پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

کوئی خوشبو جیسی بات کرو ، کوئی بات کرو بارش نے در…

کوئی خوشبو جیسی بات کرو ، کوئی بات کرو
بارش نے دریچے پہ آکےدستک دی ہے ہر سُو بھیگے پیڑوں کی خوشبو پھیلی ہے
تم کوئی انوکھی بات کرو ، کوئی بات کرو
ہے سونا بن کے پھیلی دھوپ نظاروں پر وہ چاندی جیسی برف جمی کوہساروں پر
تم کوئی سُہانی بات کرو ، کوئی بات کرو
ساحل پہ کہیں جب لہریں جھاگ اڑاتی ہوں جب رنگیں…

More

May be an image of 1 person and text