اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

عداوت (ریاض عاقب کوہلر) قسط نمبر 10 وہ خاموشی سے…


عداوت (ریاض عاقب کوہلر)
قسط نمبر 10

وہ خاموشی سے دائیں طرف بہنے والے تیز رفتار دریا کو دیکھنے لگی۔
بشام سے گزر کر وہ آگے بڑھتے چلے گئے ۔پٹن پہنچ کر اس نے ایک مناسب سے ہوٹل کے سامنے گاڑی روک دی ۔
ہوٹل میں داخل ہو کر اس نے اپنے لیے کھانے کا بتادیا۔نیہا نے گاڑی سے اترنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور بیرے کو بلا کر اپنے لیے وہیں کھانا منگوا لیا تھا۔
کھانا کھا کر ثوبان نے ظہر کی نماز ادا کی اور دوبارہ گاڑی میں آن بیٹھا ۔نیہا اس کی آمد سے پہلے بیرے کو کھانے کا بل ادا کر چکی تھی ۔اس سے بات چیت کیے بغیر اس نے خاموشی سے گاڑی آ گے بڑھا دی ۔شام ہونے تک وہ جگلوٹ پہنچ گئے تھے ۔
وہ نیہا کو مخاطب ہوا ۔
”یہاں سے گلگت گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر ہے مگر میں تھک گیا ہوںاور یہیں جگلوٹ میں رات گزاروں گا ۔“
وہ بے پرواہی سے بولی ۔”تو میں کیا کروں ۔“
”جو تمھاری مرضی آئے کرو،یہاں سے گلگت تک ویگنیں جاتی ہیں تمھیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے ۔جانا چاہو تو سو بسم اللہ ،اگر رہنا چاہو تو اپنے لیے کمرے کا بندوبست کرنا پڑے گا ۔ میں تمھارے ساتھ ایک کمرے میں گزارا نہیں کر سکتا ۔“
”گزارا تو میں بھی نہیں کر سکتی ،مگر مجبوری ہے ۔“
”کوئی مجبوری نہیں ….اگر پیسے کم پڑ جائیں تو مجھ سے ادھار لے لینا ،مگر کمرہ علاحدہ علاحدہ ہوگا ۔“
وہ اس سے بحث کیے بغیر نیچے اتر گئی تھی ۔اپنے لیے علاحدہ کمرہ لے کر وہ اندر گھس گئی۔ غسل کر کے اس نے اپنے لیے کھانا منگوایا اور پھر کھانے سے فارغ ہو کروہ دروازہ اندر سے کنڈی کر کے موبائل فون پر ماں سے بات کرنے لگی۔والدصاحب اور بہن بھائیوں کی خیریت کا پوچھ کر اس نے چند منٹ گپ شپ کی اور پھر رابطہ منقطع کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔مگر کسی نامعلوم وجہ سے اسے بے چینی ہوتی رہی ۔جسے اس نے ڈر پر محمول کیا تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کافی دیر تک ثوبان کے بارے سوچتی رہی ۔اس نے جس طرح نیہا کو ذہنی طور پر اذیت دی تھی وہ بھلانے کے قابل نہیں تھی ۔وہ گھڑی ،ٹاپس اور انگوٹھی اس کے لیے بہت زیادہ قیمتی تھیں ۔ اسے ذرا بھی گمان ہوتا کہ ثوبان ایسا کچھ کر گزرے گا تو وہ کسی قیمت پر وہ چیزیں اس کے حوالے نہ کرتی ۔اس نے تو یہ سوچ کر بے پرواہی سے وہ چیزیں ثوبان کے حوالے کر دی تھیں کہ داداجان کو کہہ کر وواپس لے لے گی ۔مگر اب پچھتاوے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا تھا ۔وہ انھی سوچوں میں گم تھی کہ دادا جان کی کال آ گئی ۔ان کے کال نہ کرنے کا گلہ کر کے اس نے ان دونوں کی خیریت کاپوچھااور پھرثوبان سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔
”وہ غسل خانے میںہے، دادا جان !جیسے ہی نکلتا ہے میں آپ کی بات کرا دیتی ہوں۔“یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کر دروازے کی طرف چل پڑی ۔دروازے کی کنڈی کو بے آواز کھولتے ہوئے وہ ثوبان کے کمرے کے سامنے پہنچی اور اپنا موبائل فون پیٹھ پیچھے کر کے اس نے ثوبان کے کمرے پر دستک دی اور پیچھے ہٹ کر فون کان سے لگا دیا ۔
ثوبان دروازہ بند کر کے سونے کی کوشش کر رہا تھا ۔بستر سے اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی بات منہ سے نکالتانیہا نے کہا ۔
”یہ لیں دادا جان !….ثوبان غسل خانے سے باہر نکل آیا ہے۔“یہ کہہ کر اس نے اپنا موبائل فون ثوبان کی طرف بڑھا دیا ۔
ثوبان بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا ۔فون کان سے لگاتے ہی اس نے زوردار طریقے سے ۔”اسلام علیکم داداجان !“کہا۔ضیاءالحق نے اس سے خیریت دریافت کر کے اسے نیہا کا خیال رکھنے کی ہدایت کی اور رابطہ منقطع کر دیا ۔ثوبان نے بغیر کچھ کہے موبائل فون اس کی جانب بڑھایا اور کمرے کا دروازہ بند کر لیا ۔نیہا کی حکمت عملی سے ان کا بھانڈا پھوٹنے سے بچ گیا تھا ۔
اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے ثوبان کو اپنی حرکت پر افسوس ہوا۔نیہا کا علاحدہ کمرے میں سونا کسی طور مناسب نہیں تھا ۔یہ تو شکر تھا کہ ثوبان کو اس کے ساتھ والا کمرہ مل گیا تھا ۔پھر بھی رات کو پانچ چھے دفعہ اسے دروازہ کھول کر نیہا کے بندکمرے کے دروازے کو دیکھنا پڑا ۔
صبح ناشتے کے بعد وہ نیچے پہنچا۔ نیہااسے گاڑی کے قریب ٹہلتی نظر آئی ۔ا سے مخاطب کیے بغیر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔نیہا بھی کچھ کہنے بنا خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی ۔
