???? منجھدار محبت
???? وجیہہ بخاری
???? قسط نمبر 7
وہ رحمہ بیگم کی طرف آیا
خیال رکھئے گا اپنا وہ مسکرا کر بولا
رحمہ بیگم مسکرا دیں
اور پلیز ماما میری بات پر غور کیجئے گا وہ التجا سے بولا
رحمہ بیگم کا رنگ پھیکا پڑا تھا پھر ایک دم وہ مسکرائیں تھیں
وہ اب مطمئن ہو کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا
_______________
وہ کچن میں آئی تھی تاکہ دوپہر کے کھانے کا انتظام کرے
سارا وہ ملازمہ کو آواز دی
جی بی بی جی
وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی
وہ نور کا غصہ جانتی تھی
آج کے کھانے کا کوئی آئڈیا
جی بی بی ابھی تو رحمہ جی بتا کے ہی نہیں گئی
کیوں اور کوئی نہیں ان سے پوچھنا لازمی ہے وہ غصے سے بولی
نہی بی بی جی وہ میرا مطلب یہ نہیں تھا
بس چپ کرو سمجھ آگئی مجھے یہ سبزیاں کاٹ کے دو مجھے میں زرا آرہی ہوں اور باہر آگئی
اس کی نظر باہر لان میں پڑی جھاں آغا جان کرسی پر بیٹھے تھے اس کے دل کو کچھ ہوا تھا اس وقت وہ چائے پی رہے ہوتے تھے
پر رحمہ بیگم نے نہیں بنا کر دی تھی
کیوں کہ انھیں لگا تھا کے اگر آغا جان چاہتے تو کیسے نا
شاہ میر اشنا سے شادی کرتا
وہ کچن میں گئی
_________________
سارا ابھی تک سبزیاں کاٹ رہی
اففف کتنی سست ہو تم سارا
کب سے سبزیاں ہی نہیں کٹی
باجی اب میں بھی انسان ہی ہوں مشین تو نہیں جو پانچ منٹ میں کاٹ لوں گی
وہ منہ بنا کر بولی
اچھا بس باتیں نہ بناؤ کام کرو اور خود چائے بنانے لگی
وہ بنا کر لان کی طرف گئی وہ ابھی بھی ایسے ہی بیٹھے تھے
اس نے چائے وھیں میز پر رکھ دی اور خود اندر آگئی
آغا جان نے اس کی طرف دیکھا
انھیں اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو رہی تھی
وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی
________________
شہرام خان جیل سے چھوٹ کے آگیا تھا
اب بس وہ ہر وقت شاہ میر سے بدلہ لینے کے چکر میں تھا اس کا دل تھا شاہ آئے اور وہ اس کی جان نکال دے وہ انھی خیالوں میں تھا کہ اسے دوسرے نمبر سے کال آئی
اس نے اٹھایا تو نسوانی آواز تھی
جی آپ شہرام صاحب بات کر رہے ہیں
"جی آپ کو کس سے بات کرنی ہے”
جی مجھے آپ ہی سے بات کرنی ہے
ہاں جی کریں
"میں جانتی ہوں کے آپکی آج کل شاہ میر سے دشمنی چل رہی ہے آپ اس سے بدلہ لینا چاہتے”
جی ایسا ہی ہے وہ حیران تھا کہ یہ کون ہے جو جانتی ہے
"میں کہنا چا رہی ہوں میں آپ کا ساتھ دوں گی ”
پر میں سمجھانا چاہ رہی ہوں کہ آپ غلط کر رہے ہیں
اگر بدلہ لینا ہی ہے تو اصل فساد کی جڑ سے لیں
کیا مطلب ہے تمھارا وہ برہمی سے بولا
میرا مطلب ہے کہ آپ کو شاہ میر کی اگر کمزوری
کا پتا چل جائے تو آپ کا بدلہ آسان ہو جائے گا
ہاں کہہ سہی رہی ہو پر یہ سب ہوگا کیسے
میں اسی لئے تو آپ کو فون کیا ہے
وہ معنی خیزی سے بولی
اچھا تو بتا کیا کمزوری ہے اس لونڈے کی وہ اپنی مونچھوں کو مڑورتے ہوئے بولا
انداز انتہائی گھٹیا تھا
کچھ پل کو تو اسے بھی غصہ ایا مگر کنٹرول کر گئی
وہ لڑکی نور اسی کی وجہ سے اتنا کچھ ہوا
سارے فساد کی جڑ وہ لڑکی ہے تمھیں چاہئے اس سے بدلہ لو اس طرح تمھارا شاہ سے بھی بدلہ پورا ہو جائے گا
کیونکہ اس کی اسی لڑکی میں جان بستی ہے
کہہ تو تم سہی رہی ہو
پر تمھارے پاس کوی سولڈ پلین
ہاں ہے تو سہی پر یہاں ممکن نہی ہے آمنے سامنے بیٹھ کر زیادہ مناسب رہے گا
ٹھیک ہے تم مجھے لوکیشن سینڈ کردو جہاں ملنا ہے اور ٹائمنگ بھی
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا اور فون کاٹ دیا
