#سونی ماہیوال #آخری قسط دوسرے روز سوہنی نے یہ…
دوسرے روز سوہنی نے یہ کیا کہ بازار سے مٹی کا ایک پکا گھڑا خرید کے لائی اور اسے گھر میں ایک طرف چھپا کے رکھ دیا۔ پھر جب رات کو اس کے جانے کا وقت ہوا تو بڑی احتیاط سے اٹھی، چھپایا ہوا گھڑا اٹھایا اور چھپتی چھپاتی دریا پر پہنچ گئی ۔ وہاں پہنچ کر اس نے گھڑا اپنی چھاتی سے لگایا اور اللہ کا نام لے کر دریا میں اتر گئی۔ اس طرح گھڑے کے سہارے تیرتی ہوئی دریا کی دوسری جانب چلی گئی جہاں مہینوال پہلے ہی سے اس کا منتظر تھا۔ اس کے بعد سوہنی کا یہ معمول بن گیا کہ روز رات کو جب گھر والے گہری نیند سوجاتے تو وہ چپکے سے نکلتی اور دریا کے کنارے کے پاس جہاں اپنا گھڑا چھپاتی تھی وہاں سے گھڑا نکالتی اور اسے چھاتی سے لگاکر دریا پار چلی جاتی اور ہر رات دونوں کی ملاقات ہونے لگی۔ اسی طرح ایک رات وہ گھر سے نکلی تو اس کی نند جاگ رہی تھی، اس نے دیکھا تو دبے پاؤں اس کے پیچھے پیچھے چلی کہ دیکھوں یہ کہاں جا رہی ہے؟ سوہنی اس سے بالکل بے خبر تھی کہ کوئی اس کا پیچھا کررہا ہے۔ وہ روز کی طرح گئی، جھاڑیوں میں سے چھپایا ہوا گھڑا نکالا اور چھاتی سے لگا کر دریا میں تیر گئی۔ نند وہیں چھپ کر اس کا انتظار کرتی رہی۔ یہاں تک کہ سوہنی مہینوال سے ملاقات کرکے واپس آگئی۔ اس کی نند نے دیکھا کہ اس نے جن جھاڑیوں سے گھڑا نکالا تھا، وہیں چھپا دیا اور گھر کی طرف چل دی۔ نند یہ سب کچھ دیکھ کر سوہنی کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اپنے بستر پر جاکر لیٹ گئی اور سوہنی کو اس بات کی خبر تک نہ ہوئی کہ کسی نے اسے دریا پر جاتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔ دیکھا ہی نہیں بلکہ پورا پورا کھوج بھی لگا لیا ہے۔ اس کی نند دوسرے روز بازار گئی۔ مٹی کا ایک کچا گھڑا لیا اور دریا کے کنارے اس جگہ پہنچ گئی جہاں سوہنی نے اپنا پکا گھڑا چھپایا تھا۔ اس نے پکا گھڑا نکال کے اس کی جگہ کچا رکھ دیا اور گھر چلی آئی۔
اگلی رات، قہر و غضب کی تاریک اور بھیانک رات تھی۔ ہر طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا پھیلا ہواتھا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ آسمان سیاہ بادلوں میں چھپا ہوا تھا اور رہ رہ کہ بجلی چمک رہی تھی۔ تیز ہوا کے جھکڑ اس طرح چل رہے تھے، معلوم ہوتا تھا درخت جڑ سے اکھڑ کر گر پڑیں گے۔ دریا میں ایسا جوار بھاٹا تھا کہ لہریں اچھل اچھل کرکناروں سے باہر آرہی تھیں۔ سوہنی اپنے عشق میں سچی اور ارادے کی پکی تھی مگر آج تو اس کا دل بھی دہل رہا تھا۔ اسے اپنے چاروں طرف موت کھڑی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ اس قیامت کے اندھیرے میں چلتی چلتی اس جگہ پہنچی جہاں اس نے گھڑا چھپایا تھا۔ جھاڑیوں میں سے گھڑا نکالا تو دھک سے رہ گئی۔ اندھیرے کے باوجود وہ ہاتھوں سے یہ محسوس کرسکتی تھی کہ یہ گھڑا وہ نہیں تھا جس کے سہارے وہ روز دریا پار کرتی تھی۔ اسے شک ہوا کہ کسی نے اس سے دھوکا کیا ہے لیکن اب کیا ہوسکتا تھا؟ موت سے ڈرجانا سچے عاشقوں کا شیوہ نہیں ہے۔ آج کی رات اس کی محبت کا امتحان تھا۔ اس نے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اوپر دیکھا اور کہا۔
’’ اے خدا! میری مدد کر تاکہ میں اپنے عشق میں پورا اتر سکوں۔‘‘
اور اس کے ساتھ ہی اس نے کچا گھڑا چھاتی سے لگا کردریا میں چھلانگ لگادی۔ غضب ناک خونی لہریں اچھلتی ہوئی اس کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ پانی کا تیز بہاؤ اسے بے دم کیے جا رہا تھا لیکن وہ مہینوال، مہینوال پکارتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ مگر کب تک؟ موت کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ بھلا کچا گھڑا کہاں تک ساتھ دے سکتا تھا؟ وہ ابھی دریا کے درمیان ہی میں تھی کہ مٹی کا کچا گھڑا گھل کے ختم ہوگیا اور سوہنی کو چناب کی غضب ناک طوفانی لہروں نے نگل لیا۔ ڈوبتے ہوئے بھی وہ مہینوال کو پکار رہی تھی اور ادھر دوسرے کنارے پر کھڑے مہینوال نے بھی اس کی آوازیں سن لی تھیں۔ جب اچانک اس کی آواز آنا بند ہوگئی تو وہ بے تاب ہو کر سوہنی سوہنی پکارتے ہوئے دیوانہ وار دریا میں کود گیا۔ اس نے دیکھا سوہنی کی لاش تیرتی ہوئی اس کے قریب آرہی تھی۔ وہ پوری طاقت صرف کرکے تیرتا ہوا اس کی طرف بڑھا اور لاش کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں کو دریا کی بپھرتی ہوئی لہروں نے موت کی وادی میں پہنچا دیا۔ اس طرح سوہنی اور مہینوال دونوں ہمیشہ کے لیے موت کی آغوش میں چلے گئے لیکن دریائے چناب کی جن لہروں نے ان دو پیار کرنے والوں کو نگلا تھا، وہ آج بھی ان کی محبت کے گیت گا رہی ہیں۔
(ختم شد)
پھر کیسی رہی یہ کہانی ….یہ آپ نے بتانا ہے ..