منتخب غزلیں

پہنچ ہی جائے گا یہ ہاتھ تیری زلفوں تک یوں ہی جنوں …

پہنچ ہی جائے گا یہ ہاتھ تیری زلفوں تک
یوں ہی جنوں کا اگر سلسلہ دراز رہا
….
میکشؔ اکبر آبادی کا یومِ ولادت
03؍مارچ 1902
(پیدائش: 3 مارچ 1902ء – وفات: 25 اپریل 1991ء)
میکشؔ اکبرآبادی نام -سیّد محمد علی شاہ، تخلص میکشؔ۔ ۳؍مارچ ۱۹۰۲ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ درس نظامیہ کی تکمیل مدرسہ عالیہ آگرہ سے کی۔ ان کا مشغلہ تصنیف وتالیف رہا۔ ۲۵؍اپریل ۱۹۹۱ء کو آگرہ میں انتقال کرگئے۔
——
منتخب کلام
——
تری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوست
مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
——
زباں پہ نام محبت بھی جرم تھا یعنی
ہم ان سے جرم محبت بھی بخشوا نہ سکے
——
چراغ کشتہ لے کر ہم تری محفل میں کیا آتے
جو دن تھے زندگی کے وہ تو رستے میں گزار آئے
——
وضع کا پاس کہاں تک کرتے ، ہم تو پھر دیوانے تھے
ان سے بھی یاں نبھ نہ سکی جو عاقل تھے فرزانے تھے
آپ ہی یہ طے کرتے رہیئے کچھ تھا کہ نہ تھا کچھ ہے کہ نہیں
کٹ ہی گئی اپنی تو اُن میں خواب تھے یا افسانے تھے
——
اب جہاں چاہوں بنا لوں میں گھر اپنا میکشؔ
بڑھ گئی اور بھی وسعت مری ویراں ہو کر
——
نہیں خود اپنی ہی ہستی کا اعتبار مجھے
یہ جان کر بھی ترا اعتبار میں نے کیا
——
بڑھا دی دید کی لذت مرے وہمِ جدائی نے
رہے وہ سامنے یوں جیسے کوئی بار بار آئے
——
نہیں ہوتی کسی کو قدر اپنے حال کی میکشؔ
بُرا ہو یا بھلا گزرا زمانہ یاد آتا ہے
——
جو فرشِ گُل پر سو نہ سکا ، جو ہنس نہ سکا جو رو نہ سکا
اِس خاک پہ اُس شوریدہ سر نے آخر آج آرام کیا
——
جدھر دیکھو ادھر اہلِ ہوس کا بول بالا ہے
خدا ہی ہے جو میکشؔ انجمن کی انجمن بدلے
——
اُس کے آئینۂ رخسار کو دیکھا میں نے
اے محبت ترے معیار کو دیکھا میں نے
راستے سے کوئی مطلب تھا نہ منزل سے غرض
ساتھ چل کر تری رفتار کو دیکھا میں نے
——
اس کی آنکھیں ، اس کی آنکھیں ، کیسی ہیں اب کیا کہیے
اچھا ٹھہرئیے ، سوچنے دیجے ، اس کی آنکھیں ، اس کی آنکھیں
——
مرے غم کے لیے اس بزم میں فرصت کہاں پیدا
یہاں تو ہو رہی ہے داستاں سے داستاں پیدا
وہی ہے ایک مستی سی وہاں نظروں میں یاں دل میں
وہی ہے ایک شورش ہی وہاں پنہاں یہاں پیدا
تو اپنا کارواں لے چل نہ کر غم میرے ذروں کا
انہیں ذروں سے ہو جائے گا پھر سے کارواں پیدا
مری عمریں سمٹ آئی ہیں ان کے ایک لمحے میں
بڑی مدت میں ہوتی ہے یہ عمرِ جاوداں پیدا
ذرا تم نے نظر پھیری کہ جیسے کچھ نہ تھا دل میں
ذرا تم مسکرائے ہو گیا پھر اک جہاں پیدا
ہماری سخت جانی سے ہوا شل ہاتھ قاتل کا
سر مقتل ہی ہم نے کر لیا دارالاماں پیدا
توقع ہے کہ بدلے گا زمانہ لیکن اے میکشؔ
زمانہ ہے یہی تو ہو چکے انساں یہاں پیدا
…..
یہ رنگ و نور بھلا کب کسی کے ہاتھ آئے
کدھر چلے ہیں اندھیرے یہ ہاتھ پھیلائے
خدا کرے کوئی شمعیں لیے چلا آئے
دھڑک رہے ہیں مرے دل میں شام کے سائے
کہاں وہ اور کہاں میری پر خطر راہیں
مگر وہ پھر بھی مرے ساتھ دور تک آئے
میں اپنے عہد میں شمع مزار ہو کے رہا
کبھی نہ دیکھ سکے مجھ کو میرے ہم سایے
چلے چلو کہ بتا دے گی راہ خود رستے
کہاں ہے وقت کہ کوئی کسی کو سمجھائے
حرم کی آبرو ہم نے بہت رکھی پھر بھی
کئی چراغ صنم خانے میں جلا آئے
میں اپنے دل کو تو تسکین دے بھی لوں میکشؔ
وہ مضطرب ہے بہت کون اس کو سمجھائے
….
یہ مانا زندگی میں غم بہت ہیں
ہنسے بھی زندگی میں ہم بہت ہیں
تری زلفوں کو کیا سلجھاؤں اے دوست
مری راہوں میں پیچ و خم بہت ہیں
نہیں ہے منحصر کچھ فصل گل پر
جنوں کے اور بھی موسم بہت ہیں
غبار آلودہ چہروں پر نہ جانا
انہیں میں کیقباد و جم بہت ہیں
مجھے کچھ ساز ہے نشتر سے ورنہ
مرے زخموں کے یاں مرہم بہت ہیں
قفس یہ جان کر توڑا تھا میں نے
قفس کو توڑ کر بھی غم بہت ہیں
کروں کیا چارہ ان آنکھوں کا میکشؔ
کہ ان کے سامنے پر نم بہت ہیں
…………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/