شہنشاہ ظرافت دلاور فگار کی پیدائش Jul 08, 1913 آ…
شہنشاہ ظرافت دلاور فگار کی پیدائش
Jul 08, 1913
آج اردو دنیا کے شہنشاہ ظرافت دلاور فگار کی سالگرہ ہے
‘‘۔ دلاور حسین المتخلص فگار 8 جولائی 1929 کو ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش (یو پی) کے مشہور و معروف مردم خیز قصبے بدایوں میں پیدا ہوئے،
فگار صاحب نے شعر گوئی کا آغاز 14 برس کی عمر میں 1942 میں کیا۔ بہت جلد انھیں مولوی جام نوائی بدایونی اور مولانا جامی بدایونی جیسے اساتذہ کی صحبت اور رہنمائی میسر آئی جس نے ان کی صلاحیتوں کو نکھار دیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے قصبے بدایوں ہی میں حاصل کی اور بعدازاں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (اکنامکس) کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ اپنے کیرئیر کا آغاز انھوں نے ہندوستان میں درس و تدریس سے کیا اور ہجرت کرکے کراچی آنے کے بعد عبداﷲ ہارون کالج میں بحیثیت لیکچرار کچھ عرصے تک اردو پڑھائی، جہاں فیض صاحب پرنسپل ہوا کرتے تھے
25 جنوری 1998 فگار صاحب نے رخت سفر باندھا اور ملک
عدم سدھار گئے۔
دلاور فگار کی مشہور پیروڈیاں
بہ زمین : بازیچہء اطفال ہے دنیا مرے آگے (غالب)
میں شہر کراچی سے کہاں بہر سفر جاؤں
جی چاہتا ہے اب میں اسی شہر میں مر جاؤں
اس شہر نگاراں کو جو چھوڑوں تو کدھر جاؤں
صحرا مرے پیچھے ہے تو دریا مرے آگے
بہ زمین : ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی (اقبال)
مئی اور جون کے موسم کا اندازہ وہاں کیا ہو
دسمبر میں جہاں گرمی قیامت خیز ہے ساقی
وہاں رفتار پیداوار کو بھی تیز کرنا ہے
جہاں رفتار پیدائش کی بےحد تیز ہے ساقی
بہ زمین : تو خیال ہے کسی اور کا تجھے سوچتا کوئی اور ہے (سلیم کوثر)
جو سجائی جاتی ہے رات کو ، وہ ہماری بزمِ خیال ہے
جو سڑک پہ ہوتا ہے رات دن ، وہ مشاعرہ کوئی اور ہے
مجھے ماں کا پیار نہیں ملا مگر اس کا باپ سے کیا گلہ
مری والدہ تو یہ کہتی ہے تری والدہ کوئی اور ہے
بہ زمین : رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ (احمد فراز)
تنہا نہ مرا عرس منانے کے لئے آ
دو چار مجاور تو ٹھکانے کے لئے لا
تو وصل کی شب چار بجے تک نہیں آیا
اب صبح ہے اب جھینپ مٹانے کے لئے آ
بہ زمین : سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا (آتش)
میرا کلام سن کے اک استاد نے کہا
بیٹے غزل یہ تو نے کہی والدانہ کیا
باذوق سامعین تو گھر جا کے سو چکے
میری غزل سنے گا فقط شامیانہ کیا
شکوہ اور جوابِ شکوہ (اقبال)
کے،ڈی،اے سے شکوہ
کیوں گنہ گار بنوں فرض فراموش رہوں
کیوں نہ اک فرض ادا کر کے سبکدوش رہوں
شہر میں شور سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
"کے ڈی اے" میں کوئی بدھو ہوں کہ خاموش رہوں
مستقل نزلہ ہے ، بیماری ہے ، بیکاری ہے
کیا ترے شہر میں رہنے کے عوض خواری ہے
جوابِ شکوہ
آئی آواز شر انگیز ہے افسانہ ترا
بادہ تلخ سے لبریز ہے پیمانہ ترا
بجھ گئی شمع تری مر گیا پروانہ ترا
اپنے آپے میں نہیں ہے دل دیوانہ ترا
بہر تنقید یہ اک نظم جو لکھ ڈالی ہے
تو نے اغیار سے رشوت تو نہیں کھائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخبارات و رسائل کی پیش گوئیوں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی ماہ ستمبر میں سگائی ہوگی
ایک اچھائی کے ساتھ ایک برائی ہوگی