منتخب غزلیں

تخلص :’انجمؔ نام :فضل الدین پیدائش :28 Sep 1920 |…

تخلص :’انجمؔ
نام :فضل الدین
پیدائش :28 Sep 1920 | کپورتھلہ پنجاب
وفات :13 Apr 2001
فضل دین نام اور انجم تخلص تھا۔۲۸؍ستمبر ۱۹۲۰ء کو سلطان پور لودھی ، ریاست کپورتھلہ(مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۳ء میں ریاضی میں ایم اے کیا۔ اسلامیہ کالج جالندھر،ایمرسن کالج لاہور، گورنمنٹ کالج ساہیوال اور دیال سنگھ کالج لاہور میں درس دیتے رہے۔انجم صاحب اسلامیہ کالج لاہور سے ریٹائر ہوئے۔حلقہ ارباب ذوق، لاہور کے سکریٹری اور پنجاب ریاضی سوسائیٹی کے صدر بھی رہے۔انجم رومانی۱۳؍اپریل۲۰۰۱ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کا شعری مجموعہ’’کوئے ملامت‘‘ کے نام سے طبع ہوچکا ہے۔ ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:’دنیا کے کنارے‘، ’ثنا اور طرح کی‘(نعتیہ مجموعہ)، کلیات انجم رومانی‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:

سچ کے سودے میں نہ پڑنا کہ خسارا ہوگا
جو ہوا حال ہمارا سو تمہارا ہوگا
۔۔۔۔۔
دل سے اٹھتا ہے صبح و شام دھواں
کوئی رہتا ہے اس مکاں میں ابھی
۔۔۔۔۔

یہ جتنے مسئلے ہیں مشغلے ہیں سب فراغت کے
نہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں
۔۔۔۔۔

دیتے نہیں سجھائی جو دنیا کے خط و خال
آئے ہیں تیرگی میں مگر روشنی سے ہم
۔۔۔۔۔
ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیئے
انسان ہیں سبھی تو مساوات چاہیئے

اچھا چلو خدا نہ سہی ان کو کیا ہوا
آخر کوئی تو قاضی حاجات چاہیئے

ہے عاقبت خراب تو دنیا ہی ٹھیک ہو
کوئی تو صورت گزر اوقات چاہیئے

جانے پلک جھپکنے میں کیا گل کھلائے وقت
ہر دم نظر بہ صورت حالات چاہیئے

آئے گی ہم کو راس نہ یک رنگئ خلا
اہل زمیں ہیں ہم ہمیں دن رات چاہیئے

وا کر دئیے ہیں علم نے دریائے معرفت
اندھوں کو اب بھی کشف و کرامات چاہیئے

جب قیس کی کہانی اب انجم کی داستاں
دنیا کو دل لگی کے لیے بات چاہیئے


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/