بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 49 آخری قسط جز…


???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 49 آخری قسط

جزلان سیدھا پرمیس کے کمرے کی طرف پہنچا تھا ۔ اس نے دروازہ زور سے کھٹکھٹایا تھا ۔آج بہت ہوگیا جو کام زلنین نہیں کر سکا ۔ وہ یہ کرے گا ۔ چاچو کو بے گناہ ثابت کرنا بہت ضروری تھا ورنہ وہ کھبی خود کو معاف نہیں کر سکے گا ۔جب دستک کرنے پر بھی کوئی جواب موصول نہ ہوسکتا تو جزلان کو چلانا پڑا ۔
"پرمیس دروازہ کھولو !!! ۔”
"پرمیس !!! ۔”
"پرمیس میں تمھارے لحاظ کررہا ہوں کیونکہ تم میری بہن ہو مگر اگر تم نے دس سیکنڈ میں نہ کھولا تو بُرے انجام کے لئے تیار رہنا ۔”
اس نے اتنا کہا تھا اور پرمیس نے دروازہ فوراً کھول دیا تھا ۔اس کو دیکھتے ہے جزلان نے اس جس نظروں سے دیکھا تھا کہ خود کو کافی حد تک کمپوز کیے ہوئی پرمیس اس کے تیور دیکھ کر کنفیوزڈ ہوگئی ۔
"کِک کیا بات ہے ۔”
اس نے نارمل لہجے میں اس سے آنے کی وجہ پوچھی ۔
جزلان کا دل کررہا تھا اسے ایک تھپڑ لگا دے لیکن پھر پھوپھو کے مزاج کا پتا تھا اسے ۔۔۔۔ اس لئے بے حد تحمل سے مگر دانت پیستے ہوے بولا تھا ۔
"چاچو کہاں ہیں ؟ ”
پرمیس نے چونک کر اسے دیکھا ( ڈرامے باز )
"چاچو ؟ کس چاچو کی بات کررہے ہو ۔”ناسمجھی کا اظہار
"پرمیس میں بڑے آرام سے پوچھ رہا ہوں تم سے کہ چاچو کہاں ہیں ۔”
"مجھے کیا پتا اگر تم فائیق چاچو کی بات کررہے ہو تو وہ تو امریکہ ۔۔۔۔۔
وہ آگئے سے اپنی بات پوری کرتی جزلان کا ضبط ٹوٹ گیا اور اس نے زور دار تھپڑ پرمیس کے چہرے پہ مارا کہ وہ سیدھا زمین کے بل گری ۔۔۔۔۔پھر وہ دھاڑا ۔۔۔
"‘میرے چاچو کہاں ہیں !!! بتاو مجھے ۔۔۔”
پرمیس نے تیزی سے مڑ کر اسے خنخوار نظروں سے دیکھا ۔
"تمھاری اتنی جراَت ! کہ تم نے مجھ پہ ہاتھ اُٹھایا ۔” وہ چیخی ۔۔۔۔
"مجھے یہ سب کرنے پہ تم نے مجبور کیا ہے ۔ اب سچ سچ بتاو کون ہے جو تمھیں اسمتعال کر کے یہ سب کررہا ہے یا تم ہی اپنے حسد کی چکر میں اتنی آندھی ہوگئی ہو کہ بے قصور کی بھی جان لے رہی ہو ۔ ”
پرمیس خاموش رہی ۔۔۔ بس اسے گھوری جارہی تھی ۔
"پرمیس اگر میں دادا زولفقار کے ساتھ ساتھ زلنین کو بھی بیج میں لے آیا نا ۔۔۔ تو پھر سواے پچھتاوے کے تمھارے بس کچھ نہیں ہوگا ۔”
پرمیس کا چہرہ ایک دم سفید ہوگیا ۔۔۔ وہ اسے یک ٹک دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ اپنے فیصلے کی مضبوطی تھی ۔۔۔۔ اس نے خود کو نارمل کیا اور مطمن انداز ، قدرے مکار مسکراہٹ اسے اچھال کر بولی ۔
"جو کرنے ہے کر لو ۔۔۔۔ پھر اپنے فائیق چاچو اور ہما کی نانی کے موت کے زمہ دار صرف تم ہوگے ۔۔۔۔۔”
جزلان نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا یہ پرمیس کی آواز ۔۔۔۔
لیکن سر جھٹک کر اس نے انگلی اُٹھا کر اسے کہا ۔۔۔۔
"دو گھنٹے دے رہا ہو چاچو اور نانو کو واپس لاؤ ورنہ تم اپنی موت کی زمہ دار ہوگی اور مجھے قتل کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہوگی ظاہر ہے میرا پورا خاندان قاتلوں سے بھرا تو میں کیوں پیچھے رہوں ۔”
سرد لہجے میں وہ پرمیس کو ایک بدلے ہوے روپ میں پایا تھا ۔ جزلان رُکا نہیں مڑ کر تیزی سے غائب ہوا ۔
••••••••••••••
"بابا !”
ہما نے اتنا کہا تھا اور فائیق نے اسے اپنے ساتھ لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا ۔ اس دُنیا میں وہ اپنے آپ کو اس وقت خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہا تھا ۔ اس نے اللہ سے رحم مانگا تھا ۔ اللہ نے اس کی کھوئی ہوئی رحمت لٹا دی تھی اور وہ رحمت ہما تھی ۔ ہما کا بھی ضبط ٹوٹ گیا اور اپنے کمزور بازو اُٹھا کر ان کے گرد پھیلائے ۔
"بابا ! ”
وہ رونے لگی ۔۔۔۔ اسے لگا جیسے اس کی ماما واپس آگئی ہوں ۔۔۔۔
"آپ کدھر چلے گئے تھے بابا ۔۔۔۔ آپ مجھے کس بے رحم دُنیا میں لے آئے تھے جہاں آزمائشیں رُکنے کا نام ہی نہیں لیتی ، جہاں محبت ، عزت کے لئے انسان ترستا ہے ۔ جہاں نفرت ، تنہائی اپنے عروج پہ ہے اور کسی سانپ کی طرح ہر وقت ہر پل یہ لوگ ڈستے رہتے ہیں ۔ کیوں آپ نے کیوں مجھے چھوڑ دیا ۔ نہ میرے پاس ماما رہی ، نہ نانو اور اب زلنین ۔۔۔۔۔۔”
زلنین کے نام پر فائیق نے اسے الگ کیا اور ہما کے آنسو پونچھے ۔
"زلنین نے تم سے نکاح زبردستی کیا تھا یا اس میں تمھاری رضا مندی شامل تھی ۔”
ان کے بھاری مگر سنجیدہ آواز میں ہما سے پوچھا ۔۔۔۔ ہما انھیں دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
"ہما میں تمھارے سے کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔ بتاو کیا ہوا تھا ۔ تم یہاں کیا کررہی ہو اور یہ تمھارے بازو پہ کس نے نیشان مارے ہیں کیا زلنین نے ۔۔۔۔۔”
اپنے بابا کی پریشانی دے کر وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکی تھی ۔ اس نے فائیق کے آنسو پوچھنے تھے ۔۔
"کسی نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔ یہ مجھے خیر جانے دے مجھے یہ تکلف آپ کے پاس لے کر آئی اور زلنین نے کچھ نہیں کیا وہ کیا کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔”
"وہ کہاں ہے اس وقت ۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔۔”وہ اردگرد دیکھنے لگا پھر ہما کو دیکھا کہ ہما کے زہن میں بہت سے سوال آنے لگے ۔
"آپ ایک بات بتائیں کیا آپ واقعی زلنین کے چاچو ہیں ۔”
فائیق نے اسے دیکھا ۔۔۔۔ پھر سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
"وہ آپ سے نفرت کیوں کرتا ہے ۔”فائیق نے اس کی بات پر اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
"بتائیں نا پاپا آخر ایسا کیا ہوا تھا اور یہ جن اور انسان کی کہانی ۔۔۔۔مجھے سب کچھ جانا ہے پاپا پلیز اس راز کو اس راز کو اب آپ ہی کھول کر ختم کریں میں جانا چاہتی ہوں یہ سب کچھ میرے اردگرد ہورہا ہے اس کی وجہ کیا ہے ماما کی ریحان سے کیسے شادی ہوی ۔ آپ سے کب ہوئی تھی آپ دونوں ایک دوسرے سے الگ کیسے ہوے تھے ۔۔۔۔۔
وہ بہت بے چین ہورہی تھی ایک ہی سانس میں اس نے کئی سوال کر ڈالے تھے ۔
"میں سب بتاتا ہوں لیکن تمھاری نانو کہاں ہے ، اور زلنین ۔۔۔۔۔”
فائیق نے بیٹی کی بات سُنی تو ایک دم انھیں خیال آیا کہ جس نے انھیں اٹیک کیا تھا اس کا کیا مقصد تھا اور وہ یہاں کیسے پہنچے نانو اور زلنین ۔۔۔۔۔
"ہما اُٹھو جلدی سے اُٹھو ۔۔۔۔”
وہ اُٹھے اور انھوں نے ہما کو اُٹھاتے ہوے بے حد عجلت میں کہا ۔
"کیا ہوا ؟ ”
"زلنین اور تمھاری نانو وہ ۔۔۔۔۔۔”
"کیا پاپا ۔۔ کیا ہوا ہے وہ ۔۔۔۔” فائیق نے اس کا ہاتھ تھاما اور بنا کچھ کہے اسے لے کر یہاں سے نکلنے لگے ۔
"بابا بتائیں تو سہی کیا ہوا ہے ۔ زلنین اور نانو تو اس گھر میں ۔۔”
فائیق رُک کر تیزی سے مڑا ۔
"تم وہاں گئی تھی کیا ہوا تھا بولو ۔۔۔”
"وہ ۔۔۔
پھر اس نے سارا فائیق کے گوش گزارا ۔ فائیق سفید چہرہ لیا سب سُنتا گیا ۔
"میری جیسی شکل ۔۔۔ اور زلنین ۔۔۔۔ وہ کدھر ہے ۔”
انھیں اب بھتیجے کے فکر لگ گئی ۔۔۔
"میں ان سب کو چھوڑ کر آگئی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی بابا ۔۔۔۔ میرا اعتبار ٹوٹا تھا ایک سیکنڈ اگر زلنین جن ہے تو آپ اس کے چاچو ۔۔۔ آپ جن ہیں تو میں ۔۔۔۔
"ہما جلدی چلو ۔۔۔۔ سب باتیں اپنے وقت میں پتا چلی جائے گی اگر زلنین کو کچھ ہوگیا تو میں جی نہیں سکوں گا ۔۔۔”
ہما بالکل ٹھنڈی پڑ گئی اگر زلنین کو کچھ ہوگیا تو کیا وہ جی سکے گی ۔
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
"چلیے پاپا ۔”
وہ ان کے ساتھ اس جنگل سے نکلنے لگی ۔
※※※※※※※
وہ گھر پہنچے تھے، خالی گھر کے علاوہ انھیں کچھ نہیں ملا تھا ۔ ہما کا دل جیسے بند ہورہا تھا ۔فائیق بیسمنٹ سے آیا تھا ۔ اس نے ہما کو دیکھا جو بالکل رونے والی ہورہی تھی ۔
"ہما پریشان نہ ہو اسے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔ ہم ابھی گھر جائے گئے ضرور اُدھر ہوگا ۔۔۔۔”
"پاپا مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے ۔”
"اللہ نہ کرے ہما ۔۔۔” فائیق تڑپ اُٹھا اور انھوں نے پیار سے اس کے گال تھپ تھپائے ۔
"ہما ابھی تو مجھے خوشیاں ملی ہے اور میں اس خوشی کے لئے ہر کسی سے لڑ جانے کے لئے تیار ہوں میں ان فسادی کو ختم کے رہوں گا ۔ اب پریشان نہ ہو چلو آو ۔”
انھوں نے ہما کے سر پہ شفقت بھرا بوسہ دے کر اسے چلنے کو کہا ۔
وہ اب چل کر باہر آئے تھے اور بامشکل ہی ڈرائیو وے کی طرف پہنچے کے بھوکلایا ہوا جزلان بھاگتے ہوے آیا ایک دم ہما کے ساتھ فائیق کو دیکھ کر اس کے تیزی بڑھتے ہوے قدم رُکی ۔۔۔
"چاچو !! ”
فائیق نے ہما کا ہاتھ چھوڑ کر اس کی طرف بڑھا تھا ۔
"جیزی میں ہوں ڈرو مت ۔۔ میری آنکھوں سے تم دیکھ سکتے ہو میں کوئی بہروپیا نہیں ہوں ۔”
"میں جانتا ہوں چاچو ۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں آپ کدھر چلے گئے تھے ۔۔۔”
وہ تیزی سے چاچو کے ساتھ لگ کر بولا تھا ۔۔۔ فائیق نے اسے تھپ تھپا کر الگ کیا تھا ۔
"میں بالکل ٹھیک ہوں جزلان تم پریشان نہ ہو زلنین کہاں ہے ۔”
"زلنین ۔۔۔۔ چاچو زلنین زلنین ۔۔۔۔”
وہ جو اب چاچو کی طرف سے مطمن ہوگیا تھا اسے زلنین کی پریشانی ہوگئی تھی ۔
"کیا ہوا زلنین کو ۔۔۔ بولو بتاو ۔”
"وہ زلنین کی جان خطرے میں ہے چاچو بلیک روز میں ہے چاچو مجھے جانے دے ۔۔۔ورنہ میرا بھائی ۔۔”
"تم کیسے پتا چلا ۔۔۔۔ بتاو مجھے جیزی ۔۔۔”فائیق تیزی سے بولا ۔۔۔
"وہ میں اس کے کمرے میں گیا تھا کیمیکل لینے اور اور ۔۔۔مجھے وہاں دیوار پہ خون کے بوند سے لکھا ہوا لفظ پڑھا جس پر وہ زلنین کو بلیک روز ہوٹل بلا رہا تھا ورنہ ہما اور نانو کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گئے ۔
"کیا !!! ۔”
"ہاں چاچو اس لئے مجھے جانے دے۔۔۔۔ آپ بس دعا کیجیے گا ۔۔۔ اور چاچو اس میں پرمیس بھی شامل تھی !! آپ اس وقت دادا کے پاس جاکر سب کچھ سچ سچ بتائیں ۔۔۔ میں تب تک زلنین کو لے آوں گا ۔”
"پاگل مت بنو !! میں چل رہا ہوں تم اِدھر رہو ۔۔۔ ہما ۔۔
وہ اسے غصے سے کہہ کر مڑا تھا لیکن ہما ہما یہاں نہیں تھی ۔۔۔ فائیق کا دماغ بھک سے اُڑھ گیا ۔
"ہما !!! ۔”
پوری وادی فائیق کی تیز آواز پر گونج اُٹھی تھی ۔۔۔۔
※※※※※※※
زلنین اس وقت ہوٹل کی حدود میں داخل ہوا تھا ۔ اس ہوٹل کی اس نے رینیو ویشن کروانی تھی جس سے اس ہوٹل کی حالت کافی حد تک بہتر ہوگئی تھی مگر ابھی بھی بہت کام ہونا تھا ۔۔۔ ہوٹل کی لابی میں اس وقت چوہے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ سامنے بڑے بڑے جالی لگے ہوے تھے جس پر عام انسان تو نہیں گزر سکتا تھا مگر زلنین بڑے آرام سے گزر کر بڑے محتاط انداز سے قدم اُٹھا کر اردگرد دیکھ رہا تھا ۔ یہاں کی خاموشی بڑی پُر اثرار تھی ۔ جیسے ابھی وہ دوسرا قدم اُٹھائے گا تو کچھ بُرا ہوگا مگر جیسے جیسے وہ قدم بڑھا رہا تھا ایسا کچھ بھی نہیں جس چیز کی وہ توقع کررہا تھا ۔ہوٹل کے زمین پہ بڑے ہوے گند کو روندتا ہوا ۔۔۔۔ اس نے بلا آخر گرد و غبار سے بھری سڑھیوں پہ قدم رکھ کر آواز دی ۔
