے باہر آندھیری ٹیرس میں جاکر لکھے
لیپ ٹاپ اُٹھا کر وہ باہر آگئی اور ایک چیر جو درخت کے قریب تھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی جبکہ ٹانگیں سامنے چھوٹے سے ٹیبیل پر رکھ دیں
اور کچھ سوچتے ہوئے اس کی نظر سامنے فل مون پر پڑی پورے چاند کو دیکھ کر وہ بے اختیار کھو گئی تھیں
اچانک اس کا فون بجا اس نے چونک کر نظریں ہٹائی اور پھر دیکھا کے انون نمبر کی کال تھیں اس نے بے اختیار اُٹھا لیا
"ہلیو !”
"کیسے آپ فارغ تو ہے نا ؟”
ہما نے فون کو کان سے ہٹا کر دیکھا آواز تو جانی پہنچانی لگ رہی تھیں
"ارے مس ہما بھول گئی آپ کو کہا تھا نا میں نے کے بڑی مزے کی باتیں کرتی ہے آپ اس وقت تو ڈیوٹی تھی اب فارغ اب بتائیں کیا کہنا ہے آپ کو ۔”
زُلنین کی شرارت سے بھری آواز پر اس کی بھنوئیے کھینچ گئی لیکن پھر جھٹکا لگا پہلے نام پھر نمبر
"آپ کو میرا نمبر کیسا پتا چلا ؟”
"ارے آپ نے ہی تو مجھے نمبر دیا تھا یاد تو کریں ۔”
"میں نے کب دیا تھا آپ کو میں آپ سے پوچھ رہی تھیں اور آپ بھاگ گئے ۔”
"میں بھاگا تو نہیں تھا مس ہما میں اصل میں چل کر گاڑی میں گیا تھا اور آپ کو بتا کر گیا تھا ۔”
"اُف کیا چیز ہے یہ ۔”
ہما بڑبڑآئی
"اور اب کال کس خوشی میں کی ہے ایس پی صاحب نے ۔”
"خوشی کی تو خیر آپ بات ہی نہ کریں کے کوئی انتہا نہیں ہے ۔”
"خاصے چھچھورے ہے آپ ۔”
ہما دانت پیستے ہوئے بولی
"نوازش !”
"کون ہو بھائی کیوں تنگ کررہے ہو اور اتنے عجیب کیوں ہو۔”
"اللّٰلہ توبہ میری ! اتنا ہینڈسم لڑکا آپ کو بھائی لگتا ہے
اُف اُف میرے کان کے پردے کیوں نہیں پھٹ گئے یہ سُنے سے پہلے ۔”
وہ صدمے سے بولا
"یا اللّٰلہ کیا چیز ہے یہ !”
"چیز تو کھانے والی ہوتی ہے مجھے آپ چیز سے کیوں کمپیر کررہی ہے ۔”
وہ ہما کے کہنے پر مزایا انداز میں بولا
ہما نے گھورتے ہوہے فون بند کردیا
"بدتمیز ! اویے فری ہورہا ہے ۔”
دوبارہ فون بجنے لگا
"اُف !ہلیو !”
"کسی سے بات کرتے کرتے اچانک فون کاٹ دینا ایک انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے ۔”
بات تو سنجیدگی سے کی جانی تھی لیکن اس کے لہجے میں کوئی خاص سریسنس لگ نہیں رہی تھی
"اور کسی لڑکی کو چھیڑنا کیا اخلاقی حرکت ہے ۔”
ہما نے طنزیا لہجے میں کہا
"او مائی لارڈ ! انا وڈا الزام مس ہما تُسی کی ایے سٹائل نہیں جچتا !”
"مسڑ زالنین !”
"ایک منٹ ایک منٹ میں زالنین نہیں زُلنین ہوں اچھا خاصا نام بگار دیا آپ نے میرا ۔”
وہ جیسے بُرا منا گیا تھا
"آپ زُلنین ہو یا زالنین ہو میری طرف سے آپ سمندر میں ڈوب جائیں ۔”
"واہ کیا نیا سٹائل ہے عموماً لڑکیوں سے بھاڑ میں جاو یا جہنم میں جاو سُنا تھا سمندر کی کیا خاص بات ہے ۔”
"سو ڈھیٹ مرے ہوگے تب آپ پیدا ہوئے ہوگے ۔”
ہما ابھی تک اس کی بونگیاں سُن رہی تھی
"یار مس ہما آپ اتنا بھی نہ بنے مجھے پتا ہے آپ میری باتوں کو انجوائی کررہی ہے ۔”
"جی بالکل !”
