پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے #از_نساء_احمد #قسط_نمبر_…


#سلسلے_قرب_کے_جدائی_کے
#از_نساء_احمد
#قسط_نمبر_21

اور ارسہ…. آپ ارسہ پہ شک کر رہے ہیں… ¿
ارسہ کو آپ نھی جانتے وہ ایسا کچھ کر سکتی ہے…¿
اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو اس کے ساتھ کسی ظالم نے ……. ظلم کیا ہے
وہ آپ کی عزت بچانے کے لیے سب سہہ گی اور آپ….
اود خرم تم….¿ تم اس لیے ارسہ کے ساتھ اتنی بدسلوکیاں کرتے رہے… اتنے کم ظرف نکلے تم….
اگر بھائی آپ جیسے ہوتے ہیں نا تو اللہ کا شکر ہے کہ میرا کوئی بھائی نھی میرا کوئی بھائی نھی حبہ نے روتے ہوۓ باری باری عبداللہ اور خرم کو کہا…
ابا کے ہاتھ سے چھڑی گر کے نیچے گری تھی شعیب صاحب نے ابا کو سہارہ دے کے بٹھایا بڑے خاموش تھے حیران تھے پریشان تھے….
یہ کیا ہو رہا ہے یہ کیا ہوگیا ہے….
بچے بڑے ہو گے ہیں اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں بڑوں کی کوئی ضرورت نھی….
سب سے پہلے حلیمہ کو ہوش آیا ارسہ یہ کیا کیا تو نے تمھارے باپ اور بھائی کو کتنا مان تھا تجھ پہ اور یہ صلہ دیا تم نے….
بولو اب خاموش کیوں ہو بتاو کس کے ساتھ منہ کالا کر کے آئی ہو…
امی میں نے کچھ نھی کیا رو رو کے ارسہ کی آواز بیٹھ گی تھی…
حلیمہ ارسہ پہ جھپٹی میں زندہ نھی چھوڑو گی تو نے پورے خاندان کا سر شرم سے جھکا دیا خرم کا احسان مانو ورنہ تو ہم بلکل ہی منہ دیکھانے کے قابل نا رہتے….
ہاۓ میں اللہ کو کیا منہ دیکھاوں گی ارسہ تجھے خدا کو خوف بھی نا آیا….
خرم تم نے بلکل ٹھیک کیا بیٹا جو اسے کالج نھی جانے دیتے ٹھیک کرتے ہو جو اسے گھر بھی نھی جانے دیتے ایسی دھوکے باز لڑکیوں کا کیا بھروسہ ہیرے جیسا میاں چھوڑ کے پتہ نھی حلیمہ پتہ نھی کیا کیا بولے جا رہی تھی ارسہ کو ایسے لگ رہا تھا اس کا کلیجہ پھٹ جاۓ گا اس نے اتنی دیر میں ہزار بار موت مانگی مگر وہ بیٹھی تھی سب کے سامنے بیٹھی تھی ڈھیٹوں کی طرح بیٹھی تھی….
حلیمہ پھوپھوآپ پلیز چپ کر جائیں ایسا مت بولیں کے بعد میں پچھتانا پڑے…
حلیمہ حیران ہوئی ابھی کچھ رہ گیا ہے پچھتانے کو…¿
پہلے ارسہ سے تو پوچھے اس کے ساتھ کیا ہوا ہے ارسہ کبھی ایسا نھی کر سکتی کبھی نھی…
حبہ اکیلی ارسہ کا مقدمہ لڑ رہی تھی… بات اتنی بڑی تھی کےسب کے ہوش اڑ گےتھے سوچنے سمجھنےکی صلا حیت ختم ہوگی تھی….
خرم ٹھیک ہے تم نے جو کہا سب ٹھیک ہے مان لیا….
مگر کیا ثبوت ہیں تمھارے پاس ارسہ کے ساتھ ظلم نھی ہوا اس نے گناہ کیا ہے…
ہم مسلمان ہیں ہمارے پاس قرآن موجود ہے اور سورت نور….
سورت نور میں تو سب واضح ہے یا تو ثبوت دو یا قسم کھاو کہ ارسہ نے گناہ کیا ہے….
