منتخب غزلیں

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا گھر سے چلے تھے جی…

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا
گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دیے

نشتر خانقاہی کا یومِ وفات
March 07, 2006

نشتر خانقاہی معروف شاعر، صحافی اور ادیب تھے۔ ان کی پیدائش فروری 1930 کو جہاں آباد ضلع بجنور میں ہوئی۔
نشتر خانقاہی کے اس طویل صحافتی تجربے کے اثرات ان کی شاعری میں بھی نظر آتے ہے۔ ان کی غزلیں اور نظمیں ان کے وقت کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی مسائل کو مخصوص تخلیقی ہنر مندی کے ساتھ منعکس کرتی ہیں۔ نشتر خانقاہی کے اردو اور ہندی میں متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے۔ 7 مارچ 2006 کو بجنور میں انتقال ہوا۔
منتخب اشعار

اپنا بیمار ہے دل عشق کا بیمار نہیں
خود تشفی کے سوا ہجر کا آزار نہیں

تعمیر ہم نے کی تھی ہمیں نے گرا دیے
شب کو محل بنائے سویرے گرا دیے

کشش تو اب بھی غضب کی ہے نازنینوں میں
مگر وہ چاند چمکتا نہیں جبینوں میں

کبھی تو ملتوی ذکرِ جہاں گرداں بھی ہونا تھا
کبھی تو اہتمام صحبتِ یاراں بھی ہونا تھا

ہوائیں گرد کی صورت اڑا رہی ہیں مجھے
نہ اب زمیں ہی مری ہے نہ آسمان مرا

خوش فہمیوں کو درد کا رشتہ عزیز تھا
کاغذ کی ناؤ تھی جسے دریا عزیز تھا

آپ اپنی ذات میں سمٹا ہوا عالم تمام
تم کو یوں جانا کہ تھا جانا ہوا عالم تمام

پیشانیٔ حیات پہ کچھ ایسے بل پڑے
ہنسنے کو دل نے چاہا تو آنسو نکل پڑے

میرے بدن کی آگ ہی جھلسا گئی مجھے
دیکھا جو آئنہ تو ہنسی آ گئی مجھے

دیکھا نہیں دیکھے ہوئے منظر کے سوا کچھ
حاصل نہ ہوا سیر مکرر کے سوا کچھ

مسافر خانۂ امکاں میں بستر چھوڑ جاتے تھے
وہ ہم تھے جو چراغوں کو منور چھوڑ جاتے تھے

قہر تھا ہجرت میں خود کو بے اماں کرنا ترا
دشت نامحفوظ اور اس میں مکاں کرنا ترا

تیز رو پانی کی تیکھی دھار پر بہتے ہوئے
کون جانے کب ملیں اس بار کے بچھڑے ہوئے

پرسش حال سے غم اور نہ بڑھ جائے کہیں
ہم نے اس ڈر سے کبھی حال نہ پوچھا اپنا

مری قیمت کو سنتے ہیں تو گاہک لوٹ جاتے ہیں
بہت کمیاب ہو جو شے وہ ہوتی ہے گراں اکثر
……………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/