یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش) قسط نمبر 1 وہ ہاتھ می…
یہ لڑکی ہائے اللہ (پری وش)
قسط نمبر 1
وہ ہاتھ میں پکڑے موبائل کی سکرین پر نظریں جماۓ کچھ پڑھنے میں پوری طرح سے مگن تھی. ساتھ ہی آرام آرام سے سیڑھیاں اتر رہی تھی.جب نیچے سے اوپر آتے شیرافگن سے اسکی زور دار ٹکر ہوئی.شیرافگن نےایک بازو پر بلیک کوٹ ڈالا تھا.ہاتھ میں کار کی چابی تھی.سفید شرٹ کےاوپرکےدو بٹن کھلے تھے. وہ ابھی آفس سےلوٹاتھا اورتھکاہوا لگ رہا تھا. اس ٹکراؤکی وجہ سےاسکی پیشانی پربل پڑے.حیات ٹھیک سے سنبھل بھی نہ پائی کہ وہ شروع ہوچکا تھا.
اندھی ہو تم؟ اب کیا تمہارے لئے کرائے پر آنکھیں لانی پڑیں گیں؟ کبھی اس پر سے نظریں ہٹا بھی لیاکرو تاکہ تمہیں پتہ چلےکہ آگے پیچھے کیا ہورہا ہے”شیرافگن نے اسے غصے سے گھور کر موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اسنے جلدی سے موبائل پیٹھ کے پیچھے کیا "اوہ سوری افگن بھائی بس ناول اتنے دلچسپ موڑ پر تھاکہ نظر نہیں ہٹا سکی” حیات منہ بنا کر بولی پھر سیڑھیاں اترنے لگی کہ کہیں پھروہ کچھ سنانے نہ لگ جائے.”ہونہہ ناول…..دماغ خراب ہے اس لڑکی کا”اسنے کہہ کر قدم آگے بڑھا دیئے.اسکی بات پر حیات نے سرگھما کر اسےدیکھا
"آپ تو ناول نہیں پڑھتے ناں پھر آپکا دماغ کیوں خراب ہے”وہ دھیمی آواز میں بڑ بڑائی
"کیا کہا تم نے؟”ایک دم سےپلٹ کر پوچھا گیا
"کچھ بھی تو نہیں”اسنےجلدی سے نفی میں سر ہلایا.شیرافگن نے کچھ بڑبڑا کر باقی سیڑھیاں طے کیں.”اف کتنے تیز کان ہے انکے اللّہ معاف کرئے”وہ سیڑھیاں اتر کر ہال کی طرف آئی.جہاں دادو ، تائی امی اور ایمان آپی بیٹھی تھیں.وہ ایمان آپی کے ساتھ بیٹھ گئی. پھر موبائل ہاتھ میں پکڑ کربڑی توجہ سے ناول پڑھنے لگی.دادو نے اسے گھور کر دیکھا انھیں اور شیرافگن کو اسکا موبائل زہر لگتا تھا. "موبائل رکھ دو دادو کی نظر تم پر ہی ہے” آپی نے اسکے کان میں سرگوشی کی.حیات نے جلدی سے موبائل رکھا اوردادو کو دیکھ کر مسکرانے لگی بائیں گال میں پڑتا ڈمپل اسے بے حد خوبصورت بنا رہا تھا.دادو کو اسکا یوں معصومیت سےمسکرانا ایک آنکھ نہ بھایا انھوں نے اسے گھور کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا "اس لڑکی کا کیا بنے گا اللّه جانے” دادو نے تائی امی کو دیکھا تو وہ مسکرا دیں "بچی ہے ابھی امی جان وقت گزرنے کے ساتھ سمجھ دار ہو جائےگی”
"مجھے تو اسکے ٹھیک ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی بہو ورنہ باقی دونوں لڑکیاں کتنی خاموش طبیعت ہیں.پر اس حیات کو کہیں چین نہیں”دادو نے چاۓ کا کپ اٹھایا.حیات معصوم سی شکل بنائےبیٹھی رہی "ایک دادو اور دوسرا انکا پوتا میری جان نہیں چھوڑتے اف میرے اللّه …. میں تو پھنس گئی ہوں” حیات نے ایمان کے کان میں دھیمے سے کہا تو وہ ہنسنے لگی کہہ تو وہ بالکل ٹھیک رہی تھی یا تو دادو اسکے پیچھے لگیں رہتیں یا پھر شیرافگن اسے کچھ نا کچھ کہتا رہتا پر حیات نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ جتنا بھی وہ پیچھے لگے رہے اسنے کرنی تو اپنی ہی ہے.
