#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 3 …


#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو

#تحریر_فرحت_اشتیاق

قسط 3

سنیں آپ سو گئے ہیں کیا؟
اپنے خوف کو کم کرنے کے لیے بے اختیار پوچھ بیٹھی
وہ جو منہ دوسری طرف کیے نیم غنودگی میں تھا جھنجھلا گیا
آپ سونے دیں گی تم سوؤں گا فرمائیں اب کیا تکلیف ہے.؟
منہ دوسری طرف کیے وہ جل کر بولا
اسکا لہجہ نظرانداز کر کے اپنی پریشانی بتانے لگی
ہم یہاں محفوظ تو ہیں نا ایسا نہ ہو ہم سو رہے ہوں کو جانور درندہ اندر گھس آئے
کوئی سانپ بچھو ہی اندر گھس آئیں جواب میں اس نے آستگی سے اپنے منہ کو اسکی طرف موڑامسکراہٹ سے بولا
جانور انداز کیوں آئیں گے انھیں اپنی زندگی عزیز نہیں آخر ملکی عالیہ یہاں خواب خرگوش کے مآزے لے رہی ہیں میڈم آپ چاروں طرف سے محفوظ ہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں آپ ارام فرمائیں اس کے طنزیہ لہجے پر بری طرح تپ گئی ۔جبکہ وہ اپنا منہ دوبارہ دوسری طرف کر کے سو گیا
اس نے آنکھیں بند کر کے جتنی بھی سورتیں تھی یاد پڑھنے لگی اچھی طرح پڑھ کے خود پر دم کرنے لگی اس وقت اسے دھیان آیا لیلی اور دانش کا سارا دن اپنی الجھن پریشانی میں گزرنے کے باوجود ان کا خیال برابر اسے پریشان کرتا رہا