"میں آگیا ہوں
اس کی آواز پورے ہوٹل میں گونجی ۔۔۔ ہوٹل کے فانوس سے لے کر ٹوٹے ہوے واز تک لزر تھے ۔
سکوت ٹوٹ چکا تھا مگر سوائے چمکدار کے ایک دم سامنے آنے اور زلنین کے تیزی سے اسے اٹیک کرنے پر جو اب دور جاکر شیشے سے ٹکرا کر نیچے گرا ہوا تھا ۔ کچھ نہیں ہوا تھا ۔
"میں کہہ رہا ہونا آگیا ہوں میں ۔۔۔۔۔ میری ہما واپس کرو ۔۔۔۔ نانو کو بھی میرے حوالے کرو ۔۔۔۔”
"فائیق زوالفقار !!!! ۔”
وہ ایک بار پھر دھاڑا ۔۔۔۔
وہ اب چل کر سیڑھیوں سے اوپر قدم اُٹھانے لگا تھا اسے محسوس ہوا کوئی اس کے پیچھے وہ تیزی سے مڑنے سے پہلے اوپر ہوگیا تھا تاکہ مڑنے پر کوئی اس پر اٹیک نہ کرے ۔ جب وہ اوپر چھت کے قریب مڑ کر دیکھنے لگا وہاں کوئی نہیں تھا ۔
"زلنین ۔۔۔”
زلنین کی بیٹ اس آواز پر مس ہوئی تھی ۔
"زلنین ۔۔۔۔”
"زلنین تم کہاں ہو ۔۔۔”
ہما ۔۔۔۔ کی آواز زلنین تیزی سے نیچے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔ اور لابی کی طرف آیا ۔۔۔۔ جہاں ہما ہر طرف اردگرد دیکھ کر بے چینی اور بے قراری سے اسے آوازیں دے رہی تھی ۔
زلنین کی آواز پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔
زلنین کو اس نے دیکھا الجھے ہوے بال ، سُرخ آنکھیں ۔ چہرے پہ تھکے بڑھی ہوئی شیو ۔۔۔ سرُخ ناک چہرے کے کچھ اردگرد حصے پہ زخم بھی تھے ۔۔۔ ہما تڑپ اُٹھی تھی اور تیزی سے اس کی طرف بھاگی تھی اور زلنین کے ساتھ لگ گئی تھی ۔۔۔
"ہما ! ۔”
"زلنین ۔۔۔ ( وہ اس سے الگ ہوئی تھی ) ۔۔۔اور اس کے دونوں گال اپنے ہاتھوں سے تھامے تھے اس کے آنکھیں پھر سے بھیگنے لگی تھی ۔
"مجھے لگا تھا ( وہ رُکی پھر اس کو دیکھتے ہوے بولی ) مجھے لگا
میں تمھیں کھو دوں گی اور میں نے اپنے آپ کو کھبی بھی معاف نہیں کرنا تھا ۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا سچ میں زلنین تم جیسے بھی ہو صرف میرے ہو تم قاتل ہوتے تب بھی مجھے کوئی پروا نہ ہوتی تو ایک جن ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم نے کیوں چھپایا اب مجھے سمجھ آئی تم نے شادی پہ زبردستی کیوں کی تھی کیونکہ تمھیں پتا تھا پتا تھا کہ میں ان حالات سے تنگ آکر تمھیں اور اس جگہ کو چھوڑ کر واپس چلی جاوں گی ۔۔یا اگر مجھے معلوم ہوگا کہ تم ایک جن ہو تو میں تب بھی یہاں سے بھاگ جاوں گی اور تم تم مجھے کھونا نہیں چاہتے ۔۔۔۔ یہی نا ۔۔۔۔ اس لئے سب کیا اور میں پاگل تم سے نفرت کرتی رہی حالانکہ وہ نفرت نہیں تھی وہ صرف غصہ تھا تم پر اور مجھے یقین ہے اب مجھے یقین ہوگیا ہے وہ تھپڑ مارنے والے بھی تم نہیں ہو تم تو میرے آنسو نہیں برداشت کر سکتے تھے کجا کے مجھے مارو گئے ۔۔۔۔۔ وہ آگئے سے کچھ کہتی زلنین نے اس کا ہاتھ ہٹا کر اس کے گال تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔
"ہما بس بس تم مجھے صفائی مت دو ۔۔۔۔ میں نے تم سے محبت کی ہے ۔۔۔ بے پناہ تمھارے پر تو سات قتل بھی معاف کر سکتا ہوں یہ تو پھر تمھاری چھوٹی سے ناراضگی اور بے اعتباری تھی اور مجھے خوشی ہوئی کہ تمھاری یہ غلط فہمی دور ہوگئی ۔۔۔ میں کوشش کرتا تھا کہ تمھیں سب بتاوں مگر تمھیں کھونے سے ڈرتا مجھے اس زندگی سے بھی نفرت تھی ہما لیکن کیا کروں میرے رب نے مجھے عطا کی تھی تو اس کے فیصلے سے میں کیسے پھیر سکتا تھا ۔۔۔۔ بدلے میں مجھے کسی جادو کے زیر سے انسان بنے کا طریقہ آزمانا چاہتا تھا مگر اس کے بدلے مجھے کیا ملا تمھاری ناراضگی تمھارا غصہ جو بالکل میرے لئے برداشت سے باہر تھا ۔۔۔۔۔۔ بولتے ہوے چونکہ ہما اس کے پیچھے کسی کو دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ خوفناک حد تک سفید ہوچکا تھا ۔۔۔۔ زلنین اس سے قبل مڑتا ہما نے اسے تیزی سے دھکا دیا اور جو تیزی سے جوکر زلنین کو مارنے آرہا تھا اس کا آپا سیدھا ہما کو جاکر لگا ۔۔۔۔ ہما کے دھکا دینے سے زلنین سیدھا منہ کے بل گرا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس لئے وہ یہ دیکھ نہیں سکا تھا ۔۔۔۔ ہما کی آواز اس کے حلق سے نہیں نکل سکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس نے ہمت سے اپنے پیٹ پہ دھرا تیز دار آلا نکالا ۔۔۔۔۔۔ اور اسے جوکر کو ایک زور دار مکا مارا ۔۔۔۔۔۔ اور پیٹ کو تھام کر نیچے گری ۔۔۔۔۔۔۔۔ زلنین اُٹھنے لگا تو اس نے دیکھا ہما زمین پہ جھکی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
"ہما !!! ۔”
وہ ہما کے قریب آتا اس جوکر نے ہما کے بال کھینچ کر عجیب سے آواز اس کے منہ سے نکال کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا ۔
"ہما !! ۔”
ہما کسی فورس سے دور جاکر دروازے سے پہ گری ۔ زلنین نے تیش سے اُٹھ کر اس جوکر کے منہ پہ لات ماری ۔۔۔۔ پھر ایک دوسری لات اس نے تو گویا لاتوں کی بارش کردی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس جوکر نے زلنین کا پیر پکڑ لیا ۔۔۔۔ اور اسے فانوس کی طرف پھینکا ۔۔۔۔ زلنین کا سر زور دار انداز میں وہاں لگا ۔۔۔۔ ہما نے دُنھدلائی نظروں سے دور سے اس منظر کو دیکھا اور پھر اس نے اُٹھنے کی کوشش اس کے کانوں میں بڑے ڈروانی اورکان پھاڑ دینے والی آواز آنے لگی جو اسے خوف زدہ کررہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے قیامت آگئی ہو ۔۔۔۔۔۔ ہما نے اپنے پیٹ کے درد کی پروا کیے بغیر اپنے کانوں پہ ہاتھ جما کر اُٹھنے کی کوشش کی حیرت کی انتہا تھی اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اس میں اتنی ہمت تھی کہ وہ سامنے پڑا واز اُٹھانے لگی ۔۔۔۔ اور اس سیدھا جوکر کے سر پہ وار کیا اور بالکل نشانے پہ جاکر لگا تھا قہقہ لگاتے ہوے خطرناک شکل والا جوکر زلنین پہ مزید اٹیک کرنے والا تھا کہ سر پہ زور دار واز لگنے سے وہ لڑکھڑایا ۔۔۔۔ مگر سنبھلا ۔۔۔۔ اس نے مڑ کر ہما کو دیکھا ۔۔۔ جو دانت پیسے درد کو پیچھے چھوڑتے ہوے لڑکھڑاتے قدموں سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے اشارہ کیا تو دیوار پہ لگی پُرانی تلوار خود بخود نکلی اور سیدھا ہما کی طرف بڑھنے لگی کہ زلنین نے ان تلواروں کو ہما کے پہنچنے سے پہلے ہی دور جا کر پھینکا
۔۔۔۔۔۔۔
اور اس نے ہما کو تھاما کہ وہ جوکر پھر بھاگتے ہوے زلنین کی طرف پہنچا اس نے زلنین کی شرٹ پکڑی اورزور دار انداز میں کھینچ کر ہما سے دور کیا ۔ اس کے منہ سے بڑی عجیب آوازیں نکل رہی تھی اور اس کا عجیب ہی انداز تھا ہما کو ایک دم کوئی چیز یاد آئی تھی سٹیفن کنگ کے ناول ” اٹ ” میں بھی ایک جوکر تھا وہ بھی تقریباً کچھ ایسی حرکت کیا کرتا تھا ۔۔ اُس جوکر میں اُداس اور غم کی جھلک تھی جبکہ اس میں بھی ۔۔۔۔۔ کیا کرے وہ کیا کرے ۔۔۔۔۔۔ غبارہ !!! لال غبارہ اس میں اس جوکر نے بھی یہ پکڑا تھا لال غبارہ اس جوکر کی کمزوری تھی تو کیا اس کی بھی یہی کمزوری ہوگی ۔۔۔۔۔۔
"ہما بھاگ جاو یہاں سے ۔۔۔۔۔”
زلنین نے اونچی آواز میں اسے اٹیک کرتے ہوے کہا تھا ۔۔۔۔
"یا اللہ میں کیا کروں جیسے آپ نے زلنین کے پاس مجھے بھیج دیا ہے ایسی کچھ کرے ۔۔۔”
