مبارکؔ عظیم آبادی کا یومِ وفات
12؍اپریل 1958
مبارک عظیم آبادی ، نام مبارک حسین ، ڈاکٹر ، مبارکؔ تخلص تھا۔ ۲۹؍اپریل ۱۸۴۹ء کو قصبہ تاج پور ،سابق سب ڈویژن دربھنگہ(بہار) میں پیدا ہوئے۔فارسی کی درسی کتابوں کے بعد عربی کی صرف ونحو پڑھی۔ وہ *۱۲؍اپریل۱۹۵۸ء* کوانتقال کرگئے۔
ممتاز شاعر مبارکؔ عظیم آبادی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار
..
آنے میں کبھی آپ سے جلدی نہیں ہوتی
جانے میں کبھی آپ توقف نہیں کرتے
—
اثر ہو یا نہ ہو واعظ بیاں میں
مگر چلتی تو ہے تیری زباں خوب
—
اس بھری محفل میں ہم سے داورِ محشر نہ پوچھ
ہم کہیں گے تجھ سے اپنی داستاں سب سے الگ
—
اک مرا سر کہ قدم بوسی کی حسرت اس کو
اک تری زلف کہ قدموں سے لگی رہتی ہے
—
اک تری بات کہ جس بات کی تردید محال
اک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں
—
بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاں
دامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاں
—
بیش و کم کا شکوہ ساقی سے مبارکؔ کفر تھا
دور میں سب کے بقدر ظرف پیمانہ رہا
—
تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا
پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی
—
تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں
تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا
—
جاں نثارانِ محبت میں نہ ہو اپنا شمار
امتحاں اس لیے ظالم نے ہمارا نہ کیا
—
جو دل نشیں ہو کسی کے تو اس کا کیا کہنا
جگہ نصیب سے ملتی ہے دل کے گوشوں میں
—
جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں
دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں
—
دل لگاتے ہی تو کہہ دیتی ہیں آنکھیں سب کچھ
ایسے کاموں کے بھی آغاز کہیں چھپتے ہیں
—
دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے
اتنے وقتوں میں کوئی وقت ملاقات بھی ہے
—
شکست توبہ کی تمہید ہے تری توبہ
زباں پہ توبہ مبارکؔ نگاہ ساغر پر
—
قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا
تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا
—
لے چلا پھر مجھے دلِ یار دلِ آزار کے پاس
اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس
—
مری خاک بھی اڑے گی با ادب تری گلی میں
ترے آستاں سے اونچا نہ مرا غبار ہوگا
……………………………..
12؍اپریل 1958
مبارک عظیم آبادی ، نام مبارک حسین ، ڈاکٹر ، مبارکؔ تخلص تھا۔ ۲۹؍اپریل ۱۸۴۹ء کو قصبہ تاج پور ،سابق سب ڈویژن دربھنگہ(بہار) میں پیدا ہوئے۔فارسی کی درسی کتابوں کے بعد عربی کی صرف ونحو پڑھی۔ وہ *۱۲؍اپریل۱۹۵۸ء* کوانتقال کرگئے۔
ممتاز شاعر مبارکؔ عظیم آبادی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار
..
آنے میں کبھی آپ سے جلدی نہیں ہوتی
جانے میں کبھی آپ توقف نہیں کرتے
—
اثر ہو یا نہ ہو واعظ بیاں میں
مگر چلتی تو ہے تیری زباں خوب
—
اس بھری محفل میں ہم سے داورِ محشر نہ پوچھ
ہم کہیں گے تجھ سے اپنی داستاں سب سے الگ
—
اک مرا سر کہ قدم بوسی کی حسرت اس کو
اک تری زلف کہ قدموں سے لگی رہتی ہے
—
اک تری بات کہ جس بات کی تردید محال
اک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں
—
بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاں
دامن کدھر کدھر ہے گریباں کہاں کہاں
—
بیش و کم کا شکوہ ساقی سے مبارکؔ کفر تھا
دور میں سب کے بقدر ظرف پیمانہ رہا
—
تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا
پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی
—
تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں
تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا
—
جاں نثارانِ محبت میں نہ ہو اپنا شمار
امتحاں اس لیے ظالم نے ہمارا نہ کیا
—
جو دل نشیں ہو کسی کے تو اس کا کیا کہنا
جگہ نصیب سے ملتی ہے دل کے گوشوں میں
—
جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں
دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں
—
دل لگاتے ہی تو کہہ دیتی ہیں آنکھیں سب کچھ
ایسے کاموں کے بھی آغاز کہیں چھپتے ہیں
—
دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے
اتنے وقتوں میں کوئی وقت ملاقات بھی ہے
—
شکست توبہ کی تمہید ہے تری توبہ
زباں پہ توبہ مبارکؔ نگاہ ساغر پر
—
قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا
تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا
—
لے چلا پھر مجھے دلِ یار دلِ آزار کے پاس
اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس
—
مری خاک بھی اڑے گی با ادب تری گلی میں
ترے آستاں سے اونچا نہ مرا غبار ہوگا
……………………………..

