( غیــر مطبــوعــہ ) خــــــوابوں اور مشــــینوں …
( غیــر مطبــوعــہ )
خــــــوابوں اور مشــــینوں کو ہٹوایا جائے
دل کو دل سمجھـا جائے ' سمجھــایا جائے
سَـــمتیں چــار ہیں اور بچھـڑنے والے دو
دو راہے کو چــــــــــوراہے پر لایا جائے
چَــــرواہے کی نیـــند ہمیں کھا جائے گی
دھـــول اُڑائی جائے ' شـور مچـایا جائے
وقت نے تو مایوس کِیـا ہے آنکھـــوں کو
اِس منظـــر میں اور کہِیں سے آیا جائے
کس دانے پر کس کا نام ہے ' کِسے خبر
برتن پر جـو لکّھـــــــا ہے ' مِٹوایا جائے
جمـع کِیـا جائے سب دیکھنے والـوں کو
عادِل ؔ ! پـردہ پلکـوں سے سِـلوایا جائے
( ذُوالفِـقــار عـادِل ؔ )
— with Zulfiqar Adil.