یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 24 دوسری اقوام اپنی م…
یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 24
دوسری اقوام اپنی مرضی سے ساری دنیا کی زبانیں سیکھ لیں جہاں کوئی زبان ان کی زبان کی جگہ۔ینے کی کوشش کرے وہیں وہ اپنی واضح نا پسندیدگی ثابت کرکے اپنی زبان کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہوجائیں گے کہ دنیا کی کوئی زبان ان کی زبان سے اچھی ہے نا ہوگی۔
علی کامنز میں وہ گھنٹوں تمہارے پاس بیٹھا رہا کرتا تھا۔ ری بونڈ۔۔۔ بالوں کو شزا نے ہاتھ لگائے بغیر گردن کے جھٹکے سے شانوں سے پرءمے کیا۔
امرحہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ یعنی پاکستانی خواتین دنیا کے کسی بھی کونے میں رہیں۔ خصلت "عظیم” ٹوہ پر دل و جاں سے نثار رہتی ہیں۔۔۔ کسی تمغے کی طرح سجائے۔۔۔ فخر و غرور سے سرشار پھرتی ہیں۔
وہ بزنس کا اسٹوڈنٹ ہے میں انگلش لٹریچر کی۔۔۔
وہ اتنا لائق ہے کہ پروفیسر سے اچھا انگلش لٹریچر پڑھا سکتا ہے۔
وہ اتنا لائق ہے، آخر سب کو کیسے پتا تھا۔
امرحہ دنگ سی رہ گئی۔
تم اس سے ٹیوشن لیتی رہی ہو؟ امرحہ پوچھے بنا دمرہ نہ سکی۔
تم اسکی جان چھوڑتیں تو وہ کسی اور کو ٹیوشن دیتا نا۔۔۔
ہونٹوں کے کونوں کو استہزائیہ اچکا کر وہ کڑوی گولی کی طرح بد مزا سی دکھائی دینے لگی۔۔۔
امرحہ شزا کی شکل دیکھتی، رہ گئی۔
سر رابرٹ سے اچھا کوئی نہیں پڑھا سکتا میں نہیں مانتی، امرحہ کو یہی جواب سوجھا۔
نہ مانو، وہ یونی کا راجر فیڈر رہے۔ ساری ٹرافیاں اکٹھی کر لائے گا وہ۔۔۔ ویسے ت۔ آج کل اسکے ساتھ نظر نہیں آتیں۔۔۔ وہ بھی ڈیپارٹمنٹ نہیں آتا۔۔۔ شزا نے مکمل ایمانداری سے #ٹوہ کی ڈیوٹی سر انجام دی تھی اور وہ اس میں غفلت کا شکار قطعاً نہیں ہوئی تھی۔
امرحہ کوئی بھی جواب دیے بغیر چلی گئی۔
شزا اس کی کلاس فیلو تھی جو Gravity Falls کی Pacifica کے نام سے زیادہ جانی جاتی تھی، اسے عجیب وغریب ملبوسات پہننے پر لیڈی گاگا بھی کہا جاتا اور شوں شوں بھی یعنی جب وہ قریب سے گزرتی تو شرارتی اسٹوڈنٹس مکھی اڑانے کے انداز سے ہاتھ لہرا کر "شوں شوں” کردیتے۔
شزا پاکستان کے ایک بڑے وزیر کی بیٹی تھی۔ جنکے وزیراعظم بننے کے امکانات کافی روشن تھے۔وہ اسٹوڈنٹس اور پروفیسر سے ایسے مخاطب ہوتی جیسے کرپشن کےپیسوں سے لیے اپنے محل نما گھر کے گھریلو ملازم سے مخاطب ہو۔جو لباس وہ پہن لیتی دوبارہ کوئی اسے اس لباس میں نہ دیکھ سکتا ۔اس کے جوتے بیگز،قلم،نوٹ بکس، ملبوسات اور ایسی ہی دوسری چیزیں اتنی مہنگی ہوتیں کہ انہیں دیکھ کر حقیقتاً اسٹوڈنٹس کو ہول اٹھتے کہ…..
”اف کیا اس نے انہیں خریدنے کی جرات کی ۔کیا واقع…. اس نےانہیں خرید لیا۔اور یہ کیایہ تو اس کے ہاتھ میں بھی ہیں۔“
”اسی لیے پاکستان میں غربت کا یہ عالم ہے۔سارے بجٹ سے تو لیڈی گاگا کے کپڑے جوتے ہی آجاتے ہیں۔“
جرمن جوئیل نے بڑی جرات سے اس کےمنہ پہ کہہ دیا تھا اور اس لیڈی گاگا نے پاک افواج کے ذخیرے میں موجود سارے بارود کو آنکھوں میں بھر کر اسے گھورا….اور بس…..ایسے ویسے منہ لگانا اس کے شان کے خلاف تھا۔ایک دن لیکچر کے دوران وہ اپنے آئی فون کے ساتھ مصروف تھی ۔اسے کہی بار اس حرکت پر سرزنش کی جا چکی تھی۔پر کیا کیا جا سکتا تھا وہ اتنا بارود اپنے ساتھ رکھتی تھی کہ کوئی کچھ کہہ بھی دیتا تو بھی فائدہ نہ ہوا کرتا ۔مزید اس نے یہ کیا کہ مزے سے پچھلی رو میں بیٹھے جوناتھن کی تصویر کلک کی۔نیند کی وجہ سے جوناتھن کے لیے مشکل تر ہو رہا تھا سر کو ڈھلکنے سے روکنا اور آنکھیں پوری کھول کر متوجہ رہنا۔لیڈی گاگا نے باقاعدہ کرسی سے کھڑےہو کر پیچھے جوناتھن کی طرف رخ کر کے یہ حرکت کی۔
کلاس دنگ رہ گئی۔
”اگر آپ کو لیکچر نہیں سننا تو آپ کلاس سے آوٹ ہو جائیں۔اور باہر نکل کرمانچسٹر کی تصویریں اتاریں۔“سر جین نے کسی قدر تحمل سے کہا۔
”سننا ہےاگر کسی کام کا ہوا تو…..“اس نے بے نیازی سے شانے اچکاکرکہا۔
سر جین کہی لحظے اس کی شکل دیکھتے رہے۔یہ بدتمیزی کی انتہا تھی بلاشبہ……
”آپ کے ملک میں نہیں لیکن یہاں گرومنگ کورسسز ہوتے ہیں۔کلاس کے اسٹوڈنٹس آپ کو فنڈز جمع کر دیں گے آپ گرمنگ کلاسس لیں…..جب بات کرنا سیکھ جائیں تو آجا ئیے گا ۔ہم آپ کو ڈگری دے دیں گے۔“
”تو آپ گرومنگ کلاسسز لے کر آئے ہیں ؟“
”اگر آپ کےساتھ میرے دو تین مزید مکالمے ہوئے تو یقیناً مجھے بھی لینی پڑیں گی۔“
امرحہ اتنی شرمندہ ہوئی کہ سارا وقت کلاس میں سر جھکا کر بیٹھی رہی بعد از وہ سر جین کے آفس گئی اور ان سے معذرت کی۔
”آپ کیوں معذرت کر رہی ہیں ؟“وہ مسکرانے لگے۔
”سر ! ہمارے ملک میں سب شزا جیسے نہیں ہیں۔ہمیں معلوم ہےکہ استاد کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔اگر پروفیسر میرے آگے چل رہے ہوں تو میں نے کبھی قدم بڑھا کر ان سے آگے نکل جانا نہیں چاہا۔میرے دادا کہتے ہیں تمہاری زندگی کا خاتمہ ہی کیوں نہ ہو جائے کبھی استاد سے آگے ہو کر نہ نکلو،استاد محترم کو کبھی پشت نہ دیکھاؤ۔یہ انتہا درجے کی بے ادبی ہے۔“
”میں جانتا ہوں۔“وہ مسکرائے۔