ہما نے نظریں گھمائی اور سپاٹ لہجے میں کہا
"دیکھا !”
"ہوگیا آپ کا ایس پی صاحب !”
"ہائے مس ہما اتنی عزت نہ دیں مجھے ۔”
"اُف بولتے رہے میں بند کررہی ہوں ۔”
وہ سمجھے اب منتے کریں گا لیکن الٹ ہئ حساب ہوا
"کوئی نہیں پہلی کال تھی ہماری اتنا کافی ہے آپ اپنا کام کریں ال دا بیسٹ اللّٰلہ حافظ !”
وہ کہہ کر فون بند کرچکا تھا اور ہما کو یقین نہیں آرہا تھا کے کتنے آرام سے اس سے بات کر چکی تھی وہ بھی اجنبی تھا لیکن جانا نے کیوں نہیں لگا تھا اور اس کی سوچ پہ اسے یہ نہیں پتا چلا کے اس نے آل دی بسٹ بولا
"اُف توبہ توبہ نانو کو پتا چلے تو کچا چبا جائے ۔”
اس نے لیپ ٹاپ کو دیکھا جا اس کے نہ یوز کرنے پر بند ہوگیا اس نے جنجھلاتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کیا اور اُٹھ گئی
"عجیب ہے ٹوٹلی عجیب خوامخواہ فری ہورہا تھا میں دوبارہ اس طرف نہیں جاو گی نانو صحیح کہہ رہی تھی ۔”
خود سے بڑابڑتے ہوئے اندر گھسی اور ٹیرس کا دروازہ بند کیا
اچانک زُلنین نے دیکھا وہ اب دوبارہ نہیں آئے گی تو درخت سے اترا اور دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا
"مائی بیوٹفول اینجل !”
اس کی سکائی بلیو آنکھیں چمک رہی تھی جب کے لب مسکرا اُٹھے
وہ خود سے کہتے ہوئے مڑ گیا
????????????????????????????????????????????
"نانو آپُ کو پتا ہے غالیا کا گھر کس طرف ہے ؟”
ہما نانو کے کمرے میں آئی جہاں وہ کوئی دوائی ڈھونڈ رہی تھی
"کیوں ؟”
نانو نے حیرت سے سر اُٹھایا
"ایسے ہی بور ہورہی ہوں ایک تو آپ نے ہر جگہ کی پابندی لگائی ہوئی ہے سوچا اس کے گھر ہو آو بولا بھی تھا کے میں اس کی مما سے ملنے آو گی اب پانچ دن ہوگئے ہیں اچھا تھوڑی لگتا ہے ۔”
"لیکن وہ تو شہر گئی ہوئی ہے ۔”
"کیوں ؟”
ہما نے پوچھا
"غالیا کے ماموں آئے تھے انھیں لیں گئے کیوں فرزین کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔”
"ہے یہ کیسا بھائی ہے جو اپنی بہن کو تن تنہا معزور حالت میں جس کے پاس صرف چھوٹی سی بیٹی ہے اگر خدانخواستہ انھیں کچھ ہوجاتا پھر کہاں جاتی کس سے مدد مانگتی ! اُف یہ خونی رشتے ہوتے ہی فضول ہے ۔”
ہما کو ناجانے کیوں بہت بُرا لگا یہ خون کے رشتے وقت کے ساتھ اتنی سفید کیوں ہوتے جارے ہیں آخر انسان تعلیم اور ترقی کے پاتے ہی اپنے اندر کی انسانیت اور ہمدردی کیوں ختم کررہا اس سے لاکھ درجہ بہتر تو جاہل ہے کم سے کم اپنے سے جڑے رشتے کی اسے قدر تو ہوتی ہے
وہ سوچنے لگی
"کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہوگی ۔”
نانو نے اپنا چشمہ ٹھیک کیا اور اس کو پُرسوچ انداز میں دیکھا
"اتنا مت سوچا کرو ہما پاگل ہوجاو گی ۔”
نانو کی بات پہ اس نے سر اُٹھایا
"کیا کرو اس جگہ پہ رہوں گی کوئی بولنے والا نہیں ہوگا تو انسان کے پاس سوچنے کے علاوہ کیا کام ہوگا ۔”
"ہما پہلے بھی تو کوئی نہیں تھا اب اچانک کیا ہوا ؟”
"پہلے ماما تو تھی نا !”