یہ عباسی ہاؤس کی کہانی تھی .جسکی سر براہ بانو بیگم تھیں یعنی سب بچوں کی دادو انکے دو بیٹے تھے بڑے شمس عباسی اور انکی بیگم سارا عباسی تھیں.انکی دو اولادیں تھیں بیٹا شیر افگن جو باپ اور چچا کے ساتھ بزنس سنبھال رہا تھا اور بیٹی ایمان جو پڑھائی مکمل کر کے اب ماں اور چچی کے ساتھ کچن سنبھالے ہوئے تھی.چھوٹے بیٹے احمد عباسی اور انکی بیگم الماس عباسی تھیں. انکی دو بیٹیاں تھیں. بڑی حیات جو بہت شرارتی تھی.اسے ناولز پڑھنا بہت پسند تھا.وہ کم کم پڑھتی تھی پر جب پڑھتی تو پوری طرح سے کہانی میں گم ہو جاتی پھر کوئی کچھ بھی کہتا اسنے کہا سننا تھا.اس وجہ سے اسے دادو اور شیرافگن سے ڈانٹ پڑتی تھی.حیات سے چھوٹی امل تھی.وہ حیات سے چار سال چھوٹی تھی اورفرسٹ ایئر میں تھی.اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا. ہر وقت کتابیں پکڑے بیٹھی رہتی.
دادو نے سب کو ایک ساتھ باندھ کررکھا تھا. بہوؤں کو وہ بیٹیوں کی طرح سمجھتی تھیں. اسلئے سب میں بہت اتفاق تھا .شیرافگن سب سے زیادہ دادو کا لاڈلہ تھا.اکیلا لڑکا ہونے کی وجہ سے وہ سب کو آنکھوں کا تارہ ، چاند اور پتہ نہیں کیا کیا لگتا.پر حیات کو وہ بالکل اچھا نہیں لگتا تھا.حیات اپنے نام کی طرح زندہ دل لڑکی تھی.شیرافگن ہر وقت اس پر روک ٹوک کرتا حیات اسے شیر مار کہتی تھی.یہ شیرافگن کے نام کا مطلب تھا.وہ آپی سے کہتی کہ افگن بھائی نے اپنے نام کوکچھ زیادہ ہی سیریس لے لیا ہے.ہر کوئی انھیں شیر ہی نظر آتا ہے.جسے وہ شکار کرنا چاھتے ہیں. خاص طور پر حیات جیسے وہ اسکی دشمن ہو.وہ شیرافگن کو بہت کچھ کہتی تھی. پر اسکی پیٹھ پیچھے اسکے سامنے تو حیات کی جان جاتی تھی. جسکی وجہ سے وہ ہمیشہ کوئی الٹی حرکت کر جاتی پھر شیرافگن اسے خوب سناتا.حیات کی ایمان سے بہت دوستی تھی.وہ ہمیشہ ایمان کا سر کھاتی اپنی ہر بات اس سےشیئر کرتی اور ایمان مسکرا کراسکی باتیں سنتی رہتی جبکہ امل کو وہ ہمیشہ کتابی کیڑا کہہ کر تنگ کرتی یااسکا چشمہ چھپا دیتی کہ وہ پڑھ نہ سکے پھر جب امل ،دادو یا افگن بھیاکو بتاتی تو حیات کی خیر نہیں ہوتی تھی.جبکہ بڑے ابو، اسکے بابا اور تائی امی اسکی شرارتوں کو انجوائے کرتےتھے کہ ابھی وہ نا سمجھ ہے.اسکی اماں ایک ماں کی طرح روک ٹوک کرتیں کہ کل کو تمہیں پراۓ گھر بھی جانا ہے. کچھ سیکھ لو پر وہ بات کو ہنسی میں اڑا کر کہتی اماں جب ہمارا اپنا گھر ہے تو میں پراۓ گھر کیوں جاؤں گی.اسکی باتوں پر الماس بیگم اپنا سر پیٹ کر رہ جاتیں.گھر کے دو فلور تھے. نیچے تین کمروں میں سب بڑے رهتے تھے جبکہ اپر کے تین کمروں میں سے ایک شیرافگن کا تھا.اسکے بالکل ساتھ والا کمرہ حیات کا اور تیسرا کمرہ ایمان اور امل کا تھا.امل پہلے حیات کے ساتھ روم شیئرکرتی تھی.پر حیات رات کو لیٹ سونے کی عادی تھی اور امل کو صبح جلد کالج جانا ہوتا .اسلئے وہ ایمان کے کمرے میں شفٹ ہو گئی .
خوبصورت سےہال میں صوفےگول دائرے میں رکھے تھے. جنکےدرمیان خوبصورت سی کانچ کی میز تھی.وہی شیرافگن ایک صوفے پر بیٹھا سامنے لیپ ٹاپ رکھے کام کرنے میں مصروف تھا.ایمان اور الماس بیگم کچن میں ڈنر کی تیاری کر رہیں تھیں.حیات لہراتی ہوئی سیڑھیوں سے اتری اسنے ایک نظر سامنے بیٹھے شیرافگن کو دیکھا پھر اسکے قریب سے گزر کر کچن کی طرف بڑھ گئی. شیرافگن نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا.
