پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ہم پہ کچھ دل کا حال کھولو نا ! کیا تمہیں ہو گیا ہے…


ہم پہ کچھ دل کا حال کھولو نا !
کیا تمہیں ہو گیا ہے ؟ بولو نا !

کیوں کھڑے دیکھتے ہو مُونہ سب کا
تم بھی دنیا کے ساتھ ہو لو نا !

ایسے گم سُم ہو ‘ جیسے زندہ نہیں
کچھ تو دیکھو ، کہیں تو بولو نا !

ہنس بھی لیں گے کہ وقت آئے گا
دل گرفتہ بہت ہو ، رو لو نا !

جاگ لینا ‘ میں سو گیا جس دَم
میں ابھی جاگتا ہوں ، سو لو نا !

ٹیس بِن یہ سفر نہیں کٹتا
خار کوئی کہیں چبھو لو نا !

تم کو مل جائیں گے جواب سبھی
اپنے دل کو کبھی ٹٹولو نا !

مہرباں ہے وہ مثلِ ابرِ کرم
اپنی خِفّت کا داغ دھو لو نا !

پھر تو سب خواب ہو ہی جائے گا
خواب ہستی میں آنکھ کھولو نا !

( اَبــرارؔ احمـــــد )