اور پتہ ہے اگر تم ثابت نا کر سکے یہ بس بہتان ہوا تو پتہ ہے اسکی کیا سزا ہے…¿
اووووو ارسہ اچھا تم روز اسی لیے اس سورت کی تلاوت کرتی ہو اور بار بار یہ آیات پڑتی تھی….
حبہ نے سورت نور کی دو آیات کا ترجمہ سنایا
"”” اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انھیں اسی کوڑے لگاو اور ان کی کوئی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں”” (⁴)
"” اور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے”” (6)
حبہ نے آیات پڑی تو ایک دم خاموشی ہو گی….
خرم اور عبداللہ بھی جدھر جدھر تھے رک گے…
عبداللہ اور حلیمہ کے دل کانپے حبہ ٹھیک کہہ رہی ہے ارسہ ایسے کیسے کر سکتی ہے…
سب سے پہلے اذان واپس گیا…
خرم… عبداللہ… اور پھر ایک ایک کر کے سب چلے گے…
اب کیا کہتے کہنے کو کچھ تھا ہی نہی….
ایک طوفان آیا تھا آکے گزر گیا تھا….
ہر کوئی اپنے آپ میں گم ہو گیا تھا…. حلیمہ کو یہ دکھ کھاے جا رہا تھا
یہ کیا ہو گیا میری بچی اتنا بڑا دکھ اکیلے سہہ گی….
اور خرم اس نے جو بھی کیا جیسا بھی سلوک کیا مگر اس نے ہماری عزت رکھ لی….
میں تو اپنی بہن کی عزت کا رکھوالا تھا نا پھر کیسے کوئی میری بہن کے سر سے چادر کھینچ کے لے گیا میں مر کیوں نھی گیا یہ سب دیکنھے سے بہتر تھا میں مر جاتا حبہ ٹھیک کہتی ہے میرے جیسے بھائی ہونے سے بہتر ہے کوئی بھائی نا ہی ہو ارسہ میں کبھی
تمھارہ سامنا نھی کر سکوں گا…
زینب… زینو… عبداللہ کسی خیال سے چونکا زینب کدھر ہے وہ اٹھ کے باہر کو بھاگا امی…
امی زینب کدھر ہے…
ادھر ہی ہے جدھر تم اسے چھوڑ کے آۓ تھے امی زینب گھر کیوں نھی آئی…
تم نے اسے واپس آنے کے قابل چھوڑا ہے سہی… ¿
امی وہ سب تو میں نے غصے میں کہہ دیا اور… اور عاصمہ مامی نے کہا تھا…
اچھھھھھھھا تو جاو پھر عاصمہ مامی سے ہی پوچھو کے زینب کدھر ہے….
عبداللہ اماں کے گھر آیا لاونج میں کوئی بھی نھی تھا یہ سب کدھر چلے گے ہو کا عالم تھا عبداللہ زینب کو آوازیں دیتا دیتا اس کے کمرے تک آیا دروازہ اندر سے لاکڈ تھا دھڑ دھڑ کتنی دیر تک دروازہ بجاتا رہا مگر زینب نے نھی کھولا…
ناکام لوٹ گیا….
زینب نے رو رو کے آنکھیں سوجا لیں تھیں اپنے دکھ کو روے جان سے پیارے شوھر نے اسے کیسا تہی دامن کر دیا تھا یا ارسہ پہ ہوۓ ظلم پہ روۓ ابراہیم کا ہوش بھی نھی تھا وہ کدھر ہے کدھر نھی فاطمہ نے اسے سمبھالہ ہوا تھا….
اماں اپنے کمرے میں بند ہوگی تھیں… گندا خون… کتنا عام سا لفظ تھا جو بڑے آرام سے دن میں کتنی بار بولتی تھیں آج احساس ہوا تھا وہ کتنی ظالم ہیں ایک بے قصور عورت کی زندگی عذاب بناے رکھی
اللہ بھی مجھے معاف نھی کرے گا… ہاے میں کیسے کیسے تیر چلاتی رہی اور اپنے آپ کو بڑی نیک سمجھتی رہی کہ میں نے ایک بےسہارہ کو گھر میں جگہ دی ہے… اور ارسہ ہاے میری بچی اماں پھر رو پڑی….
خرم منہ سر لپیٹ کے کمرے میں پڑا تھا…
واہ خرم واہ کیا کہنے تمھاری محبت کہ کوئی اپنی محبت کو یوں سر بازار رسوا کرتا ہے….. وہ کتنے مان اور بھروسے کے ساتھ تمھارے پاس مدد کے لیے آئی تھی اور تم تم کتنے کمظرف نکلے لعنت ہے تم پہ خرم لعنت ہے……
ارسہ بلکل خاموش پڑی تھی پاس بیٹھی روتی حبہ کو خالی خالی نظروں سے دیکھتی رہی….
چپ کر جاو حبہ کتنا رووں گی زندہ ہوں میں ابھی مری نھی ہوں جب مر جاوں گی نا تب اتنے آنسوں بہانا
حبہ نے تڑپ کے اسے گلے لگایا مریں ر
تمھارے دشمن اللہ تمھیں میری بھی زندگی دے دے….
کیا کروں گی میں اتنی زندگی گا….
حبہ نے اپنے آنسوں صاف کیے….
ارسہ بس جتنا رونا تھا رو لیا اب وہ روۓ گا جس نے تمھیں رولایا ہے….
ارسہ مجھے بتاو کیا ہوا ہے تمھارے ساتھ….
حبہ مجھے کچھ پتہ نھی میرے ساتھ کیا ہوا ہے میں خود سوچ سوچ کے پاگل ہورہی ہوں یہ سب کیسے ہو گیا…..
ارسہ زہن پہ زور دو تمھیں یاد آۓگا میری جان….
حبہ جس دن سعدیہ کی شادی تھی ( ارسہ کی پھوپھو کی بیٹی کی) اس دن میری طبیعت ٹھیک نھی تھی میں نھی گی تھی بس اذان اور کام والی گھر تھی اس دن ہاں اس دن کچھ عجیب ہوا تھا میں کمرے میں اکیلی تھی کمرہ اندر سے ہی لاکڈ تھا مجھےایسے لگ رہا تھا کوئی کمرے میں آرہا ہے مگر میری آنکھیں نھی کھل رہی تھیں پتہ نھی مجھے اور کچھ یاد نھی…
اچھا تم فکر نا کرو سب ٹھیک ہو جاۓ گا…
تم آرام کرو حبہ اسے لیٹا کے لان میں آگی اذان کو فون کیا اذان مجھے آپ کی ہیلپ چاھیے اذان چپ ہی رہا پلیز انکار مت کجیے گا….
نھی کروں گا انکار آپ کو انکار کر ہی نھی سکتا آپ بتائیں میں آپکی کیا مدد کر سکتا ہوں
——–
عاصمہ مامی اس کا بہت خیال رکھ رہی تھیں انھوں نے نا کوئی سوال کیا نا جواب مانگا کوئی قرض تھا جو انھیں اس بھلی لڑکی کا اتارنا تھا….
فاطمہ اور حبہ بھی ساۓ کی طرح اس کے ساتھ تھیں….
گھر سے اس دن کے بعد کوئی نھی آیا تھا امی بھی نھی…..
رات کا نجانےکون سا پہر تھا ارسہ کو پیاس لگی تو ان دونوں کو اٹھانے کی بجاے خودی اٹھ کے باہر لے آگی اس کا سر گھرم رہا تھا چکر آرہے تھے دیوار کے قریب پڑی چئیر پہ بڑی مشکل سے بیٹھی حلق میں جیسے کانٹے چب رہے تھے آواز بھی نھی نکل رہی تھی پورا زور لگا کر خرم کو آواز دی خررررررررم پتہ نھی مشکل وقت میں خرم کی صدا ہی کیوں لگاتا ہے یہ دل خرم کی نیندیں ویسے ہی اڑی ہوئیں تھیں بھاگا آیا کیا ہوا ارسہ ٹھیک ہو تم…¿
ارسہ تب تک ہوش سے بیگانا ہو چکی تھی…
فاطمہ حبہ بھی آگئیں تھیں….
خرم نے شائد ہی زندگی میں کبھی اتنی تیز ڈرائیونگ کی ہو اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے جسم سے روح نکل رہی ہو….
یاللہ ارسہ کو کچھ نا ہو میری زندگی بھی اسے دے دے….
ہاسپٹل میں اس وقت ڈاکٹر نا ہونے کے برابر تھے جو ایک آدھ تھا وہ راونڈ پہ تھا خرم نے شور مچا کے سب کو اکٹھا کر لیا…
سر آپ فکر نا کریں ڈاکٹرز ابھی آجائیں گے….
ارسہ کو ایمرجنسی روم میں لے گے سی سیکشن کے علاوہ کوئی حل نھی ہے ان کا
ڈاکٹرز کے آنے تک آپ بلڈ ارینج کریں نرس بڑی سنجیدگی سے بتا کے جا چکی تھی….
خرم کو کچھ سمجھ نھی آرہی تھی کیا کرے کیا نا کرے….
حبہ کو یاد آیا ارسہ کا بلڈ گروپ اور فاطمہ کا سیم ہےفاطمہ فوراء تیار ہوگی ڈاکٹرز آگے تھے خریت سے آپریشن ہو گیا خرم کی سانس میں سانس آیا….

نرس نے دو ننھے ننھے کمبل میں لپٹے وجود پکڑاے فاطمہ حبہ نے پکڑ کے سینےسے لگایا….
خرم نے بچوں کو دیکھا تک نھی واپس چلا گیا….
عام طور پر پیشنٹ کو تین دن بعد ڈسچارج مل جاتا ہے مگر ارسہ کی ویکنس کی وجہ سے انھیں پورا ہفتہ ہاسپٹل رکھا گیا….
گھر سے عاصمہ مامی کے سوا کوئی بھی نھی آیا تھا اتبے دن ان دونوں نے بچوں اورمامی نے ارسہ کو سمبھالہ….
مامی گھر گئیں تھیں کے شام تک آجاوں گی ان کی تھوڑی طبیعت خراب تھی فاطمہ نے انھیں گھر بھیج دیا…..
حبہ نے اذان کو فون کیا اور جلدی آنے کو کہا….
ارسہ لوگ گھر آۓ تو خرم لاونج میں ہی موجود تھا ارسہ کو ایک طرف سے فاطمہ اور دوسری طرف سے حبہ نے پکڑا ہو تھا اور اذان بھی ساتھ تھا اور اور بچے کدھر ہیں خرم اٹھ کے آیا حبہ بچے کدھر ہیں..¿
کونسے بچے…..¿
کیا مطلب کونسے بچے یہ کیا مزاق ہے…¿
خرم کی آواز یک دم اونچی ہوئی..
رفتہ رفتہ سب اکٹھے ہونے لگے عاصمہ نے ارسہ کو سہارہ دے کے کاوچ پہ بٹھایا حبہ بچے کدھر ہی..¿
ارے مامی چھوڑیں ان بچوں کو پتہ نھی کس کا گندا خون تھا ہم نے کیا کرنا ہے انھیں….
اماں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
حبہ بچے کدھر ہیں خرم کا بس ایک ہی سوال تھا….
ادھر ہاسپل میں ایک عورت تھی ایبٹ آباد سائیڈ سے آئی ہوئی تھی اسکا بچہ فوت ہوگیا تھا بےچاری بہت رو رہی تھی…
میں بے بچے اسے دے دیے وہ سو دعائیں دے کے گی ہے اب اذان آیا ہے خرم تم ارسہ کو ڈائیورس دے دو اذان ارسہ سے شادی کے لیے تیار ہے….
خرم کا ہاتھ اٹھا تھا مگر حبہ اتنی بےخبر نھی تھی خرم کا ہاتھ ہوا میں ہی روک ک
لیا کیا غلط کیا ہے میں نے کس نے سمبھالنا تھا ان منحسوں کو…¿
ارسہ بچے کدھر ہیں… ¿
خرم نے ارسہ کو جھنجوڑا ارسہ چپ ہی رہی بچے کدھر ہیں بچے کدھر ہیں اذان….¿¿¿