یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش) قسط نمبر 2 شیرافگن تی…
یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش)
قسط نمبر 2
شیرافگن تیار ہو کر اپنے کمرے سے نکلا ساتھ والے کمرے سے حیات بھی ہاتھ میں موبائل لئے باہر آئی ہمیشہ کی طرح اسکی نظریں موبائل پر جمیں تھیں.دونوں سیڑھیوں سے کچھ فاصلے پر تھے.جب حیات ، شیرافگن سے ٹکرائی وہ گرنے کو تھی کہ شیرافگن نےاسے تھام لیا ورنہ وہ سیڑھیوں سے سیدھا نیچے کی طرف لینڈ کرتی.حیات نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں جبکہ ہاتھ میں موبائل مظبوطی سےتھام رکھا تھا.شیرافگن نے اسے گھورکر دیکھا.”خود چاہے گر جاؤ پر اسے نہ گرنے دینا”قریب سے آتی شیرافگن کی آواز پر اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں.خود کو شیرافگن کے بازوؤں کے گھیرے میں پایا تو جلدی سے سنبھل کر پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی
"سوری افگن بھائی وہ …میں”
"اگرتم دیکھ کر چلنا سیکھ لو تو تمہیں ہمیشہ سوری نہ کہنا پڑے یا تم سوری کا بورڈ لے کر گھوما کرو تاکہ ٹکرانے پر سامنے والے کو دیکھا سکو ورنہ تم سوری بول بول کر تھک جاؤ گی کیونکہ ٹکرانے کا کام تو تم نے ساری زندگی جاری رکھنا ہے”اسکی بات کاٹ کر شیرافگن نے اسے ڈانٹا.حیات نے اسے دیکھا جوبلیک سوٹ میں لشکارے مار رہا تھا.
"آئندہ خیال رکھوں گی”مسکین سی شکل بنا کر سنہری آنکھیں گھمائیں.شیرافگن نےایک نظراسے دیکھا پھر سیڑھیاں اترنے لگا.حیات نے لمبی سانس بھری اور اسکے پیچھےاترنے لگی.اچانک شیرافگن پلٹا اورحیات کاسراسکے سینے سےٹکرایا.آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے.”تم نے قسم کھالی ہے کہ سارے سال کا ٹکراؤ آج ہی کرنا ہے؟”اسکے بازو کو سختی سے تھام کر پوچھاگیا.حیات نےحیرت سے اسے دیکھا اب کی بار غلطی شیرافگن کی تھی.پر ڈانٹ اسے ہی پڑھ رہی تھی حیات کوغصہ آیا.
"اب کی بار غلطی آپکی ہےتو مجھے کیوں ڈانٹ رہے ہیں.مجھے کیا پتہ تھاکہ آپ پیچھے پلٹیں گے”حیات نے اپنا بازو چھڑوایا. شیرافگن نے اسے گھورکر دیکھا
"تم ایک بدتمیز لڑکی ہواور اب کیا میں ہر کام تم سے پوچھ کر کروں پاگل لڑکی”چبا کر کہتا وہ باقی سیڑھیاں اترکر چلالگا.حیات اسکی پشت کو گھورتی رہی "ہونہہ ایک توغلطی جناب کی اپنی تھی.اپرسے مجھے سنا دیا حد ہوتی ہے جلاد کہیں کے.. شیرمار”وہ یونہی بڑبڑاتی نیچے اتری.ہال میں دادو صوفےپر بیٹھی تھیں.ایمان انکے ساتھ بیٹھی چاۓ کپ میں ڈال رہی تھی حیات ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی.”شیرافگن کہا ہے؟”دادو نےایمان سے پوچھا.حیات نے منہ بنایا اسے کچھ دیر پہلے کاٹکراؤ یاد آیا.شیرافگن ویسےاس وقت دادو کے پاس بیٹھتا تھا.پر آج نظر نہیں آیا تو دادو نے پوچھا.”بھائی ابھی بابا کے ساتھ لائبریری میں ہیں پھر دوستوں کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے انھیں” اسنےچاۓ کا کپ انہیں دیا.حیات صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی. "اوہ تبھی اتنا چمک رہے تھے”اسنے سوچا "آپی مجھے بھی چائے دیں” اسکی بات پر دادو نے اسے دیکھاسامنے چائے رکھی تھی .پر اسنے ایمان کو کہا جس نے مسکرا کر کپ اسکی طرف بڑھایا.وہ مزے سے چاۓ پینے لگی. "اس لڑکی کا کچھ نہیں بن سکتا” دادو بڑبڑا کر چاۓ پینے لگیں.کچھ دیر بعد شیرافگن کوٹ کندھے پر ڈالے دادو کی طرف آیا "چلتا ہو دادو” جھک کر دادو سے پیار لیا "جاؤ میرا بچہ اوراپنا خیال رکھنا” دادو نے اسکی پیشانی چومی”دادو تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے ملک سے باہر جارہے ہو” حیات کی سرگوشی پر شیرافگن نے اسے ایک نظر دیکھا پر وہ موبائل کے ساتھ لگی تھی. وہ اللّه حافظ کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا.
