پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

پہلا سا حال پہلی سے وحشت نہیں رہی شاید کہ تیرے ہج…


پہلا سا حال پہلی سے وحشت نہیں رہی
شاید کہ تیرے ہجر کی عادت نہیں رہی

شہروں میں ایک شہر میرے رت جگوں کا شہر
کوچے تو کیا دلوں ہی میں وسعت نہیں رہی

یادوں میں ایک یاد کوئی دل شکن سی یاد
وہ یاد کہاں ھے کہ فرصت نہیں رہی

ناموں میں ایک نام سوال آشنا کا نام
اب دل پہ ایسی کوئی عبارت نہیں رہی

خوابوں میں ایک خواب تیری ہمرہی کا خواب
اب تجھ کو دیکھنے کی بھی فرصت نہیں رہی

رنگوں میں ایک رنگ تیری سادگی کا رنگ
ایسی ہوا چلی کہ وہ رنگت نہیں رہی

باتوں میں ایک بات تیری چاہتوں کی بات
اور اب یہ اتفاق کہ چاہت نہیں رہی

زخموں میں ایک زخم متاع ہنر کا زخم
ابھی کوئی آرزوئے جراحت نہیں رہی

نصیرؔ ترابی

المرسل: فیصل خورشید