ہما بڑبڑائی
"میں نہیں ہو کیا !”
نانو نے منہ بنایا ہما مسکرائی اور ان کے کندھے پہ سر رکھنے سے پہلے ان کے گال پہ پیار اور پھر بولی
"ایک بات مانے گی !”
"ہاں بولو ۔”
"مجھے کچھ چیزیں چائیے وہ بھی مال روڈ جانا پڑیں گا کیا میں جاسکتی ہوں ؟”
نانو نے مڑ کر اسے گھورا
"اگر آپ کو رش نہیں پسند تو میں اسلام آباد چلی جاتی ہوں ۔”
"کیا چائیے تمھیں ؟”
نانو نے مڑ کر اسے دیکھا
"مجھے پاکستان گھومنے کا موقع مل جائے گا اور ۔۔ام کچھ خرید لو گی ۔”
"اکیلے !ہمارے پاس تو گاڑی بھی نہیں ہے ہما !”
"نانا کے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے کیا !”
"ہے بہت اچھی جاکر گیراج میں دیکھ آو بس کسی مکینک کی ضرورت ہے ۔”
نانو مسکراتے ہوئے بولی
"اچھا واہ داٹس امیزنگ میں دیکھ کر آتی ہوں ۔”
ہما جانے لگی جب نانو نے اسے روکا
"ہما رکو !”
نانو کی پریشانی زدہ آواز پر مڑی
"کیا ہوا نانو !”
"یہ تمھاری گردن پر کیا ہوا ہے !”
نانو نے اس کی گردن کے پچھلے حصے کو چھوا ہما نے الجھن زدہ نظروں سے دیکھا
"میری گردن ۔”
"یہ نیل ٹائپ پڑا ہوا تمھیں کہی گری تھی ۔”
"نہیں تو مجھے زرا دیکھنے دیں !”
ہما نے بڑھ کر نانو کی شیشے کی طرف دیکھ اور سویٹر کو تھوڑا سا کھینچا تو دیکھا یہ bruise تھے یہ کیسے ہوا کال تک تو ایسا کچھ نہیں تھا
"تکلیف تو نہیں ہورہی بیٹا !”
نانو نے ہولے سے چھوا ہما کو تھوڑا سا درد محسوس ہوا ویسے پہلے تو ایسا ویسا کچھ نہیں محسوس ہوا اچانک یہ کہاں سے ۔
"نہیں نانو ایسے ہی ہوجاتا ہے کھبی کھبار گری ہوگی اب نیشان نظر آیا ہوگا ۔”
ہما نے سویٹر کو چھوڑ دیا اور مڑ کر نانو کو کہا
"ویسے تمھارے بال بھی لمبے ہوتے جارہے ہیں کٹوانا نہیں بہت پیاری لگ رہی ہوں ۔”
نانو نے پیار سے میرے بالوں کو چھوا جو واقی تھوڑے سے بڑے ہوئے تھے امومن میں کٹنگ کروایا کرتی تھی ہر مہینے لیکن عرصہ ہوگیا ہے موقعہ ہی نہ ملا
اپنے آپ کو دیکھا اور ہولے سے مسکرا پڑی پھر مڑی
"اچھا چلے گاڑی دیکھنے ۔”
"تم جاو میں زرا نفل پڑھ لو ۔”
"اوکے گیراج کی چابی دیں دے ۔”
"اچھا رکو !”
مانو مڑی تو ہما نے دوبارہ سے بالوں کو ہٹا کر اپنے نیشان کو دیکھا یہ کیسے ہوا آخر وہ اسے چھونے لگی جو پرپل اور بلیوش سا ہوا وا تھا لگتا تھا جیسے کسئ نے اس کو مارا ہوں
????????????????????????????????
