” ماضی کے جھروکوں سے ایک تحفہ ”
احمد جاوید صاحب اپنے استاد اور اردو کے صف اول کے نقاد اور ممتاز شاعر سلیم احمد کے متعلق روایت کرتے ہیں – سلیم احمد محمد حسن عسکری کے شاگرد تھے جو معلوم تاریخ میں اردو کے سب سے بڑے اور معتبر نقاد تھے، کسی بات پر سلیم احمد سے شدید ناراض ہوئے اور یہ ناراضی اتنی بڑھی کہ سلیم احمد کو حکم دیا کہ آئندہ مجھے اپنی شکل بھی مت دکھانا، اس بات پہ سلیم احمد جیسے حساس آدمی کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا، جب ذرا طبیعت سنبھلی تو ان کے دوست مداح اور معتقدین ان کے پاس بیٹھنے لگے – ایک روز نیم دراز حالت میں سلیم احمد بارہ پندرہ لوگوں میں گھرے بیٹھے تھے، دیکھا کہ عسکری صاحب اپنے نوجوان بھانجے عمیم اختر عرف منو کے ہمراہ چلے آ رہے ہیں، دروازے میں آ کر بغیر دعا سلام کئے سلیم احمد سے کہا کہ ” منو نے تمہاری غزل ٹی وی پر سنی اور مجھ سے ضد کرنے لگا کہ مجھے سلیم احمد سے ان کا کلام سننا ہے لہٰذا اپنی کچھ غزلیں اسے سناؤ ” سلیم احمد نے فی الفور اپنی غزل تحت اللفظ سنانی شروع کی تو عسکری صاحب نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ ” ترنم کے بغیر بھی کوئی غزل ہوتی ہے کیا؟ ” اب سلیم احمد کا مزاج کچھ ایسا تھا کہ کبھی باتھ روم سنگر بھی نہ رہے ہوں گے اور پھر اس وقت ان کے اگلے دو دانت بھی ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ گفتگو بھی کرتے تو سیٹی کی سی آواز ساتھ رہتی تھی، مگر استاد کا حکم ایسا تھا کہ فوری طور پر اپنی غزل ترنم سے سنانی شروع کر دی – یہ ساری باتیں عسکری صاحب نے کھڑے کھڑے کیں اور کہا کہ ” میں ذرا عصر پڑھ آؤں تب تک منو کو کچھ غزلیں سناؤ ” وہ عصر کیا مغرب پڑھ کے لوٹے اور کھڑے کھڑے اپنے بھانجے سے کہا ” بس! اب چلو، بہت سن لیں غزلیں ” اور یوں بغیر دعا سلام کئے چلے گئے – اس دوران سلیم احمد ایک گھنٹے سے زائد اپنے ٹوٹے پھوٹے ترنم سے غزلیں سناتے رہے اور مجلس میں موجود بعض لوگ یعنی اطہر نفیس وغیرہ تو سلیم احمد کی بے بسی پر باقاعدہ آنسوؤں سے رونے لگے، عسکری صاحب کے چلے جانے کے تھوڑی دیر بعد جب ماحول کچھ بہتر ہوا تو ایک صاحب نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ آج عسکری صاحب نے کیا ظلم کیا؟ کس شے کا بدلہ لیا؟ یہ بات سن کر فوری طور پر سلیم احمد نے اس شخص کو ڈانٹ دیا کہ ” مزید ایک لفظ بھی ان کے استاد کے بارے میں نہ کہا جائے، یہ میرے استاد بلکہ میرا سب کچھ ہیں، اگر یہ مجھے جوتوں کا ہار پہنا کر بیچ چوراہے پر کھڑا کر کے ترنم سے غزلیں سنانے کا حکم دیں تو یہ بھی مجھے منظور ہوگا ”
———————————————————
” منتخب کلام ”
کچھ ہیں منظر حال کے کچھ خواب مستقبل کے ہیں
یہ تمنا آنکھ کی ہے، وہ تقاضے دل کے ہیں
ہم نے یہ نیرنگیاں بھی دہر کی دیکھیں کہ لوگ
دوست ہیں مقتول کے اور ہمنوا قاتل کے ہیں
عمر ساری راہ کے پتھر ہٹاتے کٹ گئی—!!!
زخم میرے ہاتھ میں اک سعئ لاحاصل کے ہیں
اک دھنک لہرا رہی ہے آنسوؤں کے درمیاں
میری آنکھوں میں ابھی تک رنگ اس محفل کے ہیں
اس سے آگے کون جائے دشتِ نامعلوم میں
ہم نہ کہتے تھے کہ سارے ہمسفر منزل کے ہیں
ان کو طوفانوں سے کیا مطلب بھنور سے کیا غرض
دوست جتنے ہیں تماشائی فقط ساحل کے ہیں
تو جسے اپنا سمجھتا ہے وہ مالِ غیر ہے
تیرے ہاتھوں میں جو سکے ہیں کسی سائل کے ہیں
جانچتی ہے غیر کو ہر لحظہ چشمِ عیب جو
نقش مجھ میں جتنے ہیں سارے کسی کامل کے ہیں
(سلیم احمد)
ابوالحسن علی ندوی
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