”میں ان خوش قسمت پروفیسرز میں سےہوں جنہیں ہر سیشن میں ایسے اسٹوڈنٹس ضرور ملتے ہیں جن کےلیےہم ،ہمارا احترام فرض کی طرح ہوتے ہیں۔جھنگ پاکستان کا طالب علم دوسال پہلے میرا اسٹوڈنٹ تھا ،جہاں کہی مجھےدیکھ لیتا اپنی رفتار آہستہ کرلیتا ،وہ گناہ سمجھتا تھا میرے آگے چلنا ،میرے سرپر چھتری تان کر خود گیلا ہو جاتا تھا۔میری چھتری کو پکڑ کر مجھے کار تک چھوڑ کر آتا تھا،ایک بار ٹشو سے اس نے میرے گیلے جوتے صاف کیے اور یہ کام اس نے بغیر کسی شرم کے کئی سو اسٹوڈنٹس کی موجودگی میں کیا۔اور مجھے یہ بتا لینے دو کہ وہ ٹشو وہ اپنے ساتھ پاکستان لے گیا۔
اور مجھے یہ بھی بتا لینے دو کہ وہ ٹشو وہ اپنے ساتھ پاکستان لے گیا۔
میں ایک استاد ہوں امرحہ، استاد میں تعصب نہیں ہوتا۔ تمہاری غلطی تمہاری ہوگی تمہاری قوم کی نہیں، ہم تعصب کو ختم کرنے والے ہیں، تعصب پھیلانے یا پالنے والے نہیں۔ میں۔انتا ہوں پاکستان میں کئی شزا ہونگی، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان طالب غفور جیسے لوگوں سے بھی بھرا پڑا ہوگا۔
امرحہ لاجواب ہو گئ۔
ایک بار شزا کے پاپا یونیورسٹی آئے وہ انہیں ایسے یونیورسٹی دکھاتی رہی جیسے کہتی ہو۔
اگلے چند سالوں میں یہ بھی ہماری ہوجائے گی۔۔۔۔ ہے نا پاپا؟
اور سویٹ پاپا کہتے ہوں۔
کوئی شک۔۔۔؟
تو یہ شوں شوں شزا بھی عالیان کے بارے میں خبریں رکھنے میں دلچسپی رکھتی تھی اور یقیناً اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی ہوگی۔۔۔ لیکن وہ رسائی صرف امرحہ کی ہوسکی تھی۔
علی کامنز کے باغ میں بیٹھے وہ خود کو اداس ہونے سے روک رہی تھی۔ اس کا رزلٹ اچھا رہا تھا اور ظاہر ہے وہ خوش ہوکر بھی خوش نہیں تھی۔ ایگزامز کے دنوں میں عالیان نے اسے یونی کون (uni corn)دیا تھا۔ جسکی پیشانی کے سینگ پر سفید چٹ بھی تھی اور عالیان کی لکھائی میں۔
Keep calm and ride a unicorn into examz.
لکھا تھا۔ ایگزامز کے دنوں میں کم و بیش ہر اسٹوڈنٹ کے اسٹڈی ٹیبل پر یہ یونی کون نظر آتا ہے۔
کچھ سینیرز فریشرز کو دیتے ہیں۔۔۔ کچھ گھروں سے لے کر نکلتے ہیں۔۔۔ لیکن اس بے خبر امرحہ کو عالیان نے دے دیا تھا۔ ایگزامز کی تیاری کے دوران وہ تھک جاتی تو اس چٹ کو دیکھ لیتی اور جیسے اس میں ایک نامعلوم سی طاقت عود کر آجاتی اور وہ تن دہی سے پھر سے پڑھنے لگتی۔
اگر سب پہلے جیسا ہوتا تو عالیان شاید اس کے پاس آتا۔ نیلے پیلے سفید پھول لے کر اور کہتا۔
"اگلی بار اس سے بھی اچھے رزلٹ پر تمہیں اس سے بڑا پھولوں کا گملا ملے گا، تیسرے سمسٹر میں پھولوں کا گودام ملے گا۔ اور چوتھے فائنل میں۔۔۔” وہ شرارت سے مسکرا کر خاموش ہوجاتا۔
سارے مرجھائے پھولوں نے امرحہ کے گرد ڈھیر لگا لیا۔۔۔
وہ اٹھ کر لائبریری آگئی۔
"کیسی ہو مینڈکی؟”
__________________________
جاری ہے۔
46