گلگت تک وہ بغیر کوئی بات چیت کیے پہنچ گئے تھے ۔یوں بھی لاہور سے گلگت تک کے طویل راستے میں ان کے درمیان جو گفتگو ہوئی تھی وہ فقط ایک دوسرے کو کوسنے ،برا بھلا کہنے اور طعنہ زنی کرنے پر مشتمل تھی ۔بلکہ شادی کے بعد سے ہنی مون کے پروگرام کے علاوہ انھوں نے سیدھے منہ ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی تھی۔شادی کے بعد ان دونوں کے دلوں میں موجود نفرت میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا تھا ۔اور شادی کے بعد وہ دونوں پہلے سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے برے ہونے کے قائل ہو گئے تھے ۔
گلگت شہر کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ثوبان نے اپنے داداجان کے دوست شہباز شاہ کو کال کر دی تھی ۔
اس نے ثوبان کو میگنی محلے کا محل وقوع سمجھا کر اسے وہاں پہنچنے کی ہدایت کی ۔
گلگت شہر میں وہ چند مرتبہ پہلے بھی آ چکا تھا اس لیے اسے رہنمائی کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔شہید ملت روڈ پر آگے بڑھتے ہوئے وہ لنک روڈ پر مڑا ۔وہاں شہباز شاہ اس کا منتظر تھا ۔
ثوبان کی کالے رنگ کی فور ڈور اس نے بڑی آسانی سے پہچان لی تھی ۔
اس کے ہاتھ اٹھانے پر ثوبان نے گاڑی اس کے قریب روک دی ۔ ثوبان کے اندازے کے مطابق اس کی عمر پچاس سے ساٹھ سال کے درمیان تھی ۔
نیچے اتر کر وہ پرتپاک انداز میں اس سے ملا۔نیہا نے بھی نیچے اتر کر اسے سلام کہااور اس نے ۔”جیتی رہو بیٹی !“کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔
شہباز شاہ کی رہنمائی میں وہ ایک خوب صورت سی کوٹھی میں داخل ہو گئے ۔
چائنہ لڑکیوں کے سے نین نقش کی مالک ایک نوجوان لڑکی کوٹھی کے سرسبز لان میں کھڑی تھی ۔ان کے گاڑی سے باہر آتے ہی وہ بڑی محبت سے انھیں ملی تھی ۔نیہا سے گلے مل کر اس نے ثوبان سے بھی مصافحہ کیا تھا جو نیہا کو ایک آنکھ اچھا نہیں لگا تھا ۔وہ ہمیشہ سے لڑکیوں کے نامحرم مردوں کوہاتھ ملانے کو برا تصور کرتی تھی ۔
”میرا نام اشتفیلہ ہے۔“اس نے فوراََ اپنا تعارف کرایا۔
”میں ثوبان الحق ہوں آپ ثوبی کہہ سکتی ہیں مگر بدلے میں میرا اشتی کہنا سننا پڑے گا۔“ثوبان نے مسکرا کر جواب دیاتھا۔
”ڈن ہو گیا ۔“وہ مسکرا کر نیہا کی طرف متوجہ ہوئی ۔
”اور آپ ؟“
”میں نیہا اکرام الحق ہوں اور نک نیم سے مجھے نفرت ہے ۔“نیہا روکھے لہجے میں بولی۔
”ویسے اب تو آپ کا نام نیہا ثوبان الحق ہونا چاہیے نا ۔“اس نے معصومیت سے پوچھا ۔
”یہ ضروری تو نہیں ہے۔“نیہا نے منہ بنایا۔
”رواج تو ہے ؟“اشتفیلہ بھی ان پڑھ گنوار نہیں تھی کہ خاموش رہتی ۔
”تو آپ اپنے شوہر کا نام ساتھ لگا لینا۔“نیہا اس پر چوٹ کرنے سے باز نہیں آئی تھی۔
”اچھا مشورہ ہے ۔“برا منائے بغیر اشتفیلہ نے اپنی چھوٹی چھوٹی پر کشش آنکھیں شوخی کے اندازمیں مٹکائیں ۔
نیہا اسے کوئی جواب دیے بغیر شہباز شاہ کے پیچھے بڑھ گئی جو ان کے انتظار میں برآمدے کے سامنے رک گیا تھا ۔
”چلیں ثوبی !“وہ با آواز بلند بولی ۔
ثوبان نے کہا ۔”چلتے ہیں میں ذرا ملازم کو اندر لے جانے والا سامان دکھا دوں ۔“
ثوبان گاڑی کے ساتھ کھڑے ملازم کو اندر لے جانے والے سامان کے متعلق بتاکر اشتفیلہ کے ساتھ چل پڑا ۔
”ویسے یہاں ٹھنڈ کافی زیادہ ہے انکل !“نیہا نے شہباز شاہ کو کہا۔
”ہاں بیٹی !….اور اب تو روز بہ روز بڑھے گی ۔محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کچھ زیادہ ہی خطرناک ہے اس بارے ۔“
”کون سی پیشن گوئی باباجانی ؟“اشتفیلہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا ۔
”سردی بڑھنے کے بارے ۔“
”سردی تو اچھی ہوتی ہے نا ۔اور ویسے بھی یہاں سیر کو آنے والے سردی ہی تو انجوائے کرنے آتے ہیں ۔کیوں نیہا باجی !“
”پتا نہیں لوگ کیوں آتے ہیں،مگر مجھے تو سردی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔“نیہا منہ بناتے ہوئے بولی ۔یہ بات وہ قدرے اخلاق سے بھی کہہ سکتی تھی ،مگر جانے کیوں اس کے دل میں اشتفیلہ کے لیے ایک کدورت سی پیدا ہو گئی تھی ۔شاید اس کا اپنے دشمن ثوبان کے ساتھ بے تکلف ہونا اسے اچھا نہیں لگا تھا ۔
””اور آپ کو ؟“اشتفیلہ ثوبان کو مخاطب ہوئی ۔
”میں تو آتا ہی سردی انجوائے کرنے ہوں ….اف کتنی رومان پرور اور سکون آور ہوتی ہے یہ سردی بھی ؟انسان کے دل میں بھی ٹھنڈ اتر جاتی ہے ؟“
”میرا خیال ہے آپ آرام کرنے سے پہلے کھانا کھانا پسند کرو گے۔“
”جی انکل !….یہ ٹھیک ہے ۔“نیہا نے جلدی سے کہا کہ اس نے صبح کا ناشتا اس وجہ سے نہیں کیا تھا کہ اس کے پاس فقط کمرے کے کرائے ہی کے پیسے تھے ۔ اور اس ضمن میں ثوبان کو کچھ کہنا اسے گوارا نہیں تھا ۔
”اشتفیلہ بیٹی !….کھانا لگواو¿۔“شہباز شاہ نے کہا ۔
اور اشتفیلہ ۔”جی ابو جان !“کہہ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی ۔
