منتخب غزلیں

آنکھ میں آنسو نہیں ہیں پر رُلاتا ہے بہت وہ دسمبر ,…

آنکھ میں آنسو نہیں ہیں پر رُلاتا ہے بہت
وہ دسمبر , ہر دسمبر , یاد آتا ہے بہت

ساتھ میرے بھیگتا ہے بارشوں میں بیٹھ کے
یاد کے سارے دریچے کھول جاتا ہے بہت

روندتا ہے یہ جہاں کی ساری دیواریں کھڑی
دو قدم پہ لا کے اس کو آزماتا ہے بہت

مسکراہٹ, گنگناہٹ, قہقہے, باتیں تری
خواب بن کے رات بھر مجھ کو جگاتا ہے بہت

مجھکو دے جاتا ہے چھپ کے اسکی خوشبو کا پتہ
ایک دیوانے کو پاگل یہ بناتا ہے بہت

جانتا ہے جب نہ اب منزل کی مجھ کو آرزو
راہ میں اندھے کی کیوں شمعیں جلاتا ہے بہت

خواہشوں کے بیج بو کے خود چلا جاتا ہے یہ
وہ دسمبر , ہر دسمبر دل دکھاتا ہے بہت

اتباف ابرک


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/