میرال طحاوی کا ناول خیمہ تبصرہ: آمنہ زریں کہانی…
میرال طحاوی کا ناول خیمہ
تبصرہ: آمنہ زریں
کہانی اور زندگی میں محض ہجے مختلف ہیں ۔۔دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔۔دونوں ۔۔انسان کو درپیش ریتی ہیں ۔۔گزر جاتی ہیں اور پیچھے رہ جاتے ہیں ۔۔ان کے ثبت کئے ہوئے نشانوں کی نشانیاں ۔۔اور پھر ان سے بنتی ہیں ۔۔۔کہانیاں ۔۔۔!
کسی نے کہا تھا کہ آسمان پر موجود ستارے ۔۔زمین پر موجود انسانوں کے برابر ہیں ۔۔تو ۔۔پھر ایسا ہے کہ کہانی بھی ایک کائنات ہے ۔کہکشاں ہے ۔۔۔ستاروں سے بھرا آسمان ہے ۔۔۔یا پھر بھید بھری زمین ۔ ۔۔جستجو کرنے والوں پر ۔۔ان کی چاہ اور ظرف کے مطابق آشکار ہوتی ہے!
تو ۔۔کہانی ایک دلچسپ کردار ہے ۔۔جو روپ سروپ بدل بدل کر ۔۔پڑھنے والوں کے عالی حصے کو ہفت رنگ کئے رکھتی ہے ۔۔اور اس ہفت رنگی میں رنگے جانا ۔۔ایک ایسا دروں بیں تجربہ ہے ۔۔جو اس ہنڈولے میں بیٹھے ۔۔وہی جانے!
تو ۔۔۔کہانی کی محبت میں مبتلا ۔۔سوال کا ایک کنکر اچھالتا ہے ۔۔کہ جو کہانی سے محبت کرتے ہیں ۔۔کیا وہ مسجد، مندر ۔۔دھرتی ۔۔دل کا قتل کر سکتے ہیں؟
کہانی سے محبت کا مزاج رکھنے والے دہشت اور وحشت پھیلا سکتے ہیں؟
تو ۔۔۔کہانی کو معمولی سمجھنے کے رجحان نے کس چیز کو فروغ دیا بھلا؟ ؟؟؟
تو ۔۔۔کیا دنیا صرف ہائی وے سے دکھائی دینے والی شے ہے؟
اس ہائی وے سے اتر کر کیا اترائی میں کوئی بستی آباد نہیں؟ کیا دنیا صرف پہاڑوں کی ہیبت اور خوش نمائی جیسی ہے؟اس پر چڑھنے اور اترنے کی مشقت پر نگاہ نہیں جا سکتی؟
گزارنے کی قید ۔۔گزرنے کی مشقت سے نسبت رکھتی ہے اور پھر جو گزرے۔۔۔وہ گزرنے والا ہی جانتا ہے بس!
ازل سے ابد تک چلتی ہوئی اس دنیا کے روز مرہ معمولات ۔۔ہر نظر کے لئے اتنے عام نہیں ہوتے ۔۔ جتنے کہ عام طور پر فرض کئے جاتے ہیں ۔۔خاکی دنیا کے عناصر کی خوبصورتی کچھ دلوں پر اس طرح منعکس ہوتی ہے کہ اس کی ست رنگی لفظ بن کر اپنے پڑھنے والے کو سحر زدہ کرنے کا ہنر آزماتی ہے ۔۔۔!
اور مٹھی بھر خاک کے کمالات سے انکار مشکل ہی نہیں ۔۔۔نا ممکن بھی ہے!
تو چلتے ہیں ۔۔۔مصر کی میرال طحاوی کے "خیمے "کی جانب ۔۔جہاں آپ کی ملاقات فاطمہ سے ہونے والی ہے ۔۔فاطمہ۔۔جو کہانی کی روح رواں ہے ۔۔۔اور خود اس کی روح ایک ایسے جہاں کا سفر کرنے کی عادی ہے ۔۔جو دوسروں کی بصارت اور بصیرت کی پہنچ سے باہر ہے ۔۔۔اور دراصل تو ہم سب کے اندر ہی ایک ایسا جہاں موجود ہوتا ہے ۔۔۔!