”آپ لوگوں کو رستے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ؟“
”نہیں چچا جان !“ثوبان نے جواب دیا ۔
شہباز شاہ نے حیرانی سے کہا۔”ویسے آپ نے راستے میںپورے اڑھائی دن لگا دیے ،رستا اتنا زیادہ طویل تو نہیں ہے۔“
ثوبان ہنسا۔”ہمیں کون سا ڈیوٹی پر پہنچنا تھا ۔“
شہباز شاہ نے بھی ہنستے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔”صحیح کہا بیٹا !“
اشتفیلہ نے کھانا لگ جانے کی اطلاع دی اور وہ ڈائینگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئے ۔
”اتنا زیادہ اہتمام۔“کھانے کی ٹیبل پر سجے لوازمات دیکھ کر ثوبان بے ساختہ بولا ۔ ”آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ ہم آج پہنچیں گے ؟“
”آپ کے دادا جان نے کل رات ہی کو بتا دیاتھا کہ آپ لوگ جگلوٹ پہنچ گئے ہو اور صبح یہاں پہنچو گے ۔“
کھانے کے دوران اشتفیلہ حق میزبانی ادا کرتے ہوئے مختلف پکوان اٹھا اٹھا کر ان دونوں کی طرف بڑھاتی رہی ۔اس کی توجہ زیادہ تر ثوبان پر مبذول رہی ۔
کھانا کے بعد انھوں نے ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر قہوہ پیا اور پھر اشتفیلہ انھیں ان کی خواب گاہ میں لے آئی ۔حسبِ توقع کمرے میں ایک ہی بیڈ لگا ہوا تھا۔ان کے سامان والے بیگ ملازم وہاں چھوڑ گیاتھا۔
اشتفیلہ انھیں خواب گاہ میں چھوڑ کر باہرجانے لگی۔ نیہا نے اسے ملازما کو بھیجنے کا کہہ دیا ۔
اشتفیلہ سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔نیہا جلدی سے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی ۔جبکہ ثوبان اپنے بیگ سے کپڑے نکال کر ہینگروں میں لٹکانے لگا۔
ملازما اجازت مانگ کر اندر داخل ہوئی ۔نیہا نے اپنے دو تین سوٹ استری کے لیے اس کے حوالے کیے اور لیٹ گئی ۔ثوبان نے بھی اپنے سوٹ ملازما کے حوالے کیے دروزاہ کنڈی کیا اوربیڈسے تکیہ اور کمبل اٹھا کر صوفے کی طرف بڑھ گیا ۔رات کو دونوں صحیح طریقے سے نہیں سو پائے تھے اس لیے دونوں کو سونے کی حاجت محسوس ہو رہی تھی ۔
ثوبان کے چپ چاپ صوفے پر لیٹ جانے پر نیہا کو حیرت ہوئی تھی ۔مگر اس کے ساتھ اسے یہ بات اچھی طرح معلوم تھی ان کا باری باری سے بیڈ پر سونے کا سلسلہ اسی طرح باقی تھا ۔یقینا اگلے دن نیہا نے صوفے پر ہونا تھا۔
٭٭٭
نیہا کی آنکھ کھلی تو ابھی تک ثوبان لیٹا ہوا تھا ۔کمرے کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی ۔ ملازما نے کپڑے استری کر کے ہینگر میں لٹکا دیے تھے ۔اپنے کپڑے لے کر وہ واپس آگئی ۔ تھوڑی دیر بعد وہ نہا دھو کر خواب گاہ سے باہرنکل آئی تھی ۔ثوبان بھی اس دوران جاگ گیا تھا۔
نیہا کو چاے کی حاجت محسوس ہورہی تھی۔ملازما کو دیکھ کر اس نے میزبانوں کے متعلق پوچھا تو پتا چلا وہ لان میں تھے۔
”میرے لیے ایک پیالی چاے بنا کر وہیں لے آو¿۔“اسے کہہ کروہ باہر لان میں نکل آئی ۔لان کے ایک کونے میںباسکٹ بال کا پول لگا تھا ۔اشتفیلہ دوپٹا کمر سے باندھ کر باپ کے ساتھ باسکٹ بال کھیل رہی تھی ۔وہ اس حال میں بالکل پرائمری سکول کی بچی لگ رہی تھی ۔ پاو¿ں میں سپورٹس شوز اور سر کے بالوں کو پونی میں باندھ کر اس وقت وہ اپنی عمر سے بہت چھوٹی لگ رہی تھی ۔ باسکٹ بال کے پول کے ارد گرد چند میٹر کے علاقے میں سیمنٹ کا پختہ فرش ڈالا گیا تھا۔اور پھر باقی علاقے میں خوب صورت گھاس اگی ہوئی تھی ۔پختہ فرش کے ساتھ گھاس پر ایک گول میز کے ساتھ چار کرسیاں رکھی ہوئی تھیں ۔میز پر شیشے کا جگ اور دو تین گلاس رکھے ہوئے تھے ۔
یہ ناول آپ www.facebook.com/urdu.font.stories پر پڑھ رہے ہیں

نیہا کو دیکھتے ہی شہباز شاہ نے ہانپتے ہوئے کہا ۔”نیہا بیٹی !….میری مدد کر و ،اشتفیلہ نے تو مجھ بوڑھے کو ہر ا کررکھ دیا ہے ۔“
”سوری انکل !“وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔”باسکٹ بال میرے ناپسندیدہ کھیلوں میں سرفہرست ہے ۔“
”نیہا باجی !….اس کے بجائے اگر آپ یہ کہتیں کہ میں باسکٹ بال کھیلنا جانتی ہی نہیں تو زیادہ بہتر ہوتا۔“ اشتفیلہ کو اس کا باسکٹ بال کو برا کہنا بالکل اچھا نہیں لگا تھا ۔
”مطلب تو ایک ہی بنتا ہے ۔“نیہا بے پرواہی سے بولی ۔
شہباز شاہ گھبرا کر بولا۔”ارے آپ لوگ تو سنجیدہ ہو گئیں ۔“
”نہیں ابو جی !….ایسی کوئی بات نہیں۔‘اشتفیلہ نے جلدی سے بات سنبھالی ۔”نیہا میری بڑی باجی ہے ۔میں بھلا گستاخی کر سکتی ہوں،یہ تو میں یونھی لاڈ کر رہی تھی۔“
مگر نیہا نے کسی قسم کی صفائی پیش کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ملازما چاے کے برتنوں کے ساتھ حاضر ہوئی اور نیہا کے سامنے میز پر برتن رکھنے لگی ۔
”ٹھیک ہے ،تم جاو¿ میں خود بنا لوں گی ۔“نیہا نے ملازما کو کہا ۔
وہ ۔’جی بی بی جی !“کہہ کر واپس مڑ گئی ۔نیہا اپنے لیے پیالی میں گرم دودھ اور پتی کا ساشے ڈال کر چینی ملانے لگی ۔
شہباز شاہ اور اشتفیلہ دوبارہ کھیلنے لگ گئے تھے ۔اسی وقت ثوبان اندر سے برآمد ہوا ۔ دور ہی سے اس نے زور دار ہانک لگائی ۔
”ارے اشتی !….تم تو مجھے مائیکل جارڈن کی بیٹی لگ رہی ہو ۔“اس نے باسکٹ بال کے ایک بہترین کھلاڑی کا نام لیا ۔
”ثوبی !….جلدی آو¿ابو جانی تھک گئے ہیں ۔“اشتی اسے دیکھتے ہی جوش سے بولی ۔
”نہیں بھئی مجھے تو معاف رکھو ۔“وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔”اشتی جیسی خطرناک کھلاڑی کے ساتھ بھلا کون پنگا لے سکتا ہے ۔“وہ بھی اپنے لیے چاے بنانے لگا تھا ۔
”نہیں آپ کو تو کھیلنا پڑے گا ۔“اشتفیلہ باسکٹ بال بغل میں دبا کر ان کی طرف بڑھی ۔شہباز شاہ بھی ہانپتا ہوا ۔کرسی پر آ بیٹھا تھا ۔
”اشتی بیٹی !….مجھ سے مزید امید نہ رکھنا۔“ثوبان کی دیکھا دیکھی وہ بھی بیٹی کو اشتی کہنے لگا تھا ۔
”ٹھیک ہے ابوجان !….اب تو ثوبی آ گیا ہے نا۔“اشتفیلہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا ۔
”اچھا مجھے چاے تو پینے دو ۔“ثوبان ہنس پڑا تھا ۔
نیہا کو اس کی ہنسی زہر لگ رہی تھی ۔یوں بھی وہ جانتی تھی کہ ثوبان باسکٹ بال کا کتنا اچھا کھلاڑی ہے۔اور اب تواسے ایک نوجوان لڑکی کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا موقع مل رہا تھا۔
”اچھا جلدی کرو میں نے پریکٹس کرنی ہے،تین دن بعد ہمارے مقابلے ہیں ۔“
”کس چیز کے مقابلے ؟“
”باسکٹ بال کے مقابلے ہیں اور کس چیز کے ۔سالانہ ٹورنامنٹ ہے ۔“وہ باسکٹ بال کو اپنی انگلی پر گھمانے لگی ۔
”مگر مجھے کوئی خاص کھیلنا نہیں آتااور تم خاصی خطرناک کھلاڑی لگ رہی ہو ۔“
اشتفیلہ ناز سے بولی ۔”آپ نے کون سا مقابلا کرنا ہے،بس مجھے پریکٹس کرا دو۔“
”اچھا چلو دیکھتے ہیں ۔“ثوبان چاے کی خالی پیالی میز پر رکھ کر کھڑا ہو گیا ۔اور اشتفیلہ خوشی سے پھدکتی آگے بڑھ گئی ۔ثوبان نے گرم جیکٹ اتار کر کرسی کے ساتھ لٹکا دی تھی ۔
پختہ جگہ پرپہنچ کر وہ ثوبان کو کہنے لگی ۔”ویسے آپ کا اتنا لمبا قد ہے ….آپ باسکٹ بال کے بہت اچھے کھلاڑی بن سکتے تھے ۔“
ثوبان ہنسا ۔”تمھارے جیسی کوئی اچھی کھلاڑی پہلے مل جاتی تو ضرور سیکھ لیتا۔“
”ثوبان بہت اچھا کھلاڑی ہے باسکٹ بال کا ۔“ان کے دور ہوتے ہی نیہا سے رہا نہ گیا اور وہ دبے لہجے میں شہباز شاہ کو مخاطب ہوئی ۔اس وقت جانے کیوں اس کے لہجے میں ہلکا سا تفاخر در آیا تھا ۔
”مگر وہ تو کچھ اور کہہ رہا ہے ۔“شہباز شاہ بے یقینی سے بولا۔
”ابھی دیکھ لینا ۔“نیہا نے اعتماد سے کہا تھا۔
”اچھا اب میں اس طرف سے ڈربلنگ کرتی ہوئی آو¿ں گی اور پول کے قریب جا کر گول کروں گی ۔جبکہ آپ نے مجھے روکنا ہے ۔“اشتفیلہ ثوبان کو ہدایات دینے لگی ۔”اور پھر آپ گول کرنے کی کوشش کرنا اور میں روکوں گی ۔“
ثوبان نے کہا ۔”ٹھیک ہے ۔“
وہ تھوڑی دور سے ڈربل کرتی ہوئی آئی ثوبان نے جان بوجھ کر اناڑی پن سے اسے روکنے کی کوشش کی ۔اشتفیلہ جھکائی دے کر دوسری جانب نکلی اور مخصوص سٹپ لے کر گول کر دیا ۔
”واہ ….واہ….“ثوبان نے تالی بجا کر اسے داد دی ۔
شہباز شاہ نیہا کو کہنے لگا ۔”اس سے بہتر دفاع تو میں کر رہا تھا ۔یہ کیسا اچھا کھلاڑی ہے ؟“
نیہا جھلا کر بولی ۔”وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہے،بچی سمجھ کر اس کا دل رکھ رہا ہے۔“
”چلو ٹھیک ہے بیٹی !“شہباز شاہ بہ ظاہر اس سے متفق ہوتا ہوا بولا ۔مگر اس کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ نیہا کی بات کو ایک بیوی کے حسن ظن سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں تھا ۔
زندگی میں پہلی بار نیہا کے دل میں خواہش ابھری کہ ثوبان اپنی گیم کا اظہار کرے ۔مگر اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی ۔ثوبان اسی طرح اناڑی پن سے کھیلتا رہا ۔وہ بال پکڑ کر جیسے ہی ڈربلنگ کی کوشش کرتا اشتفیلہ بال اس سے چھین لیتی ۔اور جب اشتفیلہ گول کرنے آتی تو آسانی سے گول کر لیتی ۔نیہا کا یہ گمان کہ ثوبان ایک خوب صورت لڑکی کے سامنے اپنے کھیل کا مظاہرہ کرے گا بالکل غلط ثابت ہوا تھا ۔
پندرہ بیس منٹ کے بعد وہ گراو¿نڈ سے باہر نکل آئے ۔اشتفیلہ کا سانس پھولا ہوا تھا اس کے برعکس ثوبان کا سانس بالکل نارمل چل رہا تھا ۔
”بھئی اشتی تو بہت اچھی کھلاڑی ہے۔“کرسی پر بیٹھتے ہوئے ثوبان تعریف بھرے لہجے میں بولا ۔
”آپ روزانہ میرے ساتھ پریکٹس کیا کریں میں آپ کو سکھا دوں گی۔“اشتفیلہ فخریہ لہجے میں بولی ۔
نیہا غصے سے اپنے ہونٹ چبانے لگی اسے ثوبان کا رویہ ذرا بھی پسند نہیں آیاتھا ۔اس سے چپ نہ بیٹھا گیا اور وہ براہ راست ثوبان کو مخاطب ہوئی ۔
”ویسے اناڑی پن کے مظاہرے کا فائدہ ؟“
”کیا مطلب ؟“ثوبان ششدر رہ گیا تھا ۔