"اماں کچھ کھانے کے لئے ہے؟”اسنے کچن میں داخل ہو کر پوچھا.الماس بیگم نے اسے گھورا وہ اتنی بڑی ہوگئ تھیں. پھر بھی جب بھی بھوک لگتی تو وہ اماں سے ہی کھانے کے لئے مانگتی تھی”کبهی خود بھی کام کر لیا کرو حیات اتنی بڑی ہوگئ ہو پھر بھی ماں ہی تمہیں کھانےکو دے”وہ سلاد بناتے ہوئے بولیں
"میری پیاری اماں آپکے ہاتھ سے کچھ لے کرکھاتی ہوں توسچی بڑا ذائقہ ہوتا ہے اس چیز کا”اسنےانکے گلے میں بانہیں ڈالیں تو الماس بیگم کے ساتھ ایمان بھی ہنس پڑی.
"وہاں سیب رکھے ہیں وہ کھالو حیات کچھ دیر میں ڈنر بھی بننے والا ہے”ایمان نے پھلوں کی ٹوکری کی طرف اشارہ کیا.
"تھینک یو پیاری آپی”وہ خوشی سے کہتی سیب لے کر کھانے لگی.جب الماس بیگم نے جوس کا گلاس اسے پکڑایا.
"اف اماں آپکو میرا کتنا خیال ہے”اسنے خوشی سے گلاس تھاما.الماس بیگم نے اسے دیکھا
"یہ جاکر شیر افگن کو دے آؤ کب سے بچہ کام میں لگا ہےتھک گیا ہوگا”
"اماں !!!” وہ صدمے سےبولی
"جلدی سے لے کر جاؤ حیات” اماں کے سختی سے کہنے پر اسنے منہ بناتے ہوئے سیب واپس رکھا اور جوس کا گلاس لئے ہال کی طرف آئی اسکے جاتے ہی وہ دونوں ہنس پڑیں”یہ لڑکی بھی ناں”الماس بیگم بیٹی کی حرکتوں پر ہنسیں.ایمان نے باہر جھانک کر دیکھا جہاں سےحیات گئ تھی. اسے ڈر تھا کہ وہ کوئی گڑبڑ نہ کر دے.
"ہونہہ پتہ نہیں کیوں سب نے شیرمار کو سر پر چڑھا رکھا ہے.مجھ معصوم پر ظلم کرتے ہیں.ہر کسی کو وہی نظر آتا ہے. میری اماں تک کو اسی کی فکر رہتی ہے حد ہو گئ” وہ بڑبڑاتی ہوئی چل رہی تھی.جب اسے ایک دم سے ٹھوکر لگی اور اگلے ہی لمحے جوس کا گلاس شیرافگن کے سر پر الٹ گیا.حیات نے جلدی سے گلاس سیدھا کیا پر تب تک جوس شیرافگن کونہلاچکا تھا.حیات ایک ہاتھ منہ پر رکھے دو قدم پیچھے ہٹی سوچوں میں گم اسے پتہ ہی نہ چلاکہ سامنے صوفہ تھا جس پر شیرمار بیٹھا تھا.جسے وہ خود ہی چھیڑ چکی تھی.شیرافگن اپنے اپر ہوئی جوس کی برسات پر غصے سے اٹھ کھڑا ہوا.پھرحیات کی طرف گھوما حیات آنکھیں پھاڑے کبھی ہاتھ میں پکڑے خالی گلاس کو تو کبھی شیرافگن کے سر سے ٹپکتے جوس کو دیکھ رہی تھی. شیر افگن غصے سے لال کچھ کہنے ہی والا تھاکہ وہ بوکھلا کر بول پڑی”ہاۓ ربا… افگن بھائی یہ میرا قصور نہیں ہے یہ…یہ سارا قصور اس …..اس صوفے کا ہے”صوفے کی طرف اشارہ کر کے سارا الزام صوفے پر ڈالاگیا.تو شیرافگن نے بھنویں اٹھاکر حیرت سے پہلے صوفے کو پھر اسکے پیچھے کھڑی اس چالاک لڑکی کو دیکھا.جبکہ حیات پھر سے شروع ہو چکی تھی”دیکھیں ناں یہ صوفہ درمیان میں رکھا ہے اسکو یہاں یا وہاں رکھنا چاہئے تھا کہ کوئی اس سے ٹکرا نہ سکےاور گلاس بھی ناں”اسنے دائیں اور بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے معصومیت سے سارا الزام پہلے بےجان صوفے پھر گلاس پر ڈالا اور گلاس کو افسوس سے دیکھ کرسائیڈ ٹیبل پر زورسےرکھا.جیسے ساری غلطی اسی کی ہو.اسکے ڈرامے پر شیرافگن ماتھے پربل ڈالے مسلسل اسےگھورے جارہا تھا.حیات نے اسے دیکھا جوس اسکے بھورے بالوں سے ٹپک کر اسکی سیاہ آنکھوں میں جانے لگا.شیرافگن نےجلدی سے ہاتھ بڑھا کراسےصاف کیا.حیات اس منظر کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی.اسے ہنسی آنے لگی توجلدی سے سر جھکا لیا.شیرافگن نے اسے دیکھا تو اسکا غصہ آسمان کو چھونےلگا.اسنےدانت پیسے.وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا.جب ایمان جلدی سےکچن سے باہر نکلی سامنے کا نظارہ دیکھ کر اسکی ہنسی نکل گئی.اسےمعلوم تھاکہ جب بھی حیات اورشیر افگن آمنے سامنے ہوتے ہیں.کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے. ایمان ہنسی دباکر حیات کی طرف آئی وہ سمجھ گئی تھی کہ حیات میڈم نے کیا کارنامہ انجام دیا ہے.ایک نظر اپنے بھائی کو دیکھا جسکے بال جوس گرنے کی وجہ سےماتھے پر چپکے ہوئے تھے.حیات ،ایمان کو دیکھ کر ہلکے سے مسکرئی اور شیرافگن نے اسکی مسکراہٹ دیکھ لی توغصےسے دانت پیسے”تم ایک نمبر کی بدتمیز لڑکی ہو….تم آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھی ہو…جاہل لڑکی”وہ ابھی اور بھی بہت کچھ کہناچاہتا تھاکہ ایمان بول پڑی "پلیز بھائی آپ جاکر چینج کر لیں غلطی ہوگئی بیچاری سے”ایمان کے کہنے پر حیات نے اسے دیکھ کرمعصومیت سےسنہری آنکھیں گھمائیں.”ہنہ بیچاری ….پوری آفت ہےیہ… ڈرامے باز نا ہو تو”حیات کے آنکھیں گھمانے پر اسے اور غصے آیا.وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھاتا غصہ میں ابلتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا.حیات اسے جاتا دیکھ کر ایک دم ہنسی.پھر ایمان کے قریب ہو کر بولی "پورے بھیگے بلے لگ رہے تھےآپکے بھائی”اسکی بات پر ایمان نے اسے گھورا "خبر دار لڑکی جو میرے بھائی کو کچھ کہاتو”ایمان نے مصنوعی غصے سے ٹوکا.وہ جانتی تھی. حیات ، شیر افگن کے روک ٹوک کرنے کی وجہ سے اس نے چڑ تی تھی .پر کوئی بھی حرکت جان بوجھ کر نہ کرتی بس اس سے غلطی ہو جاتی تھی.ایمان کی بات پر حیات نے اپنے کان پکڑے.
"اچھاسوری آپی نہیں کہتی کچھ شیر مارکو” اسکے شیرمار کہنے پر ایمان نے اسکے کندھے پرچپت لگائی تو وہ ہنسنے لگی .
"پوری چیزہو تم سدھرو گی نہیں.چلو آؤ کھانا لگاتے ہیں”ایمان نےہنس کر اسکا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ کچن میں لے آئی.وہ منہ بناتی اسکے ساتھ چلنے لگی.کچھ دیر میں بڑی سی ڈئننگ ٹیبل پر کھانا لگ چکا تھا.درمیان والی کرسی پر دادو بیٹھی تھیں.دائیں، بائیں طرف بیٹے ، بہوؤیں اور ساتھ ہی چاروں بچے بیٹھے تھے. حیات اور شیرافگن آمنے سامنے تھے.حیات نے پلیٹ میں بریانی ڈالی اور مزے سے کھانے لگی "واہ ایمان آپی بہت مزے کی ہے” وہ ساتھ بیٹھی ایمان کو دیکھ کر بولی تو وہ مسکرائی. اسے ایمان کے ہاتھ کی بنی بریانی بہت پسند تھی.”بالکل بیٹا بہت کمال کی ہے” احمد صاحب نے بھی تعریف کی
"شکریہ چچا جان”ایمان نے مسکرا کر کہا
الماس بیگم نے اپنی بیٹی کو دیکھا جو پوری طرح بریانی کھانے میں مگن تھی.
"اپنی بیٹی کو بھی کہہ لیں کہ کچھ بنانا سیکھ لے”انکی بات پر حیات نے منہ بنا کر بڑےابو کو دیکھا”کچھ مت کہا کرو میری گڑیا کو ابھی بچی ہے سیکھ لے گی”وہ پیار سے بولے
"شکریہ بڑے ابو آپ بیسٹ ہیں”حیات نے محبت سے کہا
"اچھابیٹاجی” بڑے ابو ہنسے تھے.وہ حیات سےبہت محبت کرتےتھے.”جی آپ ہی مجھے سمجھتے ہیں بڑے ابو”حیات نے مسکراکر انھیں دیکھا.”ہاں بیٹا ہم تمہیں کیسے سمجھ سکتے ہیں.تمہارےکام اتنے سیدھے ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں”دادو اسےدیکھ کرطنزیہ لہجے میں بولیں
"اللّه دادو میں نے کیا .. کیاہے؟”وہ معصومیت کی انتہا پر جاکر بولی تو سب مسکرا دیے سواۓ دادواور شیر افگن کے.