شیرافگن کا دوست مجتبیٰ ملک کل ہی امریکہ سے آیا تھا.دونوں یونیورسٹی میں ساتھ تھے پھر مجتبیٰ امریکہ چلا گیا.دونوں کی دوستی بہت گہری تھی.اتنے سالوں میں بھی وہ ایک دوسرے سے کونٹیکٹ رکھے ہوئے تھے .آج کچھ دوستوں کے ساتھ شیرافگن اور مجتبیٰ نے ڈنر کرنا تھا.ورنہ شیرافگن اسےگھر پہ انوائٹ کرنا چاہتا تھا.پر دوسرے دوستوں کی وجہ سے ہوٹل میں ہی بلا لیا.خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا.کافی دیر تک وہ لوگ باتیں کرتے رہے پھر جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے.شیرافگن ،مجتبیٰ کو اپنی گاڑی کی طرف لے آیا.
"یار یہاں کہاں لے جا رہے ہو؟”مجتبیٰ نے اسے روکا”چلو بیٹھو اتنے سالوں بعد ہاتھ لگے ہوگھر جاکر گپ شپ لگاۓ گے”وہ گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا.تو مجتبیٰ کو بھی بیٹھنا پڑا اسکے بیٹھتے ہی شیرافگن نےگاڑی آگےبڑھادی.
"بتاؤ کیسا چل رہا ہے سب اورشادی کیوں نہیں کی ابھی تک تم نے؟”
"واہ میری شادی کی فکر کیوں ہو رہی ہے محترم کو میں کیا بوڑھا ہو رہا ہوں”شیرافگن نےبھنویں اٹھاکرپوچھا تو مجتبیٰ ہنسنےلگا. "مجھے چچا بننا ہے لالےاسلئے پوچھ رہا ہوں”
"ہاں جیسے مجھےتوشوق ہی نہیں تمہارے بچوں کو اپنی گود میں کھلانے کا تم کر لو ناں شادی” شیرافگن نے بات پلٹی
"ارادہ تو ہے.ماما لڑکی ڈھونڈھ رہی ہیں” مجتبیٰ نے کہا تو شیرافگن نےاسکا کندھا تھپتھپایا.”تو ایسے کہو ناں ویسے ہی میرے پیچھے پڑے ہو چالاک انسان”اسکی بات پر مجتبیٰ نے ہنس کر اسے دیکھا.
"تم اپنی حیات صاحبہ کا بتاؤ کیا اب بھی ویسے ہی ہو تم دونوں”مجتبیٰ نے پوچھا. اسکے”اپنی”کہنے پر شیرافگن نے گردن موڑ کر اسے دیکھا "اب بھی ویسی ہی پاگل ہےاور اسے اپنی نہ کہو سمجھے”اسنے منہ بنایا
"پہلی بات پاگل وہ نہیں تم دونوں ہو اور دوسری بات کیا پتہ تم دونوں ….اہم اہم” مجتبیٰ شرارتی انداز میں کھانسہ
"خبردار جو آگے کچھ کہا تو”شیرافگن نے جلدی سے اسکی بات کاٹی وہ قہقہہ لگاکر ہنس پڑا”اتنا ڈرتے ہو حیات صاحبہ سے؟”
"ڈرنا پڑتا ہے یار آفت ہے پوری”اسنے معصوم سی شکل بنائی.مجتبیٰ کو ہنسی روکنی مشکل ہو گئی.”پھر ملنا پڑے گا اس آفت سے”مجتبیٰ نےکہاپھربولا”اچھا ولید کیسا ہے آج آیا نہیں ڈنر پر”ولید سے ان دونوں کی دوستی کو پانچ سال ہو چکے تھے.وہ پولیس آفیسر تھا اور ضروری کام کی وجہ سے ڈنر پر انھیں جوائن نہ کرسکا.”ہاں تھوڑا بیزی ہے کہہ رہا تھا کچھ دنوں میں تم سے ملےگا”شیرافگن نےجواب دیا اسی طرح باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ عباسی ہاؤس پہنچے تو رات کےدس بج رہےتھے. مجتبیٰ جھجھک رہا تھاکہ کافی دیر ہو چکی ہے.پر شیرافگن اسکا ہاتھ پکڑ کے اندر لے آیا.سب اپنے کمروں میں تھے ڈرائنگ روم میں بیٹھے دونوں باتیں کرتے رہے.باقی سب بھی مجتبیٰ سے ملے سواۓ لڑکیوں کے جواپنے کمروں میں تھیں.