”میں کہہ رہی ہوں تم جاو¿ اور اس بڑی لائن کے باہر سے بال باسکٹ میں پھینکو ۔“ نیہا کا انداز کچھ حکمیہ سا ہو گیا تھا ۔
اسے کیا ہو گیا ہے انکل ؟“ثوبان نے شہباز شاہ سے پوچھا ۔
”اس نے میرے سامنے تمھاری کافی تعریف کی ہے اور شاید تم اس کی توقعات پر پورا نہیں اترے ۔ویسے اپنی بیویوں سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے بیٹا !“شہباز شاہ نے اصل بات سے پردہ اٹھاتے ہوئے ثوبان کو نصیحت کرنا بھی ضروری سمجھا تھا ۔
”کہتے تو آپ ٹھیک ہیں ۔“ثوبان نے اثبات میں سر ہلایا۔
”باجی !….بڑی لائن کے باہر سے بال کو باسکٹ رنگ سے گزارنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ایسا تو کوئی منجھا ہوا کھلاڑی ہی کر سکتا ہے۔“اشتفیلہ نے نیہا کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
”ثوبان !….میں نے کیا کہا ہے ۔“نیہا کے لہجے میں کوئی ایسی انوکھی اور عجیب قسم کی ضد تھی جس کی توجیہ سے ثوبان قاصر تھا ۔
”تم صرف بکواس ہی کر سکتی ہو ۔“غصے سے کہتے ہوئے وہ اشتفیلہ کو مخاطب ہوا ۔ ”چلو اشتی !….مجھے ذرا بال پکڑاتے رہنا ۔“
”تو کیا سچ مچ آپ وہاں سے گول کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔“اشتفیلہ مزاحیہ انداز میں ہنسی ۔مگر وہ اس کے ساتھ گراو¿نڈ کی طرف بڑھ گئی تھی ۔
”کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے ۔“ثوبان اطمینان سے بولا ۔
لائن سے باہر کھڑے ہوکر اس نے اشتفیلہ کو باسکٹ بال رنگ کے نیچے کھڑا ہونے کو کہا ۔اور پھر باسکٹ بال کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مخصوص انداز میں تھامتے ہوئے اپنی انگلیوں اور کلائی کا استعمال کرتے ہوئے بال کو نپے تلے انداز میں رنگ کی جانب پھینکا ۔بال رنگ سے مس ہوئے بغیر رنگ کے ساتھ لٹکے جال میں جا پڑا تھا ۔چند لمحے پہلے اناڑی انداز میں بال پھینکنے والے ثوبان اور اس وقت کے ثوبان میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔اس وقت باسکٹ بال کو جنون کی حد تک پسند کرنے والا ثوبان میدان میں کھڑا تھا ۔اشتفیلہ بے یقینی کے انداز میں اس کی جانب دیکھ رہی تھی ۔
”بال واپس دو نا ۔“ثوبان نے کہا اور ششدر کھڑی اشتفیلہ نے جلدی سے بال اس کی جانب پھینک دیا ۔دوسری مرتبہ بھی ثوبان نے بڑی آسانی سے گول کر لیا تھا ۔اور پھر ہر بار بال ہاتھ میں آتے ہی ثوبان اسے کامیابی سے رنگ میں گزار دیتا ۔شہباز شاہ حیرت سے منہ کھولے ثوبان کو گھورے جا رہا تھا ۔
نیہا نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے فخریہ لہجے میں پوچھا ۔”انکل !اب بتائیں؟“
”کیا بتاو¿ں بیٹی !“شہباز شاہ خفیف ہوتا ہوابولا ۔”پہلے تو اناڑیوں کے انداز میں بال پکڑ رہا تھا ۔لگتا ہی نہیں یہ وہی ثوبان ہے ۔“
”انکل بتایا تھا نا،وہ بس بچی کو بہلا رہا ہے۔“
”صحیح کہا بیٹی !“شہباز شاہ نے اثبات میں سر ہلایا ۔
ثوبان مختلف انداز اور سٹائل بنا کر باسکٹ بال کے کرتب دکھانے لگا ۔اشتفیلہ تو دیوانی ہوئی جارہی تھی ۔
”آپ ابھی ابھی مجھے یہ سب طریقے سکھائیں گے ۔“ثوبان نے جیسے ہی مخصوص انداز میں قدم بھر کر بال باسکٹ بال رنگ سے گزارا ۔اشتفیلہ اس کے بازو سے چمٹ گئی ۔
وہ آہستہ سے بولا۔”ایک شرط پر سکھاو¿ں گا ۔“
”جلدی جلدی شرط بتاو¿؟“اشتفیلہ نے بچوں کی سی شوخی سے پوچھا۔
”میری چھوٹی سی بہن بننے کا وعدہ کرو ۔“
”پکا وعدہ ،لیکن ثوبی بھیا اکیلے میں کہوں گی ۔تمھاری نک چڑھی بیوی کے سامنے صرف ثوبی کہوں گی ۔“اشتفیلہ نے دبے لہجے میں اس کی شرط منظور کرتے ہوئے کہا ۔
اس کی بات پر ثوبان کو بے ساختہ ہنسی آ گئی تھی ۔”یہ بھلا کیا بات ہوئی ؟“
”بس کہہ دیا نا اور آپ بھی اسے یہ بات نہیں بتائیں گے ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“ثوبان رضامند ہوگیا۔اب وہ اسے کیا بتاتا کہ اس بات سے نیہا بی بی کو کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا ۔بلکہ الٹا وہ اس بات سے خوش ہوتی ۔
”چلو پھر شروع کریں۔“
”اب تو شام ہونے والی ہے ۔صبح پریکٹس کریں گے ۔“
اشتفیلہ نے منہ بسورا۔”صبح تو میں نے کالج جانا ہوگا ۔“
ثوبان نے پوچھا ۔”صبح کی نماز نہیں پڑھتی ہو ؟“
وہ جلدی سے بولی ۔”کیوں نہیں پڑھتی ۔“
”بس نماز کے بعد پریکٹس شروع کر دیں گے ۔تم نے اتنی جلدی تو کالج نہیں جانا ہوگا نا؟“
”کیا آپ میرے لیے اتنا سویرے اٹھ جائیں گے ؟“
”ہاں کیوں نہیںاپنی چھوٹی سی بہن کے لیے بالکل اٹھوں گا۔“
”پھر ٹھیک ہے ۔“وہ خوش ہو گئی تھی ۔
”بھئی آپ تو چھپے رستم نکلے ۔“وہ جونھی کرسیوں کے نزدیک پہنچے ۔شہباز شاہ نے اٹھ کر اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔
”شکریہ انکل !“وہ انکساری سے بولا۔” ویسے اتنا بھی خاص کھلاڑی نہیں ہوں ۔ میرا مطلب ایسا کچھ لوگوں کا کہنا ہے ۔“اس نے نیہا کی جانب کن انکھیوں سے دیکھا ۔
”تو ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کچھ لوگ۔ایک بچی کے سامنے کرتب دکھانے سے کوئی بین الاقوامی کھلاڑی تو نہیں بن جاتا۔“
اس کی بات پر شہباز اور اشتفیلہ حیرانی سے اس کی جانب دیکھنے لگے تھے ۔تھوڑی دیر پہلے ثوبان کے کھیل کی تعریف کرنے والی نے گرگٹ کی طرح اپنا رنگ تبدیل کر لیا تھا ۔مگر اسے اصل جون میں پلٹتا دیکھ کر ثوبان نے سکون کا سانس لیا تھا ۔
”میں بچی نہیں ہوں نیہا باجی !“اشتفیلہ نے اس کے بچی کہنے کا کافی برا منایا تھا ۔
نیہا نے ہنس کر کہا ۔”تو اور کیا ہو ؟“
”جوان لڑکی ہوں ….آپ سے بس دو تین سال چھوٹی ہوں گی ۔سیکنڈ ایئر کی طالبہ بچی کیسے ہو گئی ۔“
اس کی بات سن کر شہباز شاہ کھل کھلا کر ہنس پڑا تھا ۔
”ابوجان !آپ کیوں ہنس رہے ہیں ؟“اس نے غصے سے باپ کو گھورا ۔
”میں تو نیہا بیٹی کی سادگی پر ہنس رہا ہوں ۔“شہباز شاہ نے جلدی سے صفائی پیش کی۔”کالج کی طالبہ کو بچی سمجھ رہی ہے ۔“
”اچھا انکل !….میں تو چلا آذان ہونے کو ہے ۔اور مجھے نہانا بھی ہے ۔“ثوبان یہ کہہ کر وہاں سے چل دیا تھا ۔
٭٭٭
شہباز شاہ کی ایک ہی بیٹی تھی اشتفیلہ جو سیکنڈایئر میں تھی۔اور وہی اس کی کل کائنات تھی اس کی بیوی چند سال ہوئے فوت ہو گئی تھی ۔
اس وقت وہ فون پر ضیاءالحق سے بات کر رہا تھا ۔
”چودھری صاحب !….آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں ۔دونوں آپس میں ٹھیک طریقے سے بات نہیں کرتے۔“
”شہباز بھائی !….کوشش کرنا کہ انھیں زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے ۔میں آپ کو ساری کہانی سنا چکا ہوں ۔بس ان دونوں کو قریب لا کر ہی میں دونوں بیٹوں اور بہوو¿ں میں صلح کرا سکتا ہوں ۔اگر میرا یہ منصوبہ فیل ہو گیا توسمجھو میرے دونوں بیٹے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو جائیں گے۔“
”ان شاءاللہ آپ کا منصوبہ فیل نہیں ہو گا ۔“شہباز شاہ عزم سے بولا ۔
”شکریہ شہباز بھائی !“کہہ کر ضیاءالحق نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
اپنے کمرے سے نکل کر وہ ڈرائنگ روم میں آیا ۔نیہا وہیں بیٹھی کسی رسالے کی ورق گردانی کر رہی تھی ۔
”اسلام علیکم نیہا بیٹی !“وہ نشست سنبھالتا ہوا بولا۔
”وعلیکم اسلام انکل !“نیہا نے کھڑے ہوکر اسے تعظیم دی ۔
”جیتی رہو …. بیٹی!….بیٹھو۔“
نیہا سر ہلاتی ہوئی بیٹھ گئی ۔اسی وقت اس کا موبائل فون بھی بجنے لگا تھا ۔سکرین پر صغیر انکل لکھا ہوا آ رہا تھا ۔
”انکل کال اٹینڈ کر لوں ؟“اس نے شہباز شاہ سے پوچھا ۔
”ضرور بیٹی !“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اسلام علیکم انکل !“اس نے کال رسیو کرتے ہوئے سلام کیا ۔
”وعلیکم اسلام ۔نیہا بیٹی !کیسی ہو ؟“
”ٹھیک ہوں انکل !“
”بیٹی !میں آج ہی گھر واپس لوٹا ہوں ۔چوکیدار کی زبانی مجھے کچھ باتیں معلوم ہوئی ہیں ۔اگر یہ سچ ہیں تو میں بہت شرمندہ ہوں بیٹی !….مجرم ہوں تمھارا ۔“
’نہیں نہیں انکل !….یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں،ایسی کوئی بات نہیں ۔یوں بھی اصل مجرم کو اس کے کیے سزا میں دے کے آئی تھی ۔شاید وہ ساری عمر اپنے چہرے سے میرا پھینکا ہوا تھوک صاف نہ کر سکے۔“
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔”کیا آپ نے اکرام بھائی کو یہ بات بتائی تھی ؟“
”نہیں انکل !….میں ابو کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔“
”کیا میں امید کر سکتا ہوں کہ ان تک یہ بات کبھی نہیں پہنچے گی ؟“
”بالکل انکل !….اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے ۔اور کسی اور کی غلطی کی سزا میں آپ کیوں اپنے دوست کو کھوئیں ۔“
”بہت بہت شکریہ بیٹی !….میں بہت جلد آپ لوگوں کے پاس لاہور چکر لگاو¿ں گا ۔ صرف اور صرف اپنی باظرف بیٹی کو دیکھنے کے لیے ۔“
وہ ہنسی ۔”ویسے فی الحال تو میں گلگت میں ہوں،آپ جیسے ہی ایک پیارے انکل کے گھر۔“
”ٹھیک ہے جیسے ہی وہاں سے واپسی ہو مجھے بتا دینا ۔“
”ضرور انکل !“
”ہاں یاد آیا ،آپ اپنا اے ٹی ایم کارڈ یہاں بھول گئی تھیں۔“
”تو میرا اندازہ درست تھا۔“
”کون سا اندازہ ؟“صغیر کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”یہی کہ میراکارڈ آپ کے گھر ہی گرا ہے۔“اس نے وضاحت کی ۔
”تو اس کا کیا کروں ؟“
” میرے پاس گلگت بھجوا دیں ۔“
”پتا لکھوا دو ؟“صغیر نے پوچھا اور نیہا نے شہباز شاہ سے معلوم کر کے اسے وہاں کا پتا لکھوا یا اور اس سے اجازت لے کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
”کون تھا بیٹی !“شہباز شاہ اس کی یک طرفہ گفتگو سن کر کچھ نہ کچھ اندازہ لگا چکا تھا ۔
”ابوجان کے دوست تھے ،صغیر انکل ۔ایبٹ آباد میں رہتے ہیں ۔آتے وقت میں ان کے گھر گئی تھی ۔انکل خود تو گھر پر موجود نہیں تھے ان کے بیٹے نے میرے ساتھ ذرا سی بد تمیزی کی تھی ۔اسی بارے انکل معذرت کر رہے تھے ۔“نیہا نے بات کو گول مول کر کے سنبھالا۔
”بہت اچھا کیا بیٹی !….جو آپ نے اپنے والد کو یہ بات نہیں بتائی ۔یقینا ایسی باتوں سے دلوں میں میل آ جایا کرتے ہیں ۔“
”کیسی باتوں سے دلوں میں میل آتے ہیں انکل !“ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ثوبان نے شہباز شاہ کا آخری فقرہ سن لیا تھا
”وہی ایبٹ آباد کے واقعے کا ذکر کر رہے ہیں ۔وہ تمھارے صغیر انکل کے بیٹے نے جو نیہا بیٹی کے ساتھ بدتمیزی کی تھی ۔“شہباز شاہ نے فوراََ اصل بات سے پردہ اٹھا دیا ۔نیہا اسے منع بھی نہیں کر سکتی تھی۔
”صغیر انکل ؟“ثوبان نے حیرانی سے نیہا کی طرف دیکھا اور اس نے سر نیچے جھکا لیا۔”اچھا ایبٹ آباد والے صغیر انکل،ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔“ثوبان نے اپنا سر سمجھنے والے انداز میں اوپر نیچے ہلایا۔اسے ایک دم نیہا کا ایبٹ آباد والا رویہ یاد آ گیاتھا جب اس نے ثوبان کو رات کے نو دس بجے کال کر کے گاڑی لانے کا کہا تھا ۔اور پھر وہ زبردستی اسی کے کمرے میں رات گزارنے پر مصر ہوئی تھی ۔کہاں تو ایک ہوٹل میں رات گزارنے پر تیار نہ ہونا اور کہاں دوسرے کمرے میں جانے کی زحمت بھی گوارا نہ کرنا ۔لیکن اس وقت ثوبان نے نہ تو اس سے وجہ دریافت کی تھی اور نہ نیہا نے کوئی بات بتائی تھی ۔
اس کے معنی خیز انداز میں ۔”ٹھیک ہے ….ٹھیک ہے ۔“کہنے پر نیہا نے اسے شعلہ بار نظروں سے گھور کر دیکھا تھا ۔
مگر وہ اسے چڑانے کی غرض سے دوبارہ بولا ۔” انکل !….بہت بدتمیز لڑکا تھا ۔ اتنا بدمزاج ،بد اخلاق ،چڑ چڑا کہ جیسے ….“ثوبان نے نیہا کی طرف دیکھا اور پھر بولا ۔”بس اب کس کانام لوں ؟“
”اپنا لے لو۔“نیہا نے فوراََ لقمہ دیا ۔
”پتا تو چل گیا ہو گا انکل !“ثوبان مسکراتے ہوئے شہباز شاہ کی طرف متوجہ ہوا ۔
اس سے پہلے کہ بات مزید بڑھتی شہباز شاہ نے فوراََ اپنا کردار نبھایا۔”ویسے آپ دونوں کا رویہ بالکل بھی نئے نویلے میاں بیوی کا سا نہیں لگ رہا۔“
”نہیں انکل !“نیہا نے جلدی سے بات سنبھالی۔”ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ،یاسر میرے ساتھ بد تمیزی سے پیش آیا تھا جواباََ میںنے بھی اس کی ٹھیک ٹھاک بے عزتی کر دی ۔اس بات پر جناب کو شکوہ ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔اب آپ ہی بتائیں کیا میں نے غلط کیا؟“
”یہ یاسر غالبا صغیر صاحب کے بیٹے کا نام ہے ؟“شہباز شاہ نے پوچھا۔
”جی انکل !….“نیہا نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”اشتی کہاں ہے انکل ؟“ثوبان نے موضوع بدلا۔
”وہ تو کافی دیر سے باورچی خانے میں گھسی ہے ۔شاید آپ کے لیے کچھ بنا رہی ہے؟“
”واہ ،پھر تو مجھے ادھر جا کر دیکھنا چاہیے کہ باسکٹ بال کی کھلاڑی باورچن کے روپ میں کیسی لگتی ہے۔“ثوبان کو وہاں سے اٹھنے کا بہانہ چاہیے تھا ۔وہ اٹھ کر باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا ۔جبکہ نیہا برا سا منہ بنا کر رہ گئی تھی ۔
٭٭٭
”واہ ….کیا بات ہے کابلی پلاو¿ کی،مان گئے اشتی !“ثوبان نے کھلے دل سے اشتفیلہ کے پکائے ہوئے چاولوں کی تعریف کی تھی ۔جبکہ نیہا نے کابلی پلاو¿ چکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ۔
”نیہا باجی !….آپ بھی لیں نا ۔“اشتفیلہ نے چاولوں کی ٹرے اس کی جانب بڑھائی ۔
”شکریہ ….مجھے کابلی پلاو¿ پسند نہیں ہے ۔“وہ اپنے لیے ڈونگے سے مزید سالن ڈالنے لگی ۔
”مجھے دو نا ،مجھے تو بہت اچھے لگ رہے ہیں۔“ثوبان نے ٹرے اس کے ہاتھ سے جھپٹ لی ۔
”ثوبی !….اتنا بھی نہ کھاو¿ کہ پیٹ میں درد ہو جائے ۔“اشتفیلہ نے چاہت بھرے لہجے میں مشورہ دیا۔
”کوئی بات نہیں ،درد ہوا بھی تو باسکٹ بال کی پریکٹس شروع کر دیں گے ۔“ثوبان نے ایسے انداز میں کہا کہ اشتفیلہ بے ساختہ ہنس دی تھی ۔
کھانے سے فارغ ہو کر ثوبان اشتفیلہ کو مخاطب ہوا ۔”چلو تمھیں باسکٹ بال پریکٹس کی فلمیں دکھاو¿ں ۔“
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔اپنے کمرے میں جا کر اس نے بیگ سے اپنا لیپ ٹاپ نکالا اوروہ باسکٹ بال کا میچ لگا کر دیکھنے لگے ۔ساتھ ساتھ ثوبان اسے اہم باتیں بھی بتاتا رہا ۔کئی سین تو اس نے ریوائنڈ کر کے بھی اشتفیلہ کودکھائے تھے ۔
”ثوبی بھیا !….میرا بہت دل کرتا ہے کہ کسی دن آپ کو کھیلتے ہوئے بھی دیکھوں ۔“
”ان شاءاللہ کبھی موقع مل ہی جاے گا کہ میں اپنی گڑیا سی بہن کی خواہش پوری کر سکوںگا۔“
نیہا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ۔اور بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی ۔وہ دونوں اس پر توجہ دیے بغیر میچ دیکھنے میں مگن رہے ۔
