یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون)
قسط نمبر 1
اے لڑکے اے رکو . ٹریفک پولیس کا اہلکار یہ کہتا ہوا اس لڑکے کی کار کے پیچھے بھاگا وہ بہت تیز سپیڈ میں کار چلا رہا تھا اس لئے اسنے اسے روکا لیکن وہ کار نہ رکی تو وہ اپنی بائیک لے کر اسکے پیچھے بھاگا کچھ دیر تک وہ اس ہی طرح اسکے پیچھے بائیک بھگاتا رہا لیکن کار کے قریب نہ پہنچ سکا اگر وہ چاہتا تو کار کی سپیڈ بڑھا کر اس ٹریفک سارجنٹ کو پیچھے چھوڑ دیتا لیکن وہ بھی شاید اسکے ساتھ کھیل کھیل رہا تھا کچھ دیر تک وہ لڑکا کار اس ہی طرح چلاتا رہا لیکن کچھ دیر بعد اسنے کار روک دی ٹریفک سارجنٹ نے اپنی بائیک اسکی کار کے آگے لا کر روک دی اور بائیک سے اتر کر اسکی کار کے دروازے پے زور سے ہاتھ مارا اور ساتھ ہی کہا ” دروازہ کھول بہت نچایا آج نہ جانے کونسی مٹی سے بنا ہے تو ” یہ سن کر بھی اس لڑکے نے کار کا دروازہ تو نہ کھولا البتہ دروازے کا شیشہ نیچے ہونے لگا وہ ایک جوان لڑکا تھا 18 19 سال کا ایک لڑکا اسکے چہرے پے ناگوارى کے واضح تاثرات تھےوہ صرف اس ٹریفک سارجنٹ کو گھورے جا رہا تھا ….
"ایسے ہی گھورتے رہو گے یا گاڑی کے کاغذات بھی دکھاؤ گے اسکے علاوہ تمھیں اتنی تیز ڈرائیونگ کرنے پے چالان بھی بھرنا پڑے گا اس لئے جلدی سے اپنی گاڑی کے کاغذات نکالو ” ٹریفک سارجنٹ کے لہجے میں سختی تھی اسکے انداز سے یہ بھی ظاہر ہو رہاا تھا کے وہ تھک چکا ہے لیکن وہ اپنی اس تھکن کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا غالباً اس سے پہلے کسی نے اسے اتنا نہیں نچایا تھا ". یہ سن کر اس لڑکے نے گاڑی کے کاغذات تو نہ نکالے البتہ اپنی جیب سے ایک کارڈ نکال کر اسکی طرف بڑھایا .
یہ کیا ہے . ٹریفک سارجنٹ نے کارڈ پے ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا …. ” خود دیکھ لو ” اسنے مسکرا کر کہا جواب میں ٹریفک سارجنٹ نے کارڈ اسکے ہاتھ سے لے لیا کارڈ کو غور سے دیکھنے پے ہی اسکے پسینے چھوٹ گئے وہ مشھور سیاستدان حماد بخاری کا کارڈ تھا…..
یہ تمہارے کون ہیں ؟….
ہی از مائی ڈیڈ….
"اوہ سوری سر مجھے پتا نہیں تھا یہ آپکی کار ہے ورنہ میں آپکو کبھی نہ روکتا آپ پلیز حماد صاحب کو یہ بات نہیں بتائیے گا ورنہ وہ مجھے نوکری سے فارغ کروا دیں گے ” ٹریفک سارجنٹ نے گھبراۓ ہوئے لہجے میں کہا …
ٹھیک ہے نہیں بتاؤنگا اسنے مسکراتے ہوئے کہا اور کارڈ اسکے ہاتھ سے لے لیا ساتھ ہی کار کا شیشہ بند ہو گیا . ٹریفک سارجنٹ نے اپنی بائیک اسکی کار کے آگے سے ہٹا لی بائیک کا ہٹنا تھا اور اسکی کار وہاں سے ہوا کی تیزی سے گزر گئی . ٹریفک سارجنٹ واپس اپنی بکے لے کر اپنی جگہ پےپہنچ گیا ..
کیا ہوا کار ہاتھ نہیں آئی کیا ؟ اسکے ساتھی نے ہنستے ہوئے کہا ..
یار اسے پکڑ تو لیا تھا لیکن میں نے خود ہی چھوڑ دیا ..
کیوں چھوڑ کیوں دیا ؟..اسنے حیرت سے کہا ..
ارے وہ مشھور سیاستدان ہے نہ حماد بخاری اسکا بیٹا تھا میں بھلا اس سے چالان کس طرح وصول کر سکتا تھا …
اوہ حماد بخاری اسکی پارٹی تو بہت مضبوط ہوتی جا رہی ہے لگتا ہے آئندہ الیکشن میں جیت اس ہی کی ہو گی .. اسکے ساتھی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ….
ہاں بس اس ہی ڈر سے میں نے چھوڑ دیا کے کہیں وہ میرے خلاف کوئی کاروائی نہ کردے ویسے بھی آجکل اسلام آباد میں حماد بخاری کا ہی زور ہے …
ہاں اچھا ہی ہوا جو تمنے اسے چھوڑ دیا ہمیں فضول کے جھميلوں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے …….
ہمممممم….
رات کے ڈیڑھ بجے زین اپنے بنگلے پہنچا کار گیراج میں کھڑی کرکے وہ کچن میں پانی پینے چلا گیا وہ پانی پی کر مڑا تو سمرین اسکے پیچھے کھڑی تھیں سمرین اسکی والدہ تھیں اور حماد بخاری کی بیوی کچھ دیر تک وہ اس ہی طرح کھڑی رہیں آخر کار زین نے تنگ آ کر کہا ..
"کیا بات ہے آپ میرا راستہ روکے کیوں کھڑی ہیں مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے”..
کہاں تھے ؟اتنی دیر سے گھر کیوں آئے؟؟ سمرین نے ڈائریکٹ سوال کیا …
میں اپنے دوست کی طرف تھا …
کونسا دوست .؟.
کامران …
مجھے اسکا موبائل نمبر دو میں ابھی اس سے کال کرکے پوچھتی ہوں …جواب میں زین نے سمیرا کو ایک نمبر نوٹ کروا دیا سمیرا نے اس ہی وقت اس نمبر پے کال کی اور یہ تصدیق کی کے زین وہاں تھا یا نہیں تو زین کے دوست کامران نے کہ دیا کے” ہاں وہ میری طرف ہی تھا…..
اچھا ٹھیک ہے .شکریہ . یہ کہتے ہوئے سمرین نے کال اینڈ کر دی …
"اب میں جا سکتا ہوں یا مزید تصدیق کرنی ہے آپکو ” زین کے لہجے میں گہرا طنز تھا …..
جاؤ.
زین اپنے کمرے میں چلا گیا آج ایک بار پھر وہ اپنی ماں کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا نہ جانے وہ کتنی دفعہ سمرین سے یہ جھوٹ بول چکا تھا وہ ہر دو دن بعد رات میں کسی نہ کسی بار میں چلا جاتا اور دیر رات سے واپس آتا اپنے کالج کے دوستوں کو وہ پہلے ہی سمجھا دیتا تھا کے جب اسکے گھر سے اسکے بارے میں معلوم کرنے میں کال آئے تو وہ کہ دیں کے ہاں وہ انہی کی طرف آیا تھا چونكہ اسکے دوست بھی اس ہی کی طرح تھے اس لئے وہ بھی اسکا ساتھ دیتے تھے وہ اپنے کمرے میں جا کر تھوڑی دیر تک موبائل یوز کرتا رہا اور پھر سو گیا صبح اسے کالج بھی جانا تھا وہ تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا اور حماد بخاری کا سب سے چھوٹا بیٹا زین حماد تھا اس سے بڑے اسکے دو بھائی تھے اشعر حماد اور نعمان حماد اشعر حماد سب سے بڑا تھا اسکی شادی بھی ہو چکی تھی نعمان حماد کو سیاست سے زیادہ دلچسپی تھی اس لئے وہ اکثر اپنے باپ کے ساتھ ہی ہوتا تھا اور رہا زین تو وہ تو فلحال پڑھ ہی رہا تھا ….
ڈیڈ وہاج خانزادہ آج آپسے ملنا چاہ رہا تھا کیا کریں ابھی اس سے ملاقات کرنی ہے یا نہیں . نعمان نے حماد بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی کافی کا مگ اپنے ہونٹوں سے لگایا …
نہیں ابھی اس سے ملاقات نہیں کرنا ابھی تک وہ ہماری مخالف پارٹی میں ہی ہے نہ ..
ہاں ڈیڈ وہ ہے تو مخالف پارٹی میں ہی لیکن اسکے انداز سے یہ لگ رہا ہے کے بہت جلد ہماری پارٹی میں شمولیت اختیار کر لے کیونکے مخالف پارٹی کے سربراہ سے اسکے تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں ..نعمان یہ کہ کر پھر کافی پینے لگا …
اور مجھے یہ بھی پتا ہے کے اسکے تعلقات اس پارٹی میں خراب کیوں ہوتے جا رہے ہیں یہ تمہارے ہی کارنامے ہیں . حماد بخاری نے ایک معنی خیز مسکراہٹ چہرے پے سجاتے ہوئے کہا …
جی ڈیڈ آپکو تو پتا ہے کے وہاج خانزادہ کتنے کام کا بندا ہے بس یہی وجہ ہے کے میں نے مخالف پارٹی میں بدنظمی پھیلا دی ہے اس ہی طرح ہم وہاج خانزادہ کو اپنی پارٹی میں شامل کر سکتے ہیں . نعمان نے ہنستے ہوئے کہا …
ویل ڈن مائی سن تم اتنی کم عمری میں ہی سیاسی معملات میں اتنی دلچسپی لے رہے ہو اور اتنے اچھے طریقے سے کام کر رہے ہو مجھے امید ہے کے جب تک تم میری عمر میں پہنچو گے پورے پاکستان میں تمہارا ہی نام ہوگا .حماد بخاری نے اسے شاباشی دی ….
ڈیڈ اس میں آپ اسے شاباشى دے رہے ہیں جبکے وہ دوسری پارٹی میں پھوٹ ڈال رہا ..اشعر نے گفتگو میں حصّہ لیا .
The politics is a war and everything is fair in love and war .حماد کی بجاۓ نعمان نے اسکی بات کا جواب دیا …
بلکل ٹھیک کہا نعمان تم نے سیاست ایک جنگ ہے تو اسے جنگ کی طرح ہی سمجھو تم مستقبل میں ایک اچھے سیاستدان بنو گے حماد بخاری نے نعمان کو سراہا …
اشعر کندھے اچكا کر رہ گیا شاید وہ حماد بخاری کی بات سے متفق نہیں تھا .
تھوڑی دیر بعد زین بھی ناشتے کی میز پر آ کر بیٹھ گیا ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنے کالج چلا گیا جبکے باقی سب اپنے اپنے کام پے روانہ ہو گئے …
زین ہمیشہ کی طرح ایک ہاتھ سے کار کی سٹیرنگ سنبھالے اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ پکڑے کالج پہنچا اسنے کالج کے دروازے کے قریب ہی اپنی کار کھڑی کاری اور بچی ہوئی سگریٹ زمین پر پھینک کر اسے اپنے پیروں تلے مسلا اور کالج میں داخل ہو گیا کالج میں سب سے پہلے اسکی ملاقات کامران سے ہوئی جو زین کے ہر برے کام میں اسکے ساتھ ہوتا تھا …
ہے زین کل رات آنٹی کی کال آئی تھی میرے پاس میں نے انہیں بول دیا ہ کے تم میرے ساتھ ہی تھے ویسے کل رات کو تم کہاں تھے ……
یار میں کل رات جم کے ساتھ تھا ایک نیا بار کھلا ہے بس وہیں گئے ہوئے تھے ہم دونوں …زین نے کہا جم انکا ایک کرسچین دوست تھا ….
اوہ آج شاید جم اس ہی لئے نہیں آیا کیونکے تم لوگ رات کو وہاں سے دیر سے آئے ہو گے …
نہیں میں تو ڈیڑھ بجے گھر آ گیا تھا لیکن جم میرے ساتھ نہیں آیا تھا ہو سکتا ہے وہ وہاں سے دیر اے آیا ہو .زین نے اندازہ لگانے کی کوشش کی …
ہاں یقیناً یہی ہوا ہو گا تمھیں تو پتا ہی ہے کے وہ ڈسکو اور بارز وغیرہ کا کتنا دیوانہ ہے ایک دفع چلا جاۓ تو واپس آنے کا نام ہی نہیں لیتا . کامران نے ہنستے ہوئے کہا .
ہاں وہ تو ہے چلو کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے تمھیں تو پتا ہے کے اگر ذرا بھی لیٹ ہو گئے تو سر جیمز کتنی باتیں سنائیں گے . زین نے گھڑی پے ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا سر جیمز ایک غیر ملکی ٹیچر تھے جو انکے کالج میں انگریزی پڑھایا کرتے تھے اس کالج میں ویسے بھی زیادہ تر ٹیچرز غیر ملکی ہی تھے …
ہاں یار جلدی چلو مجھے انکے غصّے سے بڑا ڈر لگتا ہے . کامران نے گھبراتے ہوئے کہا تو زین اسکے اس طرح گھبرانے پے ہنس پڑا اور دونوں آگے بڑھ گئے .
ابو میں کالج جا رہی ہوں سب کام کر لئے میں نے آپ دونوں کا ناشتہ ٹیبل پے لگا دیا ہے دس منٹ بعد کرن کی وین بھی آ جاۓگی . کائنات نے شوز پہنتے ہوئے کہا ..
اچھا بیٹا تم کیسے جاؤ گی کالج پہلے والا کالج تو گھر کے قریب تھا لیکن یہ والا تو دور ہے . کائنات کے والد شفیق علی نے اپنے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا ..
بس سے جاؤں گی ابو کالج کے دروازے پے ہی اتارتی ہے …کائنات نے نقاب لگاتے ہوئے کہا .
اچھا ٹھیک ہے ویسے جب سے یہ گھر تبدیل کیا ہے بہت مسلے مسائل ہو گئے ہیں پرانا والا گھر ٹھیک تھا تمہارا کالج بھی گھر کے قریب تھا گھر تبدیل کیا تمہارا کالج بھی تبدیل کروانا پڑا کرن کا اسکول بھی اس ہی وجہ سے تبدیل ہوا . شفیق علی نے ناشتے کی میز پر بیٹھتے ہوئے کہا ….
اب کیا کریں ابو اس گھر کا کرایا بھی تو اتنا بڑھا دیا تھا انہوں نے مجبوراً خالی ہی کرنا پڑا نہ . کائنات نے بے بسی سے کہا …
ہاں اب کیا کر سکتے ہیں جب سے تمہاری امی اس دنیا سے گئی ہیں ساری ذمے داریاں بھی تم پر آ گئی ہیں ..شفیق علی نے چاۓ کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا ..
اب کیا کریں ابو زندگی کی گاڑی جیسے تیسے چل ہی رہی ہے …
شفیق علی خاموشی سے چاۓ پی رہے تھے …
اچھا ابو میں چلتی ہوں آج کالج میں ویسے بھی پہلا دن ہے کہیں لیٹ نہ ہو جاؤں اللّه حافظ ……
ہاں بیٹا اللّه حافظ خیال رکھنا اپنا . شفیق علی نے ناشتے کی ٹیبل پے بیٹھے بیٹھے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا …
کائنات نے اثبات میں سر ہلايا اور گھر سے باہر نکل گئی صبح کی روشنی پوری طرح پھیل چکی تھی اسے کچھ دور چل کر جانا تھا کیونکے میں روڈ تھوڑا دور تھا اور کالج کیلئے بس وہیں سے ملتی تھی وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی روڈ سنسان پڑا تھا اکّا دکّا لوگ ہی نظر آ رہے تھے وہ بھی آفس جانے والے اور اسکول جانے والے لوگ تھے وہ خاموشی سے چلے جا رہی تھی بہت جلد وہ مین روڈ تک پہنچ گئی شاید ابھی بس نہیں آئی تھی وہ انتظار کرنے لگی پانچ منٹ بعد س وہاں پہنچ گئی وہ شاید روزانہ 07:00 سے 07:15 کے درمیان ہی آتی تھی وہ بس میں سوار ہو گئی بس خالی تھی اس لئے اسے آرام سے جگہ مل گئی وہ بیٹھی اور بس زن سے آگے بڑھ گئی …
تم تو بول رہے تھے کے میں نئی کار لے رہا ہوں لیکن یہ تو وہی پرانی کار ہے . زین نے سوالیہ نگاہوں سے کامران کی طرف دیکھا کالج کی چھٹی ہونے کے بعد وہ کالج سے باہر نکل رہے تھے تو زین کی نظر اسکی کار پے پڑ گئی …
ہاں یار لے تو رہا تھا لیکن ڈیڈ نے منع کردیا وہ کہ رہے ہیں کے فضول پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں بس ایک کار ہے نہ کافی ہے . کامران نے بے بسی سے کہا …
اور یقیناً ابھی بھی تم نئی کار لینے کیلئے بہت بے چین ہو ….
ہاں یار تجھے پتا تو ہے ایک ہی تو شوق ہے میرا نت نئی کاريں خریدنا ….
ہاں اور تیری برتھڈے بھی اس ہی مہینے آ رہی ہے نہ . زین نے بات بدل دی …
ہاں کیوں کیا ہوا ؟….
کچھ نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہا ہوں . زین نے کہا اور اپنی کار کی طرف بڑھ گیا کامران بھی اپنی کار میں بیٹھ گیا کچھ ہی دیر میں ان دونوں کی کاریں آگے بڑھ گئیں کامران کی منزل تو اپنا گھر تھی لیکن زین حماد بخاری کے آفس جا رہا تھا …..
تھوڑی دیر بعد وہ حماد بخاری کے آفس میں بیٹا تھا ….
کہو کیا بات ہے جو تم گھر جانے کی بجاۓ کالج سے سیدھا یہاں آ گئے ..حماد بخاری نے ایک فائل کا مطالع کرنے کے بعد اسے سائیڈ پے رکھتے ہوئے کہا وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک پریس كانفرنس سے آئے تھے اور اب زین آ گیا .
ڈیڈ مجھے کچھ پیسے چاہییں …
کیوں ؟..
کامران کی برتھڈے آنے والی ہے تو اسکے لئے گفٹ لینا ہے اس لئے پیسے چاہییں …
اچھا کتنے پیسے چاہییں ؟…
کچھ زیادہ نہیں بس پچیس لاکھ دے دیں . زین کی نظر میں پچیس لاکھ کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی …
اچھا اتنے پیسوں سے تم اسے کیا گفٹ کرنے والے ہو . حماد بخاری نے اسکی بات سن کر کسی بھی قسم کی حیرت کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکے پچیس لاکھ دینا انکے لئے کچھ مشکل نہیں تھا …
کامران کافی دن سے نئی کار لینے کے بارے میں سوچ رہا تھا لیکن اسکے ڈیڈ نے پیسے دینے سے انکار کر دیا تھا اب اسکی برتھڈے قریب آ رہی ہے تو میں نے سوچا کیوں نہ اسے کار ہی گفٹ کردوں …
چلو ٹھیک ہے کونسی کار چاہیے اسے مجھے نام اور ماڈل بتا دو میں منگوا دونگا پھر تم برتھڈے پے اسے گفٹ کردینا …..جواب میں زین نے انہیں کار کا نام اور ماڈل بتا دیا جو انہوں نے پاس رکھی ایک نوٹ بک میں نوٹ کرلیا …
ٹھیک ہے کار اسے مل جاۓگی ویسے میری ایک بات سنو .
جی کہیں میں سن رہا ہوں …
تم اتنی فضول خرچی کرنا اور ایسے مہنگے تحفہ تحائف دینا تھوڑا کم کردو اتنی فضول خرچی بھی اچھی بات نہیں اور اپنی عادتيں بھی سدھارنے کی کوشش کرو مجھے پتا چلا ہے کے تم سگریٹ بھی پینے لگے ہو اور اتنی رات میں تم گھر واپس آتے ہو انسانی زندگی میں روٹین نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور شاید تم اس لفظ سے بلکل بھی واقف نہیں ہو . حماد بخاری نے اسے اچھے خاصی سنا دی نہ جانے انہیں اس وقت اچانک یہ سب کیسے یاد آ گیا …
حماد بخاری کی بات سن کر زین نے ایک گہرا سانس لیا .
"باقی سب باتیں تو ٹھیک ہے میں مانتا ہوں کے میں دیر سے گھر آتا ہوں فضول خرچی بھی بہت کرتا ہوں لیکن میں سگریٹ پیتا ہوں یہ آپکو کس سٹوپڈ نے کہا”…
آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کے وہ سٹوپڈ آپکے بڑے بھائی نعمان ہیں ….
ہونہہ نعمان بھائی خود کونسا کسی سے کم ہیں ابھی اگر میں انکی برائیاں گنوانے بیٹھ گیا نہ تو پورا دن اس ہی کام میں گزر جاۓ گا . زین نے منہ بنا کر جھوٹ بولا اسنے آج تک نعمان کے خلاف ایک لفظ نہیں سنا تھا لیکن پھر بھی اسے بات بدلنے کیلئے یہی مناسب لگا اسے یہ بھی پتا تھا کے حماد نعمان کی ایک بھی برائی اسکے منہ سے نہیں سنیں گے اور اسے گھر جانے دیں گے …
مجھے نعمان کی برائیاں سننے کا کوئی شوق نہیں تم اپنا بتاو تمنے سگریٹ پی تھی ..
آپکو کیا لگتا ہے ؟..
مجھے تو یہی لگتا ہے کے تم نے سگریٹ ضرور پی ہوگی کیونکے نعمان جھوٹ ہرگز نہیں بولتا ..
آپکی اطلاع کیلئے عرض ہے کے جھوٹ بولنا سیاست دانوں کا بہترین مشغلہ ہے اتنا کہ کر وہ سانس لینے کیلئے رکا اور پھر کہنا شروع کیا ” اور اگر آپکو یقین ہے کے میں نے سگریٹ پی تھی تو آپ مجھسے اس بارے میں تصدیق کیوں کرنا چاہتے ہیں”…
میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں …
ہاں میں نے پی تھی زین نے لاپرواہی سے کہا …
ہممممم اور میں آئندہ کبھی نہ سنوں کے تم نے سگریٹ پی ہو … حماد بخاری نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا ..
میں یہ کوشش کروں گا کے آئندہ آپ یہ کبھی نہ سنیں لیکن میں سیاست دانوں کی طرح جھوٹے وعدے نہیں کرتا …زین کے لہجے میں گہرا طنز تھا جسے حماد بخاری نے بھی محسوس کرلیا تھا وہ بس اسے گھور کر رہ گئے اتنا کہنے کے بعد زین انکے آفس سے باہر نکل گیا حماد بخاری سوچ رہے تھے کے آخر انکی یہ اولاد کیا بلا تھی جو انہی کے منہ پر طعنہ مار کر چلی گئی تھی اپنے باپ کے منہ پر طعنہ مار کر چلی گئی تھی زین کے جانے کے بعد حماد بخاری پھر فائلوں کے مطالعہ میں مصروف ہو گئے …
کائنات کا اس نئے کالج میں پہلا دن کچھ خاص نہیں گزرا تھا بس ایک دو لڑکیوں سے مختصر سی باتچیت ہوئی تھی اس وقت شام کے چار بج رہے تھے سورج پوری اب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور اسکی روشنی شفیق علی کے گھر کے صحن میں بھی پڑ رہی تھی جہاں کائنات اپنی چھوٹی بہن کرن کو پڑھا رہی تھی اور اپنے کالج کے کچھ نوٹس بنانے میں بھی مصروف تھی اسکے والد شفیق علی اپنی کریانے کی دکان گئے ہوئے تھے جو انکے پرانے گھر کے قریب ہی تھی یہاں سے وہاں جانے میں انہیں تھوڑی مشکل تو ہوتی تھی لیکن پھر بھی انہوں نے وہ دکان شفٹ نہیں کی تھی کیونکے پرانے محلے میں انکی دکان کافی پرانی تھی اس لئے زیادہ اچھی چلتی تھی اور اچھا خاصا منافع بھی ہو جاتا تھا یہی وجہ تھی کے انہوں نے وہ دکان نہیں بیچى تھی کائنات کی چھوٹی بہن کرن ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی وہ صبح اسکول جاتی اور شام میں کائنات سے پڑھتی تھی گھر کا کام دونوں بہنیں مل کر کر لیتی تھیں انکے گھر بہت اچھے سے چل رہا تھا انہیہ کسی بھی قسم کی مالی یا ذہنی پریشانی نہیں تھی . کائنات کو پڑھنے کا شوق بہت تھا جسکی وجہ یہ تھی کے وہ ایک وکیل بننا چاہتی تھی اپنے ملک کی مشھور و معروف وکیل وہ دن رات یہی سوچتی رہتی تھی ابھی بھی وہ کرن کو پڑھا تو رہی تھی لیکن سوچ اپنے مستقبل کے بارے میں رہی تھی اسکے کئی خواب تھے جو اسے پورے کرنے تھے اسکے زندگی میں کئی مقاصد تھے وہ ان مقاصد کو بھی پورا کرنا چاہتی تھی . کائنات ایک با پردہ لڑکی تھی کالج بھی وہ ابائے میں ہی جاتی تھی اسکا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوتا تھا جس میں سے صرف اسکی آنکھیں ہی نظر آتی تھیں وہ کرن کو بھی پردہ کرنے کی تلقین کرتی تھی لیکن وہ ابھی زیادہ بڑی نہیں تھی اس لئے کائنات نے اس بات پے زیادہ زور نہیں دیا تھا …………..
امتیاز سٹریٹ کی اس پر رونق سڑک پے بنے اس ڈریم بار میں بیٹھا ایک لڑکا شراب پی رہا تھا ویسے تو یہاں بہت سے اور بھی لوگ تھے جو شراب کے نشے میں دهت تھے کچھ لوگ ڈرگز لے رہے تھے اور کوئی کسی اور طریقے سے نشہ کر رہا تھا وہاں موجود سبھی لوگ مدہوش تھے انہیں اپنے اس پاس کی کوئی خبر نہیں تھی لیکن وہ لڑکا اسنے شراب کو تیسری بوتل ختم کرکے سائیڈ میں رکھی اسے تین بوتل شراب پینے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا وہ پوری طرح ہوش میں تھا تقریباً ایک سال پہلے اسے شراب پینے کی یہ گندی عادت لگی تھی جو اسکے دوست کامران کی مہربانی تھی رہی بات سگریٹ کی تو وہ تو وہ بہت پہلے سے ہی پیتا تھا …وہ ہر ہفتے اس ہی طرح ایک نہ ایک دفع اس ڈریم بار میں ضرور آتا تھا اور شاید یہ واحد جگہ تھی جہاں وہ اپنے کسی دوست کو بھی ساتھ نہیں لاتا وہ یہاں ہمیشہ تنہا آتا کچھ دیر وہاں وقت گزارتا پھر یہاں سے سیدھا گھر چلا جاتا …
ہے بوائے كين آئی سٹ ہیئر . ایک لڑکی اسکی ٹیبل کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی …
یہاں اور بھی ٹیبلز خالی ہیں آپ کہیں بھی بیٹھ سکتی ہیں . زین نے بے زاری سے کہا ..
لیکن مجھے یہیں بیٹھنا ہے ..
کیوں ؟ یہاہ کوئی مفت شراب نہیں مل رہی اور نہ ہی میں یہاں مفت کی ڈرگز بانٹ رہا ہوں پھر آپکو یہاں ہی کیوں بیٹھنا ہے …
مجھے پورے بار میں ایک آپ ہی ڈھنگ کے انسان لگے اس لئے آپکے پاس بیٹھنا چاہتی ہوں …..
معاف کیجئے میں ہمیشہ اس بار میں تنہا ہی بیٹھتا ہوں .زین نے معذرت خواہنہ انداز میں کہا ..
اوکے ایز یو وش . لڑکی نے شانے اچکائے اور آگے بڑھ گئی اسکے چہرے پے ناراضگی کے واضح تاثرات تھے ..زین کو اسکے اس طرح ناراض ہونے پے ترس آ گیا اور اسنے اس لڑکی کو آواز دی "سنیں” زین کا بس اتنا ہی کہنا تھا وہ واپس مڑی . "جی”….
آپ یہاں بیٹھ سکتی ہیں ……
ہمممممم آپ مذاق تو نہیں کر رہے نہ . اسنے مصنوعی حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا …
نہیں میں مذاق نہیں کر رہا . زین نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اسکے سامنے والی کرسی پے بیٹھ گئی ….
آپ مجھے اس طرح کی لڑکی نہیں لگتیں زین نے بات شروع کی …
کس طرح کی ؟…
بار میں آنے جانے والی لڑکی نہیں لگتیں آپ مجھے اور شاید آپ یہاں پہلی دفع آئی ہیں …زین نے اندازہ لگانے کی کوشش کی …
جی میں یہاں پہلی دفع ہی آئی ہوں ..
اوہ…
ہمممممم اصل میں میرا ایک دوست مجھسے دور ہو گیا ہے بس اس ہی غم میں میں یہاں چلی آئی …..
اچھا . زین سمجھ گیا وہ یقیناً اپنے بوائے فرینڈ کے بارے میں بول رہی تھی لیکن زین کے سامنے بوائے فرینڈ بولتے ہوئے شاید اسے جھجھک محسوس ہو رہی تھی یہی وجہ تھی کے اسنے بوائے فرینڈ کی جگہ دوست کا کہا تھا .
اور آپ،آپ یہاں کیوں آئے ہیں ..
میں تو یہاں ہر ہفتے آتا ہوں …
” ہر ہفتے کیا آپ نے بھی اپنی زندگی میں کچھ کھویا ہے” …
نہیں.
پھر آپ یہاں کیوں آتے ہیں ..
بس اب مجھے شوق ہے یہاں آنے کا ایک سکون سا ملتا ہے اس جگہ پے .
سکون یہ کہ کر اسنے برا سا منہ بنایا پھر مزید کہا "جب سے میں یہاں آئی ہوں عجیب بے چینی سی ہو رہی ہے”….
ہر انسان کی الگ الگ فطرت ہوتی ہے کسی کو کچھ بہت پسند ہوتا ہے تو کسی کو وہى بہت برا لگتا ہے ..
ہاں بات تو آپکی ٹھیک ہے …
آپکا نام کیا ہے؟.میں نے اتنی بات کرلی اور آپکا نام تک نہیں پوچھا ..
کوئی بات نہیں میں نے کونسا آپکا نام پوچھا .میرا نام زین ہے …زین نے مسکراتے ہوئے کہا ..
ہمممممم میرا نام آئینہ ہے .اسنے زین کے پوچھے بغیر ہی اپنا نام بتایا .
آئینہ نائس نیم …
میں اتنی دیر سے یہاں بیٹھی ہوں اور اپنے ابھی تک مجھے ڈرنک بھی آفر نہیں کی …..
معاف کیجئے گا میں آپکو ڈرنک آفر نہیں کر سکتا بلکے آپکو تو کیا میں کسی کو بھی شراب پینے کیلئے مدعو نہیں کرتا ..
کیوں؟..
میں نہیں چاہتا کے میرے ذریعے کوئی غلط کام کرے یا میری وجہ سے کوئی لڑکا یا لڑکی بگڑے …
لیکن آپ خود بھی تو ڈرنک کرتے ہیں ..
ہاں میں کرتا ہوں بس مجھے اچھا نہیں لگتا کے کوئی میری وجہ سے کسی بھی قسم کا غلط کام کرے …
عجیب ہیں آپ بھی خود تو غلط کام کر رہے ہیں اور دوسروں کو روک رہے ہیں ..
جی ہاں میں عجیب ہی ہوں ویسے اگر آپکو ڈرنک کرنے کا زیادہ شوق ہو رہا ہے تو میں ابھی منگوا دیتا ہوں .زین نے مسکراتے ہوئے کہا …
نہیں نہیں میں تو ایسے ہی ایک بات کر رہی تھی اللّه کا شکر ہے میں نے آج تک شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا . آئینہ نے گھبراتے ہوئے کہا ..
پھر بھی آپ یہاں آ گئیں جہاں شراب پانی کی طرح پی جاتی ہے . زین نے طنزیہ لہجے میں کہا …
میں آپکو بتا تو رہی ہوں میرا ایک دوست …..آئینہ کی بات زین نے درمیان میں ہی کاٹ دی "آپ پلیز بار بار جھوٹ تو نہ بولیں”.
میں نے جھوٹ کب بولا آئینہ نے حیرت سے زین کی طرف دیکھا ..
یہ جو آپ بار بار دوست دوست کہے جا رہی ہیں مجھے پتا ہے کے آپ اپنے بوائے فرینڈ کے بارے میں بات کر رہی ہیں اس لئے اب یہ دوست والا جھوٹ آپ دوبارہ نہیں بولئے گا”…
جی آپکا اندازہ بلکل درست ہے میں اپنے بوائے فرینڈ کے بارے میں ہی بات کر رہی تھی لیکن تھوڑی جھجھک محسوس کر رہی تھی آئینہ نے اپنی شرمندگی چھپاتے ہوئے کہا ..
اچھا اب میں چلتی ہوں مجھے بہت ٹائم ہو گیا یہاں بیٹھے بیٹھے ہو سکتا ہے زندگی میں پھر کبھی ملاقات ہو . یہ کہتے ہوئے اسنے اپنا پرس ہاتھ میں پکڑا اور اٹھ کھڑی ہوئی .
اوکے بائے . زین نے کہا اور وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھوڑی دیر بعد زین اٹھ کر کاؤنٹر پے گیا پہلے تو اسنے اپنا بل ادا کیا اور پھر اس لڑکی کے بارے میں پوچھا "یہ جو لڑکی ابھی یہاں سے گئی ہے اسنے کوئی ڈرنک وغیرہ لی تھی”…
کونسی سر وہ بلیو سوٹ والی ؟.
ہاں ہاں وہی .
جی سر اسنے ڈرنک کا ایک گلاس لیا تھا لیکن اسنے ایک گھونٹ ہی چکھا اور باقی ڈرنک ایسے ہی چھوڑ دی ..
ٹھیک ہے یہ کہ کر زین بار سے باہر آ گیا …
"کتنی جھوٹی لڑکی ہے یہ ابھی تو کہ رہی تھی کے میں نے اپنی زندگی میں شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا جبکے اس لڑکے کے کہنے کے مطابق اسنے نہ صرف شراب کے گلاس کو ہاتھ لگایا بلکے ایک گھونٹ شراب بھی پی ہونہہ یہ جھوٹے لوگ”.یہ کہتا ہوا زین اپنی کار کی طرف بڑھ گیا .
(جاری ہے )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