درد اب جسم میں پھیلتا جارہا تھا ۔۔۔۔ اس نے دیکھا میوزک پلیئر پڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔میوزک کیا میوزک سے وہ رُک سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ بامشکل قدم اُٹھاتے ہوے اس طرف بڑھی تھی کہ اس طرف سے ایک کالی بد شکل چڑیل نمودار ہوئی اور اس کی گردن فوراً دبوچی ۔۔۔۔ ہما کے منہ سے زور دار آواز نکلی ۔۔۔۔ زلنین اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔ اس نے دیکھا تو بس جو اس کا غصہ تھا اس نے جوکر کو سائڈ پہ پھینک کر اس کالی چڑیل کو ہما سے الگ کر کے اس کا حشر کیا تھا ۔۔۔۔ وہ کسی طرح سے رُک نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہما نے گردن تھام کر گہری سانس لینا چاہی مگر اسے سانس نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا جیسے موت کا فرشتہ آس پاس ہے وہ اس کو لینے آرہا ہے ۔۔۔ اس کا وقت ختم ہوگیا ۔۔۔ اس کی خوشیاں تھوڑے وقت کے لئے تھی ۔۔۔۔اس نے اس طرف دیکھا وہ جوکر اس کی طرف دیکھ رہا تھا بڑی عجیب نظریں تھی اس کی ہما ایک دم ڈر گئی اس کی آنکھیں نشے سے بھرپور ہوئی تھی پھر ہما نے اس کی گردن کو زور سے مڑتے ہوے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ اتنی تیزی سے پھر وہ ایک دم ٹوٹ کر زمین پہ گری تھی اور اس طرف گری تھی جہاں ہما کا پیر تھا ۔۔۔ ہما نے چیختے ہوے اس کے سر کو پیروں سے مارنا چاہا لیکن اس کے بڑے تیز دھار دانت اس کے پیروں کو اٹیک کرنے لگے ۔۔۔۔۔ ہما تیزی سے پیچھے ہٹی مگر آگئے پڑے ٹیبل کو بنا دیکھیے ہی اس کا پیر لڑکھڑایا تھا ۔۔۔۔۔ اور وہ منہ کے بل گری ۔۔۔۔۔ اب وہ نہیں بچ سکتی تھی اس کا وقت بس ختم ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔ انجانے سے اس کے لبوں سے کلمہ شہادت ادا ہوا تھا اور اس سے قبل وہ جوکر اس کو مکمل طور پہ ختم کرتا فائیق پہنچ چکا تھا اور اس نے جوکر کا سر دو حصوں میں کاٹ کر دور جاکر پھینکا تھا اور وہی شیروں والی دھاڑ جو پرُانے فائیق کی ہوا کرتی تھی جس سے بلیک روز کی داروں دیوار ہل گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
جزلان نے بھی دیگر بھوت کو بھی زمین میں ان کے حصے کرتے ہوے اس کی طرف بڑھا ہوا تھا ۔۔۔۔ جہاں زلنین اس چڑیل سے نمٹ رہا تھا جو اس کے چہرے کو کافی حد تک زخمی کر چکی تھی یہ والی کچھ زیادہ ہی نڈر معلوم ہورہی تھی ۔ فائیق نے اسے چھوڑ کر ہما کی طرف لپکا ۔۔۔۔
"ہما میری بچی ہما میری جان آنکھیں کھولو ۔۔۔ اس نے ہما کا چہرہ اُٹھایا اس کی آنکھیں ہلکی ہلکی بند ہورہی اس طرف زلنین کو بھی اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔۔
"ہما جان آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔ ”
"بابا زلنین ۔۔۔۔۔”
اس نے زلنین کو پکارا ۔۔۔۔ فائیق نے مڑ کر زلنین کو دیکھا جو جزلان کے ساتھ اس چڑیل کو مار مار کر ہلکان ہورہے تھے ۔۔۔ نہیں ہما کو زلنین ہی یہاُں سے لے کر جاسکتا ہے ۔۔۔ اس سے پہلے وہ زلنین کو بلاتے ، زلنین تیز سے اسے چھوڑ کر ہما کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے فائیق کو نہیں دیکھا تھا وہ بس ہما کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ فائیق نے اسے دیکھا جو ہما کو اُٹھا رہا تھا ۔۔۔۔۔
"اُٹھو ۔۔۔۔۔ ہما ہما !!!! ۔۔”
اس نے اُٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر اُٹھایا ، ہما بھی زلنین کی گرمائش پاکر ہمت کرتے ہوے اُٹھی ۔۔۔۔ فائیق یہ سب دیکھنا چاہتا تھا لیکن جزلان سے اس چڑیل کو نپٹانے کے لئے مڑا ۔۔۔۔ زلنین نے ہما کا سر اُٹھایا جو اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
"تم ٹھیک تو ہو ہما !!! ۔۔۔
ہما کچھ بول نہیں پائی بس اسے دیکھی جارہی تھی ۔۔۔۔۔ زلنین نے اسے جنجھوڑا ۔۔۔۔۔
