پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

ناول: اشتعال کی فصل(The Grapes of Wrath)مصنف: جان …

ناول: اشتعال کی فصل(The Grapes of Wrath)
مصنف: جان سٹین بیک (John Steinbeck)
اردو ترجمہ : سیّد سعید نقوی (نیویارک)
(زیرِ تکمیل ترجمہ کے کچھ ابواب)
پہلا باب
اوکلا ہوما کے سرخ علاقوں اور بھوری زمینوں پر آخری بارشیں مزاج میں بہت دھیمی تھیں ۔ان سے اس زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پانی سے بنی نالیوں پر کئی بار ہل چلے۔ ان الوداعی بارشوں نے مکئی جلدی تیار کر دی۔ سڑک کے کناروں تک جنگلی گھاس اور جھاڑیاں ایسے اُگ آئیں کہ گہری سرخ اور ہری زمین نے ایک سبز غلاف اوڑھ لیا ۔ مئی کے اواخر میں آسمان صاف ہوگیا اور وہ بادل جو کبھی بہار میں تادیر بہت اونچائی پر بسیرا کیے رہتے، وہ بھی چھٹ گئے ۔ سورج روزانہ چڑھتی مکئی پر چمکتا رہا یہاں تک کہ ان کی کونپل سنگینوں پر ایک بھوری لکیر نمودار ہو گئی تھی ۔ بادل پھر آئے اور پھر چلے گئے اور کچھ عرصے انہوں نے دوبارہ کوشش نہیں کی ۔ جنگلی جھاڑیاں بھی اپنےتحفظ کی خاطر زیادہ سبز ہو گئیں اور ان کا پھیلاؤ بھی رک گیا۔ زمین سخت ہو گئی ۔اس نے ایک پتلی سخت تہہ اوڑھ لی اور جب آسمان پھیکا ہوا تو زمین بھی پھیکی پڑ گئی ۔ سرخ علاقوں میں گلابی اور بھوری رنگت سفیدی مائل ہو گئی تھی۔
جہاں پانی نے نالیاں بنائی تھیں وہاں زمین چھوٹے، بہتے جھرنوں سے بوجھل ہو گئی ۔ گوفر ([1])اور بڑے چیونٹوں کی کارستانیوں سے چھوٹے تودے گرنے لگے اور روزانہ سورج کی تمازت کے اثر سے نوجوان مکئی کے تنے اپنی اکڑفوں کھو رہے تھے۔ وہ پہلے ایک قوس میں جھک جاتے اور پھر جب ان کی درمیانی کمر کمزور پڑتی تو وہ نیچے کی سمت جھک جاتے ۔ پھر جُون آ گیا اور سورج کی حدت مزید بڑھ گئی ۔ مکئی کے پتوں پر بھوری لکیریں مزید چوڑی ہو گئیں اور درمیانی پسلیوں کی جانب سرکیں ۔جھاڑیاں بھی کمزور پڑ کر اپنی جڑوں کی سمت سکڑنے لگیں ۔ ہوا خشک تھی ، آسمان اور زیادہ صاف اور روزانہ زمین بھی پہلے سے زیادہ رنگ کھورہی تھی۔
سڑکوں پر جہاں لوگ گروہوں میں محرک ہوتے تھے، جہاں پہیے میدان کو سرنگوں کرتے اور گھوڑوں کے کھر زمین کو زدو کوب کرتے تھے، وہاں زمین کی سخت تہہ ٹوٹ کرگرد بن جاتی تھی ۔ حرکت کرتی ہر چیز اس گرد کو فضا ميں پھیلا دیتی؛ ایک پیدل چلتا آدمی اپنی کمر کی بلندی تک یہ گرد اڑاتا، گھوڑا گاڑی سے اڑتی گرد اس کی چھت تک پہنچ جاتی تھی ، اور ہر گاڑی اپنے عقب میں گرد کا ایک بادل پیدا کر دیتی ۔ یہ گرد دوبارہ بیٹھنے میں بہت وقت لگاتی تھی ۔
جون ابھی نیم رخصت ہی ہوا تھا کہ ٹیکساس اور خلیج سے بادل اٹھے۔ پانی سے بوجھل بھاری بادل نمودار ہوتے تو کھیتوں میں لوگ سر اٹھا کر ان بادلوں کو دیکھتے، انہیں سونگھتے اور اپنی گیلی انگلیاں بلند کر کے ہوا کا رخ متعین کرتے۔ بادلوں کی موجودگی گھوڑوں کو حراساں رکھتی ۔ یہ ابتدائی بادل بوندا باندی کر کے جلدی سےکسی دوسری زمینوں کی جانب چل دیتے۔ ان کے عقب میں پھرصاف آسمان اور آگ برساتا سورج رہ جاتا ۔ دھول میں جہاں بارش پڑتی ھی چھوٹے پانی کے گڈھے بن جاتے اور مکئی پر قطرے چمکنے لگتے، بس اتنا ہی ہو پاتا۔
ایک سبک رفتار ہوا ان برستے بادلوں کا تعاقب کر کے انہیں شمال کی طرف لے جاتی، یہ ہوا سوکھتی مکئی سے چھیڑ خانی کرتی رہتی ۔ کوئی دن گزرتا اور یہ ہوا بڑھ جاتی، اس کا تسلسل جھونکوں سے نہ ٹوٹتا ۔ سڑکوں سے گرد اڑ کر کنارے لگی خود رو جھاڑیوں پر اور اس سے مزید آگے کھیتوں تک پہنچ جاتی ۔ اب ہوا مزید طاقت حاصل کر کے مکئی کے کھیتوں پر بارش کی تہہ بچھاتی ۔ رفتہ رفتہ گرد اور ہوا کی باہمی سازش سے آسمان تاریک ہو جاتا، ہوا مزید دھول پیدا کرتی اور اڑا لے جاتی ۔ اب ہوا تیز تر ہوگئی تھی۔ بالآخر پانی کی سطح ٹوٹی، اور گرد آزاد ہو کر کھیتوں سے بلند ہوءی، اور آسمان میں سست رفتار بھورے دھوئیں کے بادل پیدا کرنے لگی ۔ مکئی ہوا میں سر مار کر ایک خشک سرسراہٹ کی آواز کر رہی تھی ۔ باریک ترین گرد واپس زمین میں نہیں لوٹتی بلکہ گہرے ہوتے آسمان میں کہیں کھو جاتی تھی ۔
ہوا مزید رفتار پکڑ کر پرانے پتے ، تنکے، بلکہ مٹی کے ڈھیلے تک ساتھ اڑاکےلے جارہی تھی ۔ زمینوں پر گزرتے ہوئے اپنا نشان چھوڑ جاتی تھی ۔ فضا اور آسمان گہرے ہوگئے ۔ ان کے درمیان سے سورج سرخی مائل جھانکنے لگا ۔ ہوا میں ایک چبھتی ہوئی سنگینی تھی۔ ۔پھر ایک رات ہوا زمین پر زیادہ تیزی سے بھاگی، مکئی کی جڑوں کو مکاری سے کمزور کیا ، مکئی اپنے کمزور پتوں کے ساتھ بساط بھرہوا سے زور آزامءی کرتی رہی۔ ۔یہاں تک کہ اس مداخلت کرتی ہوا سے اس کی جڑیں اکھڑنے لگیں اور تنے تھک کر زمین کی طرف جھک گءے، ان کے جھکاؤ کا رخ ہوا کے رخ کا پتہ دے رہا تھا۔
پو پھٹی لیکن دن نمودار نہیں ہوا ۔ بھورے آسمان میں سرخ سورج نکل آیا۔ ایک مدہم سرخ ہالہ کمزور گرد آلود روشنی فراہم کر رہا ہے، کسی ڈوبتے سورج کی مانند۔ اور جیسے دن گزرا تو وہ غروب ہوتا آفتاب دوبارہ تاریکی میں چھپ گیا ۔اور اس اجڑی مکئی پر ہوا سسکتی اور بین کرتی ہے۔ مرد و زن اپنے گھروں میں بند ہیں۔ جب باہر نکلتے ہیں تو ناکوں پر رومال باندھ لیتے ہیں اور اپنی آنکھوں کے بچاؤ کے لیئے عینک پہن لیتے ہیں
جب رات دوبارہ آئی تو وہ بہت سیاہ تھی ، کیوں کہ ستارے اس غبار کو چیر کر نیچے نہیں اتر سکے ۔ اور کھڑکیوں سے نکلتی روشنی خود اپنے دالانوں سے زیادہ آگے منور نہیں کر سکی۔ اب دھول ہوا میں برابر سے گھل رہی ہے ۔ دھول اور ہوا کا ایک ملغوبہ ۔ مکان سختی سے بند ہیں، دروازوں اور کھڑکیوں کی درزیں کپڑوں سے ٹھنسی ہیں لیکن گرد اتنی باریک ہے کہ ہوا میں نظر نہیں آتی اور وہ کرسیوں، میزوں اور برتنوں پر زر گل کی مانند بچھ جاتی ہے ۔ لوگ اسے اپنے شانوں پر سے جھاڑتے ہیں ۔ دروازوں کی منڈیروں پر خاک کی ایک پتلی سی لکیر کھنچ چکی ہے ۔