اس نے گیراج کا دروازہ اوپر ڈریگ کیا اور پھر سائڈ لائٹ آن کی کار کے آوپر کپڑا چڑھا ہوا تھا کار دیکھنے میں تو خاصی بڑی لگ رہی تھی نانو نے بتایا تھا نانا دو چیز رکھنے کے بے حد شوقین تھے پُرانی گاڑیاں وہ بھی انٹیک دوسرا ڈفرنٹ ڈیکروشن پیسس جو لندن کے زمانے کے سٹائل کے ہوں اصل میں ہما کے نانا لندن سے بلانگ رکھتے تھے وہ تو جب اس کی ماما تھوڑی سی بڑی ہونے لگی تو اس کی تربیت کی خاطر انھیں پاکستان آنا پڑا وہ اکثر ماں باپ جو کرتے ہیں تاکہ بیٹے آزاد ماحول میں بگڑ نہ جائے لیکن ظاہر ہے جس ماحول میں ان کا گزارا تھا ان کا مزاج اور شوق نہیں بدل سکتے تھے اس لیں ان کا تو کاٹج برٹس سٹائل پہ بنا تھا
ہما نے سوچا اس طرح نظر نہیں آئے گا کیوں نہ دھکا دیں کر باہر نکال کر دیکھے وہ کار کے پیچھے کی سائڈ کی طرف گئی اور اسے دھکا دینے لگی پہلے تو بہت مشکل تھا پھر اسے نے بہت زور لگایا اور اتنا زور سے پُش کرنے سے اس کا سانس پھول گیا
"پہلے کپڑا تو ہٹا لو ۔”
کار ہلکی سے آگئے ہوئی تھی جب اس نے خود سے کہا
اور کھینچ کر اُتارا دیکھا تو اس کا منہ کھل گیا یہ تو واقی انٹیق گاڑی تھی لائٹ بلیو کلر کی بلیو تو اس کا فیورٹ تھا اس کی آنکھیں بھی اس رنگ کی تھی پھر اپنے سر کو جھٹکا
تو اس کو دیکھنے لگی
‏Wow Chevrolet 1957 one of the best vintage car it’s yours
ہما اس کی کو چھو رہی تھی جب کسی کے کہنے پر اچھلی دور ہی وہ کھڑا ہوا تھا بلیو جینز ایس پی صاحب جو اس وقت ڈارک گرے ٹریک سوٹ میں ملبوس تھے کالے بال ماتھے پہ گرے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ہما وہی کھڑے ہوکر بلیو کار کو دیکھنے کے بجائے اس بلیو بیوٹی کو دیکھنے لگی
وہ قریب آکر اس دیکھنے لگا
"آپ اِدھر بھی آگئے ۔”
ہما نے چونک کر اسے قریب آتے ہوئے دیکھا تو تیزی سے بولی
"وہ آپ اتنی چھوٹی سی جان مونسڑ کو دھکا دیں رہی تھی سوچا آجاو دور سے نظر آرہا تھا اوپر سے کار واو اتنی یونیق کار ہے آپ کے پاس اب تو یہ بہت کم اویلیبل ہے ۔”
"بہت ہی فارغ ہے آپ ویسے پاکستان کی پولیس خاصی کام چور لگتی ہے ۔”
ہما نے مسکراتے ہوئے طنز کیا وہ بُرا منائے بغیر ہنس دیا
"صبح کے آٹھ بجے سے لیکر میری شام کے پانج بجے تک ڈیوٹی ہوتی ہے اب کیا کرو کھبی کھبار تو رات تک بھی بھاگنا ہوتا ہے وہ تو آج کل آپ کے مبارک قدم پڑیں ہیں تو ٹف روٹین کم ہیں ۔”
"واٹ اویور !”
ہما نے اس کی اتنی لمبی سٹوری پہ نظریں گھمائی اور کار کو دیکھنے لگی واقی بہت پیاری تھی لیکن اسے صاف کرنے کی ضرورت تھی
"تو آپ نے بتایا نہیں کے یہ آپ کی کار ہے ۔”
"میرے نانا کی ہے بس اب آپ یہاں سے تشریف لیں جائے ۔”
ہما نے اسے جانے کا رستہ دکھایا
"ارے اتنی روڈنس مس ہما امریکہ والوں کا سُنا تھا آج دیکھ بھی لیا ۔”
اب تیسرا جھٹکا اسے کیسے پتا چلا
"ایک بات بتائیں آپ میری جاسوسی کرتے رہے ہیں ۔”
ہما نے بازو اپنے گرد لپیٹ کر اسے دیکھا
زلُنین نے اسے ناسمجھی سے دیکھا
"میں بھلا کیوں کرو گا آپ کی جاسوسی !”
"تو میرا نام ، نمبر پتا کیسے پتا لگا ۔”
"آپ کو تو پورا مری جانتا ہے میں تو آپ کا نیبر ہوں لیکن آپ اور آپ کی نانی ہمسائیوں کے حقوق نہیں جانتی ۔”
وہ مضنوعی ناراضگی سے بولا
"اُف جائے اپنا کام کریں اور ہم فضول لوگوں کے حقوق نہیں ادا کرتے ۔”
"اچھا فضول !”