"ہما ۔۔۔”زلنین ڈر کر تیزی سے بولا ۔۔۔
"میں ٹھیک ہوں ۔”
زلنین نے اس کے سر پہ پیار کیا ۔۔۔۔۔
"میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں ۔۔۔۔”
اس کے شدت سے بھرا لہجہ ہما کے مدھم پڑتی دھڑکن کو بھی تیز کر پایا تھا مگر ہما جانتی تھی وہ کتنا چاہتا ہے اسے اس کے محبت میں دھڑکن تیز ہونا بھی ضروری نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ہما نے پھول اپنے ٹراوز کی پوکٹ سے نکالا اور اپنے خون الود آنکھوں سے اس کے سامنے کیا ۔۔۔
زلنین نے چونک کر اسے دیکھا ۔
"یہ کالا گلاب دیکھ رہے ہونا زلنین ۔۔۔۔۔ تم ضرور اسے پہنچاتے ہوگے ۔۔۔۔ یہ وہی گلاب جو کچھ روز پہلے میں اسے اپنے ساتھ لے آئی تھی جو تمھارے کمرے کے باہر شیشے کے اندر پڑا ہوا تھا جانتے ہو کیوں ۔۔۔۔
وہ رُکی آواز بھی غائب ہورہی تھی ۔۔۔۔۔
"تم بھی کہتے ہوگئے کہ میں کالا گلاب کیوں اپنے ساتھ لاؤں گی ۔۔ جو دیکھنے میں بد رنگ ، سوگ اور غم کے ساتھ کالے علم کی نیشانی ہے ۔۔۔۔ مگر نہیں اس میں ایسا نہیں ہے اس میں مجھے تمھارا عکس نظر آتا ہے اس کو غلط بالکل نہ لینا کالا خوبصورتی کی نیشانی ہے اللہ کو بھی یہ رنگ بے بد پسند ہے ۔۔۔۔۔ اس میں مجھے تمھاری خشبو آتی ہے یہ خشبو ہی تو مجھے تمھارے تک لائی ۔۔۔۔
یہ مجھے ہمیشہ احساس دلاتا تھا کہ تم چاہئیے جیسے بھی ہو میرے ہو
اس نے مجھے اس لمحے بھی احساس دلایا کہ تم چاہیے جن ہو یا انسان مجھے تم سے محبت ہے اور ہمیشہ رہے گی مرتے دم تک اور مرنے کی بعد بھی ۔۔۔۔۔”
کہتے ساتھ ہی اس نے زلنین کے سینے میں منہ دے دیا ۔۔۔۔۔۔زلنین نے اس کے گرد بازو پھیلائے ۔۔۔۔۔اس نے اونچا اُٹھا کر اسے گھمایا اسے لگا وہ اسے حادثے سے کہی ٹروما میں نہ چلی جائے نکالنے سے پہلے یہ طریقہ آزمانا ضروری تھا کہ یہ سب بھول جائے ورنہ اس کے لئے جینا مشکل ہوجائے گا ۔۔۔۔۔پر وہ رُک گیا اسے ہما کی کمر میں نمی محسوس ہوئی اس نے ہاتھ اُٹھا کر دیکھا تو لزر اُٹھا خون اور اس کی کمر اور پیٹ سے تیزی سے نکلتا ہوا خون ۔۔۔۔ ہما کو گرنے سے پہلے اس جوکر نے اس کے پیچھے بھی وار کیا تھا لیکن ہما کو پتا نہیں چلا تھا ۔۔۔۔۔ اس نے ہما کو دیکھا جس کا چہرہ ٹھنڈا ہوچکا تھا ۔۔۔ ہاتھ جو اس کے گرد پھیلے ہوے تھے وہ ساکت ہوکر گر گئے تھے ۔۔۔ بس اس کی ہلکی سی آواز آئی تھی ۔۔۔۔۔
"الوداع زلنین ۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے زلنین کی ٹھوڑی چھوتی ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔۔ اور زلنین کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گا ۔۔۔۔۔۔
ہما اس کے ہاتھ میں دم توڑ چکی تھی ۔

ہما اس کے ہاتھ میں دم توڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔ زلنین بھی جیسے ساکت ہوکر اس بازو میں لئے زمین کے بل گر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
فائیق اور جزلان نے مڑ کر دیکھا تو ان کو لگا جیسے پوری دُنیا جیسے گھوم گئی ہو ، دونوں تیزی سے چلاتے ہوے بڑھے تھے ۔۔۔۔
"ہما !! ۔”
زلنین بس اس کے سفید چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ختم ہوگئی ۔۔۔۔۔ اس کی ہما ختم ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا مذاق کیا اس کی قسمت نے ۔۔۔۔۔۔۔ اتنا بڑا مذاق ۔۔۔ فائیق نے تڑپ کر ہما کا چہرہ پکڑا ۔۔۔۔۔
"ہما ہما آنکھیں کھولو ۔۔۔۔۔ زلنین اسے کیا ہوا ہے یہ تو بالکل ٹھیک تھی ۔۔۔۔۔۔ بس تھوڑی سی چوٹوں سے کون مر سکتا ہما ہما ۔۔۔۔۔”
انھوں نے دیوانہ دار اس کے چہرے کو جھٹکے دینے شروع کردئے ۔۔۔۔ جزلان کھبی اسے تو کھبی زلنین کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ہما مر گئی زلنین کی ہما مر گئی ۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ایسا کیوں ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