"کیسی ڈرامہ کوئین ہیں نہ حیات آپی”امل جو شیرافگن کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی.اسکے نزدیک ہو کر بولی جبکہ دادو،حیات کی بات پر اسے کھری کھری سنا رہی تھیں .
"بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوگڑیا”شیرافگن نے حیات کو دیکھاجو اب دادو کو صفائیاں پیش کر رہی تھی.امل کی شیرافگن سے بہت بنتی تھی.وہ دونوں ہی حیات کے ستاۓ ہوئے تھے. کھانےکے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے.
حیات نے اپنا موبائل لیا اور ایمان کے کمرے میں آگئی.جہاں امل بیٹھی پڑھ رہی تھی.وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر بالوں میں برش کرنے لگی.بلیک کپڑوں میں ملبوس وہ بہت پیاری لگ رہی تھی. پر اسے اس بات کی خبر نہ تھی.وہ بس اپنے ہی کاموں میں لگی رہتی اگر کوئی اسکی تعریف کرتا تو لاپرواہی سے مسکرادیتی.اسکی سنہری کانچ آنکھیں اور ان پر گھنیں پلکیں بے حد پیاری تھیں.بائیں گال پر پڑتے ڈمپل نے اسکے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے.برش کرکے وہ بیڈ تک آئی دوپٹہ سائیڈ پر رکھااور لیٹ گئ”کیا ہروقت پڑھتی رہتی ہوں چشمش کبھی آرام بھی کیاکرو”امل جو بیڈ پر بیٹھی تھی.حیات اسکاچشمہ ناک سے نیچےکرکے بولی”آپی کل ٹیسٹ ہے میرا پڑھنے دیں مجھے”اسنے اپناچشمہ ٹھیک کیا
"افف ہر وقت پڑھائی بور لڑکی…یہ بتاؤ آپی کہاں ہیں؟”
"آپی چاۓ بنا رہی ہیں”امل نے جواب دے کر اپنی کتابیں اٹھائیں اور باہر جانے لگی.
"ارے کہا جارہی ہو بیٹھو.. آپی کے آنے تک تو بات کرو مجھ سے پڑھاکو”حیات نے اسے روکا پر امل نہ میں سر ہلاتی باہر چلی گئی.حیات نے موبائل اٹھایا اوراونچی آوازمیں گانا سننے لگی. آنکھیں بند کئے وہ ساتھ ساتھ گنگنارہی تھی.”ایمان…”شیرافگن ، ایمان کوپکارتا ہوا کمرے میں داخل ہوا.پر سامنے حیات کو لیٹے دیکھ کر رک گیا.حیات بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اپنا دوپٹہ اٹھا کراوڑھا
"ایمان کہا ہے؟”شیرافگن نے سوال کیا
"آپی کچن میں ہیں”جلدی سے جواب دیا گیا.
اسی نازک دل دے لوگ ہاں
ساڈہ دل نہ یار دکھایا کر
نہ جھوٹے وعدے کیتا کر
نہ جھوٹیاں قسماں کھایا کر
گانے کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی. شیرافگن کچھ کہتے ہوئے رکاگھور کر حیات کو دیکھا جبکہ حیات اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی. اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے اس سے اتنا بھی نہ ہوا کہ گانا بند کر دیتی آخر شیرافگن کو کہنا پڑا.
"اسے چپ کروا دو اب”اشارہ موبائل کی طرف تھا.حیات نے جلدی سے موبائل اٹھا کر بند کرنا چاہا پر ہربڑاہٹ میں وہ بیڈ پرگرگیا.شیرافگن کے سامنے ہمیشہ اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا.