پتہ نہیں ان کا کیا ہوا ہو گا یا الله ان کی حفاظت کرنا وہ جہاں بھی ہوں خیریت سے ہوں کتنے خوش باش ہم گھر چلے تھے کیا پتہ تھا ہماری تفریح یہ کرے گی
تو وہ کل رات کے سب مناظر سوچ کے اور خوف زدہ ہو رہی تھی
لیلی اسکی چچا زاد بہترین دوست تھی جو ان کے پرزور دعوت پر آئی تھی چچا کی اکلوتی بیٹی بیٹی کیاچچا کے بقول ان کا بیٹا تھا وہ تھی بھی مست ملنگ لا پرواہ اسکے نزدیک ایسی زندگی کوئی زندگی نہیں تھی جس میں ایڈونچر نہ ہو وہ گھوڑے سے لے کر جہاز تک چلا لیتی تھی ایک چاچی جان کے علاوہ سب اس کی حرکتوں سے خوش تھے ان کو مردانہ انداز بےتکی حرکتیں اٹھے بیٹھے اسے آئلہ کی مثالیں دیتی تھیں ۔لڑکیوں کو لڑکیوں والے کام کرنے چاہئے آئلہ کو دیکھ لو کوکنگ کتنی اچھی کرتی ہے بولتی بھی نرم تماری طرح نہیں اور دیکھو اس کے اندر کتنا دھماپن اور شائستگی ھے
مگر لیلی ہی کیا جس پر کوئی بات اثر کر جائے وہ چچی کی بات ایک کان سے سنتی دوسرے سے نکال دیتی دونوں کی شخصیت میں بہت فرق تھا پھر بھی بہت اچھی دوست تھی ہر سال وہ پاکستان آتے سال کی باتیں ایک ساتھ کرنے بیٹھ جاتی سارے خاندان میں ان کی دوستی کو حیرات سے دیکھا جاتا کہا ں لیلی جینز شرٹ پہننے والی منہ پھٹ سی لڑکی ۔اور کہاں آئلہ شلوار قمیص کے اوپر دوپٹہ پھیلا کر کرتی سنجیدہ خاموش طبع سب حیران بچپن سے آج تک بیسٹ فرینڈ تھیں ۔
پچھلے سال جب لیلی کراچی آ تو کہہ گئ تھی اگلے سال تم کینیا آو گی ۔یہ کیا بات ہوئی ہميشہ میں ہی آوں
اب جب یہ پڑھائی سے فارغ ہوئی تو اسے بار بار آنے کا کہتی
وہ تو جانے کے لئے بےچین تھی اصل مسئلہ اجازت کا ملنا تھا ابو تو خیر مان بھی جاتے مسلہ بھابھی کا تھا جن کا خیال تھا اس کے جانے سے گھر سونا ہو جائے گا
گھر میں افراد ہی کتنے تھے اگر تم بھی چلی گئی امی کو گھر کاٹ کھانے کو دوڑے گا
اس نے لیلی کے تنگ کرنے پر سب بتا دیا کے وہ کیا کوئی اس مسلے کا حل نکال سکتی ہے ورنہ چپ چاپ بیٹھ جائے
دل اسکا بھی بہت تھا جانے کا پر کیا کرتی
میرے اکلوتے چچا کا گھر آج تک میں نے نہیں دیکھا وہ خود سے افسوس کرتے۔پتہ نہیں لیلی نے کیسے کن الفاظ میں چچا کو منایا ان کا فون آیا مجھے آئلہ کی بہت یاد آ رہی ہے
اسکو یہاں بھیجا جائے ٹکٹ وغیرہ سب بھیج دیا کل تک آپ کو ماصول ہو جائے گا ۔چچا کی خواہش کے اگے کوئی انکار نہیں کر سکتا تھا جو اب تک اپنے نہ جانے کی فاتحہ پڑھ چکی تھی خوشی سے جھوم اٹھی
نیز وہاں پہنچے پر سب نے پرزور استقبال کیا لیلی نے ایک ماہ تک اسے بھرپور کمپنی دی۔اان کی ہر اوٹنگ میں دانش بھی ضرور تھا لیلی کا تو دانش کے بغیر کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا ۔دانی ہم فلاں جگہ جا رہے تم آ جاؤ دانش حکم کا غلام مریضوں کو چھوڑ کر فورا حاضر ہو جاتا
لیلی کا پچھلے سال دانش سے نکاح ہو گیا تھا ۔رخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی لیلی صاحبہ m. S کرنے میں مصروف تھی
چچا کی طرح دانش لوگوں کی فیملی یہی سیٹل تھی ۔دانش بھی لیلی کی طرح یہی پیدا ہوا تھا دونوں بچپن کے دوست تھے کبھی کبھی دونوں کی ہم آہنگی آئلہ کو حیران کر دیتی دونوں کی پسند نہ پسند سب ایک جیساتھا
ایک جیسا رنگ ایک جیسا میوزک ایک جیسا موسم کتابیں فلمیں سب کچھ ملتا۔شروع میں آئلہ کو ان کے ساتھ کھومنا عجیب سا لگتا ایسے ہی کباب میں ہڈی لیکن جلد ہی اسے غلط فہمی دور ہو گئی اس نے دیکھ لیا یہ عام جوڑوں کی طرح رومینٹک جملوں کا استعمال نہیں کرتے نہ دانش ایسی بات کرتا جس سے وہ لال پیلی ہوتی اتنا نرالا کپل اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا حلانکہ دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے شاید ان کی محبت کا اندر دوسرے لوگوں سے مختلف تھا ۔وہ دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ۔اس کے ساتھ وہ پڑھائی میں بھی مصروف پھر بھی آئلہ کو مکمل وقت دیتی
اسکے تھیس کو موضوع تھا جنگلی حیاتیات کا تحفظ اس نے نیا شوشہ چھوڑا جس سے چچی کا غصہ ساتویں آسمان تک آئلہ تم بھی اس سے دور رہو اس کا سایہ تم پر نہ پڑ جائے
لیلی بھی اپنے ارادوں میں اٹل تھی دونوں ماں بیٹی میں زبردست ٹھنی آئلہ بے چاری پریشان کس کے حق میں بولے
چچا خاموش تماشائی تھے بیٹی کی حمایت پر چچی انھیں بھی کھری کھری سنا دیتی آپ رہنے دیں آپکی شہہ پر الٹی سیدھی حرکتیں کرتی ہے ۔سسرال میں ساس خوش نہیں ہو گی کے میری بہو گھوڑا اچھا دوڑاتی ہے اچھی سائکلنگ کرتی ہے ۔شریف گھروں کی بہو بیٹیاں کے لچھن یہ نہیں ہوتے مگر یہاں میری سنتا کون ہے ۔چچا اس دن بیٹی کی حمایت میں ایک لفظ بھی نہیں بولے جب منٹ سماجت کچھ کام نہ آیا لیلی نے بھوک ہڑتال کر دی کمرے میں بند ہو گئی
ایک دن تو چچی نے پرواہ نہیں کی دوسرے دن فکر مند ہوئی مگر لیلی اپنی ضد کی پکی اس وقت تک کمرے سے نہیں نکلی جب تک اجازت نہیں ملی پھر آخر چچی نے دے دی اجازت وہ خوشی سے کمرے سے نکل کر امی کے گلے میں بانہیں ڈال کر شکریہ ادا کیا پھر اس تمام قصے کے بعد لیلی نے نیا جھگڑا نکالا
آئلہ بھی میرے ساتھ جائے گی چچی پہلے ہی خفا تھی مزید ہو گئی ممی ناراضگی بالکل فضول ہے میں تفریح کرنے نہیں جا رہی یہ میرا ریسرچ ورک ہے جنگلی حیات کا تحفظ میرا موضوع ہے گھر بیٹھے یہ پاس نہیں کر سکتی مجھے اس کے لیے پراپر ریسرچ کرنا ہو گا میں مشاہدہ کروں گی انسان کی لاپرواہی سے جنگل کیسے تباہ ہو رہا ہے یہ بہت سنجیدہ موضوع ہے میرے ساتھ والے سب کا یہی خیال ہے یہ کام مجھے سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا میری تیار کردہ رپورٹس پوری دنیا میں دھوم مچا دیں گی آپ کو خوش ہونا چاہئے الله نے بہت ذہین بیٹی دی ہے ایک آپ ہیں ہر ٹائم بدگمان ناراض رہتی ہیں آئلہ کا ساتھ اس لیے کے مجھے دو تین دن لگ جائیں گے یہ گھر بور ہو گی اسی بہانے تفریح ہو جائے گی یہ اور دانش بھی گھوم پھر لیں گے افریقہ کے جنگلات کی پوری دنیامیں شہرت ہے اخر کار اجازت مل گئی دانش بھی ساتھ ملا ہوا تھا کے بغیر پریشانی کے اسے جانے دیں کیونکہ وہ اکیلی نہیں ہو گی وہ بھی ساتھ ہو گا وہ کوئی خوفناک جنگل کا دورہ نہیں کرنے جا رہے تھے وہاں خرگوش جنگلی بلیوں چوہوں پرندوں کے علاوہ ہرن ہوں گے چچی جان اپنے اکلوتے داماد کو کیسے ناراض کر سکتی تھی لہذا چہرے سے ناراضگی کے اثار مٹا کر آئلہ اور لیلی کو جانے کی اجازت دے دی ۔

جاری ھے