ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںسبب ہر ایک مجھ سے پوچھتا ہے میرے ہونے کا الٰہی سار...

سبب ہر ایک مجھ سے پوچھتا ہے میرے ہونے کا الٰہی سار…

سبب ہر ایک مجھ سے پوچھتا ہے میرے ہونے کا
الٰہی ساری دنیا کو میں کیوں کر رازداں کر لوں
….
تاجور نجیب آبادی کا یومِ ولادت
02؍مئی 1893ء
نام احسان_اللّٰه_خان_درانی، اور تخلص تاجور تھا۔ 02؍مٸی 1893ء کو نجیب آباد ضلع بجنور (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ 30؍جنوری 1951ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔
منتخب کلام

نظر بھر کے جو دیکھ سکتے ہیں تجھ کو
میں ان کی نظر دیکھنا چاہتا ہوں
….
خدا مجھ کو تجھ سے ہی محروم کر دے
جو کچھ اور تیرے سوا چاہتا ہوں
….
جنس ہنر مذاق خریدار دیکھ کر
خود بے نیاز چشم خریدار ہو گئی
….
اف وہ نظر کہ سب کے لیے دل نواز ہے
میری طرف اٹھی تو تلوار ہو گئی
….
کہیں رسوا نہ ہوں رنگینیاں درد محبت کی
مرا اتنا خیال اے دیدۂ خوں بار کر لینا
….
برداشت درد عشق کی دشوار ہو گئی
اب زندگی بھی جان کا آزار ہو گئی
….
آہ اس کی بے کسی تو نہ جس کے ساتھ ہو
ہائے اس کی بندگی جس کا تو خدا نہیں
…..
دل کے پردوں میں چھپایا ہے ترے عشق کا راز
خلوت دل میں بھی پردا نظر آتا ہے مجھے
….
غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں
فضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میں
….
حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیں
درد آفریں نظر درد آشنا نہیں
ننگ عاشقی ہے وہ ننگ زندگی ہے وہ
جس کے دل کا آئینہ تیرا آئینہ نہیں
آہ اس کی بے کسی تو نہ جس کے ساتھ ہو
ہائے اس کی بندگی جس کا تو خدا نہیں
حیف وہ الم نصیب جس کا درد تو نہ ہو
اف وہ درد زندگی جس کی تو دوا نہیں
دوست یا عزیز ہیں خود فریبیوں کا نام
آج آپ کے سوا کوئی آپ کا نہیں
اپنے حسن کو ذرا تو مری نظر سے دیکھ
دوست! شش جہات میں کچھ ترے سوا نہیں
بے وفا خدا سے ڈر طعنۂ وفا نہ دے
تاجورؔ میں اور عیب کچھ ہوں بے وفا نہیں
…………………..
اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج
حسن نظر نواز حریف نظر ہے آج
ہر راز داں ہے حیرتیٔ جلوہ ہائے راز
جو با خبر ہے آج وہی بے خبر ہے آج
کیا دیکھیے کہ دیکھ ہی سکتے نہیں اسے
اپنی نگاہ شوق حجاب نظر ہے آج
دل بھی نہیں ہے محرم اسرار عشق دوست
یہ راز داں بھی حلقۂ بیرون در ہے آج
کل تک تھی دل میں حسرت آزادیٔ قفس
آزاد آج ہیں تو غم بال و پر ہے آج
…………………
محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوں
شکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوں
نہ میں بدلا نہ وہ بدلے نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیوں کر اعتبار‌‌ انقلاب ناتواں کر لوں
نہ کر محو تماشا اے تحیر اتنی مہلت دے
میں ان سے داستان درد دل کو تو بیاں کر لوں
سبب ہر ایک مجھ سے پوچھتا ہے میرے ہونے کا
الٰہی ساری دنیا کو میں کیوں کر رازداں کر لوں
…………………
غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میں
فضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میں
کھٹک رہا ہوں ہر اک کی نظروں میں بچ کے چلتی ہے مجھ سے دنیا
زہے گراں باریٔ محبت کہ دوش ہستی پہ بار ہوں میں
کہاں ہے تو وعدۂ وفا کر کے او مرے بھول جانے والے
مجھے بچا لے کہ پائمال قیامت انتظار ہوں میں
تری محبت میں میرے چہرے سے ہے نمایاں جلال تیرا
ہوں تیرے جلووں میں محو ایسا کہ تیرا آئینہ دار ہوں میں
وہ حسن بے التفات اے تاجورؔ ہوا التفات فرما
تو زندگی اب سنا رہی ہے کہ عمر بے اعتبار ہوں میں
………………..


RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/