غیر اللہ کو پہلا سجدہ سیماب اکبرآبادی شاعر آگرہ …
غیر اللہ کو پہلا سجدہ
سیماب اکبرآبادی
شاعر آگرہ دسمبر 1941ء
غیر اللہ کو پہلا سجدہ
سجدہ کا حکم کس نے دیا ——– خود اللہ نے
سجدہ سے انکار کس نے کیا —– صرف عزازیل نے
اے قدامت کے تہوں میں رینگنے والے دماغ
سہو و نسیاں اور ظلم اور جہل کے پالے دماغ
اے درایت کے مخالف اے روایت کے غلام
علمِ ظاہر کے پجاری لفظ و صورت کے غلام
پ-ردۂ مذہب میں شاعر پر ہوا تو حملہ ور
الحذر اے منکرِ اسلامِ شاعر الحذر
میرے فنِ شاعری پر تیری تنقیدِ کثیف
آج پھر بوجہل ہے گویا پیمبر کا حریف
تو ابھی شاعر کا زورِ کشف پاسکتا نہیں
تو ابھی اسرار کے پردے اٹھا سکتا نہیں
تو ابھی بزمِ ازل کے راز سے واقف نہیں
واقفِ انجام ہے آغاز سے واقف نہیں
علم تیرا مکتبی ہے عقل تیری خام ہے
سایۂ جبرئیل میں تو مرغِ زیرِ دام ہے
تو نواؤ ساز کو یک رنھ کرسکتا نہیں
عقل کو مذہب سے ہم آہنگ کرسکتا نہیں
ملتِ بیضا کے اے کافر گرو بت خانہ ساز
کفر مین اور شرک میں تجھ کو کہان ہے امتیاز
تجھ کو کیا حق ہے کہے شیطاں کو مردود و لعین
وہ اگر ابلیس ہے تبلیس ہے تیرا بھی دیں
کفر شیطان پر نہیں تشریک کا ابتک قیاس
اور تری توحید میں بھی شرک کا ہے التباس
‘ منکرِ سجدہ ہے مشرک ‘ واہ کیا ارشاد ہے
عالمانہ اک تجاہل وہ بھی بے بنیاد ہے
پوچھتا ہوں تجھ سے اے کرمِ کتابِ کہنگی
زور دے کر ذہن پر تو نے یہ سوچا ہے کبھی ؟
سجدۂ غیرِ خدا تو جس کو کہتا ہے خطا
اس کو خود اللہ نے روزِ اول رکھا روا
اور تجھے انکار ہے سجدے سے غیر اللہ کے
کیوں نہ پھر کہدوں خدا کے حکم کا منکر تجھے ؟
کون سا سجدہ تھا وہ ، اس امر کی تحقیق کیا
جھک گیا سجدے میں سر سجدے کی پھر تفریق کیا
سجدہ آدم کو — خدا کے سامنے ! بیجا ہی تھا
تھا وہ تعظیمی مگر فی نفسہٖ سجدہ ہی تھا
ذاتِ آدم پر نہ تھا اطلاقِ غیر اللہ کیا ؟
تھا اگر یہ امرِ رب تو امرِ رب اب کیا ہوا ؟
امرِ رب کیا امرِ رب سے ہوگیا ہے مسترد؟
دے خلافِ ‘ اسجدو ‘ قرآن سے کوئ سند
تو یہ کہتا ہے کہ غیر کو سجدہ ہے حرام
اور یہی شیطان کا بھی فیصلہ تھا لا کلام
اپنی کم فہمی پہ جاتی ہی نہیں تیری نظر
گمرہی کا بار رکھ دیتا ہے تو شیطان پر
یہ نہ سمجھا تھوپ دی قدرت نے اس پر گمرہی
وہ کہتا ہی رہا ربِ لِما اغویتنی
دیکھ اس کی بیکسی بیچارگی و اضطرار
پھر منشاۓ فطرت کا یہ جبر و اختیار
رہنے دے اس راز کو شاعر کے سینے میں نہاں
نصِّ ‘ انی اعلم ‘ کا تو کہاں ہے رازداں
آج غیر اللہ کے سجدے سے تو ناراض ہے
تیرا ماضی حال کا تیرے مگر نباض ہے
حکم جب تو نے دیا اکبر کو سجدہ ہے روا
کیا ترا زورِ شریعت ان دنوں مفلوج تھا ؟
پاۓ انساں پر جھکا کرتا تھا جب انساں کا سر
کیا ترے فتووں پہ تھا اس وقت لقوے کا اثر ؟
حکمِ رب اس کو سمجھتا ہے تو پھر اے کم نگاہ
سجدۂ تعظیم کو اب کردیا ہے کیوں گناہ ؟
سجدۂ آدم کا پھر دنیا کو اذنِ عام دے
جو نہ شیطاں کرچکا اس کام کو انجام دے
جھکنے دے انساں کے اگے جبیں انسان کی
جب مسلم ہے کہ آدم سے بنا ہے آدمی
عظمتِ آدم فرشتوں کے لۓ مسجود تھی
آدمی کو خیر سجدہ آدمی ہی کا سہی
‘ آدمی کو ہے روا سجدہ ‘ کھلا اقرار کر
ورنہ پھر شیطان کی تعریض سے انکار کر
تو اگر اس رسم میں ترمیم کرسکتا نہیں
حق پرستی میں تری تسلیم کرسکتا نہیں
یہ تو پہلا کارنامہ صرف تھا شیطان کا
جس نے غیر اللہ کو سجدہ نہ آکر تک کیا
باوجودِ امرِ رب جس نے نہ جھکنے دی جبیں
کیوں نہ پھر کہیۓ اسے وحدت پرستِ اولیں
اس ترے انکار میں ابلیس کی تائید ہے
اے موحد ! یہ بھی تو شیطان کی تقلید ہے
ہے مقلد جس کا کہتا ہے اسی کو راہزن
شرم کیوں آتی نہیں اے جانشینِ اہرمن
تیری گمراہی سے ہے شیطاں کو کیا واسطا ؟
وہ عقیب اس دل کا ہے جس دل میں ہو عشقِ خدا
تیرے دل میں خالصاً حق کی محبت ہی نہیں
کیا کرے گا چور آکر گھر میں دولت ہی نہیں
تیرے کاروبارِ دنیاوی سے بے پروا ہے وہ
ہاں ترا دشمن ہے لیکن دشمنِ دانا ہے وہ
راہ زن ہوتا تو یہ آسان تھا اس کے لۓ
بند کردیتا وہ تری مسجدوں کے راستے
حجِ کعبہ کے سفر کی توڑدیتا ہمتیں
مطلقاً ویران پڑی رہتیں یہ تیری مسجدیں
تجھ میں اس میں فرق ہے لاریب صبح و شام کا
تیرے دل میں ہے خودی اور اس کے دل میں ہے خدا
اپنے رب سے واسطہ اس کا براہِ راست ہے
اور تجھ پر منطبق ‘ از ماست و برماست ‘ ہے
عقل تیری اس ادا پر تنگ بھی حیراں بھی ہے
منکرِ شیطاں بھی ہے تو پیروِ شیطاں بھی ہے
گو موحد ہے مگر کامل موحد بھی نہیں
تو ابھی شیطاں کا پورا مقلد بھی نہیں
——————- جاری
سیماب کی نظم ‘ موحدِ اعظم ‘ پر مولانا مفتی مہدی حسن مفتئ راندیر نے نومبر 1941ء مذہبی اور ادبی بنیاد پر تنقید کی تھی ۔
سیماب اکبرآبادی کی نظم
کافر گر سے
………………
بشکریہ وسیم سیّد
………..