اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

چودھویں صدی کے مشہور مسلمان مور خ ابنخلدون کی کتاب…


چودھویں صدی کے مشہور مسلمان مور خ ابنخلدون کی کتاب (تاریخ ابن خلدون حصہ ششم )میں غزنوی کے دور حکومت کا ذکر خاصی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ ہندوستان پر اس کی مہمات کے حالات میں سے چند ایک کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے۔ یہ اس کتاب کے671 تا 690 صفحات کا خلاصہ ہے۔

اپنے بھائی اسماعیل کو شکست دینے کے بعد ”محمود غزنوی کے قدم حکومت و سلطنت پر جم جاتے ہیں، اور اپنے آپ کو سلطان کے لقب سے ملقب کرتا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل کسی نے اپنے آپ کو اس لقب سے ملقب نہیں کیا تھا۔
خراسان پر اسکے قدم جم جاتے ہیں اور آئندہ ہر سال وہ ہندوستان پر جہاد کرتا رہتا ہیں۔ہندوستان پر ۔ ۔ سخت اور خوں ریز جنگ کے بعد راجہ جے پال کو شکست ہوئی۔ ۔ ۔ کئی مرصع حمائل، جنہیں مالا کہتے ہیں، غنیمت میں ہاتھ آئے ان میں ایک ایک کی قیمت ایک لاکھ دینار تھی۔ ان کے علاوہ پانچ ہزار ہندو لونڈی غلام بنائے گئے۔
قلعہ گوالیار پر فوج کشی کا تذکرہ اس طرح کیا ہے: اس قلعہ میں چھ سو بت خانے تھے، محمود نے بزور تیغ اس قلعے کو بھی فتح کیا۔ بتوں کو توڑ ڈالا، بت خانے جلا دیے ۔ والی قلعہ نندا نے بھاگ کر کالنجر کے قلعے میں پناہ لی۔ محمود نے اس کا وہاں پیچھا کیا۔ لڑائی کے بعد راجہ نندا سے پچاس فیل زنجیر اور تین ہزار من چاندی پر مصالحت کر لی کیونکہ پیچھے خراسان میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی تھی
جب قلعہ بھیم نگر کو فتح کیا گیا تو وہاں سے جو مال غنیمت ہاتھ لگا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: سات لاکھ دینار سرخ، سات سو من سونے اور چاندی کے برتن، دو لاکھ من خالص سونا، بیس لاکھ من چاندی، اورہزار ہا تھان دیبا اور ریشمی پارچہ جات کے ہاتھ آئے۔ اسی قلعہ میں ایک چاندی کا مکان ملا تھاجس کا طول تیس ہاتھ اور عرض پندرہ ہاتھ تھا۔ اور اطلس اور دیبا کا ایک شامیانہ ساٹھ گز لمبااور تیس گز چوڑا برآمد ہوا تھاجس کی چوبیں سونے اور چاندی کی تھیں اسے انتہائی احتیاط کے ساتھ غزنی روانہ کر دیا گیا۔ سلطان محمود نے غزنی پہنچ کر اپنے دارالامارت کے صحن میں اس شامیانہ کو نصب کرایا، جواہرات کو چنوایا، اطراف و جوانب کے وفود دیکھنے اور مبارک باد دینے آئے
راجہ چند رائے کے قلعے پر قبضہ کیا تو سلطان نے مال غنیمت جمع کرنے کا حکم دیا۔ مال غنیمت کی تعداد تین لاکھ دینار سرخ اور تین لاکھ درہم تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ بے شمار جواہرات اور یاقوت ہاتھ آئے۔ قیدیوں کی کثرت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ غزنی میں ایک ایک غلام دس درہم سے دو رہم تک فروخت ہوا۔
غزنی پہنچ کر سلطان نے ایک بہت عظیم الشان مسجدبنوائی، ہندوستان سے سنگ خاراا ور سنگ رخام لے جا کر اس کی بنیادوں میں لگایا،درودیوار پر ہندوستان کے بت خانوں کے طلائی اور نقرئی پتھر جڑوائے۔
سومنات کا مندر ہندوؤں کا بہت بڑا بت خانہ تھا۔ ہندوستان کے سب بت خانوں سے زیادہ محترم اور معظم سمجھا جاتا تھا۔ یہ بت خانہ ایک مضبوط قلعہ میں، جو سمندر کے کنارے تھا، بنا ہوا تھا۔ سمندر کی لہریں مد و جزر کے وقت بت خانے تک آیا کرتی تھیں۔ ہندوؤں کا عقیدہ تھا کہ سمندر اس بت خانے کے قدم چومنے کے لیے آتا ہے
بت خانہ کی عمارت نہایت عظیم الشان اور وسیع تھی۔ چھپن مرصع کھمبوں پر وہ عمارت قائم تھی۔ بت کا مجسمہ پتھر تراش کر بنایا گیا تھا جس کی لمبائی پانچ گز تھی۔ دو گز زمین میں گڑا ہوا تھااور دو گز باہر تھا۔ اس بت کی کوئی خاص صورت نہ تھی۔ بت خانہ ایک تاریک مقام میں تھا، قندیلوں میں جواہرات جڑے تھے جن سے روشن رہتا تھا۔ بت کے قریب طلائی زنجیر میں ایک سو من کا گھنٹا لٹکا ہوا تھا جو اوقات مقررہ پر شب کے وقت بجایا جاتا تھا۔ اس کی آواز سے پجاری برہمن بتوں کی عبادت کے لیے آتے تھے۔ اس بڑے بت کے پاس بہت سے سونے چاندی کے بت رکھے ہوئے تھے۔ بت کدے کے دروازے پر زربفت کے پردے پڑے تھے جن کی جھالروں میں موتی اور جواہر لٹکے ہوئے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی قیمت بیس بیس ہزار دینار تھی۔

جب محمود نے سومنات پر حملہ کیا تو گھمسان کی جنگ کے تیسرے روز مجاہدین اسلام کے پرزور حملوں نے سورما راجپوتوں کو شکست دے ہی دی۔ نہایت ابتری کے ساتھ پسپا ہوئے۔ پچاس ہزار کھیت رہے باقی ماندہ کشتیوں پر سوار ہو کر بھاگ نکلے۔ اسلامی بہادروں نے تعاقب کیا، قتل و غارت گری کا سیلاب بڑھا، ہزاروں دریا میں ڈوب کر مر گئے، بہت سوں کو اسلامی دلاوروں نے تلوار کے گھاٹ اتارا۔ قلعہ پر کامیابی کے ساتھ سلطان کا قبضہ ہو گیا۔ “


چودھویں صدی کے مشہور مسلمان مور خ ابنخلدون کی کتاب (تاریخ ابن خلدون حصہ ششم )میں غزنوی کے دور حکومت کا ذکر خاصی تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ ہندوستان پر اس کی مہمات کے حالات میں سے چند ایک کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا ہے۔ یہ اس کتاب کے671 تا 690 صفحات کا خلاصہ ہے۔

اپنے بھائی اسماعیل کو شکست دینے کے بعد ”محمود غزنوی کے قدم حکومت و سلطنت پر جم جاتے ہیں، اور اپنے آپ کو سلطان کے لقب سے ملقب کرتا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل کسی نے اپنے آپ کو اس لقب سے ملقب نہیں کیا تھا۔
خراسان پر اسکے قدم جم جاتے ہیں اور آئندہ ہر سال وہ ہندوستان پر جہاد کرتا رہتا ہیں۔ہندوستان پر ۔ ۔ سخت اور خوں ریز جنگ کے بعد راجہ جے پال کو شکست ہوئی۔ ۔ ۔ کئی مرصع حمائل، جنہیں مالا کہتے ہیں، غنیمت میں ہاتھ آئے ان میں ایک ایک کی قیمت ایک لاکھ دینار تھی۔ ان کے علاوہ پانچ ہزار ہندو لونڈی غلام بنائے گئے۔
قلعہ گوالیار پر فوج کشی کا تذکرہ اس طرح کیا ہے: اس قلعہ میں چھ سو بت خانے تھے، محمود نے بزور تیغ اس قلعے کو بھی فتح کیا۔ بتوں کو توڑ ڈالا، بت خانے جلا دیے ۔ والی قلعہ نندا نے بھاگ کر کالنجر کے قلعے میں پناہ لی۔ محمود نے اس کا وہاں پیچھا کیا۔ لڑائی کے بعد راجہ نندا سے پچاس فیل زنجیر اور تین ہزار من چاندی پر مصالحت کر لی کیونکہ پیچھے خراسان میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی تھی
جب قلعہ بھیم نگر کو فتح کیا گیا تو وہاں سے جو مال غنیمت ہاتھ لگا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: سات لاکھ دینار سرخ، سات سو من سونے اور چاندی کے برتن، دو لاکھ من خالص سونا، بیس لاکھ من چاندی، اورہزار ہا تھان دیبا اور ریشمی پارچہ جات کے ہاتھ آئے۔ اسی قلعہ میں ایک چاندی کا مکان ملا تھاجس کا طول تیس ہاتھ اور عرض پندرہ ہاتھ تھا۔ اور اطلس اور دیبا کا ایک شامیانہ ساٹھ گز لمبااور تیس گز چوڑا برآمد ہوا تھاجس کی چوبیں سونے اور چاندی کی تھیں اسے انتہائی احتیاط کے ساتھ غزنی روانہ کر دیا گیا۔ سلطان محمود نے غزنی پہنچ کر اپنے دارالامارت کے صحن میں اس شامیانہ کو نصب کرایا، جواہرات کو چنوایا، اطراف و جوانب کے وفود دیکھنے اور مبارک باد دینے آئے