کافی دیر تک محفل جمی رہی شمس اور احمد صاحب بھی بیٹھے تھے.مجتبیٰ یہاں اپنا بزنس اسٹارٹ کرنا چاہتا تھا.اسی معاملےپروہ لوگ ڈسکشن کرتے رہے.
وہ پانچوں گراؤنڈ میں درخت کے نیچے بیٹھی تھیں. باتوں کا سلسلہ جاری تھا.وہ لوگ انکی کلاس فیلو شازمہ کے بارے میں بات کر رہیں تھیں.جو آج کل دوسرے ڈیپارٹمنٹ کے احمر جمالی کے ساتھ نظر آرہی تھی.وہ امیر خاندان کا بگڑا ہوا لڑکا تھا.شازمہ خود بھی ماڈرن سوچ رکھنے والی تھی.اسلئے اسے احمر جمالی میں کوئی خرابی نظر نہ آئی.وہ پہلے بھی کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا تھا. پرشازمہ ان باتوں کو نظر اندازکر رہی تھی.
"اچھا یار رہنے دو یہ اسکا پرسنل میٹر ہے. اسکی مرضی کوئی اور بات کرو”حیات انھیں کب سے اسی ٹوپک پر بات کرتا دیکھ رہی تھی آخر کار ٹوک ہی دیا سب نے اسے دیکھا
"ہمیں اسے سمجھانا چاہیے یار” حریم نے کہا
"اورتمہیں لگتا ہے وہ ہمارے سمجھانے سے سمجھ جاۓ گی؟”حیات نے سوالیہ انداز میں پوچھا.حریم نے کندھے اچکائے.
"یار حمزہ نے اسے بتایا پر اسنے کچھ سنا ہی نہیں اسے تو جمالی صاحب پاک صاف لگتے ہیں "مینا نے منہ بنا کر کہا
"ابھی آنکھوں پر محبت کی پٹی بندھی ہے ابھی کہاں سمجھے گی.کچھ لوگ ٹھوکر کھاکر ہی سمجھتے ہیں”حیات نےسامنے دیکھ کر افسوس سے گردن ہلائی.جہاں شازمہ اور احمر جمالی ہنس ہنس کرباتیں کر رہے تھے .
"بیچارہ حمزہ کتنا پسند کرتا ہے شازمہ کو پر اس کو یہ فلرٹی ہی نظرآتا ہے”سبین نے سر جھٹکا.حمزہ انکا کلاس فیلو تھا.کافی ڈیسنٹ لڑکاتھا.شازمہ کو معلوم تھاکہ حمزہ اسے پسند کرتا ہے.پر وہ احمر جمالی کی دیوانی بنی گھوم رہی تھی.”اللّه ہدایت دے اور ہم کیا کر سکتے ہیں.آجکل تو لڑکیاں خود اپنی عزت کی دشمن بنی ہوئیں ہیں.امید ہے شازمہ جلد احمر جمالی کی اصلیت پہچان لے”حیات کے کہنے پر سب نے آمین کہا پھر اٹھ کر کلاس کی طرف گئیں.
