#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #فرحت_اشتیاق #قسط_2 گھٹنوں م…


#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو
#فرحت_اشتیاق
#قسط_2
گھٹنوں میں منہ دیے وہ گہری نیند سو رہی تھی جب اچانک کسی چیز کے گرنے سے اس کی آنکھ کھل گئی
اک دم ہر بڑا کر سر اوپر اٹھایا اور نیند سے بوجھل آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ چولہے کے پاس کھڑا نظر آیا
شاید اس کے ہاتھ سے کوئی برتن گرا تھا آئلہ نے گھڑی کی طرف دیکھا تو وہ نو بجا رہی تھی
وہ جب سے آئی تھی اسی زاوے پر بیٹھی تھی ٹانگیں بری طرح اکڑ گئی تھیں ہاتھ پائوں ٹھنڈے برف ہو رہے تھے اچانک اسے محسوس ہوا کہ اسے شدید قسم کا چکر آرہا ہے وہ جع ٹانگیں سیدھی کرنا چاہ رہی تھی شدید کمزوری کے باعث ایسا بھی نا کر پائی اسے خیال آیا کہ اس نے صبح سے ایک قطرہ پانی کا نہیں پیا اور اگر تھوڑی دیر اور کچھ نا کھایا پیا تو وہ بے ہوش ہو جائے گی اتنی سخت بھاگ دوڑ اس نے کب کی تھی زندگی میں وہ بھی خالی پیٹ لہذا اس کا نڈھال ہوجانا فطری تھا وہ اوپنر سے ٹن ڈبہ کھول رہا تھا پھر شاید اس نے اس میں سے خشک مچھلی کے ٹکڑے نکالے اور فرائئ کرنے لگا
بھوکے پیٹ کو کھانے کی خوشبو نے پاگل کر دیا وہ ندیدوں کی طرح اس کی طرف دیکھتی رہی
وہ تو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ یہاں اکیلا ہو اسے اس کے وجود سے کوئی سروکار نہیں تھا شاید اپنے خیال میں وہ اسے اپنے ساتھ لا کر کافی سے زیادہ احسان کر چکا تھا لہذا مزید کسی مروت اور مہمان داری کی ضرورت نہیں تھی اس لیے اس کی طرف ایک دوستانہ مسکراہٹ تک نہ پھینکی اور اپنے کام میں مصروف رہا
مچھلی فرائئ ہو گئی تو بریڈ کے ایک سلائس پر مچھلی اور دوسرے پر چیز سلائس رکھ کر تین سیندوچز تیار کیے
انہیں بہت پیار سے پلیٹ میں رکھا اور اپنے لیے کپ میں کافی مکس کرنے لگا جب کافی تیار ہوگئی تو دونوں چیزیں لے کر وہی اس کی پاس فلورکشن پر آبیٹھا اور بولا
تم کھائو گی اور اس کی تو یہ حالت تھی کہ اس سے چھین کر کھا جاتی خالی پیٹ ساری انا ونا بھول گئی آج اس نے جانا کہ بھوک کتنی بڑی بلا یے شاید اسی لیے لوگ پیٹ کی خاطر کچھ بھی کرنے لو کو تیار ہو جاتے ہیں
بمشکل اپنے لڑکھراتے اور چکراتے وجود کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھی اور اس کی آفر کے جواب میں بغیر کسی تکلف کے پلیٹ سے ایک سینڈوچ اٹھایا اور یوں کھانے لگی جیسے اس کے چھن جانے کا خطرہ ہو
وہ اپنا کھانا چھوڑ کر بہت غور سے اسے دیکھنے لگا جو ایتھوپیا کی قحط زدگان میں سے کوئی لگ رہی تھی دو تین نوالوں میں اس نے اپنا سینڈوچ ختم کر لیا مگر ایک سینڈوچ سے تو اس کا آدھا پیٹ بھی نہیں بھرا تھا اس نے پلیٹ اس کے آگے کی تو اس نے فورا دوسرا سینڈوچ اٹھا کر کھانا شروع کر دیا اس وقت بھوک کے سوا کوئی بات یاد نہ رہی وہ بے چارہ جو اپنے سینڈوچ میں سے ایک نوالہ لے چکا تھا وہ بھی اس کے سامنے رکھی پلیٹ میں رکھ دیا اور اپنے بیگ سے بسکٹوں کا ایک پیکٹ نکال لایا
