منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

نگار صہبائی کا یوم وفات Jan 08, 2004 ( یومِ پیدائش…


نگار صہبائی کا یوم وفات
Jan 08, 2004
( یومِ پیدائش : 7 اگست 1926 – وفات : 8جنوری 2004)
امیر خسرو اور آرزو لکھنوی کے بعد اردو گیت نگاری میں تیسرا بڑا نام نگار کا ہے
…..
جوڑے میں گوندھے ہوئے یہ سرخ پھول
کس نے ظلمت میں جلائے ہیں چراغ
…..
زینتِ آغوش وہ جب سے بنے
دھڑکنیں سننے کی عادت ہو گئی
…..
میرے نغموں سے کتنے آنچلوں نے پھول مانگے ہیں
میرے نغموں نے کتنے جلترنگ اشکوں میں ڈھالے ہیں
…..
زینہِ تخیّل سے دل کے محلّوں میں اُترتا ہے کوئی
آہٹ سی سنائی دیتی ہے چُپ چاپ حِنائی پیروں کی
…..
موہے اپنی لگن کے بندھن نے کچھ ایسا باندھا جیون بھر
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مرے نین کہ سرسوں پھول رہی
من پوجا میں مری دیوی نے خود میرے سیس نواۓ ہیں
رکھ نین کنول مرے چرنوں میں موہے سندر تلک لگاۓ ہیں
موہے ساگر کہہ کے پکارا ہے خود ندیا بن کے اتر گئی
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مرے نین کہ سرسوں پھول رہی
میں سپنوں کے بازار میں ہوں مرا جیون درپن مت دیکھو
مرا پھاگن سے کیا ناتا ہے موہے ساون ساون مت ڈھونڈو
میں ایک ہی رت میں سدا جیوں وہ رت ہے تیرے جوبن کی
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مرے نین کہ سرسوں پھول رہی
ترے گات کی سوندھی خوشبو سے مرے گیت کی ہر برسات نئی
ترے روپ کے اموا تلے جیوں تری پریت ہے سدا سہاگن کی
ترے تن سے تن کے دکھ سکھ ہیں ترے من سے من کی جوت جگی
کبھی کھول کواڑ نہ دیکھ سکے مرے نین کہ سرسوں کہ پھول کھلے
……
جیون کے سب بیتے ہوئے پل
آج مرے آنگن میں کھڑے ہیں
کس کس کو میں کیا سمجھاؤں
سانس کے کتنے کوس کڑے ہیں
کنول کھلے ہیں ایک ندی میں
ایک ندی پر کائی جمی ہے
کنچن کایا اک میں نہائے
ایک میں جیسے میری کمی ہے
جو بھی لکھا ہے تیری لگن ہے
جو بھی لکھوں گا تجھ کو لکھوں گا
پر اتنی فرصت تو دے دے
من میں ادھورے چتر پڑے ہیں
بارش کی بوچھاڑ میں گھر کر
کپڑے تو سوکھے ہیں میرے
من ہے اب ایسا جل تھل
کبھی نہ ہوں پت جھڑ کے پھیرے
سمے سے آگے میں چلتا ہوں
مجھ سے آگے رات چلے ہے
پل کے فیتے سے مت ناپو
گیت تو میرے مجھ سے برے ہیں
رات کی چوکھٹ نے پوچھا ہے
لوٹنے والا کیوں نہی آیا
اوڑھ کے دھرتی سو گیا ہوگا
بھا گئی ہوگی پیڑ کی چھایا
ڈوبتا سورج ہاتھ بڑھا کر
مٹی دے کر جا بھی چکا ہے
جھلمل تارے میرے سرہانے
کتھا سنانے کب سے کھڑے ہیں
……..