کہانی کے بیان پر ماحول اور محل وقوع کے رنگوں کا جادو سر چڑھ کر بولے تو ہمیں نئی سرزمین دریافت کرنے جیسی مسرت ہوتی ہے ۔۔۔خطہ عرب کا ہو اور داستان گوئی چھب نہ دکھائے ۔۔سرزمین مصر کی ہو ۔۔اور فرعونوں کا ذکر نہ ہو ۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
ناول کا تانا بانا کہانی کے اندر کہانیوں سے بنا گیا ہے ۔صحرا کے اسرار اور فرعون کی رہ چکی سرزمین پر ابھی تک اس کے اثرات کا اثر موجود ہے ۔
سنئیے ۔۔فاطمہ بچپن میں سونے سے پہلے اپنی آیا سے کون سی کہانی سن رہی ہے ۔۔
"وہ میرے بالوں کو سہلاتے ہوئے مجھے ایک کہانی سنانے لگی "سورج آسمان میں پورا چکر لگا کے ایک دائرہ بن جاتا ہے ۔سورج ایک لڑکی ہے، اور ساری لڑکیوں کی طرح اس کے سات چہرے ہیں ۔ اور پھر ایک لمبی رات آتی ہے جس میں وہ اپنا آخری چہرہ، بوڑھی عورت کا جھریوں والا چہرہ چھپا لیتا ہے اور رونے اور بین کرنے لگتا ہے ۔پھر وہ دوڑ کر غیاب کے پہاڑوں کے پیچھے چلا جاتا ہے، جو لوہے اور آگ کے پہاڑ ہیں ۔ہمارے اور ان دو پہاڑوں کے درمیان دو بند ہیں اور کھولتے ہوئے لوہے کا ایک کنواں جس میں سورج گر جاتا ہے "
کون؟ کون ہے وہ اماں سردوب؟
"فرعون ہے اور نمنم اور یاجوج کے غلام ہیں "
شغف جب تک دیدنی معاملات سے ہو ۔۔تب تک دنیا خیریت سے رہتی ہے ۔نادیدہ عناصر سے شغف، جنون،دیوانگی اور آسیب قرار پاتے ہیں ۔لیکن قرار پانے سے پہلے کے مرحلوں کی کھوج کون لگا سکا ہے؟
تو چلئے ۔۔جدید زمانے کی ہائی وے سے اتر کر ۔۔ایک ایسی صحرائی بستی میں ۔۔جہاں معاش کا دارومدار کھیتی باڑی اور تاج و تخت کا دارومدار بیٹوں کی پیدائش پر ہے!
ایک ایسا گھرانہ ۔۔۔جہاں تضادات کا تصادم صحرائی بگولے کی طرح زندگیوں کو لپیٹتا چلا جا رہا ہے ۔۔۔!
دادی حاکمہ ۔۔۔جو اسم با مسمی کی صورت گری کرتی نظر آتی ہے ۔۔۔اس تصادم کا نکتہ بلا خیز ہے!
