منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

دِل میں اور کیا رکھّا ہے تیرا درد …


دِل میں اور کیا رکھّا ہے
تیرا درد چھپّا رکھّا ہے

اتنے دُکھوں کی تیز ہَوا میں
دِل کا دِیپ جلا رکھّا ہے

دُھوپ سے چہروں نے دُنیا میں
کیا اندھیر مچّا رکھّا ہے

اس نگری کے کچھ لوگوں نے
دُکھ کا نام دوا رکھّا ہے

وعدہءِ یار کی بات نہ چھیڑو
یہ دھوکا بھی کھا رکھّا ہے

بھول بھی جاؤ بِیتی باتیں
اِن باتوں میں کیا رکھّا ہے

چُپ چُپ کیوں رہتے ہو ناصرؔ
یہ کیا روگ لگا رکھّا ہے

ناصرؔ کاظمی

از:-کُلّیاتِ ناصرؔ کاظمی ص۲۹۷/۲۹۸

اِنتِخاب
سفیدپوش