دَر و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئ پِھر یہ بارِش مِر…
دَر و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئ
پِھر یہ بارِش مِری تنہائ چُرانے آئ
زِندگی باپ کی طرح سزا دیتی ہے
رحم دِل ماں کی طرح موت بچانے آئ
آج کل پِھر دِلِ برباد کی باتیں ہیں وہی
ہم تو سمجھے تھے کہ کُچھ عقل ٹِھکانے آئ
دِل میں آہٹ سی ہُوئ رُوح میں دستک گُونجی
کِس کی خوشبُو یہ مُجھے میرے سرہانے آئ
مَیں نے جب پہلے پہل اپنا وطن چھوڑا تھا
دُور تک مُجھ کو اِک آواز بُلانے آئ
تیری مانَند تیری یاد بھی ظالم نِکلی
جب آئ میرا دِل ہی دُکھانے آئ۔۔۔!
کلام کیفؔ بھوپالی
آواز ہری ہرن