بوڑھی حکمران اور سخت گیر نگران ۔۔۔کرخت زبان اور سخت رویے کی یکجائی سے دادی حاکمہ کی حاکمیت ۔۔کسی کی مختصر سی کائنات کو گرہن زدہ سورج کی طرح اندھیر کئے ہوئے ہے ۔۔
"میں اسے دور سے دیکھتی رہی ۔۔وہ مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی تھی ۔اپنی چھڑی سے، جسے وہ اپنی گھوڑی کو قابو میں میں رکھنے کے لیے استعمال کرتی تھی ۔۔وہ ہر چیز کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھتی ۔میری بہنوں کی کپڑوں کی الماریاں، توشہ خانوں میں رکھی درازوں والی الماریاں، مکھن اور پنیر کے مرتبان، سامان کے کھوکھے اور مرغیوں کے دڑبے ۔وہ بطخوں کے سئے ہوئے انڈے گنتی، ان ننھے کبوتروں کو شمار کرتی جن کے پر پھوٹنے لگے تھے، غلے کی تمام بوریوں کو کھول کھول کر دیکھتی کہ کہیں ان میں کیڑے تو نہیں پہنچ گئے، یا عورتوں نے ان میں ہاتھ تو نہیں ڈالا ۔صافیہ گھبرائی ہوئی اس کے آگے آگے بھاگا اور اس کے حکم سنا کرتی ۔"
طبقاتی تقسیم ۔۔اس زمین کے کسی خطے کو بھی اپنی جلوہ آرائی سے محروم نہیں رکھتی ۔۔وہ نیم تاریک گوشہ ارض ہو ۔۔یا چمکدار نیلے آسمان تلے ہرا بھرا ۔۔یا پھر ۔۔خاک اور ریت اڑاتا ۔۔دنیا کی نظروں سے اوجھل رہنے والا۔۔۔مسافر کو دہشت زدہ کرنے والا ۔۔۔صحرائی خطہ۔۔۔!
"بکری کے بالوں سے بنا خیمہ اونٹ کی پیٹھ سے گرا کر زمین پر ڈال دیا گیا اور اسے نصب کرنے کے لیے کیلیں ٹھونکی جانے لگیں ۔منٹوں میں خیمہ ہوا میں بلند ہو کر خوب لمبا چوڑا ہو جائے گا اور پھاٹک کے سامنے کی خالی جگہ بھر جائے گی ۔اس کےسارے گوشے مہمانوں سے بھر جائیں گے ۔غلام ادھر سے سے ادھر چکر لگانے لگیں گے اور رنگ اڑے جلابیوں اور سپاٹ پیروں والے بہت سارے دہقان آ آ کر جمع ہو جائیں گے ۔وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے ابا کے پاس جائیں گے اور سر جھکا کر انہیں تعظیم دیں گے ۔پھر وہ ان کی انگلیوں کے سروں کو چھوئیں گے اور التجا بھری اطاعت سے ان انگلیوں کو بار بار چومیں گے ۔اور وہ، ان کی گردن تنی ہوئی گی، جیسے انھیں ان سب کے وجود کا احساس ہی نہ ہو ۔جب یہ سب ہنگامہ تھم جائے گا تو وہ مکان میں داخل ہوں گے اور غلام ان کے پیچھے پیچھے سامان اٹھائے چلتے ہوں گے "
نامحسوس طریقے سے ہم یہ جان جاتے ہیں کہ فاطمہ ایک خوش حال اور با اثر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے ۔ لیکن یہ خوش حالی اور اثر و رسوخ ۔۔کیا واقعی خوشی، مسرت اور کامیابی کے حقیقی پیمانے ہیں؟
یہ کہانی ہی کا وصف ہے کہ
ہم ۔۔جو اشتراکیت کو انسان کے اعلی اوصاف کی پرکھ کے لئے، بنیاد خیال کرتے ہیں ۔۔دوردراز میں بسنے والے ۔۔۔زندگی کو جھیلتے کرداروں کے کرب و بلا میں خود کو شریک محسوس کرنے کے تجربے سے گزرتے ہیں ۔۔
چار بہنوں میں سب سے چھوٹی، فاطمہ کو نیند نہیں آتی تھی ۔اور جن آنکھوں میں نیند نہ اترے ۔۔۔وہاں زندہ خیال مجسم ہونے لگتے ہیں ۔بے قراری، جس روح میں بسیرا کرتی ہے ۔۔اپنے مسکن کی تلاش میں اسے یا تو لوگوں سے الگ کر دیتی ہے ۔۔۔یا پھر ممتاز ۔۔۔!
محض پانچ سالہ فاطمہ کو کھیلنے کے لئے ہمجولی اور میدان چاہیئے تھے ۔یہ میسر نہیں تھا تو پھر تصور کی پنہائیاں تھیں یا اونچے پیڑ ۔۔۔جہاں وہ اترتی اور چڑھتی رہتی تھی ۔تصور کی ان پنہائیوں نے ایسے کردار تراشے کہ کہانی کا تانا حقیقت اور بانا فسانہ بنتا گیا ۔
چھم سے اترنے والے خیال کی طرح ۔۔۔خود آپ کو پتہ نہیں چلتا کہ کب کون سی حقیقت جلوہ گر ہو رہی ہے ۔
زود حس، تیز نگاہ اور متحرک تخیل کے عناصر فاطمہ کی ہئیت تراکیبی میں شامل تھے ۔۔۔کہانی در کہانی ۔۔۔ایک سلسلہ ہے ۔۔جو بادی النظر میں بکھرے ہوئے تخیل کا روزن معلوم ہوتا ہے ۔لیکن ۔۔۔انجام تک پہنچتے پہنچتے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اصل صورتحال کے بالکل متوازی ایک ایسی کہانی چل رہی تھی ۔۔جس کے استعارے، تشبیہات اور کردار، تخیل کے آسمان پر اڑتی پتنگیں تھیں جن کی ڈور فاطمہ کے ہاتھ میں تھی!
"ریت انتہا تک پھیلی ہوئی تھی اور جوان سورج کے رنگ سے چمک رہی تھی ۔اور ان کے چہرے آسمان اور زمین پر انڈیلے ہوئے سنہری رنگ کو پیتے جا رہے تھے ۔وہ دوڑ کر بچھوؤں کو ان کے بلوں میں سے پکڑ کر اٹھا لاتیں ۔پھر وہ ان کی دم کو کچل دیتیں اور زہر بہہ بہہ کر ریت پر پھیل جاتا ۔وہ چھپکلیوں کا پیچھا کرتے ہوئے قہقہے لگاتیں ۔ان میں سے ایک لڑکی کو ایک گڑھے میں چمکدار رنگ والا سانپ دکھائی دیا ۔اس نے سانپ کے منہ کو زور سے ریت پر رگڑا، پھر سوئی دھاگا نکال کر اس کا منہ سی دیا اور اسے ریت پر تڑپنے کے لیے ڈال دیا "
کہانی میں گندھی ہر کہانی ۔۔۔فاطمہ کے تخیل پر اڑتی پتنگ تھی ۔۔اس صورتحال سے پڑھنے والے کی واپسی فاطمہ کے ساتھ ہی ممکن ہوتی ہے ۔جب وہ بتاتی ہے کہ "تب بڑھیا کے چیخنے چلانے کی آواز میرے خواب آلود سر میں داخل ہوئی "فاطمہ، بد بخت لڑکی! کیا کر رہی تھی تو شیطان کی بچی، کنویں کی تہہ میں سونے گئی تھی؟ اپاہج تو تھی ہی، اب آسیب زدہ بھی ہوگئی ۔"
پیڑوں پر چڑھ کر باہر دیکھنے کی خواہش کے پورا کرنے میں فاطمہ کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔۔۔
"میں نے ہاتھ بڑھا کر دوسری شاخ کو پکڑنا چاہا لیکن وہ میرے ہاتھ نہ آئی ۔زمین نے میرے سر کے گرد ایک چکر سا لگایا ۔جب مجھے ہوش آیا تو سردوب میری سوجی ہوئی ٹانگ پر جھکی ہوئی تھی ۔وہ انگلیاں تیل میں بھگو کر مالش کرتی رہی اور چاروں طرف سے کو سنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں ۔
"میں نے اس سے کہا تھا کہ مرد کے بغیر گھر ایسا ہے جیسے کنویں کے بغیر نخلستان "ملعون کہیں کی، کمبخت!
"کسی دن گردن ٹوٹے اور سر سینے پر آ پڑے تو اچھا ہو "اللہ مجھے حوصلہ دے کہ اپنے بیٹے کی پیدا کی ہوئی ان بلاوں سے نمٹ سکوں!"
فاطمہ کا درخت سے گرنا، ایک بار نہیں ۔۔۔کئی بار ہوا ۔۔اور ٹوٹی ہوئی ٹانگ ۔۔۔مرحلہ وار بگڑتے بگڑتے ۔ ۔ اپنے آخری انجام تک پہنچ گئی ۔۔
اونچی دیواروں کے پار دیکھنے کی خواہش نے اسے عمر بھر کے لئے اپنی ٹانگ سے محرومی عطا کی ۔۔
مگر کیا یہ خواہش تھی؟ جو پہلے سراب اور پھر آسیب بنی؟
کیا ایسا نہیں تھا کہ وہاں صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولت تو کجا، اس کا تصور بھی موجود نہیں تھا ۔
کہانی کے آئینے میں ان کہی کو منعکس کرنا۔۔۔واللہ ۔۔۔لکھنے والوں کا معاملہ ضبط و اظہار دنیا سے نرالا ہوتا ہے ۔اپنے ماحول، ارد گرد میں جاری معمولات سے اختلاف رکھنا، نا انصافیوں پر نگاہ رکھنا اور کوتاہیوں پر آواز بلند کرنا، دشوار ترین انسانی ردعمل ہے ۔اس راہ میں تنقید کے پتھر کھانے، دشمنی کے در کھلنے کے باوجود ڈٹ جانے کی استقامت سبھوں کے بس کی بات نہیں ۔۔۔۔
خیر ۔ ۔۔۔
دادی صرف سخت گیر اور کرخت نہیں تھی ۔۔۔بلکہ اسے بیٹیوں کی پیدائش سے نفرت بھی لاحق تھی ۔عورت ہو کر بیٹی کی پیدائش پر ماتم کناں ہونا ۔۔۔عورت ذات کا عجیب و غریب پہلو ہے ۔گو کہ دیگر سماجی معاملات میں بھی عورت ہی عورت سے متصادم پائی جاتی ہے ۔مگر خود اپنی حاکمانہ زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی، اپنے جیسی مخلوق سے بے زاری کا اظہار قدرے تعجب انگیز ہے ۔۔۔!
کھلتی ہے ایک اور کھڑکی جو فاطمہ کی زندگی کے صحن میں کھلتی ہے ۔۔اور پڑھنے والا تو معمول بنا، مسحور ہوا ۔۔۔ہر کھڑکی سے جھلک دکھلاتے ۔۔۔صحرائی وجود دیکھتا چلا جاتا ہے ۔!
"اللہ کی مرضی ہے یا شیطان کا لمس؟ یہ عورت جب سے اس گھر میں آئی ہے ۔اس نے مصیبتوں کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ۔جب کبھی اللہ اسے بیٹا دیتا ہے، وہ جاتا رہتا ہے، اور اس کا دماغ بھی چل گیا ہے ۔جب اسے دورے پڑتے ہیں تو اس کی صورت دیکھ کر مجھے اپنی روح کے لئے خوف محسوس ہوتا ہے ۔یہ نحوست کی نشانی ہے ۔"
جی ۔۔۔یہ فاطمہ کی اماں کا ذکر ہے جو دادی حاکمہ کی زبانی ہو رہا ہے ۔
کہانی کہی ہی تو جاتی ہے ۔۔مگر ایک ان کہی ۔۔ہر کہانی کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور یہی اس کہانی کہنے والے کا نکتہ کمال ہوتا ہے ۔جو قاری کے ذہن رسا کے مطابق خود کو منکشف کرتا ہے ۔۔اور انکشاف کا وہ لمحہ ہی ۔۔حاصل کا لطف رکھتا ہے ۔۔۔اور ان منزلوں سے گزرنا ہی تو پڑھنے والوں کو محبوب ہوتا ہے!
فاطمہ کی اماں کو درپیش مسائل، اس ان کہی کی ایک مثال ہے ۔وہ جسمانی صحت ہے، ذہنی یا روحانی ۔۔۔ان کو بہر حال علاج کے قابل سمجھنے کا امکان تک نظر نہیں آتا ۔۔۔
فاطمہ اور ابا کی محبت، ان کھردرے لمحوں اور لہجوں کے بیچ نخلستانی چشمے کی طرح ہے ۔۔۔
"کیسی ہو تم،ابا کی ہرنی؟
"ابا نے کہا "یہ فاطمہ کی گھوڑی ہے ۔ابا کی پیاری فاطمہ کی ۔میں اسے نہیں بیچ سکتا ۔آپ کوئی اور گھوڑا چن لیں "
دادی سے وصول کی گئی ہر تلخی کا نعم البدل ابا کی بے پناہ شفقت تھی ۔ اس سارے منظر نامے میں، وہ کم گو، دھیمی طبیعت اور سنجیدہ رہنے والے شخص کے طور پر سامنے آتے ہیں ۔۔البتہ دادی کی حاکمیت کے سامنے وہ بھی خم کھائے رہے ۔۔
"جب ابا اندر آئے تب بھی وہ تمباکو کو ہتھیلی میں مسلتی رہی اور اپنی چھوٹی، سکڑی آنکھوں میں چالاکی کی چمک لئے ان کے سفر اور چراگاہوں کا حال پوچھتی رہی ۔وہ اس کے سامنے ادب سے بیٹھے تھے ۔ایسا لگتا تھا جیسے میں نے کبھی ان کے سینے کو فخر سے تنا ہوا اور ان کے گزرتے وقت لوگوں کو دبک کر ادھر ادھر ہوتے دیکھا ہی نہ ہو ۔۔۔"
دادی حاکمہ کی حاکمیت کہانی کے ماحول پر چھائی ہوئی تاریکی ہے ۔ ۔۔منفی ہی سہی ۔۔۔کردار دلچسپی سے خالی نہیں!
"اللہ ان کے شر سے ہم سب کو محفوظ رکھے ۔میری جتنی بیٹیاں ہوئیں سب جاتی رہیں ۔لوگ مجھ سے پوچھتے تھے، حاکمہ تیری بیٹیاں کہاں چلی جاتی ہیں؟ اور میں جواب دیتی تھی :میں دن رات دعائیں کرتی ہوں ۔۔۔اس لئے اللہ مجھے شر سے بچائے رکھتا ہے "۔
انسان اپنے فعل کی تاویل تو گھڑتا ہی ہے ۔۔۔مقام حیرت ہے کہ اللہ کے فعل کی توجیہہ بھی خود پیش کرنے کی جسارت رکھتا ہے ۔۔۔واللہ ۔۔۔!
کتاب کا حجم مختصر سہی ۔۔۔مگر موضوع کی وسعت صحرائی ہے۔۔زبان کا آہنگ بلند اور ادبی شان لئے ہوئے ہے ۔۔بات کہنے کا ڈھنگ ہی تو زبان کے وصف کا اظہار ہے اور وہ نہایت پر اثر ہے ۔
پڑھئے کچھ خوبصورت جملے :-
"سات راتیں گزر گئیں، چاند کی پتلی سی قاش بڑھ کر کٹا ہوا نصف دائرہ بن گئی "۔
"سورج کی آنکھ پھوٹ کر سرخ ہو گئی اور آخر گردو غبار نے اسے بجھا دیا "۔
"کاش آسمان صاف ہوتا ۔جب کوئی پرندہ رخصت ہوتا ہے تو پھر لوٹ کر نہیں آتا ۔وہ خط بھی نہیں بھیجتا۔رخصت ہونے کے بعد پرندہ سب کچھ بھول جاتا ہے ۔"
"وہ مسکرائے اور ان کی مسکراہٹ کا عکس میرے چہرے پر رنج اور افسردگی کی صورت میں پڑا ۔"
پہاڑ اونچے ہیں ۔ آسمان اونچا ہے، ستارہ اونچا ہے اور چھوٹی سی چڑیا کے پاس دو پنکھ ہیں ۔"
اس کہانی کی ان کہی ایک نہیں ہے ۔بلکہ منزل بہ منزل ہر باب ایک نئی کہانی کے ساتھ جڑی ہوئی ان کہی کا کھیل جاری رہتا ہے ۔پڑھنے والا، خود کو حیرت کے سپرد کر کے، صحرا کی ریت سے نگینے وصول کر سکتا ہے !
