منتخب غزلیں

شُعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ پھر نُ…

شُعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ
پھر نُور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ

یہ کِس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے
آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ

اے دوست مُجھے گردشِ حالات نے گھیرا
تو زُلف کی کملی میں چھپانے کے لیے آ

دیوار ہے دُنیا اُسے راہوں سے ہٹا دے
ہر رسمِ محبت کو مٹانے کے لیے آ

مطلب تری آمد سے ہے، درماں سے نہیں ہے
حسرتؔ کی قسم دِل ہی دکھانے کے لئے آ

حسرتؔ جے پوری

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/