لفظ ” ریختہ” شاعری میں …. جو یہ کہے کہ ریختہ کیو…
لفظ ” ریختہ” شاعری میں
….
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
غالب
….
امید مجھ کوں یوں ہے ولیؔ کیا عجب اگر
اس ریختے کو سن کے ہو معنی نگار بند
ولی دکنی
….
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
میر تقی میر
کس کس طرح سے میرؔ نے کاٹا ہے عمر کو
اب آخر آخر ان کنے یہ ریختہ کہا
میر تقی میر
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میرؔ
یہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
میر تقی میر
ریختہ رتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے
معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا
میر تقی میر
دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختہ کے
بہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے
میر تقی میر
میرؔ کس کو اب دماغِ گفتگو
عمر گزری ریختہ چھوٹا گیا
میر تقی میر
……
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
اک بات لچر سی بہ زبانِ دکنی تھی
قائم چاندپوری
….
مصحفی ریختہ کہتا ہوں میں بہتر ز غزل
معتقد کیونکے کوئی سعدیؔ و خسروؔ کا ہو
مصحفی غلام ہمدانی
…
کہہ غزل اور اس انداز کی جرأت اب تو
ریختہ جیسے کہ اگلی تری مشہور ہوئی
(جرأت )
….
قائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار
اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر
قائم چاندپوری
….
کیا ریختہ کم ہے مصحفیؔ کا
بو آتی ہے اس میں فارسی کی
مصحفی غلام ہمدانی
…..
ریختہ کا اک نیا مجذوب ہے شہپرؔ رسول
شہرت اس کے نام پر اک ننگ ہے بہتان ہے
شہپر رسول
….
موئے نے منہ کی کھائی پھر بھی یہ زور زوری
یہ ریختی ہے بھائی تم ریختہ تو جانو
شمیم قاسمی
….
موئے جز میرؔ جو تھے فن کے استاد
یہی اک ریختہ گو اب رہا ہے
مصحفی غلام ہمدانی
…..
اب نہ غالبؔ سے شکایت ہے نہ شکوہ میرؔ کا
بن گیا میں بھی نشانہ ریختہ کے تیر کا
محمد علوی
….
یار کے آگے پڑھا یہ ریختہ جا کر نظیرؔ
سن کے بولا واہ واہ اچھا کہا اچھا کہا
نظیر اکبرآبادی
….
کیوں نہ آ کر اس کے سننے کو کریں سب یار بھیڑ
آبروؔ یہ ریختہ تو نیں کہا ہے دھوم کا
آبرو شاہ مبارک
….
ریختہ کے قصر کی بنیاد اٹھائی اے نصیرؔ
کام ہے ملک سخن میں صاحب مقدور کا
شاہ نصیر
…
جب سے معنی بندی کا چرچا ہوا اے مصحفیؔ
خلطے میں جاتا رہا حسن زبان ریختہ
مصحفی غلام ہمدانی
…
ریختہ گوئی کی بنیاد ولیؔ نے ڈالی
بعد ازاں خلق کو مرزاؔ سے ہے اور میرؔ سے فیض
مصحفی غلام ہمدانی
….
پیچ دے دے لفظ و معنی کو بناتے ہیں کلفت
اور وہ پھر اس پہ رکھتے ہیں گمان ریختہ
مصحفی غلام ہمدانی
…
اے مصحفیؔ استاد فن ریختہ گوئی
تجھ سا کوئی عالم کو میں چھانا نہیں ملتا
مصحفی غلام ہمدانی
….
قائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبول
ورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا
قائم چاندپوری
….
آنکھیں نہ چرا مصحفیٔؔ ریختہ گو سے
اک عمر سے تیرا ہے ثنا خوان ادھر دیکھ
مصحفی غلام ہمدانی
….
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
اک بات لچر سی بزبان دکنی تھی
قائم چاندپوری
….
مصحفیؔ گرچہ یہ سب کہتے ہیں ہم سے بہتر
اپنی پر ریختہ گوئی کی زباں اور ہی ہے
مصحفی غلام ہمدانی
….
جا پڑے چپ ہو کے جب شہر خموشاں میں نظیرؔ
یہ غزل یہ ریختہ یہ شعر خوانی پھر کہاں
نظیر اکبرآبادی
….
طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جواب
ریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا
جرأت قلندر بخش
….
کہیں ہیں ریختہ پنجاب میں نظرؔ صاحب
بقدر ذوق تم ان کی سنو ہوا سو ہوا
پریم کمار نظر
…
یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے
کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا
شبلی نعمانی
….
پیشکش عمر جاوید خان