اُس رات کسی وقت وہ ہوا آگے بڑھ جاتی ہے اور زمین کو خاموش چھوڑ جاتی ہے۔ گرد آلود ہوا تو آواز کو کہر سے بھی زیادہ کو دبا دیتی ہے ۔ اپنے بستروں میں لیٹے افراد ہوا رک جانے کی آواز سنتے ہیں ۔ وہ تیز ہوا کے جانے کے بعد بیدار ہوتے ہیں ۔ وہ خاموشی سے بستر پر سکوت کو سنتے ہیں ۔ پھر مرغ اذان دیتے ہیں ،اوران کی آوازیں دبی ہوئی ہیں ۔ لوگ بے آرامی سے بستر پر کروٹیں بدلتے ہیں، انہیں صبح کا انتظار ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ہوا کو گرد سے صاف ہونے میں طویل وقت لگے گا ۔ صبح میں گرد کہر کی مانند منجمد تھی اور سورج تازہ لہو کی مانند سرخ ۔ سارا دن گرد آسمان سے زمین کی جانب اترتی رہی اور اگلے روز بھی نیچے اترتی رہی ۔ زمین پر ایک ہموار تہہ بچھ گئی یہ مکئی پر بیٹھی، جنگلوں میں اتر آئی ۔ تاروں سے چمٹ گئی، یہ چھتوں پر بچھ گئی اور خود رو جھاڑیوں اور درختوں کو لپیٹ میں لے لیا ۔
لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ۔ انہوں نے گرم چبھتی ہوا کو سونگھا اور اپنی ناکوں کو ڈھانپ لیا ۔ بچے گھروں سے باہر نکل آئے لیکن جیسا کہ وہ بارش کے بعد بھاگتے یا چیختے تھے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ لوگ باڑ کے ساتھ کھڑے تباہ حال مکئی کو دیکھتے جو اب تیزی سے سوکھ رہی تھی اور گرد کی تہہ سے سبز رنگ خال خال ہی نظر آتا تھا ۔ مرد خاموش تھے، زیادہ متحرک نظر نہیں آرہے۔ عورتیں گھروں سے نکل کر اپنے مردوں کے ساتھ کھڑی ہیں، تاکہ محسوس کر سکیں کہ کیا اس بار یہ مرد ہمت ہار دیں گے؟ عورتیں چور نگاہوں سے ان مردوں کے چہروں کا جائزہ لیتی ہیں ۔ مکئی چاہے ختم بھی ہوجائے، جب تک کہ مردوں میں کچھ اور باقی ہے ۔ بچے ننگے پاؤں قریب کھڑے اپنے پیروں کی انگلیوں سے گرد پر نقش بنا رہے ہیں ۔
اور یہ بچے حالات بھانپنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا اس بار مرد و زن ہمت ہار دیں گے ۔ بچے مردوں اور عورتوں کے چہروں کی طرف دیکھتے ہیں پھر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے احتیاط سے خاک پر لکیریں بناتے ہیں ۔ گھوڑے پانی کے جوہڑوں کی سمت آتے ہیں اور ناک سے پانی کی سطح پر جمی خاک کو ہٹاتے ہیں ۔ کچھ دیر بعد ان تماشائی مردوں کے چہروں سے ایک تمسخر آمیز حیرت مٹ جاتی ہے اور اس کی جگہ سختی، غصہ اور عزم نمودار ہو جاتا ہے. تب عورتوں کو اطمینان ہوتا ہے کہ وہ محفوظ ہیں اور کچھ نہیں ٹوٹا ۔ پھر وہ پوچھتی ہیں۔" اب ہم کیا کریں گے ۔ " اور مرد جواب دیتے ہیں ۔ " ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں" ۔ عورتوں کو معلوم تھا کہ سب ٹھیک ہے اور بچوں کو بھی معلوم تھا کہ سب ٹھیک ہے ۔ اپنے اندر کہیں گہرائی میں عورتوں اور بچوں کو معلوم تھا کہ اگر مرد سلامت ہیں تو کوئی مصیبت بھی جھیلی جا سکتی ہے ۔ عورتیں اپنے کاموں کی طرف گھر میں لوٹتی ہیں اور بچے دوبارہ کھیلنے لگتے ہیں ۔ گو ابتدا میں ذرا محتاط انداز سے ۔ دن گزرنے کے ساتھ سورج کی سرخی کم ہو جاتی ہے ۔ یہ گرد اوڑھے زمین پر چمکنے لگتا ہے ۔ مرد اپنے گھروں کے داخلی دروازوں پر رہتے ہیں؛ ان کے ہاتھ تنکے اور چھوٹے پتھر چننے میں مصروف ہیں ۔ مرد بے حرکت بیٹھے، سوچ رہے ہیں ، حکمتِ عملی وضع کر رہے ہیں ۔
حواشی:
[1] زیرِ زمین چوہے جیسا جانور
* * * *
نوٹ:
ابتدائی چار ابواب پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
https://online.pubhtml5.com/ffha/mpdn/#p=7

— with Saeed A Syed.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2911545229075991