بدو روایات کے مطابق،فاطمہ کی بہنوں کی شادی طے ہونے سے لے کر لباس اور زیورات کی تیاری، بارات کی آمد اور رخصتی دادی حاکمہ کے زیرانتظام منعقد ہوئی ۔۔یہ الگ بات ہے کہ دونوں بہنوں کو بیاہ کر لے جانے والے آپس میں باپ اور بیٹا تھے!
زندگی کا قید خانہ ۔۔پنجرے بدل بدل کر آزادی کے فریب میں مبتلا رکھتا ہے ۔قید رہتے ہوئے بھی رہائی کے سراب نظر آتے ہیں اور پنجرے بدل بدل کر فرار کے شوق پورے کئے جاتے ہیں ۔۔۔!
فاطمہ اپنی ٹانگ کے علاج کے سلسلے میں ایک غیر ملکی خاتون کے گھر مقیم رہی ۔"این "کو دراصل فاطمہ کی پالتو گھوڑی "خیرہ "میں نہایت دلچسپی تھی ۔اسی دلچسپی نے اسے فاطمہ کے قریب ہونے کا موقع دیا ۔اور وہ خیرہ اور فاطمہ دونوں کو اپنے ساتھ لے آئی ۔
این، فاطمہ کی کہانیاں بھی شوق اور دلچسپی سے سنتی تھی ۔۔۔یہاں فاطمہ کی داستان گوئی عروج پر پہنچی ۔۔لیکن یہ قصے محض سماعتوں کی تواضع کے لیے نہیں تھے ۔یہ فاطمہ کی ذات سے جڑے خواب، خواہش اور خوف کی داستان تھی!
چاہے گئے خواب، کچلی ہوئی خواہشیں اور پیش آنے والا خوف!
کتاب کے کل بارہ ابواب ہیں ۔۔اور ہر باب ایک نئی دستک سے کھلتا ہے ۔
"میری پیاری چڑیا، ایسی جگہ کیوں اترتی ہو
جہاں شکاری تمہیں دیکھ لیتا ہے؟ (باب نمبر چھ )
"کل رات ایک خواب نے مجھ سے کہا
عمدہ چیزیں ان کو پہنچتی ہیں جو صبر سے انتظار کرتے ہیں "(باب نمبر سات )
"یاس اور امید کے درمیاں
کیوں، میری جان، تم نے کیوں مجھے چھوڑ دیا؟ "(باب نمبر گیارہ )
کہانی بالکل زندگی کی طرح آگے بڑھتی ہے ۔۔۔کیونکہ وہ زندگی سے ہی تو تشکیل پاتی ہے ۔۔سو،منزل تمام ہونے پر پیچھے مڑ کر دیکھنے سے وہ باتیں جو سرسری نگاہ سے گزر جاتی ہیں ۔۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو بین اشارے تھے کہ انجام کیسا ہو گا؟
لیکن ۔۔۔انجام اگر پہلے سے معلوم ہونے لگیں ۔۔۔تو بساط کائنات کی ہر بازی ۔۔۔ایک ہی انجام سے دوچار ہو ۔۔۔تو پھر؟ ؟؟
یک رنگی ۔۔کائنات کو کہاں زیبا ہے؟
اس کی ست رنگی ہی تو اس کا جال ہے ۔۔مضبوطی سے بنا ہوا ۔۔۔!
