” خُوشامد ” آج تم کو، ضُرور جانا ہے آج تم، یعنی ر…

آج تم کو، ضُرور جانا ہے
آج تم، یعنی رُک نہیں سکتیں
تم نے جانے کی، ٹھان لی ہے
تو مجھے، کوئی اعتراض نہیں
لیکن، اِتنی بھی جلد بازی کیا
آج کی رات، اور رُک جاؤ
واسطہ ہے، حَسیں سِتاروں کا
جو تمھارا، طواف کرتے ہیں
چاندنی رات کی، بہاروں کا
جو تمھاری، نماز پڑھتی ہیں
میری تکلیف کا، نہ دھیان کرو
میں تو عادی ہوں، رَنج سَہنے کا
ہاں، مگر اِس حسین موسم پر
لڑکھڑاتی ہوئی، ہواؤں پر
دل لُبھاتی ہوئ، فَضاؤں پر
آج کی رات، رَحم فرماؤ
صِرف اک رات، اور رُک جاؤ
آج تم کو، ضُرور جانا ہے
تو اُٹھو، ایک تیتری کی طرح
ایک دَم ، مُسکرا کے اُڑ جاؤ
یونہی اَٹھکیلیاں، نہیں اچھی
دِل کھلونا سہی، مگر پھر بھی
اِس کھلونے کی، ساخت نازک ہے
ایک جنبش میں، ٹُوٹ جاتا ہے
عُمر کا ساتھ تو، نہیں تم سے
لیکن ایک رات، اور مِل جُل کر
زیست سے، اِنتقام اگر لے لیں
ہوش مندی سے، کام اگر لے لیں
تو بَھلا ، اِس میں کیا بُرائی ہے
صُبح کے وقت، کل چلی جانا
صُبح کا وقت، نیک ہوتا ہے
کتنی دِلکش، دِکھائی دیتی ہو
آؤ میرے قریب آ جاؤ
آج تم کو، ضرور جانا ہے
تو بڑے شوق سے، چلی جاؤ
کون لہروں کو ، روک سکتا ہے
لیکن، اِتنا خیال آتا ہے
کہ اچانک، تمھارے جانے سے
انجم و ماہ ، رُوٹھ جائیں گے
اور مجھے رات بھر ستائیں گے
سَرد آہیں بَھرے گی، مَوجِ ہوا
سانس لے گی، نہ سوگوار فضا
پھر بھی جانے پہ، تم مُضر ہو اگر
تو خُدا کے لیے، سِتاروں کو
چاندنی رات کی، بہاروں کو
نگہت و نُور کے، خُماروں کو
مشورہ کر کے ، ساتھ لے جاؤ
میں طبیعت پہ , جبر کر لوں گا
(عبدالحمّید عَدم)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی




