منتخب غزلیں
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی بر…

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
…
ادا جعفری کا یوم وفات
(پیدائش: 22 اگست 1924ء – وفات: 12 مارچ 2015ء)
——
منتخب کلام
——
آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں
یہ کس کا جمال آ گیا ہے
——
ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا
——
بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
——
دل کے ویرانے میں گھومے تو بھٹک جاؤ گے
رونق کوچہ و بازار سے آگے نہ بڑھو
——
بجھی ہوئی ہیں نگاہیں غبار ہے کہ دھواں
وہ راستہ ہے کہ اپنا بھی نقش پا نہ ملے
——
مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانے
جو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے
——
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
مقدور نہیں صبح، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس رہ سے چلے، تیرے درو بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
——
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے
چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
دل کے تقاضے، اُن کے اشارے
بوجھل بوجھل، ہلکے ہلکے
دیکھو دیکھو دامن اُلجھا
ٹھہرو ٹھہرو ساغر چھلکے
اُن کا تغافل اُن کی توجّہ
اِک دل اُس پر لاکھ تہلکے
اُن کی تمنّا، اُن کی محبّت
دیکھو سنبھل کے دیکھو سنبھل کے
——
ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے
کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں ٹوٹی
جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہماں سا لگے ہے
خوشبو کا یہ انداز بہاروں میں نہیں تھا
پردے میں صبا کے کوئی ارماں سا لگے ہے
سونپی گئی ہر دولتِ بیدار اسی کو
یہ دل جو ہمیں آج بھی ناداں سا لگے ہے
آنچل کا جو تھا رنگ وہ پلکوں پہ رچا ہے
صحرا میری آنکھوں کو گلستاں سا لگے ہے
پندار نے ہر بار نیا دیپ جلایا
جو چوٹ بھی کھائی ہے وہ احساں سا لگے ہے
ہر عہد نے لکھی ہے میرے غم کی کہانی
ہر شہر میرے خواب کا عنواں سا لگے ہے
تجھ کو بھی ادا جرأتِ گفتار ملی ہے
تو بھی تو مجھے حرفِ پریشاں سا لگے ہے
——
یہی نہیں کہ زخم ِ جاں کو چارہ جُو ملا نہیں
یہ حال تھا کہ دل کو اسمِ آرزو ملا نہیں
ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے
وہ رہگزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں
تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھلا
کبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سو ملا نہیں
وہ جیسے ایک خیال تھا جو زندگی پہ چھا گیا
رفاقتیں تھیں اور یوں کہ روبرو ملا نہیں
تمام آئینوں میں عکس تھے مری نگاہ کے
بھری نگر میں ایک بھی مجھے عدو ملا نہیں
وارثوں کے ہاتھ میں جو اک کتاب تھی ملی
کتاب میں جو حرف ہے ستارہ خُو ملا نہیں
وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بکو لیے پھری
وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں
——
یہ فخر تو حاصل ہے بُرے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں
جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں
تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے
ہنگامہِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں
ایک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
…………………..
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
…
ادا جعفری کا یوم وفات
(پیدائش: 22 اگست 1924ء – وفات: 12 مارچ 2015ء)
——
منتخب کلام
——
آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں
یہ کس کا جمال آ گیا ہے
——
ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا
——
بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا
——
دل کے ویرانے میں گھومے تو بھٹک جاؤ گے
رونق کوچہ و بازار سے آگے نہ بڑھو
——
بجھی ہوئی ہیں نگاہیں غبار ہے کہ دھواں
وہ راستہ ہے کہ اپنا بھی نقش پا نہ ملے
——
مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانے
جو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے
——
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
مقدور نہیں صبح، چلو شام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
جس رہ سے چلے، تیرے درو بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے
——
ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے
چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
دل کے تقاضے، اُن کے اشارے
بوجھل بوجھل، ہلکے ہلکے
دیکھو دیکھو دامن اُلجھا
ٹھہرو ٹھہرو ساغر چھلکے
اُن کا تغافل اُن کی توجّہ
اِک دل اُس پر لاکھ تہلکے
اُن کی تمنّا، اُن کی محبّت
دیکھو سنبھل کے دیکھو سنبھل کے
——
ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے
کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں ٹوٹی
جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہماں سا لگے ہے
خوشبو کا یہ انداز بہاروں میں نہیں تھا
پردے میں صبا کے کوئی ارماں سا لگے ہے
سونپی گئی ہر دولتِ بیدار اسی کو
یہ دل جو ہمیں آج بھی ناداں سا لگے ہے
آنچل کا جو تھا رنگ وہ پلکوں پہ رچا ہے
صحرا میری آنکھوں کو گلستاں سا لگے ہے
پندار نے ہر بار نیا دیپ جلایا
جو چوٹ بھی کھائی ہے وہ احساں سا لگے ہے
ہر عہد نے لکھی ہے میرے غم کی کہانی
ہر شہر میرے خواب کا عنواں سا لگے ہے
تجھ کو بھی ادا جرأتِ گفتار ملی ہے
تو بھی تو مجھے حرفِ پریشاں سا لگے ہے
——
یہی نہیں کہ زخم ِ جاں کو چارہ جُو ملا نہیں
یہ حال تھا کہ دل کو اسمِ آرزو ملا نہیں
ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے
وہ رہگزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں
تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھلا
کبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سو ملا نہیں
وہ جیسے ایک خیال تھا جو زندگی پہ چھا گیا
رفاقتیں تھیں اور یوں کہ روبرو ملا نہیں
تمام آئینوں میں عکس تھے مری نگاہ کے
بھری نگر میں ایک بھی مجھے عدو ملا نہیں
وارثوں کے ہاتھ میں جو اک کتاب تھی ملی
کتاب میں جو حرف ہے ستارہ خُو ملا نہیں
وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بکو لیے پھری
وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں
——
یہ فخر تو حاصل ہے بُرے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں
جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں
تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے
ہنگامہِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں
ایک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں
ہم گردشِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
…………………..



