پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

کچھ عربی ادب سے اے میرے(خاک میں مدفون) بیٹو !! اگ…


کچھ عربی ادب سے

اے میرے(خاک میں مدفون) بیٹو !! اگر خدا تمہیں نصیب کرے کہ تم اس کی جنت کے کسی باغ کے درمیان ، اس کی نہروں سے کسی نہر کے کنارے یا اس کی بہشت میں کسی محل کے سائے میں ملاقات کرو تو جیسے میں تمہیں یاد کرتا ہوں ، تم بھی مجھے ویسے یاد کرنا۔تم اپنے رب کے سامنے ایک صف بنا کر کھڑے ہو جانا جیسے تم اس کے سامنے نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے ، اور اپنے ننھے ہاتھ اس کی بارگاہ میں بھکاریوں کی طرح پھیلانا، اور اسے کہنا کہ : ” ہمارے اللہ ! تو جانتا ہے کہ یہ مسکین شخص ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، گزرانِ ایام نے ہمارے اور اس کے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔ہمارے بعد ، آج تک وہ ہمیشہ زندگی کی سختی سے کچلا جا رہا ہے اور اس کے مصائب کا بوجھ اٹھائے چل رہا ہے ، جسے اٹھانے کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔اور ہم ، یہاں اس نعمت کے لطف کے ہوتے ہوئے بھی جس کے ساتھ تو نے ہمیں اپنے جوارِ رحمت میں ، اپنی نظر اور سماعت کے سامنے ، بہرہ ور فرمایا ہے، آج تک اپنے پہلوؤں میں اس کا وہ پیار اور تڑپ محسوس کرتے ہیں۔اور تو ہم پر اور اس پر بہت رحیم ہے کہ جو تو ہم سب کو عذابِ کثیر دے ، یا اللہ!! یا تو ہمیں اس کے پاس لے جا یا اس کو ہمارے پاس لے آ ".
نہیں !! بلکہ اس سے یہی مانگنا کہ وہ مجھے ہی تمہارے پاس لے جائے ، کیونکہ جو زندگی مجھے اپنے لیے ناپسند ہے ، میں اس پر تمہارے لیے بھی راضی نہیں۔شاید !! اللہ تمہاری دعا سے وہ قبول کر لے جو اس نے میری دعا سے اپنی بارگاہ میں قبول نہیں کیا، اور ہمارے درمیان یہ حائل پردہ اٹھ جائے اور ہم پہلے کی طرح مل سکیں۔

يا بَنِيَّ إنْ قدَّر الله لكم أنْ تتلاقَوا في روضةٍ من رياض الجنة، أو على شاطئ غدير من غُدرانها، أو تحت ظلال قصرٍ من قصورها، فاذكروني مثل ما أذكركم، وقفوا بين يدي ربكم صفًّا واحدًا كما يقف بين يديه المصلون، ومدُّوا إليه أكفَّكم الصغيرة كما يمدها السائلون، وقولوا له: «اللهم إنك تعلم أنَّ هذا الرجل المسكين كان يحبنا وكنا نحبه، وقد فرقت الأيام بيننا وبينه، فهو لا يزال يلاقي من بعدنا من شقاء الحياة وبأسائها ما لا طاقة له باحتماله، ولا نزال نجد بين جوانحنا من الوجد به والحنين إليه ما ينغِّص علينا هناء هذه النعمة التي ننعم بها في جوارك بين سمعك وبصرك، وأنت أرحم بنا وبه من أنْ تعذبنا عذابًا كثيرًا، فإما أن تأخذنا إليه أو تأتي به إلينا.» لا، بل لا تطلبوا منه إلا أن يأتيَ بي إليكم، فإنَّ الحياة التي كرهتها لنفسي لا أرضاها لكم، فعسى أن يستجيب الله من دعائكم ما لم يستجب من دعائي، فيرفع هذا الستار المسبل بيني وبينكم، فنلتقي كما كنا.

(النظرات: مصطفى لطفي المنفلوطي )

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی