پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ہجر کی شاعری – قسط اوّل ……. ممکنہ فیصلوں میں ا…


ہجر کی شاعری – قسط اوّل
…….
ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا
پروین شاکر
……
اس سنگ دل کے ہجر میں چشموں کو اپنے آہ
مانند آبشار کیا ہم نے کیا کیا
انشاءؔ اللہ خاں
……
وہ اگر آ نہ سکے موت ہی آئی ہوتی
ہجر میں کوئی تو غمخوار ہمارا ہوتا
اختر شیرانی
…..
وہ بھلا کیسے بتائے کہ غم ہجر ہے کیا
جس کو آغوش محبت کبھی حاصل نہ ہوا
حبیب احمد صدیقی
……
آج نہ جانے راز یہ کیا ہے
ہجر کی رات اور اتنی روشن
جگر مراد آبادی
……
چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں
امیر خسرو
…..
ہر عشق کے منظر میں تھا اک ہجر کا منظر
اک وصل کا منظر کسی منظر میں نہیں تھا
عقیل عباس جعفری
…..
ڈر گیا ہے جی کچھ ایسا ہجر سے
تم جو پہلو سے اٹھے دل ہل گیا
جلیلؔ مانک پوری
….
میں تیرے ہجر میں جینے سے ہو گیا تھا اداس
پہ گرم جوشی سے کیا کیا منایا اشک مرا
باقر آگاہ ویلوری
…..
ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا
ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا
افضل گوہر راؤ
…..
ہجر میں مسکرائے جا دل میں اسے تلاش کر
ناز ستم اٹھائے جا راز ستم نہ فاش کر
فانی بدایونی
….
تجھ ہجر کی اگن کوں بوجھانے اے سنگ دل
کوئی آب زن رفیق بجز چشم تر نہیں
داؤد اورنگ آبادی
……
یہی دنیا تھی مگر آج بھی یوں لگتا ہے
جیسے کاٹی ہوں ترے ہجر کی راتیں کہیں اور
احمد مشتاق
……
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
اکبر الہ آبادی
…..
بہت دنوں میں محبت کو یہ ہوا معلوم
جو تیرے ہجر میں گزری وہ رات رات ہوئی
فراق گورکھپوری
….
بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک
قتیل شفائی
…
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو
اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو
ابن انشاؔ
…..
ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں
جون ایلیا
….
ہجر اک وقفۂ بیدار ہے دو نیندوں میں
وصل اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں
احمد مشتاق
…..
ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں
علی جواد زیدی
….
ہجر و وصال چراغ ہیں دونوں تنہائی کے طاقوں میں
اکثر دونوں گل رہتے ہیں اور جلا کرتا ہوں میں
فرحت احساس
……
عشق پر فائز ہوں اوروں کی طرح لیکن مجھے
وصل کا لپکا نہیں ہے ہجر سے وحشت نہیں
غلام حسین ساجد
….
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
جگر مراد آبادی
…..
توڑا ہے دم ابھی ابھی بیمار ہجر نے
آئے مگر حضور کو تاخیر ہو گئی
جگت موہن لال رواںؔ
……
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا
…..
تمہارے ہجر میں کیوں زندگی نہ مشکل ہو
تمہیں جگر ہو تمہیں جان ہو تمہیں دل ہو
افسر الہ آبادی
……
وصل کا گل نہ سہی ہجر کا کانٹا ہی سہی
کچھ نہ کچھ تو مری وحشت کا صلہ دے مجھ کو
مرغوب علی
….
پیشکش عمر جاوید خان