منتخب غزلیں
آنکھوں میں نہ زُلفوں میں نہ رُخسار میں دیکھیں مُجھ…
آنکھوں میں نہ زُلفوں میں نہ رُخسار میں دیکھیں
مُجھ کو میری دانش مرے اَفکار میں دیکھیں
مُجھ کو میری دانش مرے اَفکار میں دیکھیں
ملبوس بدن دیکھیں ہیں رنگین قبا میں
اب پیرہنِ ذات کو اِظہار میں دیکھیں
سو رنگ مضامین ہیں جب لکھنے پہ آؤں
گلدستۂ معنی میرے اَشعار میں دیکھیں
پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیّار میں دیکھیں
رکھے ہیں قدم میں نے بھی تاروں کی زمیں پر
پیچھے ہوں کہاں آپ سے رفتار میں دیکھیں
منسُوب ہیں انسان سے جِتنے بھی فضائل
اپنے ہی نہیں میرے بھی اطوار میں دیکھیں
کب چاہا کہ سامانِ تِجارت ہمیں سمجھیں
لائے تھے ہمیں آپ ہی بازار میں دیکھیں
اُس قادرِ مُطلق نے بنایا ہے ہمیں بھی
تعمیر کی خُوبی اُسی مَعمار میں دیکھیں
(ڈاکٹر فاطِمہ حَسن)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی


