پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیـر مطبـوعـہ ) جب ملاقات کے اَطوار بدل جاتے ہی…

( غیـر مطبـوعـہ )

جب ملاقات کے اَطوار بدل جاتے ہیں
دوستی، پیار کے اظہار بدل جاتے ہیں

کام تو بس یہ وہی شیریں و فرہاد کا ہے
فن وہی رہتا ہے فن کار بدل جاتے ہیں

ہم کو آتا ہے کبھی ہوش تو جاتے جاتے
ڈوبتے وقت کی رفتار بدل جاتے ہیں

جنس اَن مول سہی، خواب وہی بے قیمت
صبح ہوتی ہے تو بازار بدل جاتے ہیں

بھوگتے، بھوگتے اس درد کو مدّت گذری
جب سخن کیجییے' اشعار بدل جاتے ہیں

( رضـوان علی )

— with Rizwan Ali.