جب تک اس نے پیکٹ کھولا وہ بڑے اطمینان سے تین سیندوچز کھا چکی تھی اس نے پیکٹ سامنے کیا تو وہ شرمندہ سی ہو گئی پیٹ میں اناج گیا تو ساری شرم بھی یاد آگئی اسے اپنے ندیدے پن اور بے اختیاری پر افسوس بھی ہوا
بسکٹوں کی طرف ہاتھ بڑھائے بغیر وہ یونہی سر جکھائے بیٹھی رہی تو وہ بولا
اگر کافی پینی ہے تو خود اٹھ کر بنا لو مجھ سے یہ امید مت رکھنا کہ میں تمہاری مہمان داری کرو گا
لہجہ اچھا خاصا اکھڑ اور روڈ قسم کا تھا لیکن اس کے لہجے پر ناراض ہونے کی بجائے وہ اس کی بات پر حیران رہ گئی کہ وہ اس سے اردو میں بات کر رہا تھا
آپ پاکستانی ہیں وہ کچھ جوش اور خوشی سے بھرپور لہجے میں بولی تو وہ اپنے مخوص اکھڑ لہجے میں بولا
کیوں تمہیں جاپانی نظر آتا ہوں کیا فضول اور احمقانہ سوالات سے مجھے سخت چڑ ہوتی ہے وہ بسکٹ کھاتا ہوا بدتمیزی سے بولا تووہ کھول کر رہ گئی
اس جنگلی کو تو بات کرنے کی بھی تمیز نہیں اسے تو یہ بھی نہیں معلوم کی خواتین کا احترام بھی کوئی چیز ہوتی ہے
وہ سوچتی رہی اور وہ کافی پیتے ہوئے دوبارہ اس سے لاتعلق ہو چکا تھا اس نے تو اس سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ وہ کون ہے اور اتنے خوفناک جنگل میں کیا کر رہی ہے اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ قطعا لاپرواہ ہو اگر وہ ہے تو ٹھیک اگر وہ نہیں ہے تو بہت اچھی بات ہے
پھر وہ اٹھا پلیٹ اور کپ وہی چولہے کے پاس رکھا اور باہر چلا گیا کافی دیر ہو گئی اور وہ واپس نا آیا تو آئلہ کو گھبراہٹ شروع ہو گئی وہ بے اختیار خیمے سے باہر نکل آئی
اردگرد پھیلا اندھیرا خوف کو دوچند کر گیا سوائے دور دراز سے آتی چیخوں کے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا عجیب و غریب آوازیں جانے کسی جانور کی تھیں یا کسی اور چیز کی وہ خوف سے سن کھڑی رہ گئی
چاروں طرف پھیلی تاریکی اور گھناجنگل جس میں وہ اس وقت اکیلی تھی اس نے خوف ذدا ہوکر رونا شروع کردیا
تبھی اسے اپنے نزدیک قدموں کی چاپ سنائی دی تو اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی
کیا مصیبت ہے؟ تمہیں چیخنے چلانے کے علاوہ کچھ نہیں آتا عجیب قسم کی لڑکی ہو وہ اسے بری طرح ڑانٹتا چلاتا خیمے میں گھس گیا اور وہ آنسو پونچتی اس کے پیچھے چلی آئی
اس کے تمام تر بدتمیزی کے اس کے ہونے سے ایک عجیب تحفظ کا احساس ہو رہا تھا ایک دم سارا خوف زائل ہو گیا
اس نے اندر آ کر ایمرجنسی لائٹ آف کر دی
اور کمبل تان کے لیٹ گیا
وہ کچھ دیر تو کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر وہی قالین پر دونوں فلورکشن ملا کر انکے اوپر لیٹ گئ اور دوپٹہ پورا
کھول کرخود اپنے اوپر ڑال لیا۔بھلا ہو اس فیشن کااس نے خود سے کہا ۔
ورنہ ٹھنڈی زمین میں ٹھٹھر کے مر جاتی لیٹے ہوئے ابھی دو چار منٹ ہی ہوئے ہوں گے وہ آس پاس آتے جانوروں کی آوازیں اسے خوفزادہ کر رہی تھی
اسیے لگ رہا تھا سب جنگل کے جانور مل کر رو رہے ہیں
گھپ اندھیرا ویران جنگل اسکے زہین میں عجیب سے وسواسے آنے لگے ۔

جاری