عباسی ہاؤس کے سبھی لوگ ڈنر کر کے بڑے سے ڈرائنگ روم میں بیٹھے چاۓ سے لطف اندوز ہو رہے تھے. سردی بڑھ رہی تھی. آتش دان جل رہا تھا.حیات شال لپٹے بیٹھی تھی اسنے سب پر ایک نظر ڈالی بڑے ابو، بابااور شیرافگن بزنس کی باتوں میں مگن تھے.ایک کرسی پر امل پڑھاکو بک پکڑے بیٹھی تھی. ایک صوفے پردادو دونوں بہوؤں کے ساتھ بیٹھی تھیں.انکی دائیں طرف ایمان اور حیات بیٹھی تھیں.انکےگھر ہر ہفتے کی رات کو ایسے ہی سب مل بیٹھتے تھے.اگلے دن اتوار ہونے کی وجہ سے آفس، کالج کی فکر نہیں ہوتی تھی.اسلئے سب دیررات تک باتوں میں لگے رہتے.”گاؤں میں زوھرا کے پوتے کی شادی ہے تو بہو تم تیار رہنا پرسوں ہم نکلیں گے”دادو نے تائی امی سے کہا.زوھرا اماں، دادو کی بچپن کی سہیلی تھیں.دادو جو کہیں نہیں جاتی تھیں اب دو دنوں کے لئے گاؤں جارہی تھیں.”دادو آپ بھی افگن بھیا کی شادی کروائیں پھر آپ بھی اپنی بیسٹ فرینڈز کو انوائٹ کریے گا” امل نے کتاب سے سر اٹھا کر کہا تو دادو مسکرا دیں.
"ہاں بیٹا اب جلد تمہارے بھیا کے سر پر سہرا سجائیں گے”دادو نے خوشی سے جواب دیا انھیں شیر افگن کی شادی کرنے کی بڑی جلدی تھی.پر وہ مان ہی نہیں رہا تھا.
وہ لوگ اب زوھرااماں کے پوتے اور شیرافگن کی شادی جسکا نام ونشان ہی نہ تھا.اسے ڈسکس کرنے لگیں.حیات انکی باتوں کو فضول سمجھتے ہوئے موبائل پرناول پڑھ رہی تھی پر انکی باتیں برابر اسکےکانوں تک پہنچ رہی تھیں.انکی باتوں کی وجہ سے وہ پڑھ نہیں پارہی تھی.اسنے موبائل سائیڈ پر رکھا.ایک بار پھر سب پرنظر ڈالی عورتوں کی پارٹی سر جوڑے شادی کی باتوں میں لگی تھی.مرد حضرات بھی اپنی باتوں میں مگن تھے.”میں ہی ایک فضول بیٹھی ہوں”حیات کو اپنا آپ مسکین سا لگا.اچانک اسکی نظر ایک پل کے لئے شیرافگن پر ٹہر سی گئی .وہ کسی بات پر مسکرایا تھا.ہلکی داڑھی میں وہ بے حد ہینڈ سم لگ رہا تھا.اپر سے کالی شلوار ، قمیض نے تو حد کردی تھی.حیات منہ بناکر نظریں ہٹانے ہی لگی تھی کہ شیرافگن نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا.اسنے جلدی سے نظریں نیچے کی پھرخود کو ڈانٹنے لگی”اف لڑکی کیاسوچیں گے افگن بھائی کہ کیوں تم انھیں گھورے جارہی تھی”اسے شرمندگی نے گھیر لیا "ہونہہ وہ جانتے توہےخود کو..شیرمار کہیں کے میں کیوں گھورنے لگی انھیں ..سوچتے رہے میری بلا سے”اسنے سرجھٹک کر سوال جواب کا سلسلہ ختم کر کے خود کو تسلی دی اور ایمان کی بات سننے لگی جو اس سے کل ہونے والی دعوت کی بات کر رہی تھی.جبکہ شیرافگن گفتگو کے دوران کتنی باراسے دیکھ چکا تھا. جانے کیوں؟
"آپی مجتبیٰ بھائی کی فیملی نےکب آنا ہے؟”
امل نے ایمان سے پوچھا جووارڈروب کھولے کھڑی تھی .
"گڑیاڈنر پہ آئیں گے ابھی کافی وقت ہے.”ایمان کپڑے سلیکٹ کررہی تھی.
"آپی آپ نے دیکھا ہوا ہے مجتبیٰ بھائی کو؟” امل نےپھر سوال کیا
"بہت پہلے دیکھاتھا.اب یاد نہیں”وہ کپڑے لے کربیڈکی طرف آئی.”اورحیات آپی آپ نے؟”اب وہ حیات کی طرف گھومی جو موبائل پہ ناول پڑھ رہی تھی.
"مجھےبھی یاد نہیں اور تم کیا آج فری ہو.جو اتنا بول رہی ہو.ویسے تو کتابوں سے سر نہیں اٹھتا تمہارا”حیات نےموبائل سے نظر اٹھاکر اسے ڈانٹا "آپی مجھے جاننا ہےکہ کون ہیں افگن بھیا کے دوست جنہیں وہ گھر پہ انوائٹ کررہے ہیں”امل نے بہن کو دیکھ کر کہا
"اچھاآینگے وہ تودیکھ لیناکہ کون ہیں ،کیسے ہیں.اب چپ بیٹھوپڑھنےدومجھے”حیات کی بات پر امل،ایمان کے پاس کھڑی ہوئی.جو اب کپڑے پریس کر رہی تھی.
"ایمان آپی کیا انکے اور بہن ، بھائی بھی ہیں؟”
امل کا تجسس ختم ہی نہیں ہورہا تھا.
"ہاں ایک بہن ہے شاید تمہارے جتنی ہوگی” ایمان نے مصروف انداز میں جواب دیا
"اف امل آج تو تم نے حد کردی سوال پر سوال کئے جارہی ہو لڑکی”حیات بھی آخرکار اٹھ کر انکی طرف آئی.امل آج اسے حیران کر رہی تھی اتنی باتیں کر کے
"آج فری ہوں آپی کوئی ٹیسٹ جو نہیں ہے اورافگن بھیاکے دوست ہے تو مجھے جاننا ہے بس”اسنے ہنس کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا
"ہاں افگن بھیا کی چمچی”شیرافگن کا نام ابھی اسکے لبوں سے نکلا ہی تھاکہ وہ کمرے میں داخل ہوا.”شیطان کا نام لیا اورشیطان حاضر”وہ منہ بنا کر بڑبڑائی
"ایمان یہ شرٹ پریس کردو آج یہی پہننی ہےمیں نے” وہ ایمان کو شرٹ پکڑا کرحیات کی طرف پلٹا. "حیات اسے رکھو.کوئی کام کرلو اور ہاں خبردارجومہمانوں کے سامنے اسےہاتھ بھی لگایاتو”اسنے موبائل کی طرف اشارہ کیا.
"جی …”حیات کی شامت آئی تھی.جو اسنے موبائل پر ٹائم دیکھا اور افگن صاحب نے اسے "وہ پاگل تھوڑی ہے.جو مہمانوں کے سامنے موبائل یوز کرتی”حیات نے سوچوں سے سر جھٹک کر انکی طرف متوجہ ہوئی.
"امل گڑیا آپ بھی تیار ہو جانا اوکے”وہ امل کے سر پر ہاتھ رکھ کے مسکراکربولا.حیات نے گھورکر اسے دیکھا”مجھ سے بات کرتے ہوئے جیسے کریلے کھائے ہوئے ہو.باقی سب سے کتنےاچھے سے بات کرتے ہیں شیر مار”اسنے افسوس سے گردن ہلائی. شیرافگن ایک نظر اس پرڈال کرکمرے سےچلا گیا.
"حیات آؤ تم شرٹ پریس کرو میں ذرا کچن کا چکر لگا لوں”ایمان دروازے کی طرف بڑھی
"آپی پریس ہوئی شرٹس ہونگی وہ پہن لیں” "یہ بھائی کی فیورٹ شرٹ ہے.اسلئے وہ پہننا چاہ رہے ہیں.چلو پریس کرو گڑیا اور دھیان سے اوکے میں بس ابھی آئی”ایمان اس سے کہتی کمرے سے نکل گئی.حیات نہ چاھتے ہوئے بھی شیرافگن کی چاکلیٹی شرٹ پریس کرنے لگی.حیات نے امل کو دیکھاجوکوئی شاعری کی بک پڑھ رہی تھی.تبہی حیات کا موبائل بجنے لگا.”اللّه کون ہے اب”اسنے جھنجھلا کر موبائل کی اسکرین پرنظرڈالی جہاں تابی کانام چمک رہا تھا.اسنےکال پک کی”جلدی بولوکیابات ہے مجھے بہت کام ہے”وہ شرٹ پر استری پھرتے ہوئے بولی
"جہاں تک مجھے یاد پڑھتا ہے.کل تک تو تم نے حکومت نہیں سنبھالی تھی.جو تم اتنی مصروف ہوکہ مجھ سے بات کرنے کا وقت بھی نہیں ہے تمہارےپاس”دوسری طرف سے تابی شروع ہو چکی تھی.حیات نے موبائل کان سے ہٹاکراسے گھوراجیسے تابی کوگھور رہی ہو.
