چاچا فضل دین : دیوندر ستیارتھی
چاچا فضل دین
روپم کو مجھ سے محبت ہے نہ کہ میرے گاؤں والوں سے۔ وہ تو میرے ہی کردار سے واقف ہے، میرے ماں باپ اور دور و نزدیک کے بھائی بہنوں سے تو اسے کوئی سروکار نہیں۔ بھلے آدمی نے کبھی بھول کر بھی تو اس بات میں دلچسپی نہیں لی کہ میرے گانو کا کیا نام ہے۔ ایک دوبار شروع میں میں نے اسے اپنے گاؤں کا نام بتایا بھی تو مجھے یہی محسوس ہوا کہ اسے یہ نام بالکل نہیں چھوسکا۔ اپنے گاؤں والوں کے بارے میں بھی میں نے ایک آدھ بار اسے کچھ نہ کچھ ضرور بتانا چاہا۔ لیکن جب سامنے بیٹھا انسان کسی کی بات سُن کر بالکل بے حِس معلوم ہو رہا ہو، تو بات سنانے والے کو اتنا تو لازم ہے کہ بات کا رُخ بدل دے۔ ہمارا خاندان بھی کون سا شاہی خاندان ہے اور میرے بھائی بہن بھی کون سے شہزادے شہزادیاں ہیں کہ روپم کا دھیان کھینچ سکیں۔ اب تو ایک عرصہ ہوگیا۔ میں نے کبھی بھول کر بھی روپم کے سامنے اپنے گانو اور اپنے خاندان کے بارے میں زبان نہیں کھولی۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں بھی روپم کے گاؤں کے بارے میں کبھی کچھ نہیں پوچھتا اس کا خیال ہے کہ وہ ملتان شہر میں پیدا ہوا۔ اور اس لحاظ سے وہ ایک شہری ہے نہ کہ دیہاتی، میں کہتا ہوں ’’چلو بھئی روپم، ہم دیہاتی سہی، تمھیں تمھارا شہر مبارک!‘‘
’’میرا شہر مجھے کیسے مبارک؟‘‘ روپم ہنس کر کہتا ہے۔ ’’میرا شہر تو ادھر رہ گیا— پاکستان میں! میرے بھائی بھی اب میری طرح دلّی میں رہتے ہیں۔ اور تم تو جانتے ہو کہ انسان جس شہر میں رہتا ہے وہی اس کا شہر بن جاتا ہے۔‘‘
روپم کا اصلی نام ہے رُوپ مَدل ۔ لیکن میں اُسے روپم کہہ کر پکارتا ہوں اور میرا یہ انداز اُسے پسند ہے۔ اکثر وہ ہنس کر کہتا ہے۔ ’’روپ مدل اور روپم میں بھی اتنا ہی فرق ہے جتنا ملتان اور دلّی میں۔ پھر بھی مجھے ملتان کے ادھر رہ جانے کا ذرا بھی غم نہیں۔ ارے میاں! آخر ملتان میں بھی ایسی کیا بات تھی؟ وہاں چناب تھا تو یہاں جمنا موجود ہے اور پھر ایک بات یہ بھی تو ہے کہ چناب میں تو اکثر سیلاب آجاتا تھا اور بیچاری جمنا تو کبھی کبھار ہی ناراض ہوتی ہے۔‘‘
روپم کو دلّی میں ملازمت کرتے چودہ برس ہوگئے۔ کالج سے نکلتے ہی اُسےغمِ روزگار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے پِتاجی نے صاف صاف اس سے کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے۔ چنانچہ وہ دلّی چلا آیا ۔ جنگ کا زمانہ تھا۔ اسے دلی میں کام ملتے دیر نہ لگی وہ مجھ سے عمر میں چھوٹا ہے لیکن جہاں تک ملازمت کا تعلق ہے، میرا عرصۂ ملازمت تو سات سال کا بھی مشکل سے ہی ہوگا۔ اکثر میں اس سے کہتا ہوں۔’’دیکھو روپم! میرے لیے ملازمت کا تجربہ ابھی تک نیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ میں ملازمت میں پوری طرح بھیگ نہیں سکا۔‘‘
اس وقت روپم یہ شکایت شروع کردیتا ہے کہ ہم لوگ اپنا بہترین وقت یعنی دن میں دس بجے سے پانچ بجے تک کا وقت تو ایک طرح سے کولھو کے بیل کی طرح گزاردیتے ہیں۔‘‘
میں ہنس کر کہتا ہوں۔ ’’اب اس زندگی کا اپنا مزا ہے۔‘‘
’’کیا خاک مزا ہے؟‘‘ وہ جیسے جل بُھن کر کہتا ہے۔ ’’اب دیکھیے ہم صبح سویرے جاگتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سونے کا سورج طلوع ہورہا ہے لیکن ایک دو گھنٹے بھی مشکل سے گذرتے ہوں گے کہ دفتر کی طرف بھاگنے کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے۔ دفتر میں جاکر پانچ بجے تک کسی نہ کسی طرح زندگی کا اتنا قیمتی وقت ضائع کردیتے ہیں۔ اور وہ بھی محض دو روٹیوں کی خاطر!‘‘
’’لیکن یہ دو روٹیاں بھی تو ضروری ہیں۔‘‘ میں کہتا ہوں ’’مانا کہ ہم تم فن کار ہیں۔ لیکن آخر بھوک تو ہمیں بھی لگتی ہے اور جیسی حالت سے ہمارا ملک اس وقت گزررہا ہے ہم جانتے ہیں کہ فن سے دلچسپی رکھنے والے لوگ محض فن کی بدولت روٹی نہیں کھاسکتے۔‘‘
روپم بات کا رُخ بدل کر کہتا ہے ’’جو مزہ گھومنے کا ہے وہ ایک جگہ بندھ کر رہنے کا تو نہیں ہوسکتا۔ آخر ہینرلٹ نے سیروسیاحت پر اپنا شاہکار مضمون یوں ہی تو نہیں لکھ دیا تھا۔‘‘
’’لیکن انسان عمر بھر سیروسیاحت تو نہیں کرسکتا۔‘‘
’’تو اپنی شکست قبول کرلو۔‘‘
’’مطلب؟‘‘
’’مطلب یہی کہ تم وہیں آکر کھڑے ہوگئے ہو جہاں سے شروع کیا تھا‘‘
’’سچ پوچھو تو میں تو اب بھی سیروسیاحت کا مزہ لینے سے نہیں چوکتا۔‘‘
میرا مطلب ہے کہ جو شخص بیس برس تک سیروسیاحت میں عمر گزارتا رہا اور وہ بھی مست قلندر انداز سے، وہ کسی کے بندھن کو کب تسلیم کرتا ہے؟ دماغی طور پر تو وہ برابر سیاحت کرتا رہتا ہے۔ یہی حالت میری ہے۔‘‘
’’سیروسیاحت کا ذائقہ اور ہوتا ہے۔ اب دفتر کی بندھی بندھائی زندگی کو بھی سیروسیاحت سے ہم پلّہ ٹھیرانے کا تو یہ مطلب ہے کہ اب تم کبھی سفر پر نہیں نکلوگے۔ حالانکہ اپنا ملک پہلے ہی ہمالیہ سے کنیا کماری تک ہی پھیلا ہوا ہے، لیکن دنیا تو دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔‘‘
روپم کا فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں جھنجھلا کر کہتا ہوں۔ ’’مان لیجیے کہ میں بیس برس تک اپنے ملک کے متعدد کونوں کا جائزہ لیتا رہا۔ اور اب میں نئے حالات کے پیش نظر دلّی کا جائزہ لے رہا ہوں۔ تو اس میں آپ کو کیا اعتراض ہے؟ دلّی میں بھی تو ایک دنیا آباد ہے۔ جس کے مشاہدے کے لیے کافی وقت چاہیے۔‘‘
روپم برابر’’میں نہ مانوں‘‘ انداز میں سر ہلاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں نے ہینرلٹ کا مضمون پڑھ کر نہیں بلکہ صحیح معنوں میں پیر کے چکر کے پھیر میں پڑکر کالج کی شروع کی زندگی میں ہی گھر والوں کی رضامندی کے بغیر گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ میری سیروسیاحت کی اس پر چھاپ ہے لیکن نہ معلوم کس جذبے کے تحت وہ اکثر اپنی زندگی سے بیزار ہوکر کہہ اُٹھتا ہے۔ ’’یہاں ہم اپنی زندگی بیکار کھورہے ہیں!‘‘
میں کہتا ہوں ’’کم سے کم میرا تو یہ خیال نہیں ہے، روپم!‘‘
’’تو ہم کون سا تیر چلا رہے ہیں؟‘‘
’’اب یہ تو بڑا ٹیڑھا سوال ہے۔‘‘
’’تو سیدھا سوال کون سا ہے؟‘‘
’’خیر چھوڑو ایک سوال کا جواب کسی دوسرے سوال سے دینا مجھے ناپسند ہے۔ دفتر کی زندگی کے علاوہ بھی تو ہماری زندگی ہے۔ اب دیکھنا تو یہ ہے کہ ہم کوئی کام کی چیز لکھ بھی رہے ہیں یا نہیں۔‘‘
’’یہ بھی تو ایک دوسرا درد سر ہے۔ یہ تو خیریت ہے کہ ہم لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے دوستوں کے نقص نکالتے وقت یہی کہتے ہیں۔ یار! وہ ہمارا فلاں دوست کچھ بھی تو نہیں لکھتا یا یہ کہ اگر وہ لکھتا ہے تو ہم کہتے ہیں، یار!وہ کیا خاک لکھتا ہے۔ اگر ہم پہلوان ہوتے تو اپنے دوستوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتے — یار! فلاں آدمی بھی کوئی آدمی ہے وہ ہماری طرح دس بیس سیر دودھ تو پی کر دِکھا نہیں سکتا۔ اگر ہم قصاب ہوتے تو یہی کہتے — فلاں شخص بھی کدھر کا انسان ہے۔ وہ تو ایک چیونٹی کو بھی نہیں مارسکتا۔‘‘
روپم کا فلسفہ کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے۔ میں جھنجھلاکر کہتا ہوں ’’تو پھر کیا کیاجائے۔‘‘
’’سیروسیاحت سے مُنہ موڑنے کا جو لازمی نتیجہ ہوسکتا ہے وہ تو بھگتنا ہی ہوگا۔ ایک تم ہو کہ سیروسیاحت کی زندگی سے مُنہ موڑ کر کولھو کے بیل بن گئے اور جرأتِ رندانہ کا یہ حال ہے کہ اسے بھی سیروسیاحت سے تعبیر کررہے ہو۔‘‘
’’تو گویا ملازمت کی کوئی خوبی نہیں ہے اور سیروسیاحت پر ہی سب خوبیاں مرکوز ہیں؟ لیکن روپم صاحب ! سچ کہتا ہوں کہ میں تو دونوں کا رس لے چکا ہوں۔ دونوں میں خوبیاں بھی اور دونوں میں نقص بھی ہیں۔‘‘
’’سیروسیاحت میں کیا نقص ہے؟ میں بھی تو سُنوں!‘‘
’’بھائی میرے اس کے لیے بھی تو پیسہ چاہیے۔ پیسے کے بغیر بڑی تکلیف ہوتی ہے۔‘‘
’’لیکن ملازمت بھی تو بہت بڑی بکواس ہے۔‘‘
’’یہ محض کہنے کی بات ہے۔‘‘
’’اجی میں تو واقعی اسی طرح محسوس کرتا ہوں۔‘‘
’’تو لاؤ ہاتھ۔ آؤ فیصلہ کرلیں۔ تم تیار ہو تو کل سے ہم اپنے اپنے دفتر جانا بندکردیں۔‘‘
روپم نے قہقہہ لگایا۔ ’’چلو تم نے بھی آج کسی نہ کسی طرح یہ تو محسوس کیا کہ دفتر کی بندھی بندھائی سی زندگی بیکار اور فضول ہے۔ لیکن کل سے ہی ہم کام پر جانا چھوڑدیں، اس بارے میں مزید غور کرنا ہوگا۔‘‘
اس دن سے روپم کچھ کچھ کٹاکٹا سا رہنے لگا۔ میں نے تو اس کا چیلنج منظور کرلیا تھا۔ حالانکہ میں جانتا تھا کہ وہ کبھی چودہ سال کی نیم سرکاری نوکری سے ہاتھ دھونے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ اب جب بھی وہ مجھ سے ملتا ۔ میں ہمیشہ یہی کہتا ۔’’ ہاں تو روپم کیا ارادہ ہے؟ تھوڑا بہت تو بینک بیلنس تمھارا بھی ہوگا۔‘‘ اور میں بھی کسی نہ کسی طرح بیوی بچوں کی گزربسر کے لیے اپنی چھوٹی سی اکاؤنٹ بُک بیوی کے نام پر ٹرانسفر کراکر تمھارے ساتھ چل پڑوں گا۔‘‘
’’سوچیں گے۔‘‘ وہ ہمیشہ سنجیدہ ہوکر کہتا۔’’ویسے فیصلہ تو ہم کرہی چکے ہیں۔ اب تو محض اس پر عمل شروع کرنے کی گھڑی کا انتظار ہے۔‘‘
میں اس سے ملتان کے بارے میں پوچھنا شروع کردیتا تو وہ کہتا، ’’ملتان کو گولی مارو۔ وہاں ایسی کیا بات تھی۔ دلّی بھی بُری نہیں۔‘‘
’’اپنے بچپن کا کوئی واقعہ ہی سناؤ، جو ملتان سے وابستہ ہو، یا جس میں دریائے چناب کی لہروں کی یاد تھرکتی ہو۔‘‘
’’اس کے جواب میں وہ کسی شاعر کا یہ شعر گنگناتا!‘‘ ع
یاد نہ کردِلِ حزیں بھولی ہوئی کہانیاں!
ایک آدھ دفعہ اس نے مجھے یہ ضرور بتایا کہ اس کے پتاجی اسٹیشن ماسٹر تھے۔ اور ان کی عمر ریلوے کی نوکری کرتے کرتے کٹی اور ریلوے اسٹیشن کی بجلی کی بتیوں کا منظر اس کے دل و دماغ پر اتنا غالب ہے کہ اب بھی جب موقع ملتا ہے وہ دلّی کے ریلوے اسٹیشن پر جانکلتا ہے اور گاڑیوں کے آتے جاتے اور بجلی کی روشنی میں آتے جاتے مسافروں کو دیکھتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی وہ زور دے کر کہہ چکا تھا کہ اس کے لیے بھی اسے خواہ مخواہ ملتان کے ریلوے اسٹیشن کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جیسا کہ اس کا خیال تھا۔ ملتان کے ریلوے اسٹیشن سے تو دلّی کا ریلوے اسٹیشن کہیں زیادہ بڑا اور عالی شان تھا۔
میں ہمیشہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتا کہ روپم کی جڑ کس زمیں میں دھنسی ہوئی ہے کیونکہ نہ اسے ملتان کے ادھر پاکستان میں رہنے کا غم تھا اور نہ ملتان سے دلّی چلے آنے کی ہی کوئی خلش اسے کبھی ستاتی تھی۔ پھر بھی یہ اس کی دیدہ دلیری تھی کہ وہ عجب جذباتی لہجے میں شاعر کا یہ شعر گنگنانا شروع کردیتا۔ ؎
مرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے
چمن اُڑ گئے آندھیاں آتے آتے
مجھے یہ پتہ چلاتے بھی دیر نہ لگی کہ داغؔ کا یہ شعر روپم نے پہلے پہل ناشاد سے سُناتھا۔ اب ناشاد بھی تو میرا دوست تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ کہیں غلطی سے روپم کو اپنے لاہور جانے کا قصہ سُنا بیٹھا۔ جہاں اُسے ایک مشاعرے کے لیے مدعو کیا گیاتھا۔ قصہ یہ تھاکہ ناشاد کو لاہور میں کرشن نگر کی اس گلی میں کچھ دوستوں نے ایک جگہ چائے پر بُلایا۔ جہاں دراصل اُس کا پُرانا گھر واقع تھا۔ ناشاد کو پچھلی یادوں نے اتنا گھیر لیا تھا کہ میز پر چائے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس کا گلا اتنا بھرآیا کہ وہ چائے کا پیالہ اُٹھاکر حلق میں چائے کا ایک بھی گھونٹ نہ اُنڈیل سکا۔ چنانچہ صورت یہ تھی کہ جتنے لوگ چائے پر بلائے گئے تھے ان میں سے ایک بھی شخص چائے کا گھونٹ اپنے حلق سے نیچے نہ اُتارسکا۔اس واقعہ پر روپم نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’’ہمیں تو سوائے جذبات کے اور کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ یہ جذبات محض کمزوری کی علامت ہوسکتے ہیں۔‘‘ ناشاد کا خیال تھا کہ روپم نے اسے سمجھنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی تھی اور اپنے نظریے پر روشنی ڈالتے ہوئے اس نے روپم کو داغؔ کا یہ شعر سنایا تھا جو اگرچہ آج سے بیسیوں سال پیشتر لکھا گیا تھا لیکن وہ اتنا واضح اور زوردار تھا کہ اگر اسے شرنارتھیوں کے پس منظر میں دیکھا جائے تو ہم شاعری کی داد دیے بِنا نہیں رہ سکتے، اس کے جواب میں بھی روپم نے یہی کہا تھا ’’خیر شعر بڑا نہیں ناشاد صاحب! لیکن میں یہاں بھی وہی بات عرض کروں گا کہ ہم محض جذباتی ہوکر نہ رہ جائیں۔‘‘
ایک دن ہم تینوں دوست ایک ریستوران میں شام کی چائے پر اکٹھے ہوگئے ناشاد نے جان بوجھ کر وہ لاہور والا واقعہ سُنا ڈالا۔ اور میں نے چھوٹتے ہی کہا ۔ ’’یہ تو بہت بڑا واقعہ ہے۔ اس کے پسِ منظر میں وہ درد پنہاں ہے جو اِن دیواروں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے جو ملک ملک کے بیچ میں انسان نے کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
’’واقعی‘‘ ناشاد نے جیسے آج پہلی بار اس واقعہ کی نوعیت کو محسوس کیا۔ ’’کہاں ایک سمندر ختم ہوتا ہے اور کہاں دوسرا سمندر شروع ہوتا ہے۔‘‘ یہ بتانے کے لیے پانی پر کوئی لکیر نظر نہیں آسکتی۔‘‘میں نے زور دے کر کہا۔’’اسی طرح انسانیت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر بھی ایک ہے اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ انسان اس گلی کو بھول جائے جہاں اس کا بچپن بیتا۔‘‘
’’لیکن مجھے تو ملتان کی یاد کبھی نہیں ستاتی۔ اور نہ ہی اس گلی کی یاد مجھے کبھی پریشان کرتی ہے جہاں میرا بچپن گزرا۔‘‘ روپم نے چائے کے پیالے میں چمچہ ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’یہ محض اس لیے کہ میں جذبات کو اپنے دل و دماغ پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتا۔‘‘
’’اور اسی لیے شاید تم نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ہم نوکری کو خیرباد کہہ کر سیروسیاحت پر نکل پڑیں۔‘‘ میں نے روپم کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے دھویں کے چھلوں کو بنتے بگڑتے دیکھ رہا تھا۔
ناشاد نے کہا۔ ’’دیکھیے میں آپ لوگوں کی طرح کہیں ملازم نہیں ہوں۔ میں آزاد ہوں۔ میں نے اپنی آزادی کس طرح خریدی ہے یہ شاید آپ لوگ نہیں جانتے۔ ہاں تو مجھے کام مل سکتا ہے۔ تین چار سو روپیے تو فی زمانہ کہیں نہیں گئے۔ لیکن میں یہ سوچ کر خوش ہولیتا ہوں کہ میں نے تین چار سو روپیوں پر لات نہیں ماری بلکہ سمجھو کہ میں نے یہ روپیے کما لیے اور انھیں صرف کرکے اپنی آزادی خرید لی۔‘‘
’’پھر بھی میں آپ لوگوں کو یہی رائے دوں گا کہ آپ نوکری نہ چھوڑیں۔‘‘ ناشاد نے سنجیدہ ہوکر کہا۔
میں نے کہا۔ ’’یہ بحث میں بھی کرچکا ہوں، لیکن روپم نہیں مانتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ تم بیس برس تک سیروسیاحت کرچکے ہو۔ لیکن بہتر ہوگا کہ پھر سے سیروسیاحت کرو میرے ساتھ، ورنہ سیروسیاحت کا اب تک حاصل کیا ہوا مزہ بھی کرکرا ہوجائے گا۔‘‘
’’تو تم نے کیا جواب دیا؟ ‘‘ناشاد نے جھٹ پوچھ لیا۔
’’میں نے لاکھ کہا کہ میں آج بھی اپنے کمرے میں اپنی پچھلی سیروسیاحت کے بل بوتے پر بوالعجبی کو بلاسکتا ہوں جوکہ دراصل میری زندگی کا حاصل ہے لیکن روپم نہیں مانتا۔ اب وہ تمھارے سامنے بیٹھا ہے۔ یقین نہ آرہا ہو تو خود اسی سے پوچھ لو۔‘‘
’’روپم خاموش بیٹھا رہا۔ وہ سگریٹ کے کش لگاتا رہا۔ مسکراتا رہا۔ مچھوے کی طرح کوئی نئی دلیل ڈھونڈتا رہا۔ جسے آج کی شام ایک مچھلی کی طرح اپنے جال میں پھانس لے۔ لیکن شاید ناشاد کی موجودگی میں اسے کوئی دلیل سوجھ نہیں رہی تھی۔‘‘
ناشاد بولا۔’’خیر چھوڑو۔ ہم بھی کیا بحث لے بیٹھے۔ کوئی مزے دار بات سُنا ؤ۔‘‘
’’کیسی بات سُننا پسند کروگے؟‘‘ میں نے کہا۔ ’’جیسی بات چاہو حاضر کرسکتا ہوں۔ آخر بندہ بیس برس تک گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا ہے اور سیروسیاحت کا واقعی سب سے بڑا جادو یہی ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں ایک نیا گداز پیدا ہوتا ہے۔ ایک ایسی بوالعجبی اس کے ہاتھ لگتی ہے جسے میں تو الہ دین کے چراغ سے تشبیہ دے سکتا ہوں۔‘‘
’’اتنی جسارت؟‘‘ روپم نے جیسے اُبھر کر کہا۔ ’’کبھی یہ بھی سوچا کہ سیروسیاحت سے ہاتھ دھوئے کتنے برس بیت گئے۔ ’سات سال‘ اور جناب سات سال کچھ کم نہیں ہوئے۔ اب تو تم بھی میری طرح کولھو کے بیل ہو۔ ہر روز دفتر کی طرف بھاگتے ہو۔ چاہے سونے کا سورج لاکھ کہہ رہا ہو کہ آج تو کہیں گھومنے کا دِن ہے۔‘‘
’’اب یہ تو بہت فضول سی دلیل ہے۔‘‘ ناشاد نے ہنس کر کہا۔ اگرچہ میں تو آپ لوگوں سے یہی کہہ سکتا تھا کہ میری طرح آزاد ہوجاؤ۔ لیکن نہیں۔ میں یہ غلطی نہیں کروںگا۔ کیونکہ میں مانتا ہوں کہ ہر شخص میری طرح آزادی کی قیمت ادا نہیں کرسکتا اور پھر میں پوچھتا ہوں کہ سیروسیاحت کا آپ کے نزدیک کیا مصرف ہے۔ ’’پہلے تو آپ کو اپنے پس منظر کے ساتھ یکسوئی کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان دور دور تک دنیا کو دیکھنے کے لیے جاسکتا ہے۔ لیکن کبھی یہ بھی سوچا کہ اس زمین کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جہاں آپ پیدا ہوئے ، جہاں آپ کا بچپن بیتا۔ جہاں ایک پیڑ کی طرح آپ کی جڑیں زمین کے نیچے دھنستی چلی گئیں۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’میرے ذہن میں وہ سینکڑوں ہزاروں گانو گھوم جاتے ہیں جہاں میرے پانو کا چکر مجھے لے گیا۔ میں ان انسانوں کی یاد ہی کو پاتا ہوں جنھیں میں نے اپنے سفر کے دوران میں دیکھا۔ جن کا لب و لہجہ دانستہ طور پر یا نادانستہ طور پر مجھے متاثر کرتا رہا۔ وہ زندگی مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے جس کی بدولت میں حقیقت کی گہرائیوں کو سمجھنے کے قابل ہوسکا۔‘‘
’’یہ سب ٹھیک ہے‘‘ ناشاد نے ہنس کر کہا۔ میں تو یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کو میری طرح آپ کے گانو کی گلی کہاں تک اپنی طرف کھینچتی ہے۔‘‘
’’گانو کی گلیاں تو ان لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں جو چائے کی پیالی پر بَہک کر رو سکتے ہیں۔‘‘ روپم نے شاہانہ انداز میں کہا۔ ’’ہم تو ان کھوکھلے جذبات سے بے نیاز ہیں۔‘‘
’’اچھا تو لو ہماری گلی کا قصہ سن لو۔ میں نے کہا ، شروع میں پچھلے برس کی بات ہے کہ میں اپنے گانو گیا۔ یہ سب سے لمبا عرصہ تھا جو میں نے اپنی تمام زندگی میں گانوسے باہر گزارا۔ میرا مطلب ہے کہ پہلے تو میں ہمیشہ ہر دوسرے تیسرے سال اپنے گانو ہو آتا تھا لیکن اب کے آٹھ برس کا عرصہ گذر گیا اور میں اس دوران میں ایک بار بھی گانو نہ جاسکا۔ پچھلے تین چار برسوں سے میں ہمیشہ یہ محسوس کرتا تھا کہ میرا گانو مجھے بُلا رہا ہے۔ کئی بار میں نے پروگرام بنایا لیکن کوئی نہ کوئی وجہ غالب آجاتی اور میرا پروگرام بیچ ہی میں رہ جاتا۔ لیکن جب میں پچھلے برس اپنے گانو گیا تو میرا کلیجہ منہ کو آنے لگا۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ ناشاد نے جھٹ پوچھ لیا۔