"مجھے دو یہاں” شیرافگن آگے بڑھا اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر بند کیا.پھر حیات کا ہاتھ پکڑ کر اسکے ہاتھ پر رکھا "اگر گانے سننے کا اتنا ہی شوق ہے.تو ہینڈ فری لگایا کرو” اپنی بات کہہ کر وہ جانے کے لئے پلٹا دروازہ کے پاس پہنچ کر پلٹ کے اسے دیکھا "ایمان سے کہو میرے لئے چاۓ لے آۓ”
"جی”حیات کے جواب پر وہ کمرے سے نکل گیا.حیات نے لمبی سانس بھری اور بیڈسےاٹھ کھڑی ہوئی”حد ہوگئی یارمیں بھی ناں شیر مار کے سامنے ہمیشہ گڑبڑ کرتی ہوں.اف چاۓ!!”اپنی پیشانی پر ہاتھ مارکروہ باہرکی طرف بھاگی اور کچن میں آکر دم لیا
"آپی وہ افگن بھائی چاۓ مانگ رہے ہیں”وہ ہانپتے ہوئے بولی
کیا ہو گیا؟بھاگ بھاگ کے کیوں آ رہی ہو” ایمان نے ہنس کر پوچھا تو حیات نے ساری کہانی سنا دی "چلوکوئی بات نہیں لو یہ چاۓ دے آؤ بھائی کو جلدی سے”
"آپی میں …”اسنے اپنی طرف انگلی کرکےکہا
"جی آپ….. چلو جلدی کرو اور آرام سے جانا اوکے”ایمان نے اسے کپ تھمایا.حیات کچن سے باہر نکلی.جوس گرنے کی بات ابھی تازہ تھی.اسلئے وہ کوئی اورگڑبڑ نہیں کرنا چاہتی تھی.جب وہ شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ صوفےپر بیٹھافائل کھولے کام کرنے میں مصروف تھا.وہ سوچنےلگی "ہروقت کام ہی کرتے ہیں رات کےوقت بھی آرام نہیں”اسنے سرجھٹک جلدی سے کپ ٹیبل پر رکھا اور جانے کے لئے پلٹی کہ ٹیبل پر رکھی فائلز کے ساتھ ہاتھ لگنے کی وجہ سے نیچے گریں.
"یا اللّه” اسنے جلدی سے جھک کر فائلز اٹھائیں ایک نظر شیرافگن کو دیکھاجو اسے ہی دیکھ رہا تھا.اسکے دیکھنے پر حیات کے ہاتھ سے پھرایک فائل نیچےگری جسے اسنے جلدی سےاٹھا کر میز پر رکھا.
"ہوگیا کام پورا یا اور کچھ گرانا باقی ہے؟” اسکی بات پر حیات نے ہاں میں سر ہلایا
"کیامطلب ابھی اور کچھ بھی گرانا ہے؟” شیر افگن نے آنکھیں نکالیں
"نہیں …وہ…سوری”کہہ کر وہ دروازہ کی طرف بڑھی پہلے ہی وہ جلدی بھاگ جانا چاہتی تھی تاکہ کوئی گڑبڑ نہ ہو پر …..جیسے ہی وہ دروازےسے نکلنے لگی اسکا سر دروازے سے ٹکرایا”افف”اسنے اپنی پیشانی مسلی پلٹ کر شیرافگن کو دیکھا پھر بند دروازے کوجسے وہ کھولے بغیر باہر جانا چاہتی تھی. اپنی بےوقوفی پر اسے غصہ آیا.
"آرام سےحیات”شیرافگن کی بات بیچ میں چھوڑ کر وہ دروازہ کھول کرباہر بھاگی. شیرافگن ایک دم ہنس پڑا”یہ لڑکی بھی ناں توبہ”کبھی اسے حیات کی فضول حرکتوں پر غصہ آتا تو کبهی ہنسی.وہ شیرافگن کے سامنے ہمیشہ ایسے ہی کچھ نہ کچھ الٹا کر جاتی تھی. حیات اپنے کمرے میں آئی اور اپنا سر دبانےلگی”اللّه جی شیرمار کے سامنے ہمیشہ کام خراب ہوتا ہے” افسوس سےکہتی وہ کمرے سے باہر نکلی ابھی اسے آپی کو ساری کہانی جو سنانی تھی.
وہ لائٹ پنک اور وائٹ سوٹ میں ملبوس بالوں کی پونی ٹیل بناۓ ہاتھ میں بیگ اور فائل تھامے جلدی جلدی سیڑھیاں اتر کر ڈئننگ روم کی طرف آئی جہاں شیرافگن کے علاوہ سب ٹیبل پر موجود تھے.
"اماں جلدی سے ناشتہ دیں لیٹ ہو رہی ہوں” بیگ اور فائل سائیڈ پر رکھ کر بولی.الماس بیگم نے ناشتہ اسکے سامنے رکھا.وہ جلدی سے کھانے لگی”جلدی اٹھ جایا کرو تاکہ آرام سے کچھ کھا سکو”دادواسے تیز رفتار سے کھاتے دیکھ کر بولیں”جلدی بھی اٹھ جاؤں دادو پھر بھی لیٹ ہو جاتی ہوں”ایمان نے چاۓ کاکپ حیات کی طرف بڑھایا.”شکریہ آپی”حیات نے کپ لیتے ہوئےکہا ایمان اسکے ساتھ بیٹھ گئی.
