پروین کمار اشک کا یومِ وفات July 17, 2017 میں ہمس…

July 17, 2017
میں ہمسایہ ہوں تیرا، اشک ! مجھ کو
ذرا سی دھوپ، تھوڑی سی ہوا دے
….
حویلیاں بھی ہیں کاریں بھی کارخانے بھی
بس آدمی کی کمی دیکھتا ہوں شہروں میں
…..
کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کی
خدا ہر ایک کو اپنا پتہ نہیں دیتا
…..
پھل دار تھا تو گاؤں اسے پوجتا رہا
سوکھا تو قتل ہو گیا وہ بے زباں درخت
…..
زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دے
نشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دے
…
لگا کے آگ میں آیا تھا نیم شب جس کو
ہوئی جو صبح تو دیکھا مکان میرا تھا
……
پروین کمار اشک۔۔۔۔۔کو قدرت نے محبت سے لبریز دل عطاء کیا تھا وہ انسان اور انسانیت سے محبت کرنے والے۔۔۔ایک خَیر خواہ شاعر تھے۔۔۔گروہی پابندیوں سے آزاد تھے۔۔۔فیس بک پہ۔۔۔ان سے بہت اچھا تعلق رہا اکثر موضوعات پہ ان سے تبادلۂ خیالات بھی رہا۔۔۔۔وہ ادبی دنیا میں پائی جانے والے ” گروہی تعصبات” سے بہت متفکر رہتے تھے۔۔۔۔تقریباً گیارہ مہینے پہلے ۔۔۔مَیں نے ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔۔۔ ان کی خوشی ناقابِلِ بیان تھی۔۔۔ حالات کی بہتری کی امید میں وہ ۔۔۔ایک لامتناہی ہجر و فراق۔۔۔۔دے کر ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے۔۔۔
ان کے اشعار۔۔۔۔ان کے اعلیٰ ظرف اور بہترین تخیّل کے عکاس ہیں۔
(حکیم خلیق الرحمٰن )
……………………….