"بہت کام ہیں میرے زمے تمہاری طرح نکمی نہیں ہوں سمجھی”اسنے منہ بناکر کہا
"ہاں ہاں سمجھ گئی. جیسے مجھے پتہ ہی نہیں تمہارا مصروف لڑکی”تابی ہنسی تھی.”اچھا یارحریم کی منگنی کی تیاری کہا تک پہنچی ویسے ہم نے سوچا ہے….”تابی کی بات پر کافی دیر تک دونوں خوشی سےاس ٹوپک پر بات کرتی رہیں.جب امل چیخ کر اسکی طرف آئی.حیات نےحیرت سے اسے دیکھا کہ اب اسے کیا ہوگیا؟”
"افگن بھائی کی شرٹ جلا دی آپ نے”امل کی بات پر اسکا منہ کھل گیا.نظریں گھما کر دیکھا تو شرٹ ، استری سے چِپکی ہوئی تھی.موبائل اسکے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا.اسنےموبائل مضبوطی سےپکڑا بھلا وہ موبائل کو کیسے نقصان پہنچاسکتی تھی .
"ہاۓ اللّه یہ کیا ہوگیا.مجھے پتہ ہی نہ چلا امل اب کیا ہوگا؟ افگن بھائی تو مجھے کچا چبا ڈالیں گے اور میرا موبائل….ہائے میں تو گئی اب…مجھے بچالےکوئی شیرمار سے”اسنے امل کا ہاتھ پکڑکر مسکین سی صورت بناکر دہائی دی.اسکا موبائل اسکی جان تھا.پر دادو اور شیرافگن کے لئے شیطانی کی جڑ تھا.اگر افگن بھائی کو پتہ چلا کہ موبائل کی وجہ سے انکی شرٹ جلی ہے.تو وہ اسکی جان ہی لے لیں گے.
"اچھا ہےاسکا کام تمام ہو جائے”امل نے موبائل کی طرف اشارہ کرکےلاپرواہی سےکندھے اچکائے.”کیا ہوگیا؟”ایمان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا.امل نے شرٹ کی طرف اشارہ کیا جہاں بڑا سا سوراخ بنا تھا.
"اب کیا ہوگا آپی؟”حیات رو دینے کو تھی.
"ایمان….”شیرافگن باہر سے ایمان کو پکارتا ہوا آرہا تھا.حیات کا دل تیزی سے دھڑکا
"آپی اپنے بھائی سے بچا لیں مجھے پلیز”وہ بھاگ کر بیڈ پر بیٹھی شاعری کی بک اٹھا کر چہرے کے سامنے کرلی.شیرافگن کمرے میں داخل ہوا.”ایمان شرٹ پریس ہوگئی ؟”
"وہ…بھائی”ایمان نےشرٹ کی طرف اشارہ کیا "یہ مجھ سے جل گئی”شیرافگن نے ایمان کو دیکھا.وہ ایمان کو نیچے سے اپرآتے دیکھ چکا تھا.مطلب شرٹ جلانے والی کوئی اور تھی. اسکی نظر بیڈ کی طرف گئی.
"آج حیات صاحبہ شاعری پڑھ رہی ہیں خیر تو ہے؟”شیرافگن ساری بات سمجھ چکا تھا.اسنے ایمان اور امل کو آنکھ ماری جبکہ حیات ابھی تک بک کے پیچھے چہرہ چھپاۓ بیٹھی تھی.
"بھیا آپی اب شاعری میں کافی انٹرسٹ لینے لگیں ہیں”امل نے ہنسی دبائی.حیات بےخبر تھی کہ اسکی چوری پکڑی جاچکی ہے.
"وہ تو نظر آرہا ہے.اتنا انٹرسٹ ہے کہ محترمہ الٹی شاعری بھی پڑھ لیتی ہیں”اسکی بات پر حیات نے جلدی سے بک کو دیکھا جوالٹی تھی.
"ہا..ہاں میں پڑھ لیتی ہوں الٹی شاعری بھی… مشکل کیا ہے بھلا میں آسانی سے پڑھ لیتی ہوں”اسنے ہڑبڑا کر سر ہلایااسے پتہ نہ چلاکہ وہ گھبراہٹ میں کیا بول گئی.ان تینوں کی ہنسی نے اسے احساس دلایا.
