پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

محمد اسد خان ملتانی کا یومِ وفات آزاد دائرۃ المعار…


محمد اسد خان ملتانی کا یومِ وفات
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
November 17, 1959

محمداسد خان ملتانی المعروف اسد ملتانی کا شمار برصغیر پاک وہند کے معروف شعراء اردو و فارسی گو میں ہوتا ہے ۔

آپ 13 دسمبر 1902 ء کو ملتان کے علمی ادبی پٹھان شیرانی خاندان کے یہاں اپنے آبائی گھر طاقِ اسحاق میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد غلام قادر خان یوں تو ضلع ملتان کے دفتر میں ایک کلرک تھے مگر آپ کو علمِ نجوم میں ملکہ حاصل تھا۔علامہ اقبال کے گرویدہ تھے تاہم اقبال سے محبت جناب اسد ملتانی کو ورثے میں ملی۔آپ نے ابتدائی تعلیم چرچ مشن ہائی اسکول سے حاصل کی ۔جو بعد ازاں ایمرسن کالج کے نام سے مشہور ہوا۔1921 میں گورنمینٹ کالج لاہور میں داخلہ حاصل کیا۔اُن دنوں علامہ اقبال وہاں فلسفے کے پروفیسر کے طور پر تعینات تھے۔اسی دور سے جناب ِ اسد کا علامہ اقبال سے فکری اور روحانی تعلق پیدا ہوا ۔اور انہیں اپنے فلسفہء شعر کے بارے میں کہنا پڑا
شعر میں حضرتِ اقبال کا پیرو ہونا
ہے اگر جُرم تو بیشک اسد اقبالی ہے
بقول خضر تمیمی علامہ اقبال جناب اسد ملتانی کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے ۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ "آیندہ پنجاب سے دو نوجوانوں سے مقصدی شاعری کی روایات باقی نظر آتی ہیں ۔ایک ایم ڈی تاثر دوسرے اسد ملتانی۔ علامہ اقبال کی وفات پر ایک طویل مرثیہ لکھا ۔جس کے پیش لفظ میں غلام احمد پرویز لکھتے ہیں "اقبال کا مرثیہ درحقیقت عالمِ اسلام کی بیکسی اور یتمی کا مرثیہ ہے ۔اور اسے وہی شخص لکھ سکتا تھا جس کی انگلیاں نبضِ ملٹّ پر اور نگاہیں رفتارِ زمانہ پر ہوں۔جس کا دماغ حقایقِ قرانی سے منور اور قلب دردِ ملّی سے لبریز ہو۔یہ توفیق حلقہء اقبال ہی کے کسی رندِ سرشار کا حصہ تھی اور ظاہر ہے جنابِ اسد سے بڑھ کر اس سعادت کا مستحق اور کون ہو سکتا تھا ۔” علامہ اقبال اور اسد ملتانی کے روحانی اور وجدانی تعلق کو اقبالیاتِ اسد ملتانی میں اس کے مولف پروفیسر جعفر بلوچ نے بہت عمیق مطالعے اور تحقیق کے بعد یکجا کیا ہے ۔جعفر بلوچ لکھتے ہیں ۔ "حضرت اسد ملتانی اپنے شاعرانہ مقام و مرتبے کے لیحاظ سے اُن چار پانچ شاعروں میں شمار ہونے کے مستحق ہیں جنہوں نے حضرت علامہ اقبال کے بعد علم و ادب میں نمایاںمقام حاصل کیا ۔قومی اور ملّی شاعری کے حوالے سے حضرت حفیظ جالندھری اور حضرت ماہرالقادری کے ہم مرتبہ اور ہم رُتبہ قرار دیے جا سکتے ہیں ۔” جناب ماہر القادری اپنی کتاب کاروانِ حجاز میں جناب اسد ملتانی کے بارے میں رقمطراز ہیں ۔”ہمارے لیے وجہ ء کشش ان کے اسلامی افکار اور انکی سادگیء کردار ہے ۔اسد ملتانی اقبال کے فیض یافتہ ہیں شاعر ہیں اور بلند پایہ شاعر ہیں ،ایک زمانے میں انکی شاعری کا یہ رنگ بھی تھا
رہیں نہ رند ،یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دوچار دس کی بات نہیں
مگر اب انکی شاعری سو فیصدی مقصدیت رکھتی ہے ۔اسد ملتانی کی شاعری حالی ،اکبر ،اقبال کے سلسلہ افکار کی ایک کڑی ہے ۔اسد ملتانی میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ واضح فکر اور سُلجھا ہوا دماغ رکھتے ہیں ،بات خوب جچی تُلی کہتے ہیں ۔مطالعہ بھی خاصا وسیع ہے ”

