پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

” نیند ” یہ کس پیکر کی سنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہ…

” نیند "

یہ کس پیکر کی سنگینی سمٹ کر دل میں آتی ہے
مری بے کیف تنہائی کو یوں رنگیں بناتی ہے

یہ کس کی جنبشِ مژگاں ربابِ دل کو چھوتی ہے
یہ کس کے پیرہن کی سرسراہٹ گنگناتی ہے

مری آنکھوں میں کس کی شوخئ لب کا تصور ہے
کہ جس کے کیف سے آنکھوں میں میری نیند آتی ہے

سکوت اور شانتی کے ہر قدم پر پھول برساتی…

More