"امیزنگ مجھے نہیں پتہ تھا کہ حیات اتنی ٹیلنٹڈ ہے.تم نےتو آج مجھے حیران کر دیا” شیرافگن نے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے ہنسی دبائی جو شرمندگی کی وجہ سے سر جھکا گئی .”بس بھائی اب میری گڑیا کو تنگ نہ کریں”ایمان ، حیات کے پاس آ کر بیٹھی
"اوریہ جو ہمیں تنگ کرتیں ہیں اسکا کیا؟”امل نے کہا تو شیرافگن چلتا ہوا اسکے سامنے کھڑا ہوا.وہ سر چکاۓ بیٹھی رہی.
"میری پسندیدہ شرٹ جلا دی کیا کچھ بھی نہ کہوں ان میڈم کو”شیرافگن اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا.
"بولو حیات کیا سزا دی جائے تمہیں؟”اس نے پوچھا.حیات ہاتھوں کومسل رہی تھی.امل اور ایمان نے اپنی ہنسی روکی .
"آپ آپی کا موبائل لے لیں بھیا”امل کے کہنے پر
حیات نے جلدی سے سراٹھاکر اسے گھورا.
"جی نہیں”وہ بھلا اپنے موبائل کو کیوں قربان کرتی .اسنے نظر پھیرکر شیرافگن کودیکھا "پھر کیا؟”اسنے آبرو اٹھا کر پوچھا
"میں نئی شرٹ لادونگی آپکو بس یا اور کچھ”اسکی سنہری آنکھوں میں نمی اتر آئی جسکی وجہ سے انکی چمک مذید بڑھ گئی تھی.آج تک اسے اتنا نہیں ستایا گیا تھا.
شیرافگن نے اسکی سنہری کانچ آنکھوں میں نمی دیکھی تو ایک دم سے سنجیدہ ہوگیا.دل میں جیسےکہیں کچھ ہوا تھا.
"کوئی ضرورت نہیں بس کام کرتے ہوئے موبائل کی جان چھوڑ دیا کرو اوکے”ایک پل میں اسکا موڈ بدلہ تھا.اپنی بات کہہ کر وہ پلٹا اور لمبے ڈگ بھرتاکمرے سے نکل گیا. حیات حیران رہ گئی کہ اتنی آسانی سے اسے کیسے چھوڑ دیا شیرمار نے وہ بھی بغیر ڈانٹے وہ زیادہ دیرحیران نہ رہی.اپنے بچ جانے پر شکرادا کیا”اف بچ گئی”وہ خوشی سے ہنس کر ایمان کے گلے لگی.جبکہ ایمان اسے گلے سے لگائے مسکرا کر کچھ سوچنے لگی.کچھ بہت انوکھی بات جو ابھی ابھی اپنے بھائی کودیکھ کر اسکے ذہن میں آئی تھی.
مجتبیٰ اوراسکی فیملی آچکی تھی.امل بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی.
"آپی وہ لوگ آگئے”وہ ہانپ رہی تھی.
"اچھا آتے ہیں ہم”ایمان کا جواب سن کر امل باہر چلی گئی.ایمان نےسیاہ لباس پہنا تھا. اسنےدوپٹہ سر پر لیا اورحیات کی طرف پلٹی جو لیمن کپڑوں میں ملبوس بالوں کی پونی ٹیل بنا رہی تھی.”حیات چلو جلدی کرو”
"بس آپی تیارہوگئی ہوں”اسنے بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا پھردونوں نیچے آگیں. بڑے سے ہال میں محفل جمی تھی.وہ دونوں سعدیہ بیگم اور زمان ملک سےملیں.مجتبیٰ کی بہن مریم،امل کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی.دونوں ہنس ہنس کے باتیں کر رہیں تھیں.جیسےپہلے سے ایک دوسرے کو جانتی ہوں.امل نے دونوں کا تعارف کروایا مریم دونوں سے گلے ملی.”آپی آپ دونوں بہت پیاری ہیں”اسکے کہنے پر دونوں مسکرائیں.
"آپ بھی بہت پیاری ہیں گڑیا”ایمان نے اسکا گال تھپتھپایا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی.
