پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

ہمارے خطے کی کہانیاں (2) کہانی تخیل کی پرواز ہوتی…

ہمارے خطے کی کہانیاں (2)

کہانی تخیل کی پرواز ہوتی ہے۔
ہزاروں سالوں سے انسان اپنی سوچ، اپنے خیالات کو تصاویر اور الفاظ کا روپ دے رہاہے ۔دنیا کی سب سے قدیم داستان یونانی زبان کی اوڈیسے ہے جو ہومر نے منظوم یعنی نظمیہ انداز میں بیان کی۔

عربی زبان میں الف لیلہ یعنی ہزار داستان ہے۔ جس کے تراجم دنیا کی تقریبا ہر زبان میں کئے گئے ہیں۔ الف لیلہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کہانیوں میں سے ہے۔ یورپی زبانوں میں الف لیلہ کا سب سے پہلا ترجمہ فرانسیسی زبان میں ہوا۔

انگریزی میں چاسر کی کینٹبری ٹیلز اور ملٹن کی پیراڈائز لاسٹ ہے۔
انگریزی زبان کا پہلا ناول روبنسن کروسو ہے جو ڈینیل ڈیفو نے لکھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ میں شاندار ادب تخلیق ہوا۔
دوران جنگ ہزاروں افسانے۔ ناول۔ نظمیں۔ حمدیہ کلام۔ ترانے۔ نغمے۔ ڈرامے۔ تھیٹر پلے لکھے گئے، پرفارم کئے گئے، فلمیں بنائ گیئں اور ابھی تک بنائی جا رہی ہیں۔
دوران جنگ اور جنگ کے بعد لکھے جانے والے ادب کی خاص بات یہ ہے کہ تخیل میں حقیقت نگاری بھی شامل ہو گئ۔ جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث انسانی زندگی و نفسیات پر جو اثرات مرتب ہوئے، ادب کے ذریعے انکا اظہاریہ کیا گیا اور کہانیوں میں سماج کی حقیقی عکاسی نظر آئی۔
تخیل کی پرواز لامحدود ہے، فکشنل کہانیاں و سائنسی کہانیاں بھی لکھی گئیں۔ سائنس فکشن کو سینما میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔
جنگوں کے بعد لکھنے کے فن میں کئ جہتوں نے جنم لیا، جن کو ادب کے ناقدین، صحافیوں، اور ابلاغ کے نمائندوں اور عوام نے مختلف نام دیئے۔ جیسے کہ پالولر فکشن ۔نظریاتی و پروپیگنڈا کہانیاں، ادب عالیہ وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے خطہ براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہوا لیکن انگریز کے دور حکومت کی بدولت خطے کے ادب میں بھی زبردست اتار چڑھاو اور بدلاو آیا۔
خطے میں صوفی ادب کا شہرہ تھا، شاہ عبدالطیف بھٹائی۔ سچل سر مست۔ سلطان باہو۔ بابا بلھے شاہ۔ شاہ حسین۔ خوش حال خان خٹک خطے کے صوفی بزرگ و شعراء کرام، جنہوں نے اپنے شاعرانہ و نثری کلام کے ذریعے امن و سلامتی اور محبت کا درس دیا۔
خطے میں انگریزوں کی آمد کے بعد اردو زبان کو فروغ ملا تو اردو افسانہ یعنی شارٹ اسٹوری اور ناول وجود میں آئے۔
ادبی محقیقن کے مطابق اردو کا پہلا ناول مراتہ العروس ڈپٹی نذیر احمد صاحب نے لکھا، کچھ ادبی محقق عبد الحلیم شرر کے ناول فردوس بریں کو پہلا ناول مانتے ہیں اور کچھ مولانا کریم الدین کےناول خط تقدیر کو، لیکن ناقدین کی رائے کے مطابق اردو ناول کے تقاضوں اور معیار پر پورا اترتا ہوا ناول مراتہ العروس ہے۔

اردو کا پہلا افسانہ راشد الخیری نے لکھا، جس کا عنوان
" نصیر اور خدیجہ" ہے۔ منشی پریم چند اور غلام عباس کے افسانے اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں اور ناقدین کے مطابق اردو افسانے کے تقاضوں پر مکمل تسلیم کئے جاتے ہیں۔

اردو افسانے میں کردار نگاری ۔ منظر نگاری۔ جزئیات نگاری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

لاتعداد فکشن نگار، افسانہ نگار اور نثر نگار اردو ادب میں جگہ بنا چکے ہیں دور جدید میں بھی مکمل افسانوی،یعنی فکشنل جزئیات کے ساتھ اردو افسانے ہزار ۔ بارہ سو اور پندرہ سو الفاظ پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔ طویل اردو افسانے اور ناولٹ بھی موجود ہیں۔
مائیکرو فکشن کی صورت میں کہانی سو لفظ تک بھی محدود ہو سکتی ہے بشرطیکہ مصنف اپنا خیال قاری تک بہ خوبی پہنچا دے۔

فلیش فکشن اور مائیکرو فکشن کا رحجان بین الاقوامی ادب سے اردو ادب میں داخل ہوا ہے۔
امریکن ادیبوں نے مختصر ترین کہانیاں لکھیں، لیکن نہیں ذرا ٹھرئیے، اردو ادب کے فسوں گر سعادت حسن منٹو بہت پہلے ہی مختصر کہانی کا فسوں جگا چکے تھے۔
انکی مختصر کہانی" استقلال " مائیکرو فکشن کا ایک شاندار نمونہ ہے
میں سکھ بننے کے لئے ہرگز تیار نہیں
میرا استرا واپس کر دو مجھے۔
تیرہ لفظوں کی اس کہانی میں کیا کچھ بیان کیا گیاہے۔
اسی طرح انکی ایک اور کہانی " الہنا " ہے ۔
دیکھو یار تم نے بلیک مارکیٹ کے دام لئے اور اتنا ردی پٹرول دیا کہ ایک دکان بھی نہ جلی۔

بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب ارنیسٹ ہمنگوے کو بھی مختصر کہانیاں لکھنے میں کمال حاصل ہے ۔
انکی کہانی
فار سیل دنیا کی سب سے مختصر مشہور ترین کہانی ہے۔

For sale.Baby shoes. Never worn
ترجمہ۔ برائے فروخت۔ بچے کے جوتے۔ کبھی نہیں پہنے گئے۔
یعنی ہمارا خطے کا ادب بین الاقوامی ادب کے تقاضوں کے ساتھ رواں دواں ہے ۔ہمارے پاس ہر دور کے ادیب موجود رہے۔ بین الاقوامی ادب میں وہاں شکسپئیر اور مارلو تھے تو یہاں آغا حشر اور امتیاز علی تاج تھے۔ وہاں ٹالسٹائ تھے تو یہاں منشی پریم چند تھے۔ غلام عباس تھے وہاں برنارڈ شا تھے تو یہاں انور سجاد تھے۔
اشفاق احمد اور ممتاز مفتی تھے۔
وہاں ہارڈی اور جارج اوریل تھے تو ہمارے پاس انتظار حسین اور عبد اللہ حسین تھے۔
وہاں ڈی ایچ لارنس تھے تو ہمارے پاس بھی مستنصر حسین تارڑ اور مرزا اطہر بیگ ہیں۔
وہاں آسکر وائلڈ تھے تو ہمارے پاس انور مقصود ہیں۔
وہاں بورخیس، شیخوف اور موپساں تھے تو ہمارے پاس سعادت حسن منٹو اور مرزا عظیم بیگ چغتائ اور نیر مسعود تھے۔ ہمارے پاس اسد محمد خان اور رشید امجد جیسے کہانی کار و افسانہ نگار موجود ہیں۔
موجودہ دور کے فکشن نگاروں میں سب سے نمایاں نام حسن منظر صاحب کا ہے۔ دیگر مصنفین میں احمد اقبال، اجمل سراج، رحمن نشاط، زیب اذکار حسین، محمد جمیل اختر ۔ رفاقت حیات اور اقبال خورشید موجود ہیں۔

(خطے کے ادب میں خواتین مصنفین کا کردار بھی نمایاں رہا ہے، خواتین مصنفین پر الگ سے مضمون لکھا جائے گا)

میری ذاتی رائے کے مطابق افسانہ یا کہانی میں درد کا پہلو، مزاح یا المیہ ہونا چاہیئے۔
زبان اور انداز بیان دلچسپ ہونا چاہیئے، طوالت یا اختصار سے کوئ فرق نہیں پڑتا، کیونکہ دنیا بھر میں ناولز اب بھی پڑھے جا رہے ہیں اور طویل کہانیاں بھی۔ اسلئے میں کہانی کی طوالت پر اعتراض نہیں کرتی، میری توجہ کہانی کے متن و موضوع پر ہوتی ہے۔
انڈیا و پاکستان میں بہت سارے ادیب اردو و انگریزی میں مختصر کہانیاں لکھ رہے ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے اخبار جنگ میں سو لفظی کہانی کا سلسلہ شروع ہوا، مبشر علی زیدی صاحب نے پانچ سال تک سو لفظی کہانی لکھی، سولہ سو کہانیاں اخبار میں شائع ہوئیں، سو لفظی کہانیاں عوام میں بے پناہ مقبولیت ہوئیں ۔ یہ کہانیاں کتابی صورت میں بھی سامنے آئیں اور عوام سے پذیرائی حاصل کی۔
ان سو لفظی کہانیوں میں درد، مزاح ،المیہ، خوشی۔ غم۔ ہنسی غرض انسانی زندگی و نفسیات کے سب نکات پنہاں ہیں۔ ہر کہانی کا موضوع الگ ہے۔ اور یہی انکی خوبی ہے۔ ناقدین کی رائے اور ادب عالیہ میں جگہ پانے یا ناپانے کی بات سے قطع نظر کہانی کا یہ انداز انوکھا ہے۔ اور
ذاتی طور پر کہانی کا یہ روپ مجھے بہت منفرد محسوس ہوتا ہے،اس لئے ہم اپنے مضمون کا اختتام ایک سو لفظی کہانی سے کریں گے،
جس کا عنوان ہے " کبڑا حلوائ" یہ کہانی مبشر علی زیدی صاحب کی کتاب " نمک پارے " سے منتخب کی ہے۔

کبڑا حلوائ

خراسان کے بازار میں ایک کبڑے حلوائ کی دکان تھی۔
اسکی مٹھائیاں کم بکتی تھیں۔۔۔
لیکن لوگ دور دور سے نمک پارے خریدنے آتے تھے۔
ایک دن مبشر نے پوچھا
آغا، تمھارے نمک پارے مزے کے ہوتے ہیں
انھیں بنانے کی ترکیب کیا ہے؟
وہ نامراد بولا۔ میں پیدائشی قصہ گو ہوں۔
جب کوئی حلوائ کہتا ہے تو جگر پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔
کبڑا کبڑا کہہ کر سب زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔
بس۔۔۔۔ ایسے بنتے ہیں یہ نمک پارے
مبشر نے ڈیڑھ پاو تلوا لیے۔
سوچنے لگا، شام کی چائے پر دوستوں کو پیش کروں گا۔
جگر پارے۔
(مضمون کی تیاری میں ریختہ ویب سائٹ اور دیگر کتب سے مدد لی گئ ہے)
مطربہ شیخ

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2897166970513817