”اگر تم لوگ لیپ ٹاپ بند کرنے کی زحمت گوارا کر لو تو شاید میں سونے میں کامیاب ہو جاو¿ں ۔“نیہا کو ان کی بے تکلفی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ۔
”باجی !….بس تھوڑا سا میچ باقی ہے۔“اشتفیلہ نے منت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔
اس سے پہلے کہ نیہا ہاں ناں میں جواب دیتی ثوبان نے کہا ۔
”چلو ہم تمھارے کمرے میں بیٹھ کر میچ دیکھ لیتے ہیں۔“
”یہ ہوئی نا بات ۔ثوبی !….زندہ باد ۔“اشتفیلہ نے اچھل کر نعرہ لگایا۔
نیہا منہ بناتی ہوئی الماری سے رات کو پہننے والے کپڑے نکالنے لگی ۔
وہ دونوں لیپ ٹاپ اٹھا کر کمرے سے باہرنکل گئے تھے ۔
کپڑے بدل کر وہ سونے کے لیے لیٹی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں میل دور تھی ۔ اشتفیلہ کی چھچھوری حرکتیں اسے بالکل پسند نہیں آئی تھیں ۔وہ جس طرح ثوبان کے آگے پیچھے پھر رہی تھی اور جس طرح اس کی ذات میں دلچسپی لے رہی تھی وہ نیہاکو بہت بری لگ رہی تھی ۔
” میری طرف سے بھاڑ میں جائے میں خواہ مخواہ اپنا خون جلا رہی ہوں ۔“بڑبڑا کر اس نے کروٹ بدلی اور آنکھیں بند کر لیں۔مگر پھر بھی وہ ان دونوں کو اپنی سوچ سے جھٹک نہیں پائی تھی ۔وہ اسے اپنی نفرت کی انتہا ہی سمجھتی رہی کہ ثوبان سے تعلق رکھنے والے ہر شخص سے اسے نفرت ہو جاتی تھی ۔جب کافی کوشش کے بعد بھی اسے نیند نہ آئی تو وہ رسالہ اٹھا کر پڑھنے لگی۔
ثوبان گھنٹا ڈیڑھ بعد ہی لوٹ سکا تھا ۔اسے جاگتا پا کر ثوبان سے رہا نہ گیا ۔
”جب تم نے سونا نہیں تھا تو بکواس کرنے کی ضرورت کیا تھی ۔“
”تمھیں بڑی تکلیف پہنچی ہے۔“
”جب کوئی اس طرح بے ہودگی کا مظاہرہ کرے ،تکلیف تو ہوتی ہے نا۔“
”چند ہی گھنٹوں میں تمھاری لاڈلی جو بن گئی ہے۔“نیہا نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
”وہ میری لاڈلی ہے ، پیاری ہے یا کچھ اور ہے تمھیں اس سے کیا ؟“
”مجھے اس چھچھوری کی حرکتیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔“
”چھچھوری حرکتیں کس کی ہیں یہ ہر کوئی جانتا ہے اور تمھیں تو اس نے کچھ نہیں کہا پھر اس رویے کا مطلب ؟“
”ہونہہ !….ایک وہاں لاہور میں منتظر ہے ،دوسری گلگت میں پھنسا لی ۔“
”تو تکلیف لاہور والی کو ہونی چاہیے ،تم کیوں کسی دوسرے کے غم میں گھلی جا رہی ہو۔“ثوبان کو تپ چڑھ گیا تھا ۔”باقی تمھیں شوق ہے تو ڈھونڈ لو اپنے لیے کوئی بوائے فرینڈ ۔ لاہور میں تو ایک تمھارا بھی منتظر ہے نا۔“
”شرم آنی چاہیے تمھیں گھٹیا الزام تراشی کرتے اور بے ہودہ مشورہ دیتے ہوئے ۔“
”گھٹیا الزام تراشی ،اس دن خود تمھاری پیاری امی جان تمھیں یہی مشورہ دے رہی تھی۔“
”تمھیں کیا معلوم میری امی کیا کہہ رہی تھی ؟“
”تمھاری کائیں کائیں تو سن رہا تھا۔….اور تم نے یہی کہا تھا نا،کہ اب یہی بدھو رہ گیا ہے میرے لیے اور یہ کہ مجھ سے تو کوئی چوھڑا چمار بھی بہتر ہوگا۔“
”گو چوھڑے چمار والے موقف پر تو میں اب بھی قائم ہوں،لیکن اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ میں زاہدسے شادی کرنا چاہتی ہوں۔“
”میں نے کہا تمھارا منتظر ہے تو کیا یہ غلط ہے ؟“
اس طرح توہزاروں لاکھوں لڑکے مجھے پسند کرتے ہوں گے ۔“اس نے فخر بھرے لہجے میں کہا ۔
ثوبان نے قہقہہ لگا کر کہا ۔”خوش فہمیاں ۔“
وہ دعوے سے بولی ۔”جس دن تم سے جان چھوٹی ….اگر لائن نہ لگ رشتوں کی تو نام بدل لینا ۔“
”پہلے والا نام بھی کافی بے ہودہ اور واہیات ہے ۔“
”تمھارے نام سے بہتر ہے۔“
”اپنے نام کا معنی جانتی ہو؟….پیار ،محبت ،عشق ….ہاہاہا“وہ زور سے ہنسا ۔ ” جبکہ ثوبان ایک صحابی کا نام ہے ۔اور معنی کتنا پیارا ہے بازگشت ۔“
”یہ اردو دانی خود تک محدود رکھو ۔میں جانتی ہوں تم جتنے لائق ہو۔“
”جیسا بھی ہوں کبھی نقل مارتا نہیں پکڑا گیا ۔“
”تم میں ذرا بھی شرم و حیا ہو تو یہ الزام کبھی نہ لگاو¿۔“
”اچھا اب مہربانی فرماو¿ اور مجھے سونے دو ،صبح سویرے اٹھ کر میں نے اشتی کے ساتھ پریکٹس بھی کرنی ہے ۔“
”اشتی نہیں گشتی بولو۔“نیہا کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
”شٹ اپ ۔“ثوبان غضب ناک حالت میں اس کی طرف بڑھا۔”زبان گدی سے کھینچ لوں گا اگر دوبارہ ایسی بکواس کی ۔شرم آنی چاہیے تمھیں ۔“
نیہا کو بھی محسوس ہو گیا تھا کہ وہ بہت غلط بات کہہ چکی ہے ۔وہ فوراََ چپ ہو کر لیٹ گئی۔ ثوبان چند لمحے اسے گھورتا رہا اور پھر بیڈ سے کمبل اور تکیہ اٹھا کر صوفے پر آ لیٹا ۔
”بات سنو ….سوری میرے منہ سے غلطی سے نکل گیا تھا ۔“چند لمحوں بعد اس کی ندامت بھری آواز ابھری ۔مگر ثوبان نے جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
٭٭٭
***********جاری ہے**********
اگر پوسٹ اچھی لگی تو شئیر ضرور کیجیے گا………مزید ایسی پوسٹ کے لیے ہمارا پیج لائیک کریں اور ساتھ فالو کے بٹن پر کلک کر کے سی فرسٹ آل See First All پر کلک کریں