"بہت شکریہ آپی”اسےایمان بہت اچھی لگی. دونوں نےمجتبیٰ کو سلام کیاجسنے انہیں جواب دے کر شیرافگن کو دیکھا
"یہ حیات ہےاور یہ میری بہن ایمان”شیرافگن نے انھیں دیکھ کر تعارف کرایا.
"آپ دونوں سے مل کر اچھا لگا”مجتبیٰ کی نظریں ایمان کے چہرے پر ٹکی تھیں.جنہیں ایمان کے ساتھ ساتھ حیات نے بھی محسوس کیا”مجھے اور ایمان آپی کو بھی آپ سے مل کر اچھا لگا مجتبیٰ بھائی”وہ مسکراکر بولی جبکہ ایمان چہرہ جھکاۓ کھڑی تھی.وہ اپنے چہرے پرنظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی.جلد ہی ایمان ،حیات کا ہاتھ پکڑ کےکچن میں آگئی اور گلاس میں پانی ڈال کر پیا
"اہم آپی …آپ نے دیکھا کیسے وہ..”حیات نے مسکراہٹ دبائی ایمان نے اسے گھورا
"شش چپ کرو کچھ نہیں دیکھا میں نے”ایمان جلدی سے کھانا چیک کرنے لگی کہ کوئی کمی نہ ہو.پھرکھانا لگانے اور کھانے تک حیات اسے تنگ کرتی رہی تھی.کھانا کھا کر سب پھرمحفل جما کر بیٹھے پھر ایمان کافی بنالائی.
"کھانا بہت اچھا بنا تھا بیٹا”سعدیہ ملک نے کپ لیتے ہوئے مسکراکر اسکی تعریف کی
"شکریہ آنٹی” ایمان نے دھیمے سے کہا
"ماشاءاللّه آپکی تینوں بچیاں بہت پیاری ہیں” انھیں نے دادو سے کہا تو وہ فخریہ انداز میں مسکرائیں.بڑے سب اپنی باتوں میں لگے تھے.چاروں لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھی تھیں.
"حیات آپی آپکی آنکھیں بہت پیاری ہیں”مریم نے اسکی سنہری آنکھوں کی تعریف کی تو وہ شکریہ کہہ کرلاپرواہی سے مسکرائی.امل اور مریم اب پڑھائی کی باتیں کرنے لگیں.
"لیں جی امل میڈم کو انکی طرح پڑھاکو دوست مل گئی.ہم دونوں تو ویسے ہی بور ہو رہی ہیں”حیات نے ابھی بات پوری کی ہی تھی. جب ایمان کو سعدیہ ملک نے اپنے پاس بلا لیا. حیات بیچاری اکیلی رہ گئی.مگر مریم نے اسے اپنے ساتھ باتوں میں لگا لیا تھا.شیرافگن اور مجتبیٰ کافی فاصلے پررکھے صوفے پر بیٹھے تھے.”اوۓ لالے بڑی باڈی شاڈی بنائی ہوئی ہے کیا بات ہے”مجتبیٰ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا شیرافگن نے بلیو جینز ، بلیک ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی.جس میں اسکے مسلز صاف نظرآ رہےتھے.
"ہاں تو تم بھی بنا لو ناں نکمے انسان”
"ہماری تو بنی بنائی ہے یار”اسنے ہنس کر کہا وہ شیرافگن کے مقابلے میں تھوڑا دبلا تھا.پر اچھا خاصا تھا.”ہاں وہ تو نظر آرہا ہے مسٹر” شیرافگن نے اسکا کندھا تھپکا.
"تم مجھ سے کلاسز لے سکتے ہو پھر باڈی بنانے کے لئے جم میں اتنی محنت نہیں کرنی پڑےگی”مجتبیٰ نے شرارت سے کہا
"بہت شکریہ مجتبیٰ ملک پر میں ایسے ہی ٹھیک ہوں” شیرافگن نے منہ بناکر جواب دیا. کچھ دیر بعد وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے.شیرافگن اور مجتبیٰ پورچ کی طرف بڑھ گئے.مسٹر اور مسز ملک نے دادو کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی.پھروہ لوگ روانہ ہوگئے. بڑےسب آرام کرنے جاچکےتھے.امل اداس بیٹھی تھی کہ اسکی نئی نئی دوست چلی گئی.حیات اور ایمان نے اسے اپنے ساتھ کام سمیٹنے میں لگا دیاکہ پھرامل صاحبہ کو اپنی نئی دوست کی یاد کم ستاۓ گی.
جاری ہے….