1922 میں ملتان سے روزنامہ شمس کا اجراء کیا ۔اور ایک پرنٹنگ پریس بھی ذاتی طور پر خریدی گئی ۔جو مطبع الشمس کے نام سے مشہور ہوئی۔پنجاب یونیورسٹی سے 1924 میں بی اے کیا اور ملتان میں اسلامیہ ہائی اسکول میں بطور انگلش ٹیچر مامور ہوئے۔ 1926 میں انڈین پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد دہلی میں وائسرائے ہند کے پولیٹیکل دفتر میں بطور سپریڈیڈینٹ مقرر ہوئے ۔قیام ِ پاکستان تک دہلی ہی میں مقیم رہے بعد ازاں کراچی چلے آئے اور بحثیت سینیئر فارن افسر آپکی خدمات حکومتِ پاکستان نے وزراتِ خارجہ امور میں بطور اسٹینٹ سیکرٹری حاصل کر لیں ،بعد ازاں وزارت ریاست میں ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر فایض رہے ۔1955 میں وہ ریٹائر ہونا چاہتے تھے اور واپس اپنے وطن ملتان آکر علمی ادبی امور سمبھالنا چاہتے تھے مگر اسلام آباد کے دارالخلافہ بننے پر آپکی مدت ملازمت میں توسیع ہوگئی۔ جناب اسد ملتانی نے دہلی میں 1926میں ملتانی ادیب دوستوں کی مجلس قائم کی 1934 بزمِ اردو شملہ کا آغاز کیا جس کے تحت ہندوستان کے طول و عرض میں بہت بڑے مشہور مشاعرے منعقد کیے گئے۔اس بزم کے صدر ملک غلام محمد تھے جو پاکستان کے گورنر جنرل کے عہدے پر فایض رہے،تنویر علی سیکرٹری تھے اور چار برس تک جناب اسد ملتانی اسے معتمد عمومی رہے۔قیام ِ پاکستان کے بعد گورنر جنرل غلام محمد کے مشورے پر کراچی میں اقبال اکیڈیمی قائم کی ۔اسد ملتانی نائب صدر اور ممتاز حسن صدر تھے۔اور میٹروپول ہوٹل کراچی میں پہلا یومِ اقبال منایا گیا۔ قومی و ملیّ شاعری کیساتھ ساتھ آپ نے مختلف اہم موضوعات پر مقالے پر تحریر کیے۔جن میں رعدیہ
زبان کا اثر مذہب پر
اردو الفاظ کا صیح تلفظ اور املا
قائد اعظم کا اصل وطن
غالب کا غیر مطبوعہ شعر
جگر کا شعر
خواجہ فرید
بہت نمایاں ہیں جو برعظیم کے جرایئد میں اشاعت پزیر ہوچکے ہیں
وفات
اسلام آباد آمد کے سترہ دن بعد 17 نومبر 1959 ء کو حرکت ِ قلب بند ہونے کے سبب خالق ِ حقیقی سے جا ملے ۔انہیں ملتان میں ان کے آبائی قبرستان حسن پروانہ میں سپردِ خاک کیا گیا ۔ان کے قریبی دوست مولانا احتشام الحق تھانوی کراچی سے خصوصی طور پر نمازِ جنازہ پڑھانے ملتان تشریف لائے۔ جناب اسد ملتانی کی آخری نظم بھی پاکستان ہی کے لیے تھی ۔جو سات اکتوبر کے عنوان سے ماہِ نو میں شایع ہوئی