اماں دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔۔اور دادی نے بیٹے پیدا کرنے کے لیے ابا کی دوسری شادی کروائی ۔فاطمہ نے سوتیلی ماں کی بے اعتنائی بھی سہہ لی ۔۔اور دوابہ کے حربے اس کو بیٹوں کی ماں نہ بنا سکے ۔۔اور وہ فاطمہ کو آسیب زدہ قرار دے کر گھر چھوڑ کر چلی گئی ۔۔۔
دادی نے بھی رخت سفر باندھا ۔۔
فاطمہ بالآخر اپنی ماں کی طرح ہو گئی ۔۔لاچار، افسردہ اور ہر وقت آنسو بہانے والی ۔۔۔اور صافیہ دادی کی طرح منتظم اور نگران بن گئی ۔۔ابا بوڑھے ہوگئے!
"دو چھوٹی لڑکیاں اب بڑی ہو گئی تھیں ۔اپنے ہاتھوں میں کاپیاں سنبھالے وہ گدھے پر بیٹھ گئیں اور محافظ انہیں اسکول لے گیا جو بہت دور، پہاڑیوں کے دوسری طرف واقع تھا ۔راحات سوچتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ انہیں جاتا دیکھتی رہی اور پھر بولی "ذرا سوچو، فاطمہ، اگر تمہاری دادی یہ دیکھ لیتی تو کیا ہوتا ۔وہ دروازے کو ان لڑکیوں کے خون سے رنگ دیتی ۔وقت کی ہوا ہر شے کو اڑا لے جاتی ہے "۔
راحات، ابا کی تیسری بیوی تھی ۔۔اور دو بیٹیاں فاطمہ کی سوتیلی بہنیں تھیں ۔اسکول جانے کا ذکر اور منظر ۔۔۔خود بخود کڑیاں جوڑنے لگتا ہے!
اور یہ تاریکی کے آخری سرے پر روشنی کی واحد علامت نظر آتی ہے ۔۔۔
تحریر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہمیشہ خیال آتا ہے کہ ادیب اور مترجم میں سے زیادہ کس کا احسان مند ہوا جائے؟
دوسری زبان تک فہم کی رسائی ایک دلچسپ عمل ہے ۔۔۔لیکن اس زبان کے ادب تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔۔۔
عالمی ادب سے عمدہ انتخاب اور تراجم کا بیڑہ جناب اجمل کمال نے نہایت دل بستیوں سے اٹھا رکھا ہے، جس کے لئے ہر پڑھنے والا ان کا ممنون احسان رہے گا ۔۔۔
سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھانے اور نعرے لگانے جیسا مہذب احتجاج ہو، یا با اختیار گروہ سے متصادم ہونے والا پر تشدد احتجاج ۔ ۔ ۔ عوامی مظاہرہ کہلاتا ہے ۔
ادیب کا احتجاج اس ضمن میں بھی اپنی ندرت کو پیش نظر رکھتا ہے ۔ ۔ اور تحریر دبی ہوئی چیخ کی طرح لوگوں کو متوجہ کر لیتی ہے ۔ اور کتنے ہی قلوب و اذہان پر اپنا اثر چھوڑنے کی تاثیر رکھتی ہے ۔ ۔ حتی کہ سرحدیں عبور کر کے دور دیس بھی پہنچ جاتی ہے ۔
میرال طحاوی کا " خیمہ " بھی اسی قسم کا اظہار ہے ۔۔جو بظاہر حالات و واقعات اور حادثات کا تسلسل اور بیانیہ ہے ۔ ۔ مگر در حقیقت، زندگی کو درپیش مسائل اور لاحق خطرات کی جانب بین اشارہ ہے!
ہر بدیسی کتاب اپنے آپ میں ایک طلسماتی کشش رکھتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے ہم ان دیکھے زمانوں، کرداروں اور ان کی مخصوص عادات، رسم و رواج، تمدن اور مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں ۔۔۔اور آگاہی تو خود ایک منتر ہے ۔۔۔۔!
ان دیکھی جگہوں کا سفر ممکن ہے؟
اور کتاب اس کا اثبات ہے!
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2926724850891362