وہ بدستور مسکرا کر اسے دیکھتا رہا
‏Why are you so creep
ہما نے اس کے دیکھنے پر جنجھلا کر کہا
"پتا نہیں حالانکہ اتنا جینٹل مین ہوں سب کو لگتا ہے آپ کو کر یپ ۔”
"چلے نام اور پتا کو تو ٹھیک ہے نمبر کیسے پتا لگا ۔”
ہما نے قریب آکر اسے گھورا
"ایزی ایزی محترمہ !! نمبر آج کل کے زمانے میں اتنا مشکل نہیں ہے پر آپ نے ہی تو دیا تھا ۔”
"میں نے نہیں دیا تم کون ہو کیا ہو ؟”
زلُنین نے اس کے کہنے پر قہقہ لگایا
"پچاس دفعہ بتایا ہے لیکن خیر میں ہوں زُلنین زولفیقار ، عمر ہے میری ستائیس سال ، ایس پی کے عہدے پر ہوں انگلش لیٹرچر میں ماسڑ کیا تھا پویٹ بنے کے لیں لیکن اچانک سے پولیس میں چلا گیا ماں باپ کا اکلوتا وارث ہوں بابا میرے سائنٹسٹ تھے ماما میری پویٹس پوئٹری لکھتی تھی دونوں اس دُنیا میں نہیں ہے اور میں اکیلا اپنے دادا کے گھر میں رہتا ہوں بالکل اکیلہ فرائی ڈے سے سُنڈے اپنے باقی کام کرتا ہوں صبح چھ بجے کے وقت جاکنگ اور شام کے چھ بجے جاکنگ جم تو ہے گھر میں لیکن مجھے کھلی فضا میں اکسیرسائز کرنا پسند ہے ۔
"وہ بولتا جارہا تھا کے اسے بولنا پڑا
"اچھا اچھا بس بس ! جان لیا کیا ہے آپ ساتھ میں چھچھورے بھی بے حد ہے ۔”
ہما نے منہ بنایا
"تھینک یو کمپلیمنٹ کے لیں خیر چلے گی میرے ساتھ واک کرنے اگر گھر نہیں بلانا ۔”
"اس وقت تو پاگل کرتے ہیں واک ! اور نقصان ہے آکسیجن کے بجائے انسان کاربن ڈائی اوّکسائیڈ اپنے اندر گھساتا ہے اور دوسرا میں ایک اجنبی کے ساتھ بھلا کیوں واک کرو ۔
وہ غصے سے بولی
"خیر مجھے اس سے کون سا فرق پڑنا ہے کون سا کاربن ڈائی اوّکسائیڈ مجھے اثر کریں گی ۔”
"کیا !”
"میرا مطلب ہے سالوں سال سے کررہا ہوں مجھے تو ایسا ویسا کچھ نہیں ہوا ۔”
وہ گڑبڑا کر بولا
"اُف جاو یہاں سے ۔”
"ہما دیکھ لی تو آجاو ! ”
نانو کی آواز پہ وہ گڑبڑائی اور اس کا بازو پکڑا اور اسے دھکا دینے لگی
"جاو نانو نے دیکھ لیا تو مارے گی ۔”
"ارے ملنے تو دیں مجھے ۔”
اچانک اس کی نظر ہما کی گردن پر پڑی تو اس کے تاثرات بدلے اور یہ تاثرات خاصے سخت ہوگئے
"یہ آپ کے گردن پر کیسے ہوا !”
لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی پتھر سے بھی سخت ہوگیا
ہما نے اسے دیکھا پھر اپنے گردن کو
"اپنی نظر کو نیچی رکھا کریں ۔”ہما نے اپنی سویٹر کو تھوڑا اوپر کیا اور سخت لہجے میں کہا جبکہ زُلنین نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیے لیکن کنڑول کر کے پیاری مسکراہٹ لایا
"پھر ملاقات ہوگی مس ہما خدا خافظ !”
اس کی نظریں ابھی تک ہما کی گردن پر تھی تیزی سے مڑا اور چلنے لگا
ہما نے اسے دور جاتے ہوئے دیکھا اور نانو کی آواز پر سر جھٹک کر یہاں سے نکلی
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/