"آج آپکابھائی نظر نہیں آرہا…کہاں ہیں جناب؟” وہ ایمان کی طرف جھک کر بولی
"آفس میں ضروری کام تھا. اسلئے جلدی چلے گئے ویسے تمہیں کیوں یاد آرہی ہے بھائی کی؟”ایمان نے ہنس کر سوال کیا.حیات نے منہ بنایا "ویسے ہی پوچھ لیا آج سکون جو ہے ورنہ تو شیر مار…..”ایمان نے اسے آنکھیں دکھائیں تو وہ آنکھیں گھما کر چپ ہوگئی.امل کی بس آگئی تھی.وہ سب کو اللّه حافظ کہتی باہر کی جانب بڑھ گئی. تایا ابو اور بابا بھی آفس کے لئے نکلے.حیات کچھ کہنے کے لئے پھر ایمان کے قریب ہوئی تو دادو نے اسے ڈانٹا”اے بی بی اب تمہیں دیر نہیں ہو رہی جو باتوں میں لگی ہو”دادو نےاسے گھورا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی.
"چلتی ہوں دادو”اسنے دادو کے گال پر پیار کیا تو باقی سب کے ساتھ دادو بھی مسکرا دیں.وہ حیات سے بہت محبت کرتی تھیں.پراسکے لااوبالی پن کی وجہ سے اس پر سختی کرتی تھیں.یہ بات حیات کو بھی اچھی طرح معلوم تھی.اپنی چیزیں اٹھاکر سب کو "اللّه حافظ” کہتی وہ باہر کی طرف بڑھ گئی. پورچ میں کریم بابا کار کے پاس کھڑے تھے "بابا چلیں” اسنے کار میں بیٹھتے ہوئےکہا تو بابا نے کاراسٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی .
حیات یونیورسٹی پہنچی تووہ چاروں اسکے انتظار میں گراؤنڈ میں کھڑی تھیں.وہ ہمیشہ ان سب سے لیٹ آتی تھی.جلدی سے ان تک پہنچی "میں آگئی”پھولی سانسوں کے بیچ کہاگیا.”اچھا سچ میں؟” مینا نےاسے ایسے دیکھا جیسے وہ وہاں موجود نہ ہو.
"مجھے تونظر نہیں آرہی”حریم نے بھی ڈرامئی انداز اپنایا”یار یہ سامنے کھڑی ہے ہماری لیٹ لطیف” تابی نے مسکراہٹ دبائی.حیات خاموشی سے انھیں گھورنے لگی”بس کرو یار کیوں تنگ کر رہی ہو بیچاری کو”سبین اپنا چشمہ ٹھیک کرتی حیات کے ساتھ کھڑی ہوئی تاکہ اسے اور تنگ نہ کیاجائے.
"یہ ہیں ہی چڑیلیں…تم ہی میری اپنی ہو سبین”حیات نے اسکے کندھے پر سر رکھا "ہاں میری ڈرامہ کوئین ہم چڑیلیں ہیں توتم بھی ہماری دوست ہو…پھر یہ کیا ہوگی حریم بتانا ذرا؟”مینانےآنکھ مارکرحریم کو دیکھ کرسوالیہ اندازمیں پوچھا.حیات نے ہنس اسکے کندھے پرفائل ماری تو سب کھلکھلا اٹھیں”اچھا اچھا چلو کلاس کا وقت ہوگیا ہے” سبین نے ہنسی روک کر جلدی سے کہا تو حیات نےاسکاچشمہ نیچےکیا.”چلتے ہیں بہن جی….ویسے اسکو گروپ میں کسنے شامل کیا؟”وہ تینوں کوآنکھ مارکر بولی کیونکہ سبین کو ہمیشہ پڑھائی کی فکر لگی رہتی باقی سب بھی پڑھائی میں اچھی تھیں. پر سبین کی طرح سرپرسوار نہیں کرتی تھیں.
"اللّه کی طرف سے ملی ہے یہ پڑھاکو ہمیں اب اسکے ساتھ ہی گزارا کرو”تابی نے ہنس کر جواب دیا. وہ چاروں ہنس دیں.یہ ان پانچوں کا گروپ تھا.ساری کلاس میں مشہور حیات ، مینا ، حریم اور تابی چاروں ایک سی تھیں. شوخ ، ہنسی مذاق کرنے والیں جبکہ سبین پڑھاکو سی تھی.پر سب کا ساتھ برابر دیتی ان پانچوں کی دوستی مثالی تھی.وہ بس ایک دوسرے کے ساتھ رہتیں باقی کلاس سے بھی بس ہیلو ، ہاۓ ہی تھی.باقی وقت وہ ہوتیں تھیں اور انکی دنیا جہاں کی باتیں.