روپم بیٹھا سگریٹ کے دھوئیں کے چھلے اُڑاتا رہا۔ اسے شایدمیری باتوں میں ذرا بھی دلچسپی نہ تھی۔ کیونکہ اس کے نزدیک ملتان اور دلی میں اتنا بھی فرق نہیں رہ گیا تھا جتنا اس کے اصل نام روپ مدل اور میرے دیے ہوئے نام روپم میں نظر آسکتا تھا۔
میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ’’وہ اس لیے کہ ہمارے گانو کی صورت اُداس تھی۔ بہت سے لوگ جنھیں گانو والوں نے ملک کے بٹوارے کے دوران میں زبردستی باہر نکال دیا تھا، اور جو شاید پاکستان کی سرحد پار کرنے پر مجبور ہوگئے تھے، اب وہاں نظر نہ آسکتے تھے۔ چنانچہ اب ایک بھی تیلی نہیں رہ گیا تھا جو کولھو میں سرسوں کا تیل نکال سکے۔ ایک بھی جُلاہا نہیں رہ گیا تھا جو گانو والوں کے لیے بیاہ شادی میں دُلہن کے واسطے خاص طور پر کھدّر کے تھان تیار کرسکے۔ ہماری گلی اُداس تھی۔ میں نے دیکھا کہ گانو کی روح تو ہماری گلی میں سمٹ آئی ہے۔ اب نہ ہمارے پڑوس میں ہماری خاندانی دائی کے گھر والوں میں سے کوئی شخص موجود تھا، نہ فضل دین تیلی ہی کہیں نظر آسکتا تھا، جسے ہم بچپن سے ہی چاچا کہہ کر پُکارتے تھے، جو کبھی مسجد میں نماز پڑھنے بھی جاتا تھا اور پھر اپنے صحن میں بھی نماز پڑھ لیتاتھا جو بہت دین دار تھا اور جب میرے پِتا جی نے بتایا کہ ان کے لاکھ کہنے پر بھی فضل دین نے اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے لوگوں کے ہمراہ پاکستان کی سرحد کی طرف جانے سے انکار کردیا ، تو اگلے ہی روز باہر سے آنے والے شرنارتھیوں کا ریلا آیا اور اُن میں سے کسی نے فضل دین کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔‘‘
’’اُف!‘‘ ناشاد کہہ اُٹھا۔
روپم اب بھی سگریٹ کے چھلّے اُڑا رہا تھا۔ جیسے وہ کہنا چاہتا ہو کہ کیا فضول سی باتیں شروع ہوگئیں۔
میں نے کہا۔ ’’آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ میں سات دن تک اپنے باڑے کی طرف قدم نہ اُٹھا سکا جس کا راستہ چاچا فضل دین کے گھر کے صحن میں سے ہوکر جاتا تھا لیکن آٹھویں دن بھی جب میں حوصلہ کرکے اپنے باڑے کی طرف جانے لگا تو میں راستہ سے ہی لوٹ آیا۔ حالانکہ میں جانتا تھا کہ وہاں اب چاچا فضل دین کے خون کا ایک بھی دھبہ موجود نہ ہوگا۔ اور جو لوگ اَب اس مکان میں رہتے ہوں گے انھوں نے اس مکان کو لیپ پوت کر اچھا کر رکھا ہوگا۔ جب میں اپنے گھر کی طرف لوٹ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ہماری گلی کتنی اُداس نظر آتی ہے۔ میرا ارادہ تو نہیں،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی ایک اور کسک یا کسی اُجڑی سونی گلی کی یاد مجھے ملازمت سے محروم بھی کرسکتی ہے اور زندگی دوبارہ اپنے مرکز کی جانب لوٹ سکتی ہے۔‘‘
[button color=”orange” size=”medium” link=”http://” icon=”” target=”false”]دیوندر ستیارتھی[/button]
بشکریہ : عبدالسمیع اور ادبی دنیا