منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

غمِ ہستی کی رات جاتی ہے تیری زلفوں کی بات جاتی ہے …


غمِ ہستی کی رات جاتی ہے
تیری زلفوں کی بات جاتی ہے

تیرا دامن چلا ہے ہاتھوں سے
یا میری کائنات جاتی ہے

بندہ پرور، ذرا سی ہمدردی
بندہ پرور، حیات جاتی ہے

کس خرابات کی ہوا کھانے
صبح آتی ہے رات جاتی ہے

اس طرح کب یہ زخم بھرتا ہے
جان لے کر حیات جاتی ہے

ہم اگر ہوش میں عدمؔ آئیں
چشمِ ساقی کی بات جاتی ہے

عبدالحمید عدمؔ

المرسل: فیصل خورشید