کلاس لےکر وہ لوگ گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئیں موسم خوشگوار ہورہا تھا.ہلکی ہوا چل رہی تھی. وہ سب گھاس پر مزےسےبیٹھی تھیں. "ایک ضروری بات ہے لڑکیوں ذرا توجہ
فرمائیں”مینا نے سب کو اپنی طرف متوجہ
کیا.سب اسے دیکھنے لگیں.سواۓ حریم کے جو شرما رہی تھی”تم کونسی خوشی میں لال ہوئی جارہی ہو؟”حیات نے چپس کھاتے ہوئے مشکوک نظروں سے حریم کو دیکھا.جو مسکراہٹ چھپانے کے لئے سر جھکا گئی. "یہ ان دونوں کزنز کی سازش لگ رہی ہے مجھے”تابی نے حریم اور مینا کو غور سے دیکھا.وہ دونوں چچا زاد بہنیں تھیں .
"خاموش کڑیوں….. سازش نہیں خوش خبری ہے”مینا نے آنکھیں گھما کرکہا.حیات کا چپس کھاتا ہاتھ رک گیا تابی اور آگے ہو کر بیٹھی سبین نے اپنا چشمہ ٹھیک کیا.تینوں کی نظریں مینا پر جمی تھیں.مینا نے انھیں دیکھاجیسے اس نے کوئی بری خبر سنانے کا کہا ہو.
"ہماری حریم کی منگنی ہونے والی ہے”مینا نے ہنس کر بتایا حریم نے شرما کر چہرہ جھکا لیا
"ماشاء اللّه اتنا کچھ ہو گیا اب بھی نہ بتاتی ہمیں کیاضرورت تھی”حیات نےدونوں کو گھورا.”بالکل شادی پر خبر دے دیتی ہم مبارکباد دینے آجاتے”تابی کیوں پیچھے رہتی وہ بھی بول پڑی جبکہ سبین بیچاری خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھی”تم بھی کچھ بول دو تاکہ ایک بار ہی جواب دیا جائے”مینا نے سبین کودیکھ کر کہا.جبکہ حریم میڈم شرمانےمیں مصروف تھیں. "کیا….؟” سبین اسے دیکھنے لگی.
"ارے اس بھولی کو چھوڑو اور ہمیں جواب دو”تابی نے کہا تو حیات نے ہاں میں سر ہلاکر چپس منہ میں ڈالا”دیکھو ذرا اس شرم کی پوٹلی کو کیسے دوہری ہو رہی ہے”حیات نے حریم کی طرف اشارہ کیا جو منہ چھپاۓ مسکرا رہی تھی.
"اچھاسنو لڑکا تایا ابوکے دوست کا بیٹا ہے. اسنے ہماری حریم صاحبہ کو جانے کہاں دیکھا کہ یہ نکمی ان محترم کو پسند آ گئیں بس پھر کیا تھا.انھیں نے اپنے اماں ،ابا کو رشتہ لینے بھیج دیا.دونوں طرف سے دوستی کو رشتے داری میں بدلنے کے لئے بغیر کسی دیر کے منگنی کی تاریخ رکھ دی گئی .بڑوں میں کھچڑی پہلے سے پک رہی تھی.پر بچوں کے سامنے یہ بات کل کھلی. اچانک ہی رشتہ پکا کر کے منگنی کی ڈیٹ فکس کردی گئی.سب خاموشی سے ہوا تھا.ورنہ ہماری یہ مجال جو ہم تم سب سے کچھ چپائیں”مینا نے جلدی سےساری بات بتائی.حریم نے بھی سر اثبات میں ہلایا کہ ایسا ہی ہے. پھرانہوں نے حریم کو گلے لگا کر مبارک دی.مسکراکر اسے تنگ کرتی رہیں.”ویسےلڑکا پسند ہے ناں تمہیں؟”حیات نے اسکے قریب ہو کر پوچھا تووہ شرما گئی.
"ایساویسا…اسکے چہرے پربکھرے رنگوں کو تودیکھو”مینا نےحریم کےبالوں کی لٹ کھینچی تو وہ مسکرائی.
"اوۓ ہوۓ”تابی نے حریم کو دیکھ کر کہا.اسنے اپناچہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تو سب ہنسنے لگیں.”اچھا منگنی کی تاریخ کب کی ہے؟” سبین نے سوال کیا
"شکر ہےتم کچھ بولی تو”مینانےاسےدیکھا تو سبین نےمسکراکر اپناچشمہ ٹھیک کیا”منگنی اگلےہفتے ہے”حریم نےجواب دیا
"ایک ہفتہ ہےپھر ہماری حریم صاحبہ منگنی شدہ ہو جایئں گیں”حیات نے کھڑے ہوکر اعلان کیا.تو حریم کے علاوہ سب تالیاں بجانے لگیں "تم بھی کروا لومنگنی”تابی نے ہنس کرکہا.حیات نے کانوں کو ہاتھ لگایا” مجھے تو معاف ہی رکھو”اسنے ڈرنے کی ایکٹنگ کی توسب ہنسنے لگیں”ایک نہ ایک دن تو ایسا ہوگا حیات صاحبہ”حریم نے اسے کھینچ کر بٹھایا”تب کی تب دیکھیں گے”حیات نے بات اڑا دی.
جاری ہے