دوستی عام ہے لیکن اے دوست
دوست ملتا ہے بڑی مشکل سے
……
حفیظ ہوشیار پوری کا یومِ پیدائش
January 05, 1912
10 جنوری 1973ء کو اردو کے ممتاز شاعر جناب حفیظ ہوشیار پوری دنیا سے رخصت ہوئے۔
حفیظ ہوشیار پوری کا اصل نام شیخ عبدالحفیظ سلیم تھا۔ وہ 5 جنوری 1912ء کو دیوان پورا ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے تھے مگر اپنے آبائی وطن ہوشیار پور کی نسبت سے ہوشیارپوری کہلائے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ریڈیو سے وابستہ ہوئے اور پھر تمام عمر اسی ادارے میں گزار دی۔
10 جنوری 1973ء کو وہ طویل علالت کے بعد کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر کندہ ہے۔
سوئیں گے حشر تک کہ سبکدوش ہوگئے
بار امانت غم ہستی اتار کے
..
یہ تمیز عشق و ہوس نہیں ہے حقیقتوں سے گریز ہے
جنہیں عشق سے سروکار ہے وہ ضرور اہل ہوس بھی ہیں
…
تمام عمر کیا ہم نے انتظار بہار
بہار آئی تو شرمندہ ہیں بہار سے ہم
…
جب کبھی ہم نے کیا عشق پشیمان ہوئے
زندگی ہے تو ابھی اور پشیماں ہوں گے
…
زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم
یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے
…
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک
شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے
ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے
ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم
یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے
کہوں بے درد کیوں اہل جہاں کو
وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے
ہمارے دل میں سیل گریہ ہوگا
اگر با دیدۂ پر نم نہ ہوں گے
اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے
تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
حفیظؔ ان سے میں جتنا بد گماں ہوں
وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہوں گے
…..
اب کوئی آرزو نہیں ذوقِ پیام کے سوا
اب کوئی جستجو نہیں شوقِ سلام کے سوا
کوئی شریک غم نہیں اب تیری یاد کے سوا
کوئی انیسِ دل نہیں اب تیرے نام کے سوا
کاہشِ آرزو سہی حاصلِ زندگی مگر
حاصلِ آرزو ہے کیا سوزِ مدام کے سوا
آہ کوئی نہ کر سکا چارۂ تلخئ فراق
نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے سوا
تیری نگاہ مست سے مجھ پہ یہ راز کھل گیا
اور بھی گردشیں ہیں کچھ گردشِ جام کے سوا
رنگِ بہار پر نہ پھول بوئے چمن سے درگزر
یہ بھی ہیں خوش نما فریب دانہ و دام کے سوا
مر کے حیاتِ جاوداں عشق کو مل گئی حفیظؔ
جی کے ہوش کو کیا ملا مرگِ دوام کے سوا
……………
راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچے
بات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچے
کیا تصرف ہے ترے حسن کا اللہ اللہ
جلوے آنکھوں سے اتر کر دل و جاں تک پہنچے
تری منزل پہ پہنچنا کوئی آسان نہ تھا
سرحد عقل سے گزرے تو یہاں تک پہنچے
حیرتِ عشق مری حسن کا آئینہ ہے
دیکھنے والے کہاں سے ہیں کہاں تک پہنچے
کھل گیا آج نگاہیں ہیں نگاہیں اپنی
جلوے ہی جلوے نظر آئے جہاں تک پہنچے
وہی اس گوشۂ داماں کی حقیقت جانے
جو مرے دیدۂ خوں نابہ فشاں تک پہنچے
ابتدا میں جنہیں ہم ننگِ وفا سمجھے تھے
ہوتے ہوتے وہ گلے حسنِ بیاں تک پہنچے
آہ وہ حرفِ تمنا کہ نہ لب تک آئے
ہائے وہ بات کہ اک اک کی زباں تک پہنچے
کس کا دل ہے کہ سنے قصۂ فرقت میرا
کون ہے جو مرے اندوہ نہاں تک پہنچے
خلش انگیز تھا کیا کیا تری مژگاں کا خیال
ٹوٹ کر دل میں یہ نشتر رگ جاں تک پہنچے
نہ پتہ سنگ نشاں کا نہ خبر رہبر کی
جستجو میں ترے دیوانے یہاں تک پہنچے
نہ غبار رہِ منزل ہے نہ آوازِ جرس
کون مجھ رہرو گم کردۂ نشاں تک پہنچے
صاف توہین ہے یہ دردِ محبت کی حفیظؔ
حسن کا راز ہو اور میری زباں تک پہنچے
………………