یاہووووو فون بند کرنے کے بعد اس نے نعرہ لگایا اور رحمہ کے گلے لگ گئی
____________________
وہ کھانا بنا کر کمرے میں آئی تاکہ فریش ہو جائے یونہی موبائل کھولا تو شاہ کے کافی میسج اور کالز آئی ہوئی تھی
وہ کھل اٹھی
اور اسے کال بیک کی
ایک ہی بیل پر کال ریسیو کرلی تھی اس نے
"کب سے کال کر رہا ہوں سو گئی تھی کیا سپیکر سے اس کی ناراضگی بھری آواز ابھری”
وہ کھلکھلا دی
اسے اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت آواز کسی کی نہیں لگی تھی دل کیا بس اسے ہی سنتا رہے
"بزی تھی اب بھلا میں کام چھوڑ تو نہی سکتی نہ وہ شرارت سے بولی”
واہ تو میری بات مجھے ہی واپس” وہ خفا سا بولا
اس نے قہقہہ مارا
"کیا کر رہی تھی ”
کھانا بنا کر آئی تھی تو سوچا فریش ہو جاؤں
"کھانا اور تم” افف یار کیوں ہارٹ اٹیک پر تلی ہو وہ زور سے ہنس کر بولا
"آئندہ یہ بات نا کرنا شاہ ابھی آپ نے کرلی ہے” وہ سنجیدگی سے بولی
اچھا اچھا میڈم نہیں کرتاوہ مسکرا کر بولا
"اچھا تم فریش ہو جاؤ میری بھی میٹنگ کا ٹائم ہو گیا ہے وہ مسکرا کر بولا
اللہ حافظ مس یو
اللہ حافظ اور مسکرا کر فون کاٹ دیا
___________________
وہ بیڈ پر لیٹی ہینڈ فری کانوں میں ٹھونسے مزے سے گانے سن رہی تھی
ثمن تو اسے اتنا خوش دیکھ کر حیران تھی
لگتا ہے پیار کا پاگل پن دو ہی دن کا تھا وہ طنزا بولی
اشنا نے اسکی بات سن ان سنی کردی تھی
ویسے تو اشنا آپی تم مر رہی تھی نہ شاہ بھیا کے لئے مر رہی تھی نا پھر اب کیوں
وہ ناسمجھی سے بولی
میری گڑیا بس تم دیکھتی جاؤ آگے آگے ہوتا کیا ہے
و خیالی پلاؤ بناتے ہوئے بولی
آپی جان میں ابھی تمھیں بتا رہی ہوں ایسا ویسا کچھ نا کرنا وہ ایک ساتھ بھت خوش ہیں
کیوں انکی خوشیوں کی قاتل بننے پر تلی ہو وہ غصے سے بولی ایک بات تو بتا تو میری ہی بہن ہے نا
ہر وقت بس نور نور مجھے تو لگتا یے جیسے تو میری بہن نہیں ہے اسی نور کی ہے وہ برہم ہوئی
میں تمھیں سمجھا رہی ہوں آپی یہی نا ہو بعد میں پچھتانا پڑے تمھیں
اشنا کبھی نہیں پچھتاتی جا اپنا کام کر میرا دماغ نا کھا ایسی ویسی بات سن لے گی
اور دوبارہ سے ہینڈ فری کانوں میں لگا لی تھی
ثمن نے افسوس سے سر ہلایا تھا
وہ بھت بور ہو گئی تھی شاہ کے بغیر اب بھی وہ اسے یاد کر رہی تھی بس وہ کل یا پرسو آنے والا تھا رات کا پہر تھا اسے نیند بھی نہیں آرہی تھی
وہ یونہی موبائل پر لگی کہکشاں سے بات کر رہی تھی اس نے ابھی تک کہکشاں کو نہیں بتایا تھا اپنے اور شاہ کے نکاح کا
اس نے موبائل چارج پر لگا دیا اور خود سونے کی تیاری کرنے لگی کل یونی بھی جانا تھا ورنہ شاہ ناراض ہو جاتا
وہ اس کی سوچ پر مسکرا دی اور سو گئی
_________________
وہ صبح اٹھی تو پانچ بج رہے تھے اس نے جلدی سے نماز پڑھی اور رقیہ بیگم عمران صاحب کے لئے چائے بنانے چلی گئی
وہ چائے بنانے کے ان کے کمرے میں بڑھی
اور دروازہ پر دستک دی
رقیہ بیگم عمران صاحب کے کرتے پر بٹن لگا رہی تھی
اسلام علیکم اس نے مسکرا کر سلام کیا
وعلیکم اسلام اٹھ گئی میری بچی عمران صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
جی بابا جان یہ آپ دونوں کے لئے چائے
شکریہ بیٹا رقیہ بیگم نے چائے پکڑ لی اور اسے ڈھیر ساری دعاؤں سے نواز دیا تھا
_______________
وہ تیار ہو گئی تھی اس نے اپنا موبائل اور بیگ اٹھایا اور لان میں اگئی
جہاں ڈرائیور اس کا انتظار کر رہا تھا
شاہ میر جانے سے پہلے اسے کہہ کے گیا تھا وہی نور کو پک اور ڈراپ کرتا تھا
وہ گاڑی میں بیٹھی اور اسے چلنے کو کہا.
_______________
.
واٹ اور تم ہمیں اب بتا رہی ہو نور کہکشاں سکتے کی سی کیفیت میں بولی
ہاں یہ ہیمیں دوست سمجھتی تو سب سے پہلے بتاتی
ثنا بھی اب کے بولی
جب کے ارسلہ تو اب بھی سکتے میں تھی
ان تینوں کو اس پر ہنسی تو بہت آئی مگر خاموش رہیں
یار سچیوشن ہی ایسی تھی کہ موقع ہی نہیں تھا
وہ ہنسی دبا کر بولی
میرا پیار چھین کر یہ کہتی ہے وہ غصے سے بولی
وہ سب ہنس ہنس کر دوہری ہو گئی تھی
اچھا اب اس کا
کوئی دوست ہی پٹا دے وہ حسرت سے بولی
دفع ہو جا کمینی وہ ہنستے ہوئے بولی
ہاہا ہنستے ہوئے کنٹین کی طرف چلی گئیں
_____________
دیکھ ابھی بتا رہا ہوں اگر اس بار بھی ناکام ہو گیا تو تجھے اٹھوا لوں گا
ایک بار تو وہ ڈر گئی اس کے انداز پر مگر پھر سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئی
وہ لیپ ٹاپ پر تیزی سے کچھ ٹائپ کر رہی تھی جب ثنا کمرے میں داخل ہوئی
نور آپی باہر چلیں نا کھیلتے ہیں
پر ابھی میرا موڈ نہیں ثمن
وہ لیپ ٹا پ پر ہی نظریں
جمائے بولی
اب آپ بھی اس طرح کریں گی
وہ منہ بسورتے ہوئے بولی
چندا تھوڑا بزی ہوں نا
وہ جانے لگی جب اس نے روک لیا
اچھا چلو چلیں
وہ خوش ہو گئی ار اس کا ہاتھ پکڑ کر
یچ بھاگی لڑکی آرام سے خود بھی گرو گی مجھے بھی گراو گی
وہ ہنس کر بولی
اگر گر بھی رہیں ہوں تو بھائی پکڑیں گے نا وہ آنکھ مار کر بولی
چل بدتمیز وہ ہنس پڑی
ثمن نے اس کے آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی
آپی سہی بتایں نظر تو نہیں آرہا نا وہ باندھ کر بولی
نا بلکل بھی نہیں
وہ ادھر ادھر ہاتھ مار کر اس کو دیکھ رہی تھی
جب سامنے سے آتے شاہ میر سے ٹکرا گئی
پکڑی گئی پکڑی گئی وہ بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے بولی
شاہ کو ایسے دیکھ کر ہنس دیا
ثمن بھی ہنسی
ان کو ہنستے ہوئے دیکھ کر اس نے جلدی سے
پٹی کھولی
شاہ میر آپ وہ خوش ہوتے ہوئے بولی
اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا
ہاں نا چلا جاؤں کیا وہ شرارت سے بولا
نہیں بھلا ایسا کب کہا ہے
ویسے اتنی جلدی آگئے آپ تو دیر سے آنے والے تھے
ہاں دل نہیں لگ رہا تھا تمھارے بغیر وہ اس کی طرف پورے انہماک سے دیکھتے ہوئے بولا
میرے سامنے ہی آپ دونوں تو شروع ہو گئے
ثمن حیرت سے بولی
ان دونوں نے قہقہہ مارا
بس کیا کریں کب سے بات نہی ہوئی تو کیا بتاؤں کتنی بے چینی تھی اب سکون ملا ہے وہ آنکھ مار کے بولا
شاہ میر آپ نہ وہ شرماتے ہوئے بولی
آپ فریش ہو جائیں میں کافی لاتی ہوں تھک گئے ہونگے
ہاں یار وہ کمرے میں چلا گیا
کسی نے انتہائی نفرت سے یہ منظر دیکھا تھا
جاری ہے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