"زلنین سے اُٹھاو یہ مجھ سے اپنی ماں کی طرح ناراض ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہما میں نے وعدہ کیا تھا تمھارے ساتھ رہوں گا تمھیں چھوڑوں گا نہیں ہما ابھی تو تو تم مجھے ملی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ پلیز اُٹھو ہما اُٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھوں نے ہما کے چہرے پہ اپنا سر ٹکا دیا تھا ۔۔۔۔
جزلان کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں ۔۔۔ اس نے زلنین کا کندھا ہلایا ۔۔۔۔” زلنین ۔۔۔۔۔۔ زلنین ۔۔۔۔۔۔۔ ”
زلنین کا سکتہ نہیں ٹوتا تھا اس نے بس ہما کا ہاتھ تھاما ہوا تھا جو ٹھنڈا یخ تھا پیچ میں ہما کے ہاتھ میں بلیک روز تھا ۔۔۔۔ جو ان کے درمیان دبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فائیق کے آنسو ہما کے چہرے کو بگھو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔ اور ایک ایک نمی ہما کے اندر جذب ہوتی جارہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
"زلنین ۔۔۔۔۔ چاچو زلنین کو دیکھے زلنین ۔۔۔۔
جزلان نے فائیق کو مخاطب کرتے ہوے پاگلوں کی طرح زلنین کو جنجھوڑا مگر زلنین اندر سے مر چکا تھا اس نے زندہ لاش ہی رہنا تھا ۔۔۔۔۔۔ سارے زندگی اس کی سزا تھی مگر یہ سزا نہیں آزمائش تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس آزمائش پہ زلنین کو گزرنا تھا ۔۔۔۔۔۔ تب ہی جاکر اسے اپنا انعام ملنا تھا ۔۔ اللہ کے خاص بندوں کو خاص آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ اور یہ آزمائش میں صدیاں بھی لگ جاتی ہے ۔۔۔ لیکن کسی کو بھی اس آزمائش میں ہمت نہیں ہارنے چاہیے اور یہی چیز زلنین کررہا تھا ۔۔۔۔۔ وہ ٹوٹ گیا تھا وہ ہار گیا تھا ۔۔ اس کی متاع اس سے چھین لی گی تھی ۔۔۔ اندر اتنی توڑ پھوڑ ہوگئی تھی کہ کہنے کے لئے کچھ رہ ہی نہیں گیا تھا ۔۔۔۔۔ کیا کہتا اب کیا کہتا ۔۔۔۔۔
"زلنین ہوش میں آ میرے بھائی ۔۔۔۔”
جزلان نے اس کے گال پکڑ کر اسے جھٹکے دئے اسے تھپڑ مارے ۔۔۔۔۔ کچھ تو کرے مگر وہ کچھ نہیں کر پارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
"زلنین ۔۔۔۔۔۔۔ زلنین ۔۔۔”
زلنین چونکہ اس نے اس طرف دیکھا جہاں سے کوئی اسے پکار رہا تھا ۔۔۔۔
"زلنین مجھے بچاو ۔۔۔۔۔۔۔۔”
"زلنین انھوں نے مجھے قید کر لیا ہے ۔۔۔۔ زلنین زلنین ۔۔۔
زلنین نے سر اُٹھا کر دوسری طرف منہ کر کے دیکھا تھا وہاں کوئی نہیں تھا پھر اس نے ہما کی طرف دیکھا لیکن یہاں یہاں ہما نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔۔
فائیق کو احساس نہیں ہوا تھا کہ اس کے بیج میں ہما کی باڈی کو اُٹھا لیا گیا تھا اور اس میں اب بھی تھوڑی سی سانس باقی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
وہ مری نہیں تھی وہ زندہ تھی وہ مرنے کے قریب تھی ۔۔۔۔ اسے قید کر لیا تھا ۔۔۔۔ اور کسی میں نہیں کالے آئینے میں وہی سُنہری رنگ سے بنایا ہوا جزلان کا سُنہری آئینہ جس میں بہت سے راز پتا لگنے تھے ، بہت سے چیزوں سے پردہ اُٹھنا تھا ۔۔۔۔۔ اور زلنین کو اپنے ہما واپس پانی تھی جس میں انسانی طاقت کم جناتی طاقت زیادہ آگئی تھی وہی طاقت جس سے ہما انجان تھی جس کے استعمال سے وہ اپنے دُشمن کو ایک سیکنڈ میں ختم کر سکتی تھی اس دشمن نے خوف کے زیر اسے کالے آئینے میں قید کردیا تھا ۔۔۔۔ ورنہ آج وہ جس مقصد میں کامیاب ہوچکے تھے انھوں نے بُری طرح ناکام ہونا تھا ۔۔۔۔
وہ سارے تیزی سے اُٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہما !!!!!! ۔۔۔”
————————–
… ختم شد