راجہ چند رائے کے قلعے پر قبضہ کیا تو سلطان نے مال غنیمت جمع کرنے کا حکم دیا۔ مال غنیمت کی تعداد تین لاکھ دینار سرخ اور تین لاکھ درہم تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ بے شمار جواہرات اور یاقوت ہاتھ آئے۔ قیدیوں کی کثرت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ غزنی میں ایک ایک غلام دس درہم سے دو رہم تک فروخت ہوا۔
غزنی پہنچ کر سلطان نے ایک بہت عظیم الشان مسجدبنوائی، ہندوستان سے سنگ خاراا ور سنگ رخام لے جا کر اس کی بنیادوں میں لگایا،درودیوار پر ہندوستان کے بت خانوں کے طلائی اور نقرئی پتھر جڑوائے۔
سومنات کا مندر ہندوؤں کا بہت بڑا بت خانہ تھا۔ ہندوستان کے سب بت خانوں سے زیادہ محترم اور معظم سمجھا جاتا تھا۔ یہ بت خانہ ایک مضبوط قلعہ میں، جو سمندر کے کنارے تھا، بنا ہوا تھا۔ سمندر کی لہریں مد و جزر کے وقت بت خانے تک آیا کرتی تھیں۔ ہندوؤں کا عقیدہ تھا کہ سمندر اس بت خانے کے قدم چومنے کے لیے آتا ہے
بت خانہ کی عمارت نہایت عظیم الشان اور وسیع تھی۔ چھپن مرصع کھمبوں پر وہ عمارت قائم تھی۔ بت کا مجسمہ پتھر تراش کر بنایا گیا تھا جس کی لمبائی پانچ گز تھی۔ دو گز زمین میں گڑا ہوا تھااور دو گز باہر تھا۔ اس بت کی کوئی خاص صورت نہ تھی۔ بت خانہ ایک تاریک مقام میں تھا، قندیلوں میں جواہرات جڑے تھے جن سے روشن رہتا تھا۔ بت کے قریب طلائی زنجیر میں ایک سو من کا گھنٹا لٹکا ہوا تھا جو اوقات مقررہ پر شب کے وقت بجایا جاتا تھا۔ اس کی آواز سے پجاری برہمن بتوں کی عبادت کے لیے آتے تھے۔ اس بڑے بت کے پاس بہت سے سونے چاندی کے بت رکھے ہوئے تھے۔ بت کدے کے دروازے پر زربفت کے پردے پڑے تھے جن کی جھالروں میں موتی اور جواہر لٹکے ہوئے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی قیمت بیس بیس ہزار دینار تھی۔

جب محمود نے سومنات پر حملہ کیا تو گھمسان کی جنگ کے تیسرے روز مجاہدین اسلام کے پرزور حملوں نے سورما راجپوتوں کو شکست دے ہی دی۔ نہایت ابتری کے ساتھ پسپا ہوئے۔ پچاس ہزار کھیت رہے باقی ماندہ کشتیوں پر سوار ہو کر بھاگ نکلے۔ اسلامی بہادروں نے تعاقب کیا، قتل و غارت گری کا سیلاب بڑھا، ہزاروں دریا میں ڈوب کر مر گئے، بہت سوں کو اسلامی دلاوروں نے تلوار کے گھاٹ اتارا۔ قلعہ پر کامیابی کے ساتھ سلطان کا قبضہ ہو گیا۔ “
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2146508855579636