( غیــر مطبــوعــہ ) اختیار کیا ابھی تلک دل پر ا…
( غیــر مطبــوعــہ )
اختیار
کیا ابھی تلک دل پر
اختیار باقی ہے
ناظرینِ ہستی کو
جبر کے تماشے میں
دیکھنا ہے کیا کیا کچھ
انتظار باقی ہے!
مُٹّھیوں میں لوہے کی
ساعتیں گلابی ہیں
حَبـس کا زمانہ ہے
کھیل سے کھلاڑی تک
دل خموش روتا ہے
سوگ وار باقی ہے
اختیار باقی ہے
کھل رہی تھی جب شبنم
جل رہا تھا گل کوئی
آنکھ نم ہوئی میری
شب کی اجلی چادر پر
ہونٹ رکھ گیا کوئی
زخم زخم موسِــم میں
ایک پیار باقی ہے
اختیار باقی ہے!
( ثروتؔ زہرا )