منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) کیا مِثل. مُرغ. باد نُما ‘ سانس ل…


( غیر مطبوعہ )

کیا مِثل. مُرغ. باد نُما ‘ سانس لیجیے
جب دل ہی بُجھ گیا ہو تو ‘ کیا سانس لیجیے

اُس جان. بزم ِ خوش نفَساں سے مِل آئے آپ
اب میرے پاس آ کے ‘ ذرا سانس لیجیے

بُوے ِحنا نہیں’ نہ سہی ۔۔۔ بُوے خوں سہی
کیسے فَضا سے ہو کے جُدا ‘ سانس لیجیے

ایسا نہ ہو کہ مَحبس. فرصت ہی گِر پڑے
کوئی نہیں ہے کام تو کیا ‘ سانس لیجیے

جانے کہاں کہاں سے گذرنا پڑے ہمیں
صبح. سفر ہے مثل. صبا ‘ سانس لیجیے